212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 39) Part - 1

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

وقی ہم دوست تھے ۔۔۔۔”

حدیقہ روتے ہوئے بولی

“وہی تو ہم دوست ہیں میری جان اتنا حق تو بنتا ہے نہ “

“بکواس بند کرو تم ہوس پرست انسان”

“اچھا میں ہوس پرست اور تو ۔۔۔۔۔۔ جو اکیلی اپنے کزن کے ساتھ پھرتی ہے “

“بہت غرور ہے نہ اپنی خوبصورتی پر اسے سراہنا تو بنتا ہے نہ “

حدیقہ شدت سے ابراہیم کے یہاں آنے کی دعا مانگتی پوری قوت سے اس انسانی بھیڑیے کو دور جھٹک کر سانس لیتی جھکی جب وقاص نے بھی در پے در اس کے چہرے پر کہیں تھپڑ دے مارے پھٹے ہونٹ کو فراموش کئیے۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے پہلے سامنے والے کمرے میں بھاگتی اس کا ہاتھ وقاص کی گرفت میں آگیا

وہ اسے قریب کھینچ گیا ۔۔۔۔

حدیقہ نے بے آواز اللہ کو پکارا تھا ۔۔۔۔۔شدت سے

اس کی جان نہیں اس کی عزت خطرے میں تھی

اور ایک لڑکی کے لیے جان سے کہی زیادہ بھر کر عزت ہوتی ہے

________

“دراصل ہم نے آپ سے کچھ پوچھنا تھا “

بلآخر حفیظ صاحب بول ہی گئے

“جی جی آپ بلا جھجھک پوچھیں ۔۔۔”

“آپ کے شوہر ؟ آپ نے ان کا زکر نہیں کیا “

وہ کچھ جھجھک کر بولے تھے

“جن کے ساتھ رشتے ختم ہو جائیں ان کا کیا ہی زکر کیا” جائے بھائی صاحب آبدہ شاہ سنجیدگی سے بولی

دونوں بھائیوں نے آبدہ شاہ کی جانب دیکھا تھا نا سمجھی کے ساتھ

“میری میرے شوہر سے کافی سال پہلے ہی علیحدگی ہوگئی تھی ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں تھا میرا حدید بہت چھوٹی عمر میں ہی سمجھدار اور خودمختار ہوگیا تھا

امید ہے حدید کے ماں باپ کی زندگی سے اسے جج نہیں کیا جائے گا “

“میں پہلے ہی بتانے والی تھی اپنے سابقہ شوہر کے بارے میں لیکن….”

” میں نے ہی روک دیا تھا ماں کو میں ہرگز نہیں چاہو گا جس موضوع کو زیر بحث لانے سے میری ماں کو تکلیف پہنچے اس کا زکر وہ خود کریں “

حدید وہاں کھڑا سنجیدگی سے بولا

ایسی بات نہیں بہن جی یہ تو اللہ کے فیصلے ہیں اور سب سے بڑھ کر آپ کی نجی زندگی کا بہت ہی نجی فیصلہ تھا ہم کون ہوتے ہیں آپ کو جج کرنے والے یہ تو وہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے

حاجرہ بیگم آبدہ شاہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بولی

پھر آپ بتا دیجئے اپنا فیصلہ اور بے فکر رہیے ہم اس کا احترام کریں گے لیکن اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوگا تو ہمیں اتنی پیاری بیٹی کے کھو جانے پر ساری زندگی افسوس رہے گا

آبدہ شاہ حیات کو یاد کرتے محبت سے بولی

حاجرہ شاہ نے حفیظ صاحب کی جانب دیکھا انھوں نے کوئی اشارہ ہی کیا تھا

“ہمیں یہ رشتہ منظور ہے بہن جی “

حاجرہ بیگم آبدہ شاہ کے گلے لگی تھی جن کا چہرہ کِھل گیا تھا ۔۔۔۔۔

________

“ابراہیم۔۔۔۔!!”

وقاص کا ناپاک چہرہ ابھی حدیقہ کے گال سے ٹکرایا ہی تھا جب شدت سے اپارٹمنٹ کا دروازہ دھڑ دھڑ کی آواز سے بجا تھا

جیسے کوئی بجا نہیں توڑ رہا ہو

وقاص ہڑبڑا کر زرا سا دور ہوا کہ حدیقہ ہوش میں آئی ان نے مزاحمت کرتے اپنے ہاتھوں سے وقاص کا منہ نوچنا چاہا

وقی نے بے دردی سے حدیقہ کے ہاتھ مڑوڑ دئیے

” آج کچھ بھی ہو جائے تمہارا زعم تو توڑ کر رہو گا مس شاہ”

وہ اس کے بالوں کو دبوچے ساتھ ہی اس گردن سے پکڑے قریب کئیے غرایا تھا

حدیقہ کی قمیض بھی گلے سے چاک ہوئی تھی جب پر شدت ٹھوکر کھا کر دروازہ ٹوٹ گیا

سامنے ابراہیم کو دیکھ کر حدیقہ کے مرتے وجود میں طاقت سی بھر آئی تھی وہ وقاص کو زور سے دھکا دیتی ابراہیم کے گلے لگ گئی

اپنا چہرہ اس میں چھپائے وہ شدت سے رونے لگی

ابراہیم نے تنے ہوئے جبڑوں سے ایک بازو سے اس پر حصار قائم کرتا دوسرے سے اس کے بال سہلا کر اسے پرسکون کرنے لاگا

ابراہیم کی آنکھوں میں اترتے خون کو دیکھ کر ایک لمحے کو وقاص کے اوسان خطا ہوئے تھے

ابھی وہ شیر بنتا کچھ بولتا کہ ابراہیم نرمی سے حدیقہ کو خود سے دور کئیے اس پر چڑھ دوڑا بنا رکے وہ وقاص کے چہرے پر اتنے مکے مارے کے خود ابراہیم کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا

“ابرا۔۔۔۔ حدیقہ کی سانس گلے میں اٹک گئی تھی

ابراہیم کا بس نہیں چلا وہ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ارسے ریو’الور کو نکال کر اس کی ساری گو’لیاں سامنے والے کے وجود میں پیوست کردے اس نے فون نکال کر کسی کو کچھ کہا تھا

پھر وقاص پر تھوکتے ہوئے وہ حدیقہ کے پاس آیا

جو پہلی بار ابراہیم کا ایسا روپ دیکھ کر سن ہوگئی تھی

ابراہیم نے ارد گرد نظر گھمائی تو اسے ایک چھوٹا سا ڈیکوریشن پیس نظر آیا ابراہیم نے وہ حدیقہ کو تھمایا

“مارو اسے “

سرد آواز ہڈیوں تک کو جما دے

وقاص کرلایا روتے ہوئے

معافی مانگنے لگا

“اسے مارو حدیقہ شاہ تاکہ یہ اگلی بار کسی بھی عورت کی طرف آنکھ اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچے”

اب کہ ابراہیم کی آواز اتنی سخت تھی کہ حدیقہ نے منٹ کے ہزارویں حصے میں وہ شو پیس ابراہیم کے ہاتھ سے لے کر زمین پر گڑے وقاص کی آنکھ سے پاس دے مارا

اس کی چیخیں بلند ہوئی تھی مگر ابراہیم حدیقہ کا کانپتے وجود کو ہاتھ سے تھامے کھینچتے ہوئے لے گیا

اگلے پانچ منٹ میں گاڑی کو ہواؤں سے باتیں کرواتا وہ اسے کہاں لایا تھا حدیقہ کو معلوم نہیں تھا اور نہ ہی وہ فلوقت اس سے پوچھنے کی ہمت رکھتی تھی

ابراہیم ایک ہاتھ سے فلیٹ کے دروازے پر چابی لگائے دوسرے ہاتھ سے حدیقہ کے ہاتھ پر گرفت سخت کئیے وہ دروازے کے کھلتے ہی اسے کھینچتے ہوئے اندر لے گیا

حدیقہ بھی کھینچتی کوئی اندر کو چلی گئی

ابراہیم نے اسے صوفے پر بیٹھایا اور پھر اس کے لیے کچن سے پانی کا گلاس لے کر آیا

حدیقہ ںے بغیر اس کی جانب دیکھے کانپتے ہاتھوں سے پانی کو ایک ہی گھونٹ میں حلق سے نیچے اتارا

مگر پانی جیسے خوراک کی نالی میں جانے کی بجائے آنکھوں کے پردے والے راستے میں چلا گیا تھا تو اس کی آنکھیں ایک دم سے شدید بھرنے لگی تھی

ابراہیم پانی کا گلاس سامنے ٹیبل پر رکھے حدیقہ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھا

اس کے ہاتھوں کو اپنے زخمی ہاتھوں میں لیا

کیا حدت تھی ان مسیحا ہاتھوں میں کہ حدیقہ اپنے آنسو کو روک نہ پائی تھی

آنسو تواتر بہتے گئے

ابراہیم نے بھی کچھ دیر اسے یوں ہی اپنا غبار نکالنے دیا پھر اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے آنسو پونچھے ۔۔۔

شش۔۔۔۔

“حدیقہ “

حدیقہ نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا

ابراہیم کا دل سینے میں ہی پھڑپھڑا کر رہ گیا وہ اسے خود میں بھینچ گیا