Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 35)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 35)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
وقت اوپر ہوگیا تھا وہ اپنا کوٹ جھاڑتا چند نوٹ ٹیبل پر رکھے اٹھا تھا
اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا
“انتظار بہت فضول چیز ہے “
“اور آج اسے انتظار کرنا پڑا تھا “
حیات تمہاری فائل آصفہ گاڑی میں بیٹھتی حیات کو دیکھ کر آواز دے گئی
حیات چونک کر مُڑی
بھائی میری فائل ایک منٹ میں لے کر آئی
حیات دھیان سے گاڑیاں گزر
حیات جلدی سے یونیورسٹی اور ویٹنگ ایریا کے درمیان بنی سڑک کی طرف بڑھی جب ایک گاڑی تیزی سے اس کی جانب آئی اور ۔۔۔۔۔
شٹ !! حدید نے سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھ کر بریک پر پاؤں رکھا
گاڑی حیات کے دائیں گھٹنے کے ساتھ ہٹ ہوئی وہ جھٹکا کھا کر دور ہوئی تھی
“حیات !!!”
آصفہ اور عدنان بھائی دونوں اس کی جانب بھاگے
اگر حدید بروقت گاڑی کو بریک نہ لگاتا تو حیات یقیناً اُڑتی ہوئی گڑتی
حدید اس پاگل لڑکی کو سخت سست سنانے کے لیے گاڑی سے نکلا حیات درد سے کراہتی اپنے گھٹنے پر ہاتھ رکھے اٗٹھنے کی کوشش کر رہی تھی
“آپ ۔۔۔۔ “
ابھی حدید شاہ کچھ بولتا
حیات آنسو ضبط کرتی اپنا چہرہ اٹھا کر حدید کے پکارنے پر اسے دیکھنے لگی
بھیگی سبز آنکھیں درد سموئے اسے لمحے کو جھٹکا دے گئی تھی
“ٹھیک ہیں ؟؟ “
یہ کیسا جملہ نکلا تھا حدید شاہ کے منہ سے وہ خود حیران ہوا تھا
“جی ۔۔۔” اس کی بھینجی سی آواز نکلی
“حیات اٹھو بچے عدنان بھائی نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا “
“مسٹر آپ کو نظر نہیں آتا ابھی اسے زیادہ لگ جاتی تو ؟؟”
آصفہ حدید کی طرف رخ کئیے اسے سنانے لگی جبکہ حدید کا دھیان تو عدنان کے سہارے لڑکھڑا کر چلتی حیات پر تھا
“اوو مسٹر تم سے کہہ رہی ہو “
آصفہ حدید کے سامنے چٹکی بجا کر بولی
جس کے ماتھے پر اب بل ڈلے تھے وہ آصفہ کو اگنور کرتا گاڑی کی۔جانب بڑھا ۔۔۔۔
کیونکہ عدنان بھائی بھی حیات کو گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے لے جا چکے تھے
آصفہ سر جھٹکتی اس مغرور انسان کو کوستی اپنی گاڑی کے باہر اس کے انتظار میں کھڑے ڈرائیور کی جانب بڑھ گئی
گاڑی میں بیٹھتے حدید کی نظر اس کی گاڑی کے ٹائر کے پاس گڑے صفحے پر گئی وہ شاید حیات کے ٹکرانے کے بعد آصفہ سے ہڑبڑی میں گڑا تھا اوپر حیات کا نام سیکشن رول نمبر اور تصویر موجود تھی
“حیات حفیظ “
حدید نے وہ صفحہ فولڈ کرکے اپنے کوٹ کے اندر والی پاکٹ میں رکھ لیا ۔۔۔
________
“حیات بچے ٹھیک ہو نہ زیادہ تو نہیں لگی نہ بس پانچ منٹ ہم ہاسپٹل پہنچنے والے ہیں “
حیات سے زیادہ عدنان بھائی ہڑبڑاہٹ کا شکار ہوئے تھے
“بھائی میں ٹھیک ہوں پلیز ہاسپٹل نہیں جانا بس زرا سی گاڑی ہٹ ہوئی تھی “
حیات لب دبا کر درد ضبط کرتی عدنان بھائی کو روک گئی
“نہیں حیات ڈاکٹر چیک کریں گے “
“پلیز بھائی میں کہہ رہی ہوں نہ واقع کچھ نہیں ہوا بس اس کے اوپر پین کلر سپرے لگاؤں گی ٹھیک ہو جائے گا “
“پلیز بھائی ۔۔۔۔”
حیات نے عدنان بھائی کا ہاتھ تھام کر یقین دہانی کروائی
“اچھا مگر گھر جاتے ساتھ ہی تم امی یاں بھابھی کو چیک کرواؤ گی پھر پین کلر لو گی “
عدنان بھائی نے گاڑی گھر کی جانب موڑتے ہوئے اسے وارن کیا
“پکا آپ بس گھر چلیں “
________
“آف اوو ماما میں بالکل ٹھیک ہوں “
حیات نے ماں کی گیلی آنکھوں کی جانب دیکھ کر بے بسی سے کہا۔۔۔
سب اس وقت حیات کے کمرے میں موجود تھے سوائے علی اور حفیظ صاحب کے
کیا ہوا ہے حیات کو اتنے میں علی بھائی فوراً حیات کے کمرے میں آئے
“تم دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی حیات کب بڑی ہوگی لگوا لی چوٹ خود کو….. اور عدنان تمہارا دھیان کدھر تھا “
پہلی بار ہی تھا کہ علی بھائی نے حیات کو ڈانٹا تھا
حیات سہم گئی پہلے ہی سب کے سامنے ٹھیک ہونے کا دکھاوا کرتی درد سے بے حال تھی علی بھائی کے ڈانٹنے پر اپنی آنکھوں میں پانی جمع ہونے سے روک نہ پائی ۔۔۔
“علی کیوں ڈانٹ رہے ہیں آپ اسے “
کوثر بیگم نے بھی بہن پر جان چھڑکنے والے شوہر کے ڈانٹنے پر خفا نظر ان پر ڈالی
“یہ لو حیات یہ پیو دودھ ہلدی اور ساتھ پین کلر کھاؤ “
بھابھی اس نے منہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر علی بھائی تو آج اس کی سننے کو بھی تیار نہ تھے تبھی بغیر اس کی سنے دوائی اس کے ہاتھ میں تھما گئے
حیات دو میں پین کلر لگا دوں تمہارے وشمہ بھابھی ہاتھ میں ٹیوب پکڑے اس کے پاس آئی
بھابھی آپ کے ہاتھ پر کیا ہوا ہے حیات کی نظر وشمہ کے پٹی بندھے ہاتھ پر پڑی
کچھ نہیں کٹ لگ گیا تھا تم ادھر کرو میں پین کلر لگا دوں
پر بھابھی
“حیات کوئی بہانہ نہیں!!”
وشمہ اسے لگاؤ پین کلر بہانے بنا رہی ہے
عدنان نے حیات کو ڈپٹ کر وشمہ سے کہا
“جی “
وہ سر ہلاتی حیات کو پین کلر لگانے لگی جبکہ حفیظ صاحب اسے اپنے حصار میں لئیے بیٹھے تھے
دھیان رکھا کرو اپنا حیاتی ہم سب کی جان ہے تم میں
بابا وہ جزباتی ہوتی ان کے بازو میں چہرہ چھپا گئی
“آتی ۔۔۔۔”
گرتا بھاگتا حمزہ بھی نیند سے جاگتے آج حیات کو سامنے نہ پا کر روتا ہوا حیات کے کمرے میں آیا
“آتی کی جان” حیات نے بیڈ کے نیچے کرول کرنے والے انداز میں بیٹھے حمزہ کی طرف ہاتھ کئیے جو خود حیات کی طرف لپکنے کو بے تاب تھا جس کو تھام کر علی بھائی نے حیات کی گود میں ڈال دیا
________
“چائے !!”
رات کو وشمہ عدنان کے لیے چائے لے کر آئی جب ان کا دھیان وشمہ کے بائیں ہاتھ کی پٹی سے رستے خون کی جانب گیا
وشمہ خون نکل رہا ہے وہ چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے انھیں بازو سے تھام کر بٹھا گئے
یہ کیا ہوا وشمہ
وہ پٹی کھولتے ہوئے فکرمندی سے بولے
میں نے بتایا تھا آپ کو کٹ لگ گیا آپ نے دیکھا ہی نہیں
وہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ کو دھیان نہیں مگر خاموش رہی
“سوری سو سوری یار ادھر بیٹھو میں دوائی لگاتا ہوں اب اسے پانی میں مت لے کر جانا زخم خراب ہو جائے گا”
وہ دراز سے فرسٹ ایڈ باکس میں سے پہلے کاٹن نکالتے صاف کرنے لگے
“کیسے پانی سے بچا سکتی ہوں عدنان اتنے کام ہیں بچاری کوثر بھابھی کام دیکھیں اور حمزہ بھی اب چلنے لگ گیا اس کا بھی دھیان رکھنا ہوتا ہے اور اب حیات کو بھی چوٹ لگ گئی”
عدنان کو ٹیوب نکالتے دیکھ کر وہ ایک سانس میں بولی
“حوصلہ بیگم !!”
“میڈ کس لیے ہوتی ہیں ان سے کروا لو “
“نہیں مجھے اور کوثر بیگم کو میڈ کے دھکے برتنوں کی سمجھ نہیں آتی “
وہ پھر ان کی بات رد کر گئی
“تو آپ کے لیے ہم دھو دیں برتن “
وہ مسکراہٹ دبائے بولے
“باز آئیں عدنان آہ۔۔۔۔”
“زیادہ درد ہے سوری میں نے آہستہ ہی لگائی تھی”
وہ پھونک مارتے ان کی جلن رفوچکر کر گئے
“نہیں ٹھیک ہوں اب”
وہ مسکرائی تھی
“اچھا اب تم بھی پین کلر کھاؤ چائے کا کپ میں خود ہی رکھ دوں گا “
وہ انہیں مزید کہتے ہاتھ دھونے کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔۔
_________
حدید شاہ اپنے آفس کی ریلنگ چئیر پر ٹیک لگائے گول گول گھوم رہے تھے جب ان کا فون بلنک ہوا
ناٹیفیکیشن اوپن کرتے ہیں یک بعد دیگرے لڑکیوں کی تصویریں اس کے سامنے شو ہونے لگی
حدید سر جھٹکتا انہیں بیک کرتا کہ
اگلے ہی سیکنڈ اسی نمبر سے کال بھی آنے لگی
“یہ کیا ہے نشاء”
“تم مجھے اس نمبر سے بھی بلاک کرو گے تو میں تمہیں کسی اور نمبر سے پکس بھیجو گی “
نشاء کی ضدی آواز پر وہ فون ائیر پوڈز کے ساتھ اٹیچ کرتا سیل فون ٹیبل پر پٹخ گیا
اتنا غصہ حدید شاہ میں تم سے بڑی ہوں اور تمہاری کزن بھی ہوں نشاء نے جتانے والے انداز میں کہا
کیا تم اس واقعے کو بھول نہیں سکتے حدید
درد سے لبریز آواز پر حدید سیدھا ہوا
تم اپنا دھیان رکھو نشاء
اور تم ہم دونوں کا دھیان رکھو حدید
اچھا میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں ایک ضروری میٹینگ پر جانا ہے میں نے اپنے فون پر ہوتی بلنک پر حدید نے کال سا کنیکٹیکٹ کی
اور موبائل تھاما
چہرے پر اس سارے عرصے میں پہلی بار مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔
“اٹس دن!!”
_______
“علی کیا ہوا ہے؟؟ “
علی صاحب کو کھوئے ہوئے محسوس کرکے کوثر بیگم نے گود میں اٹھائے حمزہ کو بے بی کوٹ میں ڈالتے ہوئے فکر مندی سے کہا
“اہ۔۔۔ہاں نہیں کچھ نہیں “
“پریشان کیوں ہیں آپ ؟؟”
وہ ان کے پاس بیٹھ گئی
“پریشان نہیں بس فکر مند ہوں “
“حیات کی وجہ سے ؟؟”
وہ اپنے بالوں کو باندھتے ہوئے بولی
“ہاں۔۔۔!! پتا نہیں میری خواہش ہے حیات مضبوط بنے جو وہ پڑھ رہی ہے جس شعبے میں وہ جانا چاہتی ہے وہاں اتنا حساس ہونا اچھا تو نہیں ہے “
“حیات بچی نہیں ہے علی وہ باشعور ہے مگر وہ محبت کرنے والوں کے درمیان ہے تبھی حساس ہے فکر مت کریں بہت سمجھ دار ہے
یہ ہی مجھے خوف ہے حیات نے ہمیشہ اپنے ارد گرد سے محبت سمیٹی ہے جس وجہ سے وہ بہت حساس ہوگئی ہے “
“ہممم۔۔۔۔’ وہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا گئے
“میری دعا ہے اللہ اسے آگے بھی ہم سے بھئ زیادہ محبت کرنے والے لوگوں ملیں “
“او ہو علی آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم کل ہی حیات کو رخصت کرنے والے ہیں ۔۔۔”
کوثر ہنستی ہوئی بولی
ابھی وہ کچھ بولتے حمزہ کے رونے کی آواز آنے لگی
“چلیں سنبھالیں اپنے سپوت کو میں سونے لگی ہوں “
کوثر صاحبہ ہنستے ہوئے بولی کیونکہ حمزہ کو رات کو سنبھالنے کی ڈیوٹی علی صاحب کی تھی
وہ بھی مسکراتے ہوئے اپنے شیر کو اٹھانے کے لیے اس کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔
_______
یونیورسٹی سے باہر قدم رکھتے اپنی گاڑی کے باہر کھڑے ابراہیم شاہ کو دیکھ کر حدیقہ کا موڈ آف ہوا
ابراہیم حدیقہ کو اپنی جانب آتا دیکھ کر گاڑی میں
حدیقہ ناک چڑھاتی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتی پچھلی سیٹ پر ٹک گئی
میں ڈرائیور نہیں ہوں آپ کا حدیقہ شاہ ابراہیم نے سپاٹ نظر پیچھے بیٹھی حدیقہ پر ڈالی
“تو ڈرائیور کی جگہ کیا کر رہے ہو؟؟ “
حدیقہ کا انداز لٹھ مار تھا
ابراہیم نے بامشکل ضبط کرتے گہری سانس لی اور گاڑی کا ہارن بجانا شروع کردیا
کیا مسئلہ ہے ابراہیم شاہ
“جب تک آپ آگے نہیں آئیں گی حدیقہ شاہ یہ ہارن بجتا رہے گا “
“آہ ۔۔۔”حدیقہ کا دل کیا اپنے بال نوچ لے وہ اس شخص سے نہیں جیت سکتی تھی
پچھلی سیٹ سے نکلتے ہوئے حدیقہ نے دروازہ پوری جان سے مارا
اور آگے آکر بیٹھ گئی
“یہ آپ کی ملکیت نہیں ہے حدیقہ شاہ میری محنت مزدوری کی کمائی سے خریدی ہوئی گاڑی ہے اگلی بار یہ گستاخی مت کرئیے گا”
ابراہیم کی بات پر حدیقہ نے چونک کر گاڑی پر غور کیا جو واقع نئی تھی
“ہنہہ میں نہیں جانتی جیسے بابا کے پیسوں سے لی ہے آئے بڑے محنت مزدوری کی کمائی “
حدیقہ نے اپنا خیال دل میں رکھنے کی کوشش نہیں کی سیدھا اس کے منہ پر ماری تھی
ابراہیم سر جھٹک گئے
اس لڑکی کی زبان کے آگے خندق تھی
کافی دیر خاموشی کے بعد حدیقہ نے میوزک سسٹم آن کرلیا
آواز بہت اونچی تھی
ابراہیم نے آواز دھیمی کی تو حدیقہ نے ضد میں آواز فل بڑھا دی
ابراہیم نے سسٹم ہی آف کردیا
“کیا مسئلہ ہے”….
حدیقہ نے ایک تند نظر ابراہیم پر ڈال کر چہرہ موڑ لیا ۔۔۔
چند منٹ بعد گاڑی کے رکنے پر حدیقہ اپنا غصہ والیوم بٹن پر نکالتی گاڑی کا دروازہ دوبارہ مار کر نکلی
یہ سب اتنی جلدی ہوا ابراہیم سمجھ ہی نہ سکے
ابراہیم شاہ نے حدیقہ کے اندر جانے کے بعد بے بسی دوسری سیٹ پر گڑے ہوئے بٹن کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
_______
“کیا بکواس کر رہے ہو فیکٹری میں آگ کیسے لگی سکتی ہے “
اگلی صبح حدید آفس نکلنے کے لیے تیار ہورہا تھا جب اس کے سیکریٹری نے اسے فیکٹری میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ کی خبر دی
