212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 34)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“حدید “

اپنے کمرے سے منسلک ٹیرس میں بیٹھے حدید کو سیگریٹ سکھاتے دیکھ کر نشاء اس کے پاس آئی

“مجھ سے ناراض ہو حدید ؟؟”

نشاء نے اس کے کرسی پر دھرے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے چینی سے کہا

حدید نے سیگریٹ بجھاتے اسے زمین پر پھینک کر اسے اپنی سلیپر سے مسلا

“حدید ۔۔؟؟ “

حدید کو ہنوز خاموش رہتے دیکھ نشاء کی آواز بھیگ گئی

حدید نے گہری سانس بھر کر اس کی جانب دیکھا جو اپنا سر اس کے شانے کے ساتھ لگائے آسمان کی جانب دیکھنے لگی

کچھ خاموشیاں ساکن نہیں ہوتی

ان میں سب کچھ ہوتا ہے

“باتیں “

“ہیبت “

“ناراضگی”

“خوف”

“وحشت “

“سوائے لفظوں کے۔۔۔!!”

________

“پھوپھو کی جان “

“پھوپھو کا گل گھتنہ”

حیات حمزہ کو گود میں اٹھائے ہوا میں اچھال رہی تھی جو ہوا میں جاتے ہی کھلکھلانے لگتا

“آتی ۔۔۔”حمزہ اپنی توتلی زبان میں حیات کو آتی بولتا اسے اتنا پیارا لگتا تھا کہ وہ اسے چٹاچٹ چوم لیتی تھی

“آتی کی پیاری سی جان “

“آتی صدقے اپنے کاکے کے “

حیات اسے سینے سے لگائے گھمانے لگی

“حیات تم نے اسے بہت بگاڑ دیا ہے تمہاری غیر موجودگی میں یہ بہت ضد کرتا ہے ابھی تک اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا “

کوثر بھابھی ہاتھ میں سیری لیک کا باؤل تھامے بھونچائی سی حیات کو بولی

“ہائے آپ مجھے دے دیں بھابھی اپنے کاکے کو ناشتہ میں کراوتی ہوں “

حیات نے باؤل تھامے اپنے بازوؤں میں قید حمزہ کو لئیے صوفے کے قریب لے گئی

“مجھے تو فکر ہوتی ہے حیات کل کو تمہاری شادی بھی کرنی ہے حمزہ تو تم سے بہت اٹیچ ہے “

کوثر بھابھی کی شادی والی بات پر حیات جھینپ سی گئی

“بھابھی ابھی کہاں ابھی تو میں نے پڑھنا ہے اپنا ایل ایل بی ابھی تو میں نے اپنے کاکے کے پاس رہنا ہے “

حیات حمزہ کو چھوٹے چھوٹے چمچ کھلاتی اس کے ہونٹوں کے گرد لگے دودھ کے قطرے صاف کرنے لگی

“ہاہاہا۔۔۔۔۔حیات تم تو ایسے شرما رہی ہو جیسے کل ہی تمہاری شادی کرنے والے ہیں ہم “

وشمہ بھابھی پاس بیٹھی حیات کے جھینپنے پر ہنسی تھی

“بھابھی”

حیات نے سرخ چہرے سے بھابھیوں کو دیکھا

“چلو آتی کی جان یہاں پر ہمارا کوئی نہیں “

“آتی “

حیات کہاں پیچھے تھی خالی باؤل ٹیبل پر رکھتی حمزہ کی جانب مڑی جو اسے ہاتھ بڑھانے پر اپنے دونوں ننھے بازؤں کو واہ کیے اس کی جانب لپکنے کو ہوا تھا

“ہاہاہا۔۔۔۔ مما دیکھ رہی ہیں “

“اپنی حیاتی اور اپنے پوتے کو کتنے چالاک ہیں دونوں “

کوثر بھابھی ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی سبزی بناتی اپنی ساس کو بھی ملاتی بولی

جو مسرور ہوئی ان کا آشیانہ بے حد پرسکون خوشحال تھا وہ تو نظر اتارتی نہ تھکتی تھی

“میرے بچے تو گھر کی رونق ہیں”

“بس بیٹا ہر نماز میں اللہ سے یہ دو دعائیں ہی مانگتی ہوں ایک میری حیاتی کو اچھے ہمسفر سے نوازی اور دوسرا اللہ میرے عدنان کو نیک اور صالح اولاد کی خوشی سے جلد از جلد نواز

دے “

حاجرہ بیگم نے ٹھنڈی سانس بھر کر مسکراتے ہوئے کہا

صوفے پر بیٹھ کر مٹر چھیلتی ہوئی وشمہ کا چہرہ لمحے کو تاریک ہوا چار سال ہوگئے تھے

ان کی شادی کو مگر ان کی طرف سے ایسی کوئی خوشخبری انھیں نہیں ملی تھی اکثر وہ بھی حمزہ کو حسرت سے دیکھتی تو کبھی اپنی خالی گود کو

لیکن اس معاملے میں ان کا سسرال طعنے باز اور تنگ نظر نہیں تھا

ساس بھی جب کبھی اس موضوع کو چھیڑتی تو اسے دعائیں دیتی

جیٹھانی بھی اس کا حوصلہ ہی باندھتی تھی خود ان کے شوہر عدنان حفیظ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے

مگر وہ خود کبھی کبھی احساس کمتری میں چلی جاتی اپنے آپ کو نامکمل تصور کرنے لگتی تھی ۔۔۔

“کوثر بیگم نے ان کے مٹر کو تھامے ساکت ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دیا “

جو اپنی جیٹھانی کی جانب دیکھ کر پر دقت سا مسکرائی

________

“علی بھائیا “

رات کے وقت ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کرنے میں مصروف تھے جب حیات نے علی بھائی جو پکارا

“جی بھائیا کے بچے “

علی اس کی طرف متوجہ ہوئے

“بھائیا مجھے گاڑی سیکھنی ہے “

بیٹھے بیٹھے حیات کو جانے کیا سوجی جو وہ کہنے لگی

“گاڑی کیوں سیکھنی ہے میری حیاتی نے “

حفیظ صاحب پانی کا گلاس تھامتے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے

“بابا وہ آصفہ کو آتی ہے گاڑی چلانی اور عائشہ سیکھ رہی ہے مجھے بھی آنی چاہیے نہ گاڑی چلانا “

“لو بھلا تمہاری دوستیں پانی میں کودیں گی تو تم بھی کود جاؤ گی “

عدنان بھائی نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا

“بھائی “

حیات نے علی بھائی جی جانب دیکھا

“عدنان مت چھیڑو اسے “

علی بھائی نے فوراً چھوٹے بھائی کو ڈانٹا تھا

“اچھا سیکھا دیں گے گاڑی بھی ابھی عدنان آپ کو ٹائم پر لیتا ہے نہ “

علی بھائیا نے اس کی پلیٹ میں مزید بریانی ڈالتے ہوئے پوچھا

“بس بس بھائیا اور نہیں حیات نے علی کا ہاتھ روکا جو بریانی ڈالتے جا رہے تھے

“چپ کرکے کھاؤ اسے”

“نہیں بھائیا عدنان بھائی لیٹ آئے تھے آج “

حیات نے مسکراہٹ دبائے شرارتی نظروں سے عدنان بھائی کی جانب کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے ان کی بات کا بدلہ لیا تھا

“کیااا؟؟ “عدنان بھائی کو تو پانی پیتے صدمہ ہی لگ گیا

“کیوں عدنان لیٹ کیوں گئے ؟؟”

حفیظ صاحب نے بیٹی کی سائیڈ لیتے ہوئے

عدنان سے استفسار کیا تھا

جبکہ حاجرہ بیگم اور دونوں بھابھیاں مسکراتے ہوئے محفل کا حصہ بنی ہوئی تھی یہ تو تقریباً روز کی ہی بات تھی دونوں بھائی رات کو کھانے کی ٹیبل پر خوب چھوٹی بہن کو چھیڑتے اور پھر باتوں باتوں میں علی بھائی حیات کی طرف ہوجاتے اور عدنان دیکھتے رہ جاتے

“بھائی بس پانچ منٹ ہی لیٹ ہوا تھا جمعہ پڑھنے گیا تھا اور واپسی پر میں نے اسے آئسکریم کا بھی پوچھا تھا جو اس نے نہیں کھائی “

عدنان نے خود کو کلئیر کیا

“مگر آئسکریم تو آپ میرے لیے نہیں لائے تھے “

وشمہ بیگم بھی میدان میں آئی

عدنان بھائی بری طرح پھنس گئے تھے

حیات کو بڑے بھائی پر ترس آیا

“بھابھی بھائی تو آئسکریم آپ کے لیے ہی لے رہے تھے وہ تو بس مجھے صلح مار لی تھی “

حیات نے فوراً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کا ساتھ دیا تھا

علی بھی حیات کے چھوٹے بھائی کے ساتھ دینے پر ہنس دئیے

حفیظ صاحب اپنے بچوں کی محبت پر مسکرائے تھے

ان کی سب سے بڑی اولاد علی جو ان دائیں جانب بیٹھے تھے ان کی شادی کو پانچ سال ہوچکے تھے اور ان کا ساڑھے تین سال کا بیٹا تھا حمزہ جو پورے گھر کی جان تھا

پھر علی سے دو سال چھوٹا عدنان جن کی شادی کو بھی چار سال ہونے والے تھے مگر ان کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی

پھر علی سے سات سال اور عدنان سے پانچ سال چھوٹی حیات تھی جو اپنے بھائیوں اور باپ سمیت اپنی بھابھیوں کی بھی لاڈلی تھی

جو ابھی اپنے ایل ایل بی (بیچلر آف لاز)کے تیسرے سال میں تھی

ان کا گھرانہ خوشحال گھرانوں میں شامل ہوتا تھا

اللہ کا دیا سب کچھ تھا کوئی لمبی چوڑی جائیداد کے مالک

نہیں تھے حفیظ صاحب مگر اپنے تینوں بچوں کے نام انھوں نے الگ الگ پلاٹ خرید رکھے تھے اور ایک پانچ مرلے کا گھر جو انھوں نے شروعات میں لیا تھا وہ تینوں بچوں کے نام تھا اور یہ ایک کنال کا خواب صورت سا گھر جو ان کے دونوں بیٹوں کے نام تھا اس کے علاوہ ان کی ذاتی فیکٹری تھی جہاں پر دونوں بھائی کام کرتے

سب سے بڑی بات ان کے تینوں بچوں میں حسن اتفاق ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی بہوؤں میں بھی پیار تھا ان کی یہ ہی دعا تھی ان کی زندگی رہے نہ رہے ان کے بچوں کے درمیان یہ پیار اور حسن سلوک اور اتفاق ہمیشہ رہے ۔۔۔۔

_______

“میں نے بھائیا سے بات کی ہے وہ کہہ رہے تھے مجھے گاڑی سیکھائیں گے “

کینٹین میں بیٹھی حیات نے فرنچ فرائز کا پیس میں رکھتے ہوئے اپنے موبائل پر لگی عائشہ اور سوفٹ ڈرنک کا گھونٹ بھرتی آصفہ دونوں کو بتایا

“یہ تو اچھی بات ہے تمہیں آنی بھی چاہیے گاڑی چلانا “

آصفہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا

“تم کیا کہتی ہو عائشہ ؟؟”

“عائشہ !!”

“عائشہ سن رہی ہو۔۔!!؟”

عائشہ کو ہنوز موبائل میں مصروف دیکھ کر حیات نے اسے پکارا مگر وہ اسے سن رہی ہوتی تو موجہ ہوتی

عائشہ حیات نے اس کا فون کھینچا تو وہ ہوش میں آئی

“حیات کیا بدتمیزی ہے میرا موبائل “

عائشہ نے تڑپ کر اپنا فون حیات کے ہاتھ سے ڈپٹنے والے انداز میں کھینچا

آصفہ اور حیات دونوں ہی اس کی تیزی پر حیران ہوئی تھی

“اتنی تڑپ ایک فون کے لیے “

“بدتمیزی فون پکڑنا نہیں بلکہ دوستوں کے ساتھ بیٹھ پر موبائل میں گھس جانا بدتمیزی ہوتا ہے “

آصفہ نے منہ بناتے ہوئے عائشہ سے کہا

جبکہ حیات تو اپنے ہاتھ کو دیکھتی رہ گئی جس میں سے عائشہ نے اتنی بے دردی سے فون کھینچا تھا

حیات خاموشی سے اپنا بیگ اٹھائے وہاں سے چلی گئی

عائشہ نے آصفہ کی جانب دیکھا جو خود اپنا بیگ بند کرتی اٹھنے لگی تھی

یاررر کیا ہوگیا ہے

“آصفی۔۔۔۔۔ حیات “

عائشہ سر پیٹتی اٹھ گئی

حیات منہ کان لپیٹے گراؤنڈ میں چلتی جا رہی تھی آصفہ بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی جب عائشہ بھی اپنے پیروں میں تیزی لاتی ان کے قریب آئی

“یارررر موبائل ایک پرسنل چیز ہے “

عائشہ نے دلیل دی

“تم اب بھی خود کو ڈیفینڈ کر رہی ہوں اور دوستی میں کیا پرسنل ہوتا ہے “

آصفہ نے حیات کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے کہا

“یارررر ۔۔۔اچھا سوری حیات “

“حیاتی حیات یاررر ۔۔۔۔ “عائشہ اب بھاگنے والے انداز میں ان تک پہنچی تھی

ابھی وہ کچھ اور کہتی انھیں اپنا کلاس فیلو زوہیب صدیق اپنے قریب آتا نظر آیا حیات اور آصفہ کو بھی رکنا پڑا

“السلام علیکم۔۔۔!!”

زوہیب نے ان کے قریب آتے ہی سلام کیا

“وعلیکم السلام۔۔۔۔!”

تینوں نے ایک ساتھ کہا

“آپ لوگوں نے سر کازم کا لیکچر نہیں لیا “

زوہیب نے حیات کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا

“سر کازم کا لیکچر تو ایک بجے نہیں تھا؟؟”

آصفہ نے حیرانگی سے کہا

“نہیں انھوں نے صبح سی آر کو بتا دیا تھا آج ان کا لیکچر دس بجے ہوگا گروپ میں میسج موجود ہے “

“او نہیں آج تو انھوں نے بہت امپورٹنٹ لیکچر دینا تھا “

حیات نے آنکھیں پھیلائے سر پر ہاتھ مارا

زوہیب نے ایک لمحے کو رک کر اس کی پھیلی سبز آنکھوں میں سجے کاجل کو دیکھا تھا

“کوئی بات نہیں میں نے لیکچر دیا ہے آپ نوٹس مجھ سے لے لیجئے گا “

“نہیں بہت بہت شکریہ زوہیب اس کی ضرورت نہیں ہے “

آصفہ کے اسے نا محسوس انداز میں۔ کہنی مارنے پر حیات اسے گھورتی زوہیب کو منع کر گئی

“نہیں کوئی بات نہیں آپ لے لیجئے گا آج کا لیکچر ہماری پریزنٹیشن کے لیے بہت امپورٹنٹ ہے “

“پریزنٹیشن۔۔؟!!” حیات نے دوسری دفعہ آنکھیں پھیلائی

“جی ۔۔۔۔ “زوہیب نے بے بسی سے آنکھوں کا رخ بدلہ کیونکہ حیات پھر سے اپنی آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ رہی تھی

“جی سر کازم نے گروپس بھی بنادئیے “

زوہیب ابھی تفصیل ہی بتاتا کہ

عائشہ نے اس کی بات کاٹی

“امپورٹنٹ لیکچر بھی آج پڑھا دیا دے دیا”

“آج ہی پریزنٹیشن بھی دے دی “

” گروپس بھی آج ہی بنا دئیے بنادئیے “

“ضروری سوالات بھی لکھوا دئیے “

“پورا کورس بھی آج ہی پڑھا دیا”

“پیپر بھی آج ہی دے دیا”

“بلکہ آج ایک گھنٹے میں وہ آپ سب کو چاند کی سیر بھی کروا لائے “

“اللہ کی پناہ ایک لیکچر مس ہوا ہے ایسا لگ رہا ہے سر کازم آج ہی سب کچھ کروا کر ریٹائرمنٹ لے کر چلے گئے “

عائشہ نے تب کر بولا

“جی ؟؟ “زوہیب نے پریشانی سے تپی ہوئی عائشہ کو دیکھا

“اسے چھوڑیں زوہیب آپ کے پاس لسٹ ہے گروپس کی ہمارے ساتھ شئیر کر دیں “

حیات نے جلدی سے اپنے بیگ سے فون نکال کر اسے کہا

“ہم تینوں ہیں نہ ایک ہی گروپ میں زوہیب ؟”

آصفہ کو فکر ہوئی

“اس بار سر نے تین تین سٹوڈنٹس کا گروپ بنایا ہے اور ساتھ میں یہ بھی سختی سے کہا ہے جسے ان گروپس سے مسئلہ ہے وہ باصد شوق پریزنٹیشن نہ دے “

زوہیب نے گروپ لسٹ تینوں کے ساتھ شئیر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

“ہائے اللہ مر گئی حیات میں “

عائشہ کی صدمے سے چوڑ آواز پر وہ تینوں متوجہ ہوئے

کیونکہ تیسرے گروپ میں حیات ،آصفہ اور زوہیب کا نام تھا عائشہ ان میں تھی ہی نہیں

“اللہ پوچھے سر کازم کو ان کو ہمیشہ مجھ سے مسئلہ ہی رہا ہے”

اس کی جلی کٹی آواز پر حیات اور آصفہ کے ساتھ زوہیب نے بھی مسکراہٹ دبائی

عائشہ کا نام پانچویں گروپ میں تھا اس کا دکھ واقع بڑا تھا کیونکہ پہلے تو آصفہ یاں حیات اس کے حصے کا کام کردیا کرتی تھی اب کیا ہوگا

“زوہیب تم میرے ساتھ گروپ چینج کروا لو پلیز اللہ تمہیں پیارے سے بچے دے گا “

عائشہ نے بوڑھی آماوں کی طرح زوہیب کو دعائیں دیتے کہا

“سر کازم نے سختی سے کہا ہے

کوئی گروپ چینج نہیں کرسکتا “

زوہیب کندھے اچکا گیا حالانکہ دل میں تو وہ بھنگڑے ڈال رہا تھا کہ اس کا نام حیات کے ساتھ آیا ہے

“اففف “

“اچھا یہ لیجیے حیات میرے نوٹس باقی پریزنٹیشن کی ڈسکشن ہم ایک بجے کریں ابھی میری کلاس ہے “

زوہیب اپنے نوٹس حیات کو دیتا وہاں سے چلا گیا ابھی تو اس نے کھل کر خوشی بھی تو منانی تھی ۔۔۔

_______

دو بج گئے تھے وہ اسی آئسکریم پارلر میں ہاتھ میں سفید رومال تھامے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا

کسی کے انتظار میں

“آئی ایم سوری سو سوری “

کل کا نظر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا

سفید رومال کی نکر پر بنے ایچ حرف کو اس نے چھوا

“ایچ ۔۔۔۔”

_______

“کیا تھا اگر زوہیب حامی بھر لیتا سر کو پھر ہم خود منا لیتے “

عائشہ نے منہ بسورتے ڈیپارٹمنٹ سے نکلتے ہوئے کہا

“ارے وہ کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتا اس کے تو من کی مراد بھر آئی تھی اب وہ حیات کے ساتھ کام کرے گا “

آصفہ نے ہنستے ہوئے عائشہ کے ساتھ حیات کو بھی کندھا مارا

“پلیز آصفہ یوں فضول میں نام مت جوڑا کرو شدید زہر لگتی ہے مجھے یہ حرکت ۔۔۔۔”

“اچھا اچھا بابا چلو آئسکریم کھانے چلتے ہیں عائشہ کا موڈ ٹھیک ہو جائے گا “

آصفہ نے لب کا کونہ دانتوں میں دبائے محض حیات کو تپانے کے لیے کہا

“ہٹو آصفہ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلا رہی ہو اتنا دل کر رہا ہے تو اپنا کہو “

“دونوں چپ ہوجاؤ میں کہی نہیں جارہی تمہیں پتا ہے کل عدنان بھائی نے بھی مجھ سے واپسی میں آئسکریم کا کہا تھا مجھے اتنا گلٹی فیل ہوا تھا “

“میں تو نہیں جاؤں گی آئندہ تم لوگوں کے کہنے پر “

“ہاں تو چلی جاتی عدنان بھائی کے ساتھ آئسکریم کھانے کل تم نے کونسی ہمارے ساتھ جا کر آئسکریم نوش فرما لی تھی “

آصفہ نے ہاتھ نچاتے کہا

“اللہ اللہ تم لوگ دوستیں ہو یاں دشمنیں “

“جاناں ٹو ان ون “

عائشہ نے آنکھ مارتے ہوئے کہا

حیات اس کے جاناں کہنے پر سٹپٹائی

“اففف حیات تم تو ہماری بے ضرر سی بات پر سرخ ہوجاتی ہو

شادی کے بعد تو ہمارے جیجو کا اللہ ہی حافظ ہے “

آصفہ نے اس کے گالوں کو کھینچا

“تم لوگ نہیں سدھرتی “

کوئی شک !!!

پھر تینوں ہی کھلکھلائی تھیں

_________

وقت اوپر ہوگیا تھا وہ اپنا کوٹ جھاڑتا چند نوٹ ٹیبل پر رکھے اٹھا تھا

اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا

“انتظار بہت فضول چیز ہے “

“اور آج اسے انتظار کرنا پڑا تھا “

حیات تمہاری فائل آصفہ گاڑی میں بیٹھتی حیات کو دیکھ کر آواز دے گئی

حیات چونک کر مڑی

“بھائی میری فائنل ایک منٹ میں لے کر آئی “

“حیات دھیان سے گاڑیاں گزر ۔۔!!”

عدنان بھائی نے اسے روکا

مگر

حیات جلدی سے یونیورسٹی اور ویٹنگ ایریا کے درمیان بنی سڑک کی طرف بڑھی جب ایک گاڑی تیزی سے اس کی جانب آئی اور ۔۔۔۔۔