212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 33)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

ابراہیم شاہ ایمرجنسی فلائٹ پکڑتے لاہور پہنچے تھے

دل ان کا بھی خوفزدہ سا تھا

وہ وہاں سے سیدھا وہ ہسپتال آئے

“عون “

ابراہیم شاہ دور سے ہی ویٹنگ سائیڈ پر بنے بینچ پر بیٹھے عون کی جانب اسے آواز دیتے بڑھے

“بابا “

ابراہیم شاہ کو سامنے دیکھ کر جیسے عون میں جان سی آئی وہ بھاگ کر ان کے گلے لگ گیا

وہ آنسو جو وہ کب سے روکے بیٹھا تھا

باپ کے پر شفقت حصار میں آتے ہی وہ ان کے کاندھے پر بہا گیا

“بابا۔۔۔۔۔ ماموں “

________

“بالاج “

انابیہ نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اُسے پکارا تھا

وہ کہہ تو چکی تھی کہ اس کا شانہ ہمیشہ اس کے لیے حاضر ہے مگر بالاج کے آنسووں کا وزن اس پر بھاری پڑ رہا تھا

دل پر بوجھ بھرتا جارہا تھا

جیسے جیسے خاموشی کا دورانیہ بڑھا اور گھٹی سانسوں کی آواز پھیلی انابیہ کی بھی بس ہونا شروع ہوئی مگر اسے مضبوط بننا تھا

وہ بہادر تھی اسے بہادر بننا تھا کیونکہ اس کی پرورش حیا خان نے کی تھی

کیونکہ وہ بالاج خان کی بیوی تھی

کیونکہ وہ ایک بہادر ایماندار باپ کی بیٹی تھی

کیونکہ اسے سب سچ جاننا تھا

اس نے اپنی بیس سالہ زندگی میں پہلی بار بالاج کو روتا دیکھا تھا وہ ضبط کئیے اپنے آنسووں کو روکے بیٹھی تھی جیسے بندھ باندھ رکھا تھا

بالاج نے بھی شاید اس کی آزمائش کو ختم کرنے کا سوچتے ہوئے بولنا شروع کردیا تھا

_______

آج سالوں بعد حیا نے اس سیاہ رنگ کے بیگ کو کھولا تھا جس کے اوپر جمی دھول اس بات کی گواہ تھی کہ برسو تک اُسے چھیڑا نہیں گیا تھا

آج پھر اس کی زندگی کا سیاہ ماضی اپنی نحوست لئیے اس کے سامنے کھڑا تھا

پردوں سے جھانکتی رات کی رانی

کچھ اور سیاہ ہوئی

ہواؤں نے ٹھہر کر اس منظر کو دیکھا تھا

ارد گرد سرسراہٹ سی ہوئی

“ماضی کھلنے والا تھا “

_________

ماضی

“حیات “

“حیات کی بچی اگر چلی جاؤں گی ہمارے ساتھ آئسکریم کھانے تو کوئی ٹیکس نہیں آئے گا تم پر ویسے بھی ابھی پینتالیس منٹ ہیں اس سے پہلے کوئی نہیں آتا تمہیں لینے “

آصفہ نے جھنجھلا کر کہا

“نہیں آصفہ یار بابا یاں عدنان بھائی کو پتا لگا تو ڈانٹیں گے مجھے “

حیات نے بیچارگی سے اپنی دوستوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

“یار تمہارے بھائی تمہیں اکیلے باہر جانے دیتے نہیں تو تمہیں ایل ایل بی جیسی ڈیگری کروانے کی کیا تک بنتی ہے ؟؟”

عائشہ نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا

“اوہو اسے چھوڑو حیات تم اس کی فکر مت کرو علی بھائی ہیں نہ وہ بچا لیں گے تمہیں پلیز چلو یار پانچ منٹ کا راستہ ہے پیدل کا آئسکریم کھائیں گے اور یونیورسٹی واپس پھر پورے پینتالیس منٹ بعد تمہیں لینے آجائیں گے “

آصفہ نے سارا پلین بتاتے ہوئے جلدی کی

“پینتالیس کہاں آصفہ چالیس پانچ منٹ تو باتوں میں ضائع کردیا اس حیات کی بچی نے “

“حیات اگر تمہارا اپنا دل نہیں ہے تو بتادو تمہاری وجہ سے ہمارا پلین بھی رہ جائے گا “

عائشہ نے منہ بناتے ہوئے کہا

بدلے میں حیات نے اسے گھورا

“افف آپ کے یہ سبز نین اور ان کی گھوریاں مگر یہ ہم پر نہیں چلیں گی ہم کوئی زوہیب تھوڑی ہیں”

عائشہ نے لب دبائے شرارت سے کہا

“شٹ اپ عائشہ “

حیات نے ماتھے پر بل ڈالے اسے ڈپٹا

“اچھا لڑ لو تم دونوں اور یہ چالیس منٹ بھی ختم ہو جائیں “

آصفہ نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے غصے سے کہا

“یار ۔۔۔۔۔۔’ اچھا چلو مگر آئسکریم ادھر بیٹھ نہیں کھائیں گے ہم یاد رکھنا “

حیات نے انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا

“اچھا چلو تو صحیح میری ماں پھر شرطیں رکھ لینا “

آصفہ نے اسے کندھے سے کھینچتے ہوئے کہا

حیات آصفہ اور عائشہ ایل ایل بی کی طلبہ تھیں اور تینوں کی آپس میں بہت اچھی دوستی تھی

________

آج جمعے کا دن تھا تو علی بھائی یاں عدنان بھائی اسے جمعہ پڑھنے کے بعد لینے آتے تھے اور اس کے علاؤہ اس کے دو لیکچر بھی لیٹ ہوتے تھے مگر آج سر کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے ان کا آخری لیکچر کینسل ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی دوستیں اسے آئسکریم کھانے جانے کی ضد کر رہی تھی ایسا نہیں تھا اس کا دل نہیں تھا مگر اسے ڈر بھی تھا کہیں عدنان بھائی یاں بابا اُس کے اِس طرح سے باہر جانے پر ڈانٹ نہ دیں حالانکہ عدنان بھائی علی بھائی سے چھوٹے تھے مگر حیات کو زیادہ ڈر بھی ان سے ہی لگتا تھا

مارچ کا مہینہ تھا جاتی سردیوں کے بعد نکلتی دھوپ سیدھا آنکھوں پر چب رہی تھی سفید شلوار قمیض کے ساتھ حیات سیاہ رنگ کی شال اپنے گرد باندھے عائشہ اور آصفہ کے ساتھ کھڑی روڈ کراس کرنے کے لیے کھڑی تھی دھوپ کی کرنیں سیدھا اس کی سبز آنکھوں میں جاتی ان کا رنگ بدل گئی وہ خوبصورت لگ رہی تھی میدے جیسا سفید شاداب چہرہ سرخ سرخ سا وہ اوپری ہونٹ کے اوپر دھوپ کی تپش سے پھوٹتی پسینے کی نمی کو صاف کرتی آصفہ کا ہاتھ تھامے جلدی سے راڈ کراس کرتی اپنی یونیورسٹی سے زرا سے فاصلے پر بنے آئسکریم پارلر میں آگئی

“جلدی کرنا آصفہ عائشہ “

“اچھا بتاؤ کونسا فلیور کھاؤ گی ؟”

آصفہ نے مینیو کارڈ پر نظر دوڑاتے اس سے استفسار کیا

“کوئی سا بھی لے لو “

حیات نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے بے ہنگم ہوتی سانسوں کا ہموار کیا

“افف تم تو ایسے کر رہی ہو جیسے ٹرین چھوٹ رہی ہے تمہاری

ایسا کرتے ہیں کاؤنٹر پر چلتے ہیں آرڈر پک کرتے ہی نکل جائیں گے

عائشہ نے حیات کا گھبرایا چہرہ نوٹ کرکے حل پیش کیا

ہاں ٹھیک ہے

حیات بھی اپنے تاثرات نارمل کرتی اس کی تجویز پر راضی ہوگئی

________

“میں اسی آئسکریم پارلر میں ہوں یار “

“کہو تو تمہیں ویڈیو کال کروں تمہارے لیے آئسکریم لے رہا ہوں “

وہ اس کی ناراضگی پر فوراً میٹینگ سے فارغ ہوتا اپنے مخالف روٹ میں جا کر اس کے پسندیدہ آئسکریم پارلر سے اس کی پسند کی آئسکریم بنوا رہا تھا

“نہیں ویڈیو کال کی ضرورت نہیں ہے

تم بس میری بات پر راضی ہوجاؤ “

ناراض ناراض سی آواز پر اس نے بیچارگی سے لب بھینچے

“اچھا ۔۔۔۔ “

“تم ۔۔۔۔۔ مان گئے “

اس کے اچھا کہنے پر سپیکر سے خوش کن آواز گونجی

“میں اس کی بات نہیں کر۔۔۔۔”

ابھی وہ کچھ کہتا کہ فون کٹ گیا

“شٹ ۔۔!!”وہ غصے سے پلٹا تھا

“حیات تم حد کرتی ہو جاؤ اپنی آئسکریم لو “

“ہم نکلیں اور آئندہ ہم تمہیں کبھی فورس نہیں کریں گے “

“ہمارے باپ کی توبہ”

آصفہ نے بھی عائشہ کی بات پر اپنا حصہ لگایا

” عائشہ۔۔آصفہ” حیات کب سے دونوں کی بک بک برداشت کر رہی تھی کائونٹر سے اپنی آئسکریم پکڑتی غصے سے مڑی

ٹھیک اسی وقت وہ بھی فون کاؤنٹر پر مارتا مڑا تھا

حیات کے ہاتھ میں تھامی ہوئی ونیلا آئس کریم مقابل کے نیلے کوٹ کو سفید کرگئی

حیات متحیر ہوئی کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی نیلے سے سفید ہوتے کوٹ کو

“آئی ایم سوری آئی ایم سو سوری “

“دیکھیں میں نے جان کر نہیں کیا ۔۔۔”

“سو سوری ۔۔۔۔”

وہ پہلے ہی پریشان تھی اوپر سے حدید کے غصیل چہرے کی طرف دیکھتی اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے

حدید نے ماتھے پر بل ڈالے اپنا کوٹ جھٹکا تھا

“سوری آپ ۔۔۔ آپ یہ لیں “

حیات نے جلدی سے اپنے ہینڈ بیگ سے سفید رومال نکال کر حدید کی جانب بڑھایا

وہ اس لمحے اتنی ہڑبڑائی ہوئی تھی کہ وہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ اس وقت آئسکریم پارلر میں کھڑی ہے اور یہاں پر ٹشو پیپر بھی موجود ہوتے ہیں

حدید نے سر اٹھا کر حیات کے ہڑبڑائے ہوئے تاثرات کو دیکھا تھا

اس کی سبز آنکھوں میں خوف سا تھا

حدید نے وہ رومال تھام لیا

“اٹس اوکے “

حیات وہاں سے نکل گئی مگر پیچھے سے حدید اسے دیکھتا رہا اس کے پارلر سے باہر جانے تک

_________

“آئندہ تم لوگ مجھے کہنا ۔۔!!”

وہ یونیورسٹی واپس آتی غصے سے بولی

“تمہاری نیت ہی نہیں تھی آئسکریم کھانے کی تبھی تمہاری آئسکریم اس لڑکے پر گڑ گئی “

لڑکا کہاں تھا وہ آصفہ آدمی تھا عائشہ نے ناک چڑھا کر کہا

“اللہ توبہ اتنے ہینڈسم لڑکے کو آدمی کہہ رہی ہو “

آصفہ نے دل پر ہاتھ رکھا

“اچھا واقع پیارا تھا میں نے دیکھا نہیں”

اب عائشہ نے افسوس سے کہا

حیات سر پیٹ کر رہ گئی یہ دونوں تو تھی ہی پاگل ۔۔۔

اچھا میں جا رہی ہوں عدنان بھائی آگئے ہیں

وہ گاڑی دیکھتی ان کو کہتی گاڑی کی جانب بڑھ گئی

________

“السلام علیکم عدنان بھائی ۔۔۔۔ “

وعلیکم السلام میرا بچہ کیسا ہے وہ بس یار بھائی کے کام سے نکل گیا اس لیے تھوڑی دیر لیٹ ہوگیا

عدنان بھائی نے حیات کا بیگ تھامتے ہوئے بتایا

کوئی بات نہیں بھائی

حیات نے اے سی چلاتے ہوئے کہا

آئسکریم ۔۔۔۔کھانی ہے حیات ؟

عدنان بھائی نے گاڑی آئسکریم پارلر کی جانب موڑی تو حیات کا سانس اٹکا تھا ایک لمحے کو

نہیں بھائی دل نہیں کر رہا حیات نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا

اب اسے افسوس ہورہا تھا

اس نے خود سے وعدہ کیا آئندہ وہ آصفہ اور عائشہ کی کوئی ضد نہیں سنے گی چاہے وہ اس سے ناراض ہی کیوں نہ ہو جائے

اگر اسے جانا بھی ہوا تو وہ عدنان بھائی سے پوچھ لے گی ….

“یہ تو بڑی حیرانگی کی بات ہے حیات نے آئسکریم نہیں کھانی

طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری “

عدنان بھائی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھے ہنستے ہوئے کہا

“بھائی “

حیات نے احتجاج کیا

“ہاہاہا اچھا بابا چلو تم نے نہیں کھانی تو تمہاری بھابھی کے لیے ہی لے چلتے ہیں “

“اچھااا۔۔ تو ایسے کہیں نہ کہ بھابھی کے لیے لینی ہے آئسکریم” حیات نے ہنستے ہوئے شریر لہجے میں کہا

_______

“موم “

حدید لاونج میں داخل ہوا تو وہ ماں کے ساتھ ہی جڑ کر بیٹھی ہوئی تھی

وہ اسے دیکھ کر چہرہ موڑ گئی

“یار اب ناراضگی کب چھوڑو گی نشاء “

حدید نے اس کے پاس ہی بیٹھتے ہوئے کہا

“جب تم میری بات مان جاؤ گے حدید “

“موم “

حدید نے پریشانی سے مان کی جانب دیکھا

“وہ صحیح کہہ رہی ہے حدید اب کر لو شادی ضد کی بھی حد ہوتی ہے “

آبدہ شاہ کا لہجہ سخت ہوا

“کم اون موم آپ مجھ سے کہہ رہی ہیں “

حدید شاہ نے بھی غصے سے کہا

“ہاں اگر تمہیں ہم دونوں کا احساس ہے تو مان جاؤ نہیں تو ہماری ناراضگی کی فکر مت کیا کرو “

“میرا کیا ہے “

“اوکے موم”

وہ مان گیا تھا

وہ مان گیا تھا یاں کسی نظر کا کمال تھا

“اوو تھینک یو حدید لڑکی میں اور خالہ دیکھ لیں گی تمہارے لیے”

نشاء ایکسائٹڈ ہوکر حدید کے ہاتھ سے آئسکریم کھینچ کر بولی

“لڑکی دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے “حدید سنجیدگی سے بولا

نشاء نے چونک کر سر اٹھایا

“کوئی پسند کی ہے ؟؟” نشاء نے آئی برو اُچکا کر اسے دیکھا

نہیں ۔۔۔۔ نشاء کے پوچھنے پر پھر وہ صاف بولا

“پھر ۔۔۔۔تم ہمیں ٹرخا رہے ہو حدید “

نشاء نے تپ کر کہا

“نہیں “

“تم جب کہو گے جہاں کہو گے ہم رشتہ لے جائیں گے تمہارا حدید مگر اب دیری مت کرنا “

آبدہ شاہ نے نشاء کے ہاتھ پر دباؤ ڈالے اسے خاموش کروایا جو ہتھیلی میں سرسوں جمانے کی کوشش میں تھی

حدید ایک خفا نظر نشاء پر ڈال کر اُٹھ گیا