Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 3)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 3)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
ابھی زندگی کا ایک حصہ دیکھا ہے ابھی کہیں سرے باقی ہیں۔۔۔۔۔۔
ابھی ایک زخم ہی تو بھرا ہے ابھی کہیں زخم باقی ہیں۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے نکلنے والی لڑکی نے اس سرخ جوڑے میں بے ہوش لڑکی کے چہرے سے بال ہٹائے وہ بلا کی خوبصورت تھی مگر شاہد اس کی قسمت اتنی خوبصورت نہیں تھی اریبہ نے اس کے محفوظ حصار میں موجود بچے کو اپنی گود میں بھرا
دونوں میاں بیوی نے جیسے تیسے کرکے اسے گاڑی میں لٹایا
اس کی جیولری اتار لو اریبہ اپنے شوہر کی آواز پر اریبہ ایک لمحے کو رک کر اسبات میں سر ہلاتی اس کی جیولری اتارنے لگی ماتھے سے خون نکل نکل کر بہہ رہا تھا جبکہ چہرے پر درد کے تاثرات اب مدھم پر گئے تھے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی ۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو جلدی سے ایمرجنسی لے جایا گیا بچے کو اریبہ نے اپنی گود میں سمیٹ لیا تھا ۔۔۔۔
وہ ایک نظر بینچ پر بیٹھے اپنے شوہر سے ملاتی تو کبھی ہاتھ تھامے وجود کو جو سمٹ سا گیا تھا تو کبھی ایمرجنسی پر چلتی سرخ بتی کو ۔۔۔۔۔
اریبہ بیٹھ جاؤ تھک جاؤ گی اپنے شوہر کی فکر مند آواز پر آری ہے گہری سانس بڑھ کر ان کے پاس ہی بیٹھ گئی
جب تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک نرس نہایت ہڑبڑی سے باہر نکلی
آپ کے پیشنٹ کی حالت کافی نازک ہے آپ یہ دوائیاں لے آئیں
جی میں لاتا ہوں اریبہ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔
ابھی وہ دوائی لے کر وارڈ میں آئے ہی تھے کہ نرس ایک دفعہ پھر ان کے پاس آئی
آپ کے پیشنٹ کی حالت بہت ناساز تھی وہ سروایو نہیں کر پائے
اریبہ پریشان سی ہوگئی وہ بچہ جو اس کی گود میں تھا وہ بھی اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر اب رونے لگا تھا ۔۔۔
اریبہ نے اسے خود میں بھینچ لیا
اسے مجھے دے دو اریبہ ان کے شوہر نے اس بچے کو تھامنا چاہا مگر اریبہ اسے خود کے ساتھ لگا گئیں
نہیں ۔۔۔میں اسے نہیں دوں گی شاہد اللّٰہ نے میری خالی جھولی کو بھرنے کے لیے یہ بچہ ہمیں دیا ہے
ایسی باتیں مت کرو اریبہ۔۔۔۔
نہیں نہ آپ کو میری قسم یہ بچہ مجھے رکھنے دیں میری تڑپتی ممتا کو سکون میسر آئے جہانگیر پلیز
اریبہ اور جہانگیر لاہور کے مشہور ہسپتال چیک اپ کے سلسلے میں ہی آئے تھے شادی کے اتنے سال بعد بھی وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے جس کے لیے انہیں لاہور آنا پڑا مگر راستے میں یہ حادثہ ہوگیا جس سڑک میں وہ لوگ موجود تھے وہاں پاس ہی ایک چھوٹے طبقے کا چھوٹا سا کلینک تھا جہاں وہ اس وقت موجود تھے ۔۔۔۔
______
انابیہ کے ماتھے پر بل پڑے وہ عمیر یاں کسی کا بھی نوٹس لیئے بغیر خود ہی آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامتی اسے لے جانے لگی
ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے اچانک دیکھ کر جو خوف آنے لگا تھا وہ اڑن چھو ہوا
جیلسی کے آگے دوسرے تمام احساس دھرے کے دھرے رہ گئے
مگر مین گیٹ سے نکلتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ اس کے ہاتھ پر بالاج کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی
بالاج۔۔۔۔۔
ششش!!!
بالاج نے اسے گاڑی میں بٹھا کر زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اندر بیٹھی انابیہ اچھل گئی
بالاج نے گاڑی سٹارٹ کی سٹریرنگ کو تھام رکھے اس کے بازوں کی نیلی نسیں واضح طور پر نظر آرہی تھیں
انابیہ نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی
خاموشی کا دورانیہ جب طویل ہوا تو انابیہ نے کچھ دیر پہلے سین کو کلئیر کرنا چاہا
میں ۔۔۔وہ
مجھے دکھانے کے لیے تم کسی کا بھی ہاتھ تھام لو گی ؟!!!
لہجہ بالکل سپاٹ سا تھا
کچھ بولنے سے پہلے ہی ۔۔۔۔۔۔
انابیہ اس وقت لاجواب ہوگئی ۔۔۔۔۔ بے شک اس نے دیکھاوا نہیں کیا تھا بلکہ اسے بالاج کی موجودگی تک کا اندازہ بھی نہیں تھا مگر اس سے ایک غلط حرکت سر زد ہوگئی تھی ایک نا محرم سے اس طرح ہاتھ ملانا بالاج کو اگر ناگوار گزرا تھا تو یہ برا نہ تھا
میں نے ۔۔۔۔ زبان سوکھے ہونٹوں پر پھیری گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی
ابھی وہ کوئی وضاحت دیتی یاں کچھ بھی کہتی
بالاج کا فون رنگ ہونے لگا
ہمم پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں میں۔۔۔!!!
چھوٹا سا جملہ کہہ کر بالاج نے فون ڈیش بورڈ میں رکھا اور گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھا دی تھی
آہ۔۔۔۔۔بالاج
اسے سیٹ بیلٹ تک نہ باندھنے کا موقع ملا تھا اسے ویسے ہی اتنی تیز رفتار سے خوف آتا تھا
انابیہ نے بے ساختہ اپنے ہاتھوں کی گرفت بالاج کے بازو پر کی
وہ آنکھیں بند کئیے اُڑے حواسوں سمیت گاڑی میں بیٹھی رہی خوف اتنا تھا کہ چیخ بھی حلق میں ہی دب گئی تھی
ایک دم گاڑی کو بریک لگا اس سے پہلے وہ پوری کی پوری اچھلتی اور سر اس کا گاڑی کے ڈیش بورڈ سے لگتا بالاج نے اسے کندھوں سے تھام اپنی جانب موڑ لیا
کچھ ٹائم تم سے دور کیا رہا تم خود کو ہر چیز میں آزاد سمجھنے کی غلطی کرنے لگی ہو
واپس آکر اس غلط فہمی کو اچھے سے دور کردوں گا ۔۔۔۔۔
اس کی طرف سے دروازہ کھول کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا
انابیہ کے نکلتے ہی وہ گاڑی بھگا کر لے گیا ۔۔۔۔
انابیہ غائب دماغی سے گھر کے اندر آئی
کانوں میں کسی نسوانی سنگر کے درد بھری آواز گونجی تھی
جگنو جگنو کر کے ، تیرے ملن کے دیپ جلاے ہیں
ہم نے جگنو جگنو کر کے ، تیرے ملن کے دیپ جلاے ہیں
اکھیوں میں موتی بھر بھر کے
تیرے حجر میں ہاتھ اٹھائیں ہیں
” وہ تھکے تھکے قدموں سمیت اندر بڑھنے لگی لاونج سے ہوتے پہلی سیڑھی چڑھی “
تیرے نام کے حرف کی تسبیح کو سانسوں کے گلے کا ہار کیا
دنیا بھولی اور صرف تجھے ۔۔۔۔۔۔ ہاں صرف تجھے ہی پیار کیا
“دھڑکنیں سست پڑیں “
تم جیت گئے ہم ہارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم ہارے اور تم جیتے
تم جیت گئے ہم ہارے۔۔۔ ہم ہارے اور تم جیتے
تم جیتے ہو لیکن ہم سا کوئی ہارا نہ ہوگا
” دوسرا قدم رکھا ہاتھ ریلینگ پر رکھ لیا ٹانگوں سے جیسے جان نکل رہی تھی “
میرے دل کی دل سے توبہ، دل سے توبہ میرے دل کی
دل کی توبہ ہے دل اب پیار دوبارہ نہ ہوگا
تو بول کفارہ، ۔۔۔۔۔۔کفارہ بول کفارہ
کفارہ بول او یارا ۔۔۔۔۔۔۔ او یارا بول کفارہ کیا ہوگا
ہمیں تھی غرض تم سے اور تمہیں بے غرض ہونا تھا۔
تمہیں ہی لادوا ہو کر ہمارا مرض ہونا تھا۔
چلو ہم فرض کرتے ہیں کہ تم سے پیار کرتے ہیں
مگر اس پیار کو بھی کیا ہمی پہ فرض ہونا تھا
“کچھ ٹائم تم سے دور کیا رہا تم خود کو ہر چیز میں آزاد سمجھنے کی غلطی کرنے لگی ہو
واپس آکر اس غلط فہمی کو اچھے سے دور کردوں گا ۔۔۔۔۔”
بالاج کے جملے اور اوپر سے یہ فقرہ اسے لگا کوئی اس کے زخمی احساسات کو لفظوں میں پرو کر سُر دے رہا ہے
ہم نے دھڑکن دھڑکن کر کے۔۔۔۔ دل تیرے دل سے جوڑ لیا
آنکھوں نے آنکھیں پڑھ پڑھ کے۔۔۔۔۔تجھے وِرد بنا کے یاد کیا
تجھے پیار کیا تو تو ہی بتا۔۔۔۔۔۔ہم نے کیا کوئی جرم کیا
اور جرم کیا ہے تو بھی بتا۔۔۔۔۔۔اس جرم کہ جرم کی کیا ہے سزا؟!!…
“آخری سیڑھی پر قدم رکھا جب قدم ڈگمگائے پاؤں پھسلا “
اس نے فوراً ہوش میں آکر دونوں ہاتھوں سے ریلینگ کا آخری سرا پکڑا خود حد درجہ جھک گئی کہ اس کی پیشانی سیڑھی کی نوک پر لگ کر زخمی ہوگئی “
تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا۔۔۔۔۔۔ دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر
ہم کو تم سے بڑھ کر کوئی جان سے پیارااا۔۔۔۔
بند کرو اِسے درد دبا کر انابیہ چیخی ۔۔۔۔
میڈ جو گانا لگا کر ڈاٹنگ کرنے میں مصروف تھی انابیہ کی چیخ کر ہڑبڑا کر گانے کے ساتھ ایل سی ڈی بند کرکے لاونج سے نکل کر کیچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
______
تم انتہائی بدتمیز اور بہت زیادہ ڈیش انسان ہو عون!!!!۔۔۔۔ صفا اپنا رجسٹر اس کی ٹیبل پر پٹخ کر بھڑک کر بولی
عون کے دوست جو کیفے سے کھانا لے کر اِدھر ہی آرہے تھے عون کے ایک نا محسوس انداز میں ہاتھ سے کیے اشارے پر وہاں سے مڑ گئے ۔۔۔۔
میں نے کیا کیا ؟؟!!! میں تو اٹھ کر آگیا وہاں سے کہیں آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہی نہ ہو جائیں میرا کام اتنا معنی نہیں رکھتا ہے
عون نے صدق دل سے کہا
اب تم مجھے شرمندہ کر رہے ہو عون ابراہیم ہر شخص کے لیے اس کا کام معنے رکھتا ہے
اور رکھنا بھی چائیے بس میں کیا کروں اس سال کی آخری اٹیمپٹ ہوگی میری یہ عون اور میں بہت پریشان ہوں میں اس بار بھی رہ گئی تو ۔۔۔۔؟؟ میں مما جیسے کیسے بنوں گی عون
بس میں اسی پریشانی کی وجہ سے چڑچڑی ہوگئی تھی اور غصہ ہوگئی
صفا پریشانی سے سر تھام گئی
سامنے سے کوئی آواز نہ آنے پر صفا نے سر اٹھایا
سامنے کوئی موجود نہیں تھا
صفا اب صحیح معنوں میں اداس ہوگئی اس کا واحد دوست اس سے اِس قدر ناراض ہوگیا کہ اس کی بات بھی نہیں سننا چاہتا تھا
صفا پھر سر جھکا گئی جب کھٹ پٹ پر اس نے سر اٹھایا
عون ہاتھ میں ڈسپوزیبل کپ میں اس کے لیے گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا کب لایا ساتھ ہی گرم سموسے بھی جن کی خوشبو سے ہی اس کے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔
صفا پہلے آپ چائے پی کر اپنا سٹریس ریلیز کریں
اور یہ کبھی مت سوچئیے گا کہ عون ابراہیم کبھی آپ سے بھی ناراض ہوسکتا ہے
آپ کی ڈانٹ بھی اتنی میٹھی ہوتی ہے میں تو سوچ رہا ہوں آپ کورٹ روم میں مجرموں کو کیسے ہینڈل کریں گی
وہ چائے کا کپ ساتھ سومسے اس کے کھسکاتے ہوئے مزے سے بولا
دیکھا تمہیں بھی ایسا ہی لگتا ہے نہ عون میں اپنی مما جیسی کبھی نہیں بن پاؤں گی
وہ روہانسی ہوگئی
افف ایک تو آپ لڑکیوں کو رونے کا موقع مل جائے بس وہ سموسہ اٹھا کر کھانا شروع ہوگیا ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہی کہتی ہوں تم بہت بدتمیز ہو دو ادھر ندیدے میرے لیے لائے تھے تم سموسہ خود کھانے لگ گئے ہو
اسے دوسرا سموسہ اٹھاتے دیکھ صفا نے اس کے ہاتھ پر بہت لگائی
جبکہ عون اب اسے دیکھ رہا تھا جو کم از کم اب سٹریس میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔
صفا میں نے بھی LaW)GAT) کا ٹیسٹ دینا اور اس کی تیاری مجھے آپ ہی کروائیں گی
افف پہلے میں خود تو کلئیر کرلوں لڑکے پھر دیکھا جائے گا اور تم اتنے انٹیلیجنٹ ہو تم نے پہلی ہی اٹیمپٹ میں پاس ہوجانا ہے
میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں فرسٹ اٹیمپٹ میں پاس ہوکر آپ کو اسسٹ کروں گا میں پھر
کہاں جارہی ہیں آپ صفا کو اٹھتے دیکھ عون نے کہا
افف مجھے بھوک لگ رہی ہے لیکچر کی وجہ سے ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا میں نے
تو آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں نہ عون کھڑا ہوا نہیں عون میں خود لے آؤں گی
صفا میں نے کہہ دیا نہ عون نے اب تنبیہ کی
اچھا پھر یہ پیسے لے کر جاؤ عون پرس سے پیسے نکال کر اس کے آگے رکھے اور خود رجسٹر کھول کر بیٹھ گئی
سیریسلی صفا!!!؟؟؟
میں دوست ہوں آپ کا
آئی ایم ڈیم سیریس عون ابراہیم ایک لڑکی کو یہ زیب نہیں دیتا وہ اپنا خرچہ کسی غیر محرم سے اٹھوائے
اور رہی دوست کی بات وہ ٹریٹ ہوتی ہے جو میں تمہیں ٹیسٹ پاس ہونے پر دوں گی بھی اور تم سے لوں گی بھی
بندہ بشر حاضر میڈیم میں لے کر آیا وہ پیسے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال چکا تھا ۔۔۔۔۔
_______
عون کیا تم میری ہیلپ کردو گے اسائمنٹ میں ؟؟؟
عون کی کلاس میٹ رومیصہ فوڈ ایریا کی طرف جاتے عون کو دیکھ کر بولی تھی رومیصہ کی دوست جبکہ حیران تھی کیونکہ بقول رومیصہ کہ اس کی اسائمنٹ کمپلیٹ تھی
سوری رمیصہ !! میں اس وقت بزی ہوں وہ صاف انکار کرکے صفا کے لیے کچھ کھانے کے لیے لینے لگا
یہ عون کیوں جاتا ہے اس سینئیر کے پاس عون کو صفا کے پاس جاتا دیکھ کر رمیصہ نے غصے سے کہا
ویسے سوچنے کی بات ہے اتنی لائق فائق تو نہیں ہے وہ سئنیر اور اوپر سے عون خود اتنا لائق ہے اسے کیا ضرورت ہے کسی کی ہیلپ کی ۔۔۔
رمیصہ نے استعجاب سے کہا
مگر وہ اچھا سمجھا لیتی ہے یہ گُن ہے اس میں ایک دفعہ کلاس میں اس نے ایک ٹوپک کوور کروایا تھا کافی اچھا سمجھایا تھا
رومیصہ کی دوست نے صفا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
ہاں تو استانی بنتی نہ یہ میڈیم خامخواہ ٹیسٹ دے رہی اور آجاتی یونیورسٹی منہ اٹھا کر لیکچر کے بہانے عون سے ملنے
مگر اس میڈیم کو بتانا پڑے گا
کیا کروگی تم رومیصہ؟؟!!!
اس کی دوست نے پریشانی سے کہا
یہ تم مجھ پر چھوڑ دو تم!!!!
