Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 29)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 29)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں وہ میرے لیے ٹھیک ہے یاں نہیں “
“اور مجھے آپ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے “
عون کا تو دماغ ہی پھر گیا صفا کے لیے ایسے الفاظ سن کر
‘تم ایک غیر لڑکی کے لیے اپنے ماموں پر چیخ رہے عون !!۔۔۔”
حدید شاہ کی غصے سے بھنویں تنی
دل جلنے لگا
“غیر نہیں ہے وہ محبت ہے میری اور میں ان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا چاہے میرے سامنے کوئی بھی ہو “
“ناجائز ہے وہ لڑکی “
الفاظ تھے یاں کھنجر عون کو دل کے مقام پر درد ہوا اور وہ بلبلا اٹھا
“ماموں !!”
یہ ہی حقیقت ہے اس لڑکی کی
حدید شاہ کے لہجے سے کرب جھلک رہا تھا
“آپ کسی کی ذات پر اتنی بڑی تہمت نہیں لگا سکتے “
“عون شاہ یہ جاننے کے بعد کہ وہ لڑکی تمہاری مامی کے تمہارے ماموں کو رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر جانے کے بعد اس دنیا میں آئی تم پھر بھی اسے تہمت کہو گے ؟!!
تم چاہتے ہو میں اپنی آنکھوں میں اندھی پٹی پہن لوں
یہ سب جاننے کے بعد پھر بھی
پھر بھی چاہو گے کہ تمہارا رشتہ اس کے لیے لے کر جایا جائے ؟!”
حدید شاہ کی آواز پھٹ گئی تھی
زندگی میں پہلی بار عون اور ان کی اس طرز کی گفتگو ہورہی تھی
عون کو چپی لگ گئی
“ہوسکتا ہے آپ غلط ہوں یاں کوئی غلط فہمی “
عون برداشت نہیں کر پایا تھا
بدلے میں حدید شاہ نے جن نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ نظریں چرا گیا
صفا کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا اور بس ادھر اس کے دل نے گواہی دے دی تھی کہ اسے کسی بھی چیز سے فرق نہیں پڑتا
“مجھے فرق نہیں پڑتا وہ کون ہے کیا ہے وہ بس عون ابراہیم کا عشق ہیں “
عون کا لہجہ اٹل تھا
حدید شاہ نے سر تھام لیا اسی اثناء میں ان کا فون بجا
سیکریٹری کا تھا
سر خان انڈسٹری کی طرف سے آپ کی مشترکہ کامیابی کے اعزاز میں وارمنگ پارٹی کا دعوت نامہ آیا
سر پارٹی خان ولا میں ہی ہے۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ حدید شاہ نے مختصر سی بات کرکے فون کان سے ہٹا لیا
_______
“ابراہیم عون کہاں پر ہے میری کال بھی نہیں اٹھا رہا “
ناشتے کی ٹیبل پر جاوید شاہ نے ابراہیم سے پوچھا
“بابا ۔۔۔”ابراہیم شاہ نے اپنی بیوی کی جانب دیکھا
“بابا عون لاہور گیا ہے ‘
حدیقہ شاہ نے سادے سے لہجے میں کہا
“بغیر بتائے۔۔!؟”
جاوید شاہ کے ماتھے پر بل پڑے
“نہیں بابا بتایا تھا مجھے “
ابراہیم شاہ نے بات سنبھالی
“میاں اس پر دیہان رکھو جس کی صحبت میں وہ دن رات گزار رہا ہے اچھی چیز معلوم نہیں ہوتی مجھے “
جاوید شاہ نے تند لہجے میں ابراہیم شاہ سے کہا
“بابا بھائی ہے وہ میرا اور آپ کی اولاد آپ کا بیٹا ہے جس کی صحبت میں ہوتا ہے عون “
حدیقہ نے ناراضگی سے کہا
“تم اسے مانو بھائی میں اسے اپنا کچھ نہیں مانتا اور یہ بھی
ہرگز نہیں چاہوں گا میرا نواسہ اس جیسا بنے “
“بابا آخر کب تک ہم بچوں کو سزا ملے گی “
“حدیقہ ماموں سے بحث مت کرو “
ابراہیم شاہ نے دھیمے لہجے میں انھیں ڈبٹ کر کہا
جاوید شاہ ایک نظر اپنی جان عزیز بیٹی پر ڈال کر اٹھ گئے
پیچھے حدیقہ شاہ نے نم آنکھوں سے ابراہیم شاہ کو دیکھا
_________
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب ۔۔۔۔۔
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا ۔۔۔۔۔
رات کو سوئی پھوپھو اگلی صبح آنکھیں نہ کھول سکی تھی اگلی صبح فائزہ پر جیسے کہرام بن کر ٹوٹی تھی
وہ یتیم اپنی ماں کو پکارتی رہی مگر جانے والے کب واپس آیا کرتے ہیں
تدفین وغیرہ ہو چکی تھی مہمان آکر بھی جا چکے تھے رشتہ دار میں فقط ایک بھائی ہی تھا باقی تو محلے دار تھے
امی ۔۔۔۔ اس کی سسکیاں خاموش گھر میں پھیل رہی تھی
خاور صاحب اپنی بہن کی موت پر چپ سے ہوگئے تھے
مسز خاور نے زبردستی فائزہ کو کھانا کھلا کر دوائی کھلائی تھی
_______
حیا صاحبہ آپ خان ولا میں پارٹی کا انعقاد کررہی ہیں ؟؟
ہاتھ میں تھامے دعوت نامے کی منزل کو پڑھ کر جازب کمال کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا
“جی “
“آپ اپنے دشمنوں کو بھول گئی ہیں اور بالاج کیا وہ بھول گیا ہے اس کے گھر میں اس کی ماں بہن اور بیوی بھی موجود ہے جو دشمنوں کا اپنا اصل پتا بتا رہا ہے “
جازب کمال کا لہجہ سخت ہوتا گیا
“دیکھیں جازب صاحب”
“دیکھ ہی رہا ہوں میں ابھی مشکل سے دو دن ہوئے ہیں اس کیس کو خرم داد اور اس کے ساتھی خاموش نہیں بیٹھیں گے اور وہ جنید بغدادی ایسے دوست دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں “
جازب کمال نے حیا کی بات کاٹ کر کہا
“تو پہلے انھیں کونسا نہیں معلوم خان ہاؤس کا !!”
“ہماری رہائش کا انھیں پہلے سے ہی معلوم ہے باقی ہمارے ذاتی فیصلوں میں آپ کو انٹرفئیر کرنی کی ضرورت نہیں ہے ہم بہتر طریقے سے اپنی حفاظت کر سکتے ہیں “
حیا ہر بار کی طرح اس بار بھی جازب کمال کی نفی کر چکی تھی جسے وہ خاموشی سے پی گئے
“اللہ آپ لوگوں کی حفاظت کرے “
وہ بس اتنا کہہ کر اٹھ گئے جب کمال اعوان سٹڈی روم میں آئے تھے
حیا نے بس ایک نظر جازب کمال کی پشت کو دیکھا تھا
“بس ایک نظر “
اسے افسوس تھا اپنے لہجے پر مگر یہ ہی بہتر بھی تھا۔۔۔
_______
“ہیلو السلام علیکم یار شجاع کب تک آنا ہے تو نے ؟؟”
“تجھے معلوم ہے پارٹی کی ساری تیاری کردی ہے “
“بالاج پھوپھو کا انتقال ہوگیا ہے “
شجاع کی دھیمی آواز پر بالاج ایک دم خاموش سا ہوگیا
“انا للہِ وانا الیہ راجعوں اللّٰہ پاک ان کی مغفرت فرمائے”
“تم فکر مت کرو شجاع میں فنکشن ڈیلے کروا دیتا ہوں جب تم آجاؤ گے تو دیکھ لیں گے “
“نہیں بالاج اس کی ضرورت نہیں ہے ہم کل ہی واپس آرہے ہیں اسلام آباد اب ادھر رکنے کا کوئی فائدہ ہے بھی نہیں “
“اچھا جیسے تمہیں ٹھیک لگے اگر کوئی مدد چاہیے تو بتانا !”
“نہیں بس میں بابا سے بات کروں گا پھر ہم نکلیں گے “
شجاع نے گھڑی کی جانب دیکھ کر مزید کہا
“اچھا سہی انکل سے میری طرف سے افسوس کرنا”
_______
“کیا سوچا آپ نے حیا پھر ؟؟”
حیا نے گہری سانس بھری وہ جس بابت پوچھ رہے تھے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس بات سے بچنا چاہ رہی تھی
“کاغذات تیار کروا لئیے ہیں سر جی “سر جھکائے وہ اپنے ہاتھوں کی پشت کو دیکھ رہی تھی
“ہمم آپ کی طرف سے میں ایز آ لائیر بھجوا دیتا ہوں “
کمال اعوان نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا
حیا نے پھر سے گہری سانس لی آج جیسے سانس گھٹ سی رہی تھی
اس نے طویل عرصہ بیوہ جیسی زندگی گزاری تھی
اپنے بچوں کو پالا تھا
اور اب وہ اس قابل پوگئے تھے کہ حیا کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں رہی تھی مگر وہ پھر بھی تھی خوف زدہ وہ کس چیز سے تھی یہ بات وہ کسی کو سمجھانے بتانے سے قاصر تھی
“حیا بچے مجھے آپ سے کچھ اور بھی کہنا ہے “
کمال اعوان نے بیٹے کی عرضی کو سامنے رکھنے کا سوچ ہی لیا تھا آج
“بیٹا جب آج سے بیس سال پہلے تم میرے پاس آئی تھی میری شاگردہ بن کر آپ کی زندگی کے واقعات سن کر آپ حوصلہ دیکھ کر میں نے اس دن عہد کیا تھا “
“کہ جتنی مجھ سے کوشش ہوگی اتنی آپ کی مدد کروں گا کیونکہ اس بار عورت نہیں ایک مضبوط ماں تھی میرے سامنے جس کی بس ایک ہی کمزوری تھی اس کے بچے میں نے خواہش کی اللہ پاک آپ کی کمزوری کو آپ کی طاقت بنا دیں اور الحمدللہ اللہ نے آج وہ وقت بھی دیکھایا”
“میں جانتی سر جی اور میں میرے بچے ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے “
“حیا بچے اب میں جو بھی آپ سے کہوں گا اسے میری طرف سے کوئی احسان کا بدلہ مت سمجھئیے گا بس ایک باپ کی اپنی اولاد کے لیے بے ضرر سی خواہش ہے جو سالوں پہلے دل میں اتری تھی مگر میں بس آپ کی وجہ سے خاموش رہا “
“مگر جب آپ نے پچھلے دنوں مجھ سے اپنی آزادی کے متعلق بات کی تو میں نے بھی حوصلہ کرکے آپ سے بات کرنے کا سوچا “
کمال اعوان نے لمبی تمہید باندھی تھی
حیا نے بے ساختہ نظریں چرا لی وہ کافی حد تک واقف ہوگئی تھی ان کی پس پردہ بات سے
بیس سال ہوگئے جازب کی بیوی کو اس دنیا سے گئے ہوئے جازب نے اس رات اپنی بیوی ہی نہیں بس اپنی منتوں سے مانگی اولاد کو بھی کھویا تھا
_______
“ڈیڈ “
جازب خوشی سے چیختا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا
“کیا ہوا جازب ؟؟”
کمال اعوان نے فون کان سے ہٹا کر پریشانی سے کہا
“ڈیڈ ڈیڈ میرے پیارے ڈیڈ”
وہ ان کو ہاتھوں سے تھامے گھمانے لگا
“جازب سٹیا گئے ہو کیا ؟؟!”
“سٹیا ہی گیا ہوں ڈیڈ کیونکہ اب مجھے بھی ڈیڈ ڈیڈ کہنے والا اس دنیا میں آنے والا ہے “
جازب کی خوشی اس کے انگ انگ سے واضح ہورہی تھی
“کیا ؟؟”
کمال اعوان ششدر ہوئے پانچ سال ہوگئے تھے جازب کی شادی کو اور آج یہ خبر انھیں بھی ہواؤں میں پہنچا گئی
‘بہو کہاں ہے جازب ؟؟ “
حفضہ جاذب جب خراماں خراماں قدم لیتی لاونج میں آئی تھی
کمال اعوان نے صدقے کے پکڑوں پر اس کا ہاتھ لگوا کر انھیں بھیج دیا
جازب کمال کی اپنی کزن سے شادی ارینج میرج تھی مگر حفضہ کے کم گو اور دھیمی طبیعت انھیں بھا گئی تھی
تبھی پانچ سال بعد بھی اولاد کے بغیر بھی ان کا رویہ رتی بھر کو بھی حفضہ کے لیے نہیں بدلا تھا
وہ اپنے ڈیڈ کی طرح پیشے سے وکیل تھے
________
“اب تم نے اپنا بے حد دھیان رکھنا ہے حفضہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا “
اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے اسے تلقین کرتے وہ مسکرائے تھے
“میں بہت دھیان رکھو گی جازب جی “
انھوں نے بھی جیسے یقین دھانی کروا کر جازب کو پرسکون کردیا تھا
دو مہینے پرسکون سے گزر جانے کے بعد جازب ایک کیس میں مصروف ہوگیا
کیس ایک آرکیٹیکچر کمپنی پر ہوا جس کے بنائے گئے کمزور پل کی وجہ سے کافی بڑا جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا
جازب کمال کے مد مقابل اویس بغدادی تھا جو وکالت کی دنیا کا جانا مانا وکیل کہلاتا تھا
جازب کیس میں حد سے زیادہ مصروف ہوگیا تھا جس کی بنا کر وہ حفضہ کو بھی وقت نہیں دے پارہا تھا
وقت پر لگا کر اڑ گیا
چھ مہینوں کا معلوم ہی نہ ہوا حفضہ کی حالت بھی کچھ کچھ خراب رہنے لگی تھی
جازب کمال کیس جیت چکے تھے
وہ میٹھائی اور حفضہ کے لیے پھول تھامے گھر آئے
کمال اعوان گھر پر نہیں تھے
“حفی”
“حفضہ “
وہ پھول انھیں تھمائے انھیں بازوؤں میں تھامے ہلکا ہلکا گھمانے لگے تھے
“کیا ہوا جازب جی “
وہ بڑے بڑے سانس لیتی بولی
“اوو سوری سوری” جازب کمال ایک دم ہی انھیں تھام گئے
“کوئی بات نہیں آپ بتائیں کیا ہوا اتنے خوش “
“ہاں میں کیس جیت گیا میری جانِ بہار “
حفضہ ان کی بے ضرر سی بات پر غلال ہوئی
“ہائے میرے سرخ گول گپے”
“مطلب اب آپ کا وقت ہمارا جازب جی “
“ہم بھی آپ کے “
وہ شرما گئی تھی مگر ایک دم سے درد کی شدید لہر نے انھیں اپنی لپیٹ میں لیا
“آہ ۔۔۔ جازب جی “
“کیا ہوا حفضہ۔۔۔۔۔؟!”
اس کے چہرے پر درد کے آثار دیکھ کر جازب فکرمندی سے بولے
جازب جی مجھے درد ہورہا ہے
وہ درد سے چیخی جازب فوراً انھیں گاڑی میں بٹھائے گاڑی ہسپتال کی جانب موڑ گئے ۔۔۔
گاڑی کی سپیڈ ہد سے سوا تھی مگر قسمت کو ان کا جلدی پہنچنا منظور نہیں تھا
اویس بغدادی کو ہار برداشت نہ ہوئی تو اس نے اسی رات کو جازب کمال کی گاڑی کے پیچھے اپنے لوگ لگوا دیے
انھوں نے اپنی گاڑی جازب کمال کی گاڑی سے ٹھوکی جو سامنے موجود کھمبے سے لگی
گاڑی میں درد سے بے حال ہوتی حفضہ کو گہرا جھٹکا لگا ان کی چیخیں بلند ہوئی
جازب کمال کا سر بھی گاڑی کے شیشے سے ٹکرایا
انھوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے دھواں اڑاتی گاڑی کو حد سے زیادہ تیز رفتار میں ہسپتال کی جانب موڑا ابھی پیچھے مڑنے کا وقت نہیں۔ تھا
حفضہ کو فوراً ایمرجنسی دوم کی جانب لے جایا گیا تھا
ڈاکٹرز نے جب پیپرز ان کی جانب بڑھائے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی جان وہ بچا سکتے ہیں جازب کمال سکتے میں آگئے
ان کی زندگی میں ایک ساتھ آئی خوشیاں انھیں راس نہ آئی تھی
انھوں نے کانپتے ہاتھوں سے ان پر دستخط کیا
ڈاکٹرز کے مطابق ان کا بچہ پری میچور تھا اور آٹھ مایا بچے کا بچ پانا بھی مشکل ہوتا ہے
جازب نے حفضہ کی زندگی بچانے کا کہ کر کرسی پر بیٹھ کر سر جھکا لیا
ان کا دماغ اس قدر شل تھا کہ انھیں یاد ہی نہ رہا کہ وہ کمال اعوان کو ہی کچھ بتا دیں
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر بھی باہر آگئی
ان کے چہرے پر کوئی امید کی کرن نہ تھی
مگر جازب کمال کچھ غلط سننا نہیں چاہتے تھے
“آئی ایم سوری آپ کی مسز کے کیس میں پہلے کی کامپلیکیشنز تھی اوپر سے انھیں اندرونی زخم لگے ہیں بچے کی سانسیں پہلے ہی رک چکی تھی”
“اور حفضہ ؟!”
جازب نے آس سے پوچھا تھا
حالانکہ ڈاکٹر نے صاف کہا تھا
ڈاکٹر آنے افسوس سے اس اونچے لمبے خوبصورت مرد کو دیکھا جس کی سرمئی آنکھیں سرخ ہوئی پڑی تھی
“آئی ایم سوری شی از نو مور “
جازب اندر کی جانب دوڑا
حفضہ کا بے سد وجود چادر میں ڈھکا ہوا تھا
جازب نے اپنے ہاتھ کو اس کے چہرے پر پھیرا
“میں نے کبھی تم سے کہا نہیں مگر حفضہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں “
“پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ حفضہ پلیز ہمارا بچہ چلا گیا” “حفضہ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ مجھے تمہاری ضرورت ہے “
“پلیز حفضہ “
اتنے میں ایک نرس مردہ بچے کو نیلے کمبل میں لپیٹے اس کے پاس لے کر آئی
“انھیں نہیں معلوم تھا کہ ان کا بچہ نہیں بچا وہ آپ کے لیے ایک پیغام دے کر گئی تھی “
نرس نے دھیمے سے جازب کو بچہ پکراتے ہوئے کہا
وہ نیم بے ہوشی میں کہہ رہی تھی جازب جی ہمارے بچے کا نام جاسم رکھئیے گا اسے بہت پیار کرئیے گا
نرس جازب کی امانت اس تک پہنچاتی باہر نکل گئی
پیچھے جازب اپنی اولاد کو سینے سے لگائے دھاڑے مار کر ہوئے
یہاں تک کہ ہسپتال کا سٹاف ان کی درد بھری سسکیاں سن کر جمع ہوگیا
وہ اونچا لمبا مرد اپنے بچے کو چومتا اس دن ٹوٹ گیا تھا
جازب کمال کے فون بجنے پر وہ اپنا بچہ سینے سے لگائے فون کان سے لگائے ان کے پیروں سے بھی زمین کھینچ گیا تھا
“ڈیڈ میرا بچہ ڈیڈ “
“میری حفضہ “
“ڈیڈ “
“مجھے چھوڑ گئے ڈیڈ “
وہ رویا تھا چیخ چیخ کر
کمال اعوان جو حیا سے بات کرکے فارغ ہوتے جازب کو فون ملا کر بیٹھے تھے
وہاں سے ملنے والے خبر پر پتھر کے ہوگئے ۔۔۔۔
“ان کی اولاد کی اولاد کھو گئی “
“ان کی بہو اس دنیا میں نہیں رہی “
“ان کے بیٹے کے دنیا اجڑ گئی “
“اس کے بعد میں جازب کا سرد رویہ دیکھا سب کے ساتھ حتی کہ اپنے ساتھ بھی وہ جیسے خود کو سزا دے رہا جس میں اس کی کوئی غلطی تھی بھی نہیں “
حیا کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوا تھا
“اتنا بڑا دکھ۔۔۔!!”
اسے تو بس سرسری سا معلوم تھا کہ جازب کمال کی بیوی ان کی اولاد کو جنم دیتے اس دنیا سے رخصت ہوگئی اور ان کا بچہ بھی کمزور تھا تو وہ بھی سانس نہ لے سکا
اسے بھی یاد پڑتا ہے شروع شروع میں جازب کمال کا رویہ بہت عجیب ہوا کرتا تھا ایسے جیسے وہ انسان نہیں مشین ہو
حیا نے پانی کا گلاس کمال اعوان کی جانب بڑھایا
جن کی آواز شدت جزبات سے بھیگی پھٹ گئی تھی
جب پانی کا گھونٹ بھر کر کمال اعوان نے بات جاری کی
“بالاج سے پہلی ملاقات کے بعد میں نے اسے کتنی دیر ہنستے دیکھا تھا “
“صفا کی توتلی زبان میں کہی ٹوٹی پھوٹی باتوں کو اسے کہیں کہیں دیر یاد کرتے دیکھا تو مجھے احساس ہوا جازب کو تمہارے بچوں سے انسیت ہوگئی ہے “
“میں نے اسے بارہاں کہا کہ شادی کرلے مگر اس نے کبھی میری نہیں سنی تنگ آکر میں نے بھی کہنا چھوڑ دیا اسے “
“لیکن پہلی بار جب اسے تمہاری تکلیف میں پریشان ہوئے دیکھا تو میرے دل میں پھر سے اپنے اکلوتے بیٹے بستے دیکھنے کی خواہش ابھری تھی “
“جازب کو پہلے جیسا ہوتا دیکھ یہ دل تمہارا کتنا شکر گزار ہے میں بتا نہیں سکتا “
حیا نے آنکھیں مینچی
“وہ بھی کسی کو پہلے جیسا کر سکتی ہیں
جو خود قسمت اور حالات کی چکی میں پس چکی تھی “
“بیٹا تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے سوچ سمجھ کر اپنا فیصلہ سنانا “
کمال اعوان نے فیصلے کا حیا کو دے کر بات ختم کردی
مگر ایک بوجھ تھا جو ان کے کاندھوں پر ڈل گیا تھا
