Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 27)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 27)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“ہاں بولو صابر ؟؟”
“سر میں نے آپ کو تصویریں بھیجی تھی “
“ہمم صابر میں چیک کرتا ہوں تم بتاؤ جو کام کہا تھا ہوگیا ؟؟”
“سر اسی کام کے متعلق آپ کو دو چیزیں بھیجی ہیں میں نے “
صابر کے لہجے میں کچھ تو تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے حدید شاہ نے فون اون کرکے صابر کے میسجز دیکھے
تصویر پر نظر پڑتے ہی انھوں نے ایک جھٹکے سے بریک پر پاؤں رکھا ۔۔۔۔۔
“سائیڈ پر باہر کی جانب دیکھتے عون کا سر سامنے لگتے لگتے بجا
کیا ہوا ہے ماموں ؟؟”
حدید شاہ بے یقینی سے موبائل سکرین پر چمکتی تصویر کو دیکھا
“حیات حدید شاہ ۔۔۔۔”
ایک سرگوشی سی ان کے لبوں سے نکلی
________
رات کے آخری پہر بالاج کی آنکھ اپنے کندھے میں اٹھتے درد کے باعث کھلی تھی آنکھیں کھلتے ہی شیمپو اور کنڈیشنر کی بھینی سی خوشبو اس کی نتھنوں سے ٹکرائی تھی
اس نے چونک کر دیکھا انابیہ مزے سے اس کے کندھے پر سر رکھے بیڈ سے ٹیک لگائے مدہوش سی سوئی ہوئی تھی
بالاج کو شام کا منظر یاد آیا
کافی دیر وہ اسے سوالات سمجھاتا رہا وہ بھی ناک منہ بسورتی سوالات ہر کرنے میں مشغول رہی
اچھا یہ والا سب سے زیادہ آسان ہے
بالاج نے چہرہ موڑ کر اسے کہا جو نیم واہ آنکھوں سے اسے دیکھتی اس کے کندھے پر سر رکھ کر گہری نیند میں چلی گئی
وہ سوتے ہوئے اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ بالاج کا دل ہی نہیں کیا اسے ہلانے کو کجا کے جگانے کو
وہ بھی اسے دیکھتا ہوا جانے کب آنکھیں موند کر نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا۔۔۔
انا اٹھو بالاج نے دھیرے سے اسے ہلایا
مگر وہ گہری نیند میں اسے اپنا تکیہ تصور کئیے اپنی گرفت سخت کرتی چہرہ اس کے شانے میں گھسا گئی
بالاج نے اس کا سر کندھے سے ہٹا کر تکیے پر رکھنا چاہا جب اپنی شرٹ کا اس کی جانب کچھاؤ پر اس نے چونک کر انا کے لمبے بال اپنی شرٹ کے بٹن میں اٹکے دیکھے
لگتا ہے میڈیم پوری تیاری کرکے سوئی ہے اس کے بال اپنی شرٹ کے بٹن سے آزار کرواتا وہ ہنسا تھا
________
“تایا ابو دادو ٹھیک ہیں؟؟ “
ہسپتال سے واپسی پر فجر کی نماز ادا کرکے علی صاحب گھر میں داخل ہوئے جب پریہان ڈوبٹے حجاب باندھے لاونج میں ہی کھڑی تھی وہ شاید نماز ادا کرکے لاونج میں آگئی تھی
“ہمم بیٹا دعا کرو “
علی صاحب اس کی سبز سرخ آنکھوں سے نظریں چرا کر بولے
“بابا دادو ۔۔۔”سمعیہ بھی جو ابھی جاگ کر نیچے آئی تھی روتے ہوئے باپ کے گلے لگ گئی
سب ہی جانتے تھے سمعیہ دادو کے سب سے زیادہ قریب تھی
“سمعیہ بچے کچھ نہیں ہوتا دادو کو”
علی صاحب نے اسے پر شفقت حصار میں لیے سمجھایا
بابا دادو بالکل ٹھیک تھی پھر انھیں کیا ہوا
وہ ہچکیوں میں بولتی پریہان کو بھی رونے پر مجبور کر گئی
آپ تھی نہ دادو کے پاس کل کیا ہوا تھا انہیں ؟؟
علی صاحب نے ڈاکٹر جی بات یاد آنے پر سمی سے پوچھا
“بابا مجھے دادو نے کہا تھا انھیں ٹی وی لگا دوں “
“میں نے بس ٹی وی لگایا ہی تھا ایک دم سے وہ ٹی وی کی طرف اشارہ کرتی ہانپنے لگی “
“ٹی وی علی صاحب کے ماتھے پر پر سوچ لکیریں پڑی
ایسا کیا دیکھ لیا ماں نے ؟؟”
وہ خود سے ہی سوچ سکے
“علی صاحب آپ آگئے!! “
“بچیوں باپ کو بیٹھنے تو دو “
“امی کیسی ہیں بلکہ آپ بیٹھیں میں ناشتہ لگاتی ہوں “کوثر بیگم کچن کی جانب بڑھ گئی
عدنان صاحب کے گھر آنے کے بعد وشمہ بیگم بھی لاونج میں آگئی
وشمہ وہ جو زیور پڑا ہوا ہے وہ لے آؤ ہسپتال کی فیس بہت زیادہ ہے
عدنان صاحب کی بات سن کر وشمہ بیگم تو ہتھے سے اکھڑ گئی
“آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے عدنان جوان بیٹی گھر میں بیٹھی ہوئی ہے اور آپ اس کا زیور بیچنا چاہتے ہیں “
“وشمہ سمجھنے کی کوشش کرو اماں کے علاج کے لیے بہت ضروری ہے زیور تو بعد میں بھی بن جائے گا “
“نہیں عدنان صاحب میں نہیں دو گی پریہان کی شادی کرنی ہے ہم نے اسے کیا دیں گے؟؟” وشمہ بیگم کی آنکھوں میں پانی آگیا وہ جوان بیٹی کی ماں تھی بے شک خود غرض ہورہی تھی مگر اپنی جگہ اتنی غلط بھی نہ تھی
“وشمہ میں پریہان کا ہاتھ اپنے حمزہ کے لیے چاہتا ہوں میں یہ بات کافی عرصے سے کرنا چاہتا تھا مگر پچھلے کچھ مہینوں سے ہونے والی آزمائشوں کی وجہ سے کہہ نہیں پایا ‘
“میں وشمہ کو اپنی بہو بنانا چاہتا ہوں گھر کی بیٹی گھر میں ہی رہ جائے گی اور تمہیں معلوم ہے مجھے اور کوثر کو کچھ بھی نہیں چاہیے”
علی صاحب کی آواز پر ایک دم وشمہ بیگم خاموش ہوگئی
“بھائی صاحب؟!۔۔”
عدنان صاحب نے بڑے بھائی کو پکارا
“ہاں عدنان میں کسی دباؤ میں نہیں کہہ رہا نہ ہی یہ میرا فوری فیصلہ ہے بلکہ یہ میری خواہش ہے اسے آج کہنے کا مطلب وشمہ کو ضمانت دینا ہے وہ پریہان کی طرف سے بے فکر ہو جائے وہ میری بیٹی ہے “
علی صاحب نے مزید کہہ کر بات ختم کی وشمہ بیگم کچھ پر سکون ہوئی پھر ایک شکوہ کناں نظر شوہر پر ڈال کر کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
________
“پھوپھو کیسی یہ اب آپ” شجاع اپنی پھوپھو کے پاس بیٹھا ان کے ہاتھوں کو دباتا فکر مندی سے بولا
جنہوں نے جواب میں اس کا سر نیچے کرکے اس پر بوسہ دیا
“جینے رہو میرے بچے “
“باجی آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا “
خاور صاحب نے محبت سے اپنی ماں جائی کو دیکھا
“بس پتر عمر ہوگئی ہے اب زندگی کا کیا بھروسہ “
“ماں ایسے تو نہ کہیں “
فائزہ نے تڑپ کر سوجھی آنکھوں سے کہا
ماں اس کا واحد سہارا تھی ماں کی دو دنوں کی بیماری نے اسے بھی آدھ مویا کردیا تھا
“فائزہ بچے پریشان نہ ہو ماموں کی جان “
خاور صاحب نے اسے اپنے حصار میں لے کر بہلایا
“ماموں ماں ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں”
وہ اپنی سیاہ موٹی موٹی آنکھوں کو ملتے ہوئے بولی
اس کے انداز پر شجاع نے مسکراہٹ دبائی وہ بالکل بچوں کی طرح اپنی مٹھیوں سے آنکھیں مسل رہی تھی
________
رات کے پہر حدیقہ شاہ بستر پر اپنی سائیڈ پر لیٹی کروٹ پر کروٹ بدل رہی تھی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
بیٹا تھا کہ ناراض ہوکر لاہور چلا گیا اور شوہر کو بھی وہ ناراض کر چکی تھی
ایسا واقع ان کی زندگی میں پہلی بار آیا تھا کہ ان کے دونوں عزیز ترین رشتے ان سے ناراض تھے
“ابراہیم “
انھوں نے سرگوشی بھری مگر جواب ندارد تھا
یک لخت ان کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے
حدیقہ شاہ کی ہچکیوں کو سن کر
ابراہیم شاہ نے اپنا بازو آنکھوں سے اٹھایا
رو کیوں رہی ہیں اب آپ وہ اٹھ کر بیٹھ گئے
“آپ ناراض ہیں” بھیگا بھاری لہجہ
“تو اس کا مطلب آپ روئیں گی ؟؟”
ابراہیم کے سپاٹ انداز میں ان کا دل اور ہی زیادہ بھر آیا
“ستائیس سال ہوگئے ہماری شادی کو حدیقہ آپ کو آج تک منانا نہیں آیا حدیقہ “
ابراہیم شاہ نے ان کی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر خفگی سے کہا
“ہاں تو ابراہیم من پسند عورت کو کب آتا ہے منانا اسے تو بس مان جتانا ،ناز نخرے اٹھوانا آتا ہے “
ابراہیم شاہ نے ہمیشہ کی طرح در گزر کرکے ان کے ہاتھوں کو تھام لیا
“نرمی سے ۔۔۔۔”
“اور ہمیشہ کی طرح ان کے آنسو چن لئیے ۔۔۔”
_______
“ماموں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟؟”
عون نے حدید شاہ کے ماتھے پر چمکتے پیسنے کو دیکھ کر فکر مندی سے کہا
“یہ ہی ہے نہ وہ لڑکی “
ایک تصویر اپنے فون پر کھول کر حدید شاہ نے عون کو دیکھائی
جو سامنے فون سکرین پر چمکتی صفا کی تصویر کو دیکھ چونک گیا
“جی ماموں مگر صفا کی تصویر آپ کے فون میں ؟؟”
“کیا نام بتایا تھا تم نے اس لڑکی کا ؟”
حدید شاہ نے جلتی آنکھوں سے حیا کے نین نقش والی صفا پر ڈالی تھی
صفا ۔۔۔صفا خان ایڈوکیٹ حیا خان کی بیٹی
“خان “۔۔۔۔”حیا خان”
” کچھ تو غلط تھا “
“بہت غلط ۔۔۔”
حدید شاہ کے دماغ میں گھنٹیاں سی بجنے لگی تھی
وہ آنکھوں میں آیا پانی نہیں دیکھانا چاہتے تھے نہ عون کو نہ خود کو
_______
“انابیہ اٹھ جاؤ یار پیپیر ہے تمہارا آج “
بالاج کو امید نہ تھی انابیہ کو اٹھانا اتنا مشکل کام ہے وہ میڈیم مزے سے تکیے کو دبوچے سوئی ہوئی تھی
انا اٹھو فوراً
بالاج نے کمبل اس پر سے ہٹا کر اسے بازو سے ہلایا
“سونے دیں نا لاج کل پکا یونی جاؤں گی “
“مار کھاؤ گی اب مجھ سے انا “
” شادی کے تین دن بعد مجھے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں لاج
سونے کے باعث خمار میں ڈوبی آنکھوں کو اس پر مرکوز کئیے وہ وہ لہجے میں جہاں بھر کی بے یقینی سموئے اپنی نو ٹنکی بازی سے باز نہ آئی “
“اٹھ رہی ہو کہ ۔۔۔۔”
بالاج نے سختی سے کہا تو وہ منہ بسور کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا گئی کہ وہ اسے اٹھائے
بالاج نے نفی میں سر ہلا کر اسے اٹھایا
“مجھے نہیں معلوم تھا میری بیوی اتنی پڑھائی کے معاملے میں چور ہے “
“کیا بولا؟؟!” انابیہ ایڑھیوں کے بل پلٹی
اس نے شاید واقع ہی نہیں سنا تھا بالاج کا نادر جملہ
کچھ نہیں جلدی کرو میں نے پھر اور کام سے بھی نکلنا ہے
بالاج نے نفی میں سر ہلاتے اسے کہا
______
صفا یونیورسٹی جانے کے لیے تیار تھی ایک آخری نظر خود پر ڈال کر اس نے رجسٹر اور فائل کو اپنے بیگ میں ڈالا
ناشتہ کرنے کا آج بالکل دل نہ کیا وہ حیا کے باہر آنے سے پہلے ہی نکل گئی اگر حیا اسے دیکھ لیتی تو اس کی سرخ آنکھوں کے بابت سوال ضرور کرتی جس کا جواب تو اس کے پاس بھی نہ تھا ۔۔۔
_______
پریشان مت ہو پھوپھو ٹھیک ہو جائیں گی اگلی صبح فائزہ سب کے لیے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی جب شجاع کچن میں ہاتھ دھونے کی غرض سے آیا
“ان شاءاللہ”
فائزہ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھ کر اپنا دھیان دوبارہ ناشتے کی طرف مبذول کروایا
“ویسے آپ کیا کرتی ہیں “
“مطلب پڑھتی ہیں ؟؟”
شجاع نے اسے متوجہ کرتے ہوئے کہا جسے بہت کم بولتے سنا تھا اُس نے اِس ایک دن میں
“میں سکول میں پڑھاتی ہوں ٹیچر ہوں “
مختصر سا کہہ کر وہ پھر سے خاموش ہوگئی
شجاع بھی کندھے اچکاتا کچن سے باہر نکل گیا
پیچھے فائزہ نے بس ایک نظر اس کی پشت پر ڈالی تھی
_______
صفا بڑی ہمت کرکے کلاس میں آئی تھی مگر جس سے چھپتی پھر رہی تھی وہ تو تھا ہی نہیں یونی میں
کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی وہ نہ آیا یہاں تک کہ کلاس ختم ہوگئی صفا نے قدم کینٹین کے جانب بڑھا لئیے وہاں بھی وہ لاشعوری طور پر انتظار کرتی رہی مگر نہ عون آیا نہ اس نے آنا تھا
“آپ آپ کہ دیں جھوٹ ہے میں وعدہ کرتا ہوں آپ کے پاس بھی نہیں آؤں گا آپ کہہ دیں کہ یہ سب جھوٹ ہے”
“دعا کریں یہ دل مردہ ہوجائے صفا کیونکہ اب مجھ سے بھی نہیں دیکھا جاتا آپ کا میری وجہ سے پریشان ہونا “
صفا نے سر جھٹک کر اپنا سامان کینٹین سے اٹھایا
وہ لائیبریری آگئی ۔۔۔
وہ سر جھکائے اپنا کام کر رہی تھی جب دھڑم سے رجسٹر اس کی ٹیبل پر گرا
صفا ہڑبڑا گئی
“تم پھر سے آگئے عون !!”
صفا نے دانت پیسے
“جب کوئی بار بار ٹھکرائے جانے کے بعد آپ کے پاس آئے اس کا مطلب پتا ہے کیا ہوتا ہے ؟”
عون نے رازداری سے جھک کر پوچھا
یہ ہی کہ وہ شخص کہنا چاہ رہا ہے پچھلی باری تھوڑی کثر رہ گئی تھی اس بار ٹکا کر ذلیل کرنا
“نہیں ناشکری عورت اس کا مطلب ہوتا ہے وہ شخص با وفا ہے اور سچی محبت کرتا ہے جو اپنا سر پر بار ٹکرانے آجاتا ہے “
“تم نے مجھے عورت کہا عون “
وہ چلائی
“ہائے اللہ میری اتنی گہری بات میں سے آپ نے بس عورت لفظ پر ہی غور کیا صفا “
وہ متحیر ہوا
“تو “
“شش۔۔۔” لائیبریرئن کے دوسری دفعہ ڈانٹنے پر بلآخر دونوں کو باہر ہی آنا پڑا
مگر آج کوئی بھی نہیں تھا نہ اسے تنگ کرنے والا نہ اسے لائبریری سے نکلوانے والا
وہ تھک کر وہاں سے بھی اٹھ گئی
_______
پورے ٹائم پر بالاج انابیہ کو پک کرنے آیا تھا جو گاڑی میں بیٹھی اپنے پیپر شروع کرنے سے ختم کرنے تک کی روداد اس کے گوش گزار کرنے لگی
_________
