212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 24)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“ارے حیا صاحبہ اتنی محنت کرکے آپ عدالت کی دہلیز تک آئی ہیں ۔ابھی کل ہی تو آپ کے بیٹے کا نکاح ہوا ہے تھکی ہوئی ہوں گی آپ اتنی زحمت کیوں کی آپ ایک کال کرتی ہم ڈیٹ کوئی اور رکھوا لیتے “

“ویسے بھی اس کیس کا اختتام تو سب کو پہلے سے ہی معلوم ہے”

مخالف وکیل جنید بغدادی نے حیا کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھ کر کہا

حیا نے سپاٹ نظر جنید بغدادی پر ڈالی

“ویسے آپ کو یاد ہے میرے والد کا ہاسپٹل میں اپائنٹمنٹ کب ہے مجھے بھول گیا آپ نے ہماری اتنی خبر رکھی ہوئی ہے یہ تو یاد ہو ہوگا غداری میرا مطلب بغدادی صاحب “

جازب کمال اپنا کورٹ صحیح کرتے حیا اور جنید بغدادی کے بالکل درمیان میں آکھڑے ہوئے تھے

جازب کمال کو دیکھ کر جنید بغدادی کی مسکراہٹ سمٹی

“یاد تو مجھے واقع بہت کچھ ہے کمال صاحب”

“ملاقات ہوتی ہے پھر کمرہ عدالت میں واپسی پر آپ کو ضرور تاریخ یاد دلاؤں گا جازب صاحب “

جنید بغدادی اپنا کورٹ جھاڑ کر اندر بڑھ گئے۔۔۔۔

_______

صفا انہماک سے اپنی آگے پڑی بریانی کھانے کے ساتھ موبائل میں چلتی ویڈیو دیکھنے میں مشغول تھی جب عون ہاتھ میں رجسٹر پکڑے دھرم سے اس کے پاس بیٹھا

“عون ابراہیم”

“جی صفا خان؟”

کیا مسئلہ ہے کیوں آئے ہو

آپ سے سوال پوچھنے آیا ہوں اب آپ ہی ہماری ٹیچر ہیں نہیں تو میں بچارا کس کے پاس جاؤ کس منہ سے جاو

اچھا پوچھو صفا نے جھنجھلا کر اپنا چمچ پلیٹ پر پٹخ کر کہا

آہم ۔۔۔ اچھا پوچھتا ہوں پہلے گھورنا بند کریں

“میرے ہاتھ میں کتاب ہے کوئی اصلحہ تو نہیں۔۔۔۔

آپ کو انگیجمنٹ رنگ پہنا دوں کوئی مسئلہ تو نہیں ۔۔۔۔”

“عون “

صفا نے ضبط سے پکارا

“آپ نے خود کی کہا سوال کرلو تو میں نے سوچا اپنی زندگی کا سب سے اہم سوال ابھی کیوں نہ کرلو

پھر موقع ملے نہ ملے “

“کیوں میں نے مر جانا تھا بعد میں “

صفا نے گھور کر کہا

“اللہ نہ کرے آپ کو میری عمر بھی لگ جائے” عون نے بے ساختہ ہی کہا صفا چپ کر گئی

“عون کوئی کام ہے تو کہو نہیں تو یہاں سے نکلتے بنو “

“اچھا سوال نہیں پوچھ سکتا کچھ بتا تو سکتا ہوں نہ ؟؟”

عون نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے کہا

“بولو “

“آپ کے اس نازک ہاتھ کی انگلی میں اپنے نام کی انگوٹھی پہنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

میری سادگی دیکھو میں کیا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ “

اچھا سوری سوری یہ لیں اس کا حل بتا دیں بہت مشکل میں ہوں

عون نے کتاب اس کے سامنے کی

کہاں سے تم پڑھو

“roses are red mine face are too , that only happens when I am around you “

مطلب سمجھ آنے پر صفا نے ایک دم چہرہ اٹھایا

عون کا چہرہ تو نہیں پر اس کا ضرور لال ہوگیا تھا

غصے سے

“عون ابراہیم اپنی یہ بکواس پک اپ لائنز اٹھاؤ اور نکلتے بنو میرا دماغ خراب نہ کرو اور اب اگر تم میرے پاس رکے تو یہ چہرہ تھپڑ سے ہوگا لال”

صفا کے صبر کی بھی بس ہوئی

صفا میرے پاس حلال والی بھی ہیں یار

صفا سر جھٹک کر اٹھ گئی وہ تو تھا ہی ابنِ ڈھیٹ

“اچھا سنیں تو کیا آپ میری امامت میں نمازیں ادا کریں گی “

صفا نفی میں سر ہلاتی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔

_______

کیس کی کاروائی شروع کی جائے ۔۔۔۔

یور آنر یہ تاریخ پر تاریخ ڈالنا صرف معزز کورٹ اور اس کے صاحبان کے وقت کا ضیاع ہے

“یور آنر سب کچھ صاف اور واضح ہے میرے معقل کو بے مطلب بدنام کیا جارہا ہے بس دشمنوں سے ان کی بڑھتی کامیابی دیکھی نہیں جارہی اس لیے ان پر بے مطلب کے الزام دھر رہے ہیں “

جنید بغدادی نے استہزایہ لہجے میں جازب کمال کی جانب دیکھ کر کہا

وکلاء کے پیچھے لگی چئیر پر بیٹھے خرم داد نے مسکراتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا تھا

“جنید صاحب کہنے سے ملزم بے گناہ ہو نہیں جاتا “

“وہی تو جازب صاحب الزام لگانے سے بھی الزام ثابت نہیں ہوجاتے “

جنید بغدادی نے طنزیہ کہا

جازب کمال نے مٹھیاں بھینجی

ابھی وہ کچھ بولتے حیا نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کروایا

جازب کمال چونک اٹھے

یہ دورانیہ بس لمحے تک کا تھا حیا نے تو شاید دیکھا بھی نہیں مگر جازب کمال خاموش ہوگئے

مجھے خوشی ہے اپنے فاضل دوست کی خود اعتمادی پر مگر دکھ اس بات کا ہے کہ یہ اعتمادی زیادہ دیر نہیں رہے گی

حیا نے اٹھ کر جیسے بولنا شروع کیا

ایک دم سے پیچھے شور سا مچنے لگا

“آڈر آڈر ۔۔۔”

جج صاحب کے gavel(لکڑی کی چھوٹا سا ہتھوڑا جو خاموش کرنے کے لیے بجایا جاتا ہے) بجانے پر

خاموشی چھائی

“یور آنر یہ وہ تمام ثبوتوں کی فائل ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے مسٹر خرم داد گزشتہ چھ سالوں سے اپنی تینوں این جی او

کو اپنی بلیک منی کو نہ صرف وائٹ کرنے میں استعمال کر رہے ہیں بلکہ چیریٹی میں ملنے والے پیسے سے بھی خرم داد نے ڈرگ ڈیلز سائن کی ہیں یہ کچھ اوڈیو اور ویڈیو پروف ہیں ان کے ڈیلرز کے ساتھ”

“اور یہ ہی نہیں جج صاحب ایک اور جرم بھی خرم داد کی فہرست میں شامل ہے “

جنید بغدادی نے جیب سے رومال نکال کر اپنا پیسنہ پونچھا

جاذب کمال اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولے

” ‘خواتین کا سہارا ‘ نام سے بے روز گار عورتوں کے لیے جو فائونڈیشن موجود ہے جس کی بنیاد خرم داد کی مرحوم بیوی “کومل خرم “نے رکھی تھی وہاں آنے والی جوان لڑکیوں کو دبئی میں وویمن ٹریفکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پرانی عورتوں سے مزدوری کروائی جاتی ہے ۔۔۔”

جازب کمال نے ضبط سے کہا خرم داد کا جرم تھا ہی اتنا سفاک

“ان ثبوتوں کے بعد مجھے پوری امید ہے آج ہی اس کیس کی کاروائی مکمل ہو جائے گی “

“کیونکہ میرے فاضل دوست کو تاریخوں سے بہت مسئلہ ہے

ایک دفعہ پھر کورٹ روم میں شور مچا “

“آرڈر آرڈر”

ایک دم خاموشی چھائی

جج کے فیصلے کا انتظار تھا

جج صاحب کی آواز گونجی

“تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت ملزم

خرم داد کو منی لانڈرنگ کیس پر دس سال کی قید بامشقت ساتھ پانچ لاکھ جرمانہ “

“دوسرا وویمن ٹریفکنگ جیسے گھنونے جرم میں ملوث ہونے

2018 ایکٹ سیکشن 3 کے تحت بیس بارہ سال کی قید بامشقت ساتھ ہرجانے کی ضرورت میں بیس لاکھ روپے “

“اور ڈرگ ڈیلنگ کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے سیکشن 9a 9b اور سیکشن 9c کے تحت پچاس لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہےاور ان سزاؤں کو بھگتنے کے بعد پھانسی کی سزا سناتی ہے “

“یہ جج کیا کہہ رہا ہے تو نے کہا تھا جج خریدا ہوا ہے بغدادی “

خرم داد ہتھے سے اکھڑ گیا

“میں تجھے چھوڑوں گا نہیں بغدادی لاکھوں روپے لیئے ہیں تو نے مجھے بچانے کے اگر مجھے جیل ہوئی تو بخشوں گا میں تجھے بھی نہیں بغدادی”

جبکہ جنید بغدادی سن ہو کر کرسی پر ڈہہ گئے ۔۔۔

“میرے فاضل دوست میں نے آپ کو تاریخوں سے بچا لیا آپ کو مجھے فون کرنے کی بھی زحمت نہیں کرنا پڑے گی “

حیا نے پاس سے گزرتے ہوئے جنید بغدادی کو کہہ کر اپنی آنکھوں پر سیاہ رنگ کا چشمہ لگا لیا

جازب کمال مسکرائے

________

السلام علیکم جی بھائی فری ہوگئی ہوں میں

اپ ڈرائیو کو بھیج دیں جی کھا لیا تھا میں نے کینٹین سے بے فکر رہے اور بس ڈرائیور کو بھیج دیں

ہاہاہاا آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے پہلی بار یونیورسٹی آئی ہوں میں صفا نے ہنستے چہرا دائیں جانب موڑا جہاں عون ابراہیم کھڑا ہوا تھا

“وللہ الہی میں تو بھول ہی گیا تھا آپ اتنے آرام سے بولتی بھی ہیں “

عون نے صدقے جاتے لہجے میں کہا

“ویسے میں یہ پوچھنا آیا تھا رمضان آنے والا ہے کیا آپ مجھے سحری کے وقت اٹھائیں گی “

صفا بغیر اس کی طرف دیکھے اگنور کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئی ۔۔۔

کبھی نہ کبھی تو آپ کو یقین آئے گا مجھ پر صفا خان اس دن کا عون ابراہیم کو شدت سے انتظار ہے ۔۔۔

_______

“بالاج یہ نہیں اتر رہی کیا مسئلہ ہے اسے “

“کونسی بکواس بیوٹیشن بلوائی تھی آپ نے “

بالاج لیپ ٹاپ پر جھکا ای میلز چیک کر رہا تھا جب انابیہ کی جھنجھلائی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہڑبڑا کر رہ گیا

“یہ چھڑی سے کیا کر رہی ہو لیپ ٹاپ وہی چھوڑ کر اس کے پاس آیا “

“بالاج یہ نیل پینٹ نہیں اتر رہی ریمور بھی کی ہے مگر نہیں اتر رہی اب اسے چھڑی سے کھرچنے کی کوشش کر رہی ہوں “

“پاگل ہو انا انگلیاں کٹوانی ہے کیا تم نے “

“تو میں کیا کرو لاج میں نے وضو کرنا ہے اسے لگا کر تو نہیں نہ نماز پڑھ سکتی میں پہلے ہی بہت چھوٹ گئیں نمازیں “

انابیہ نے منہ بسور کر کہا جیسے ساری غلطی بالاج کی ہو

“اچھا دھر دو میں صاف کرتا ہوں “

بالاج اب نرمی سے ریمور لگی کوٹن سے اس کے ناخن صاف کر رہا تھا جو ہو بھی رہے تھے

پانچ منٹ بعد اس کے ناخن صاف کرنے کے بعد بالاج نے اسے گھورا جو کھسیانی ہنسی ہنس دی

“پہلے ہی کردیتے “

“میری امامت میں نماز ادا کرو گی “

بالاج کا سوال اس کے انداز سے زیادہ غیر متوقع تھا

“انابیہ پل بھر کو کچھ بول نہیں پائی

میں وضو کرکے آئی آپ بھی کرلیں “

انابیہ وضو بنانے کی غرض سے وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔

________

خرم داد جانی مانی ہستی تھا اس کیس کے بعد اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا تھا

جس کا کریڈیٹ مس ایڈوکیٹ حیا خان اور سینئیر ایڈووکیٹ جازب کمال کو جاتا ہے

صحافی ان سے مختلف طرح کے سوالات پوچھ رہے تھے جبکہ کیمرہ مین اُن کی بیشتر تصویریں لے چکے تھے

جب جنید بغدادی وہاں سے گزرے کچھ صحافی ان کی طرف ہو لئیے

“جنید سر کیا آپ خرم داد کی اصلیت جانتے تھے “

“اگر جانتے تھے تو پھر جانتے بوجھتے آپ نے ایک مجرم کا ساتھ دیا

آپ کو کیس ہارنے پر کیسا لگا “

“آپ کے کرئیر کا یہ شاید پہلا بڑا کیس تھا جو آپ ہار گئے “

“آپ کو کیا اس سے آپ کا کرئیر اثر انداز ہوگا “

“مجھے شرم داد کی اصلیت سے لا علم رکھا گیا “

“اور مجھے خوشی ہے میرے ساتھی وکیل اس کیس میں حق کا ساتھ دیتے جیت گئے “

“مجھے ہارنے کر کوئی افسوس نہیں کیونکہ جیت سچ کی ہوئی ہے

شکریہ “

جنید بغدادی کی سپیچ پر حیا نے جازب کی جانب دیکھ کر مسکراہٹ دبائی تھی جو خود استہزایہ انداز میں جنید بغدادی کو دیکھنا نہ بھولے تھے

______

“اہم مس صفا آپ نماز پڑھتی ہیں “

صفا مین گیٹ سے نکل کر ویٹنگ سائڈ پر ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی جب عون اس کے پاس آ کھڑا ہوا

“الحمدللہ مسلمان ہوں پڑھتی ہوں “

لٹھ مار انداز میں جواب آیا تھا ۔۔۔۔

“کیا میں وضو کے بعد آپ کو تولیا پکڑا سکتا ہوں “

“تم عزاب ہو “صفا انگلی اس کے چہرے پر کئیے کچھ سخت سست سنانے لگی تھی جب عون پھر سے بولا

“کیا میں آپ کی زندگی کا واحد فتنہ بن سکتا ہوں “

ایک دم صفا کے چہرے کا رنگ اڑا تھا

واحد لفظ نے اسے حقیقت کے سامنے لا پٹخا تھا

پتا نہیں عون کیسے ری ایکٹ کرے گا صفا نے لب کچلا

“میری منگنی ہونے والی ہے عون”

مجھ سے

“عون میں سیریس ہوں “صفا کا لہجہ کند چھڑی مانند اس کے دل پر چلا تھا

“آپ ۔۔” اس کی سانس رکی

“نہیں ایسا کیسے؟؟ “

ٹوٹا ۔۔بکھرا۔۔۔ غیر یقین سا لہجہ

“آپ جھوٹ بول رہی ہیں نہ؟!!۔۔۔ “

“آپ آپ کہ دیں جھوٹ ہے میں وعدہ کرتا ہوں آپ کے پاس بھی نہیں آؤں گا آپ کہہ دیں کہ یہ سب جھوٹ ہے”

“آپ کیسے کسی کی ہوسکتی ہیں صفا کیسے… “

وہ آواز پر کنٹرول نہ رکھ سکا تھا

“عون آہستہ بولو کیوں میری پریشانیوں میں اضافہ کر رہے ہو”

صفا کر لہجہ آج شاید تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا تھا

دعا کریں یہ دل مردہ ہوجائے صفا کیونکہ اب مجھ سے بھی نہیں دیکھا جاتا آپ کا میری وجہ سے پریشان ہونا

عون وہاں سے نکلتا چلا گیا

“صفا نے اس کی گاڑی کی بڑھتی رفتار پر دہل کر دھول اڑاتی سڑک کو دیکھا تھا “