212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 22)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“محبت کرنے والوں کی نظر نہیں لگتی “

ایک جملہ دو آوازیں

“کیا شجاع بھی مجھ سے ۔۔۔۔ “

“مگر کب۔۔۔کیسے۔۔۔ ایسا کب ہوا ؟ “

“افف۔۔”

صفا پریشانی کے مارے کمرے میں ادھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھی

“صفا بچے سوئی نہیں “

حیا کی آواز پر صفا نے چونک کر اپنے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی حیا کو دیکھا

________

“باہر نکل رہی ہو کہ نہیں ؟”

بالاج نے انابیہ کو آواز دی

مگر دوسری جانب خاموشی تھی

“لاج یہ بال اٹک گئے ” تھوڑی دیر بعد انابیہ کی روہانسی آواز پر بالاج مٹھی کو ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔۔

“اچھا آؤ میں مدد کروں “

بالاج نے مسکراہٹ دانتوں تلے دبا کر سنجیدگی سے کہا

انابیہ جامنی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں بکھرے بالوں کے ساتھ کمرے میں آئی

بالاج نے بامشکل اپنا قہقہ دبایا

وہ چہرے سے تپی ہوئی لگ رہی تھی جبکہ آنکھیں جیسے ابھی رونے کو تیار تھی

“اچھا آجاؤ۔۔۔”

بالاج نے اسے بیڈ پر بٹھا کر ایک گھنٹہ بیڈ پر رکھ کر جھکتے ہوئے اس کے بالوں میں پوشیدہ پنوں کے جھنڈ کو نکالنے میں جت گیا

“قسم سے پتا نہیں تھا شادی کے بعد یہ سب بھی کرنا پڑے گا “

بالاج کی جلی تھکی آواز پر

انابیہ کی کھلکھلاہٹیں پورے کمرے میں اٹکھیلیاں کرنے لگی

______

“مما نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔آپ آئیں نہ اندر “

صفا انہیں بازوں سے تھام کر اندر لے آئی

“آپ کیوں نہیں سوئی ابھی “

حیا کو بیڈ پر اپنے پاس بٹھا کر فکر مندی سے کہا

“کچھ نہیں بس یو ہی تمہارے کمرے کی جلتی لائٹ دیکھی تو ادھر آگئی۔۔۔”

“کیا سوچ رہی ہو …؟”

“مما بھائی اور چندہ کی شادی ہوگئی بھائی نے ہمارے لیے کتنا کچھ کیا ہے نہ بچپن سے مجھے بھائی کی جگہ باپ بن کر پالا حالانکہ بھائی مجھ سے صرف سال ہی بڑے ہیں پر ان کا انداز ان کا میرے نکھرے اٹھانا مجھے خود پر مان کرنے پر مجبور کرتا ہے”

حیا کی گود میں سر رکھے صفا محبت سے بالاج کا زکر کررہی تھی اس کے لفظ لفظ سے بالاج کے لیے محبت اور عقیدت محسوس ہورہا تھا

“ہاں میرا بچہ بہت اچھا ہے مجھے فخر ہے میں بالاج کی ماں ہو “

حیا کے لہجے میں بھی ممتا کی چاشنی بھری ہوئی تھی

“مما کتنا اچھا ہوتا آج بابا بھی ہمارے پاس ہوتے کیا انہیں ہماری یاد نہیں آتی کیا انہیں بچے ۔۔۔۔”

صفا بولتے بولتے ایک دم خاموش ہوئی حیا کا سفید پڑتا چہرہ صفا کو دہلا گیا

“سوری مما میرا وہ مطلب نہیں تھا “

“کیا میری اور بالاج کی محبت آپ کے لیے ناکافی ہے صفا ؟”

حیا نے سپاٹ لہجے میں پوچھا

“ن۔نہیں مما سوری “

“اٹس اوکے آپ آرام کریں “

حیا وہاں سے چلی گئی

“بابا آپ کیوں چھوڑ گئے ہمیں کیا پیسے ہم سے بھی زیادہ ضروری تھے “

صفا نے آنکھیں موندیں درد سے کہا ۔۔۔

_______

اگلی صبح بالاج کی نیند آنکھوں میں پڑھنے والی روشنی سے کھلی تھی

دھوپ کی تیز کرنیں نیٹ کے باریک پردوں کو چاک کرتی بیڈ پر اڑے ترچھے لیٹے بالاج کے چہرے پر پڑتی اسے جگانے میں کامیاب ہوئی تھیں

بالاج نے اپنے بائیں جانب ہاتھ پھیرا مگر بیڈ کھالی تھا اس نے چونک کر سر اٹھایا

انابیہ کہیں بھی نظر نہ آئی

واشروم سے گرتے پانی کی آواز پر بالاج آنکھیں مسلتا بیڈ کی ٹیک کے ساتھ کمر لگاتا بیٹھ گیا

اپنی محبت کو پالینا کتنا مسرور کن احساس ہے یہ بالاج کو کل رات کو معلوم ہوا تھا

“زندگی اس معاملے میں اس پر مہربان تھی “

“اس معاملے میں اسے اتنا آزمایا نہیں گیا “

بالاج نے اپنے دونوں کی لکیروں پر نظریں مرکوز کی

” زندگی میں لمبی آزمائشوں کی فہرست تھی “

“غموں کا انبار تھا “

“تھکاوٹ سے بدن چوڑ تھا “

وہ یوں ہی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے میں مگن تھا

“جب گیلے ٹھنڈے نازک ہنائی ہاتھ اس کے دونوں ہاتھوں پر دھرے گئے “

“یوں جیسے بھاری برف کے پہاڑوں سے بڑا سارا طودہ سرک جاتا ہے “

“یوں جیسے تھکاوٹ کو بنا چھوئے رفوچکر کیا جاتا ہے “

“یوں جیسے غموں کی گرد پر ابرِ رحمت برسائی جاتی ہے “

“یوں جیسے آزمائشوں کی لمبی فہرست کو مختصر کردیا جاتا ہے “

“یوں جیسے تھکے ہوئے سے بالاج کے سکون کے لیے انابیہ دے دی جاتی ہے “

بالاج نے بھی گرفت دوگنی مضبوط کردی

اپنی سبز آنکھوں کو اٹھا کر اس کے جھینپی سی مسکراہٹ کو دیکھا سیاہ آنکھوں پر پلکیں سایہ فگن تھی

________

ناشتے کی ٹیبل پر آج انواع اقسام کے کھانے اور ناشتے موجود تھے جس میں سارے ہی تقریباً انابیہ کے پسند کے تھے کچھ بالاج کی پسند کے تھے

“یممم مما اتنی مزے کی خوشبو آرہی ہے میری تو بھوک ہی جاگ گئی “

صفا کی فریش سی آواز پر

حیا صرف مسکرا ہی سکی

“مما آپ مجھ سے ناراض ہیں سوری مما صفا محسوس کرتے فوراً ہی روہانسا ہوئی”

“نہیں میں ناراض نہیں ہوں “

“سوری مما “

صفا نے حیا کے گرد ہاتھ باندھے

“کوئی بات نہیں اٹس اوکے “

حیا نے بھی اسے اپنی آغوش میں لے لیا

اتنے میں بیا کا ہاتھ تھامے بالاج بھی سیڑھیوں سے اترتا ہوا نیچے آیا

“مما “انابیہ دوڑ کر حیا کو پکارتی ان کے گلے لگ گئی

حیا نے بھی ایک نظر بالاج کے روشن چہرے پر ڈال کر انابیہ کو خود میں بھینچ لیا

جو آج واقع ان کی بیا کی بجائے بالاج کی انا لگ رہی تھی

چندہ اب تم شادی شدہ ہے جاؤ اب ممی صرف میری ہیں

صفا نے منہ بنا کر انابیہ کو چڑایا

“ہی ہی ہی آپی آپ بھول رہی ہیں میری ممی ہی میری ساس بھی ہیں تو میرے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا “

انابیہ نے کھلکھلا کر ایک دفعہ پھر حیا کے گلے میں بانہیں ڈالی

“افف اتنی چالاکی ایک ہی دن میں “

صفا نے مسکراہٹ دبا کر کہا

تو انابیہ جھینپ گئی

“اچھا آجاو ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا بیکری آئٹمز چھوڑ کر باقی سب کچھ میں نے اپنے خود اپنے بچوں کی پسند کا بنایا ہے “

“مما اتنا پروٹوکول۔۔۔!! “

“ہاں تو آپی آپ بھی شادی کرلیں “

انابیہ مزے سے ناشتہ کرتی صفا سے بولی

جو اس کے فوری جملے پر نہ سنبھلتے ہوئے کھانسنے لگی ۔۔۔۔

چندہ صفا دانت پیس کر رہ گئی پہلے تو انابیہ اس کے ساتھ بیٹھی ہوتی تھی تبھی وہ اسے کہنی بھی مار لیتی تھی اب تو میڈیم بالاج اور حیا کے بالکل درمیان چھوئی موئی بنی بیٹھی تھی ۔۔۔

مما بھائی میں نے آپ کو بتانا تھا ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے پچھلے اور اب والے بیچ کے جو سر قیوم تھے ان کا انتقال ہوگیا ہے تو پرسو سر فرقان نے مجھے اسی سلسلے میں بلایا تھا کہ ۔۔۔۔۔

بہت افسوس ہوا سر قیوم کا سن کر اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے آمین حیا نے افسوس کرتے ہوئے کہا

باقی جہاں رہی سر فرقان کی درخواست کی تو مجھے بھی خوشی ہوگی صفا آخر آپ اپنے استاد کے کسی کام آئیں گی میب ضرور جائیں تب تک آپ کا ریزلٹ بھی آجائے گا پھر آپ اس کے بعد باقاعدہ مجھے اسسٹ کریں گی ۔۔

جی مما ان شاءاللہ

بھائی آپ مجھے چھوڑ دیتے ہیں

ہاں کیوں نہیں تم ناشتہ کر لو میں چھوڑ دیتا ہے ہوں

ناشتہ کرلیا میں اپنا بیگ کے کر آئی

“چندہ میری بات سننا زرا” صفا نے اٹھتے ہوئے انابیہ کو بھی بلایا جو ہمیشہ کی طرح دو سلائس کو ختم کرنے میں پندرہ منٹ لگا چکی تھی

“جی آئی آپی “

“بالاج مجھے آپ سے صفا کے بارے میں بات کرنی ہے “

حیا نے انابیہ اور صفا کے جانے کے بعد بالاج کو مخاطب کیا

“جی مما کہیں”

بالاج مجھ سے کل آپ کے نکاح کے بعد مسز خاور ( شجاع کی مما) نے صفا کے متعلق بات کی ہے

“کیسی بات ؟؟” بالاج کھانے سے ہاتھ اٹھا کر پوری طرح حیا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔

______

بڑے دانت نکل رہے ہیں چندہ کی بچی

صفا نے انابیہ کے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا

“ہی ۔ہی۔ہی آپی” انابیہ نے دانتوں کی نمائش کی

“اچھا کل تو رخصتی کے وقت بڑا رویا جارہا تھا میرے گلے لگ لگ کر اب کیسے دانت نکل رہے ہیں بھائی نے کیسا جادو کردیا “

“اچھا نا میری پیاری آپی “

انابیہ نے صفا کے گلے میں بانہیں ڈالیں

ہٹو پتا لگ گیا مجھے وہ رونا دھونا اوپر اوپر سے تھا دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے

“آپی نہ کریں نا” انابیہ سرخ ہوتے چہرے سے ٹوکا

“اچھا یہ بتاؤ بھائی نے منہ دیکھائی میں کیا دیا” صفا نے آئی برو اُچکا کر پوچھا

“اووو میں نے تو منہ دیکھائی کوئی لی ہی نہیں “

انابیہ نے سر پیٹ کر افسوس سے کہا

ہاہاہا بھلکر صفا نے قہقہ لگا کر انابیہ کے گال کھینچے

“دیکھو کیا پتا بھائی نے کمرے میں ہی چھپائی ہو صفا نے رازداری سے کہا”

“اووو ہوسکتا ہے” انابیہ نے گال رگڑی

“اب مت ایسے کرنا آ۔۔”

مگر اس سے پہلے ہی صفا نے پھر سے اس کے گال کھینچ دئیے

“دیکھنا اب میں مما کو کہوں گی آپی کی شادی کردیں”

انابیہ نے گالوں کو سہلاتے منہ بنا کر کہا

“پہلے تم جا کر اپنا گفٹ ڈھونڈو کمرے سے”

جا رہی ہوں انابیہ پاؤں پٹختی کمرے کی طرف بڑھ گئی

پیچھے صفا اس کی تیزی پر ہنس کر رہ گئی

“پاگل “

_______

بالاج مسز نے پہلے باتوں باتوں میں صفا کی شجاع کے لیے بات کی تھی مگر کل انہوں نے باقاعدہ نام لے کر مجھ سے گھر آنے کی اجازت مانگی ہے تمہارا کیا خیال ہے ؟؟

ٹیبل کی جانب آتی صفا کے قدم لڑکھڑائے تھے

اس نے اپنے ہاتھ میں تھام رکھے بیگ پر گرفت سخت کی

“چلیں بھائی “

صفا نے لہجے کو ہموار کرکے ٹیبل کے قریب آتے کہا

بالاج نے چونک کر صفا کو دیکھ جو سیاہ شلوار قمیص کے ساتھ سیاہ پلین ڈوبٹے سے سر کو ڈھکے اس کے سامنے کھڑی تھی بھورے بالوں کی چند لٹے اس کے گلابی چہرے پر رقصاں تھی

بالاج نے کبھی اپنے اور صفا کے درمیان کا سال کا فرق تو جانا ہی نہیں ہمیشہ اسے بچہ گڑیا کہہ کر ہی پکارا آج اس کی گڑیا اتنی بڑی ہوگئی کہ اس کی گھر سے جانے کی باتیں ہونے لگی تھیں

بالاج نے اٹھ کر صفا کو اپنے پر شفقت حصار میں کے کر اس کے ڈھکے سر پر لب رکھے

صفا نے بامشکل اپنے آنسووں پر قابو پا کر اپنا چہرہ اٹھایا

“بھائی شادی کرکے آپ اور چندہ بدل نہیں گئے “

صفا نے شرارتی انداز میں کہا

“دوسروں کا پتا نہیں مگر میں اپنی گڑیا کا ہمیشہ والا بالاج بھیا ہی رہوں گا “

اتنے میں انابیہ بھی منہ بناتی باہر آگئی

“آپی نہیں “

انابیہ نے پوشیدہ لہجے میں صفا سے کہا

کیا نہیں بیا حیا بیگم کے براہ راست استفسار پر صفا ہڑبڑائی

“بھائی چندہ کہہ رہی تھی اب اس کی شادی ہوگئی ہے اب وہ آگے نہیں پڑھے گی “

جلدی سے کہیں انابیہ کچھ بول نہ دے صفا نے بات سنبھالی

کیوں نہیں پڑھیں گی آپ آگے انا

بالاج نے ماتھے پر بل سجائے انابیہ کو مخاطب کیا

جو صفا کے دغا دینے پر منہ کھلے سن کھڑی تھی

“وہ ۔۔۔نہیں پڑھنا نہ آگے لاج ۔۔۔ مما میری شادی ہوگئی ہے اب تو اب میں پڑھ کر کیا کروں گی “

انابیہ نے بالاج کے ساتھ ساتھ حیا کو بھی مخاطب کرکے منمناتے ہوئے کہا

ہرگز نہیں پڑھائی کے معاملے میں کوئی کامپرومائز نہیں تم آگے پڑھو گی بلکہ میں خود تمہیں پڑھاؤں گا پچھلے سمسٹر کا

“جی پی اے کتنا لو تھا تمہارا “

بالاج نے ہری جھنڈی دکھائی

حیا نے بھی کندھے اُچکا دئیے

انابیہ نے ناراض نظر دونوں پر ڈال کر اپنے پرانے کمرے کی طرف رخ کیا

“مما اس کو میں خود ہی دیکھ لوں گا آ کر آپ جائیں آج آپ کا کوئی اہم کیس تھا “

“ہاں میں بھی نکلنے ہی لگی ہوں دھیان سے جاؤ اور بیا کو ڈانٹنا

” ہر گز نہیں بالاج “

حیا آخر میں تنبیہہ کرنا نہ بھولی

…بالاج نے حیا سے پیار لے کر باہر کی طرف قدم بڑھا لئیے