Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 21)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 21)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“قبول ہے !!”
دونوں طرف مبارک باد کا شور مچا
ادھر شجاع نے آگے بڑھ کر بالاج کو گلے لگایا
دوسری طرف حیا کے بعد صفا نے کانپتی انابیہ کو خود میں بھینچ لیا ۔۔
“چندہ اس طرح روؤ گی تو میں بھائی کو بلا لوں گی اندر “
صفا نے انابیہ کو رونے سے باز رکھنے کے لیے اس کے کان میں سرگوشی کی
“آپی “
انابیہ آنسو خشک کرکے چلائی
“افف مما دیکھ رہی ہے ابھی نکاح ہی ہوا چندہ کا اور آواز کیسے نکلنے لگ گئی ہے “
صفا پھر بھی باز نہ آئی اور اسے شریر انداز میں چھیڑا
“صفا نہ تنگ کرو میری بیا کو “
حیا نے آگے بڑھ کر پھر سے انابیہ کو گلے لگایا
بیا بھی شرمائی سی حیا کے سینے میں منہ چھپا گئی ۔۔۔
دوسری جانب شجاع کے گھر والوں سے ملنے کے بعد
جازب اعوان نے بھی بالاج کو گلے لگایا
” شکریہ انکل ” بالاج نے دھیرے سے جازب کے کان کے قریب سرگوشی کی تو جازب اعوان نے چونک کر بالاج کے چہرے کی جانب دیکھا
“میری کامیابی کے پیچھے ایک ہاتھ آپ کا بھی ہے انکل “
“ارے یار کوئی اپنوں کو بھی حساب دیتا ہے کیا؟!”
جازب کمال نے ایک بار پھر جزب کے ساتھ بالاج کو گلے لگایا تھا
بالاج کی سبز آنکھوں میں اس وقت کچھ پالینے کی واضح خوشی تھی
کل بھی اس نے انہی لوگوں کے سامنے انابیہ کو بلوغت میں قبول کیا تھا آج بھی اس نے انابیہ کو ہی اپنے پورے دل کے ساتھ سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے قبول کیا تھا
“بہت بہت مبارک ہو میری جان “
حیا نے بالاج کے پاس آکر اسے مبارک باد دینے کے ساتھ لگے لگایا
اس کی آنکھیں نم تھی ان کے بالکل قریب کھڑے جازب اعوان نے اسی پل حیا کی بھیگتی سبز آنکھوں میں دیکھا تھا اس کچھ دور کھڑے فوٹو گرافر نے چند تصاویریں ان تینوں کی اکٹھی لی مگر وہ کوئی میڈیا سے منسلک آدمی نہیں تھا ۔۔۔
“حیا بات سنیں گی “
اتنے میں مسز خاور نے حیا کو بلایا
“جی “
حیا سر ہلاتی ان کی بات سننے کو ان کی طرف بڑھ گئی
_______
چند منٹ بعد صفا کے سہارے سفید رنگ کی میکسی میں انابیہ لان میں سجے سٹیج کے پاس آئی جہاں شہزادوں سی آن بان رکھتا بالاج خان ایک قدم نیچے اتر کر اسے تھامنے کے لیے تیار تھا
صفا نے جو ہی انابیہ کا یخ بستہ کانپتا ہاتھ بالاج کی گرم کشادہ ہتھیلی میں دیا بجلی کی ایک لہر انابیہ کے وجود میں دوڑ گئی تھی اسی وقت شجاع کی کروائی ارینجمنٹس کے مطابق سرخ پھولوں کی بارش دونوں پر ہوئی
بالاج نے مضبوطی سے انابیہ کو تھام کر اپنے ساتھ کھڑا کیا اس کے ہاتھ کو ہنوز تھام رکھا تھا کہ کہیں وہ گڑ نہ جائے
انابیہ بھی اپنا ہاتھ غیر ارادی طور پر بالاج کے بازو کے گرد باندھ گئی
تقریب کو زیادہ لمبا نہیں کھینچا گیا
سلامی کے بعد کھانے کا دور چلا
اس پورے عرصے میں بالاج نے انابیہ سے کوئی بات نہیں کی جس وجہ سے وہ جہاں کافی حد تک پرسکون ہوگئی تھی بالاج کی خاموشی نے ان دیکھی بے چینی کا شکار بھی کیا
کچھ دیر بعد بالاج نے جانے حیا سے کیا کہا تھا جو واپس انابیہ کے پاس آکر اس کا ہاتھ تھامے اسے کھڑا کیا
اتنے میں شجاع بھی قرآن پاک انابیہ کے سر پر سائے کی طرح کئیے ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا
یک دم ہی انابیہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے یعنی اس کی رخصتی کا وقت ہو چلا تھا
انابیہ حیا کے گلے لگ رونے لگی یہاں تک کہ حیا بھی آبدیدہ ہوگئی
“چندہ میری جان رو تو نہیں گھر ہی چل رہی ہو ہمارے ساتھ “
صفا نے آنسو ضبط سے روک کر انابیہ کا چہرہ ٹشو سے صاف کیا
‘میری جان جاؤ گاڑی میں بیٹھو ہم لوگ بھی گھر ہی آرہے ہیں آپ لوگوں کے پاس “
حیا نے تھوڑی سے انابیہ کا چہرہ پکڑ کر کہا جو اسبات میں سر ہلا کر فرنٹ سیٹ پر گاڑی میں بالاج کے پاس ٹک گئی
مہمانوں نے انابیہ اور بالاج کو ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا
کچھ دیر بعد مہمان بھی اجازت لیتے وہاں سے چلے گئے
اب وہاں پر حیا صفا اور شجاع موجود تھے
کیونکہ حیا اور صفا کو چھوڑنے کی زمہ داری شجاع کی تھی اس لیے وہ ان کا انتظار کر رہا تھا
_______
بالاج سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ انابیہ تیسرا ٹشو پیپر گاڑی کا شیشہ نیچے کئیے باہر پھینک چکی تھی
انابیہ کی سسکیوں پر بالاج کی بس ہوئی
“اب ایک بھی آنسو نکلا انابیہ بالاج خان تو ۔۔۔۔!!”
بالاج ضبط نے سے بولتے بولتے انابیہ کی طرف چہرہ موڑا اگلے الفاظ کہیں کھو ہی گئے سیاہ آنکھوں میں رونے بے باعث دوڑتے سرخ ڈورے آنکھوں سے مٹا مٹا میک اپ “وہ قیامت لگ رہی تھی” گال بھی سرخ ہوچکے تھے
بالاج نے دھیان ڈرائونگ کی طرف لگایا ” یہ لڑکی لاپراہ تھی خود سے بھی اور اپنی حشر سامانیوں سے بھی _”
بالاج کے ادھورے جملے کا یہ اثر ہوا تھا کہ انابیہ نے آنسو ضبط کر لیئے تھے
تقریباً پندرہ منٹ بعد گاڑی رکی
انابیہ پوچھنا چاہتی تھی کہ یہ تو ہمارا گھر نہیں ہے مگر ناراضگی کے باعث خاموش رہ گئی
بالاج نے گاڑی سے نکل کر انابیہ کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اس کی جانب ہاتھ بڑھایا
مگر وہ کمال بے نیازی سے اس کا ہاتھ نظر انداز کئیے خود ہی باہر نکل آئی
اففف یہ ادائیں
بالاج خان نے دل سنبھالا
یہ بہت خوبصورت سا گھر تھا بالکل سفید تھا ارد گرد خالے پلاٹ تھے دور دور تک کوئی گھر پاس نہیں تھا
انابیہ نے قدم مین گیٹ کی جانب بڑھائے مگر میکسی کے بڑے سارے گھیرے کی وجہ سے اس کی ہیل اٹکی اس سے پہلے وہ گڑتی بالاج نے اسے تھام لیا
“بالاج خان تمہیں سنبھالے یاں یہ دل “بالاج نے دلشکن سی سرگوشی کی
“رخصت کروا کر لائیں ہیں تو فرض بنتا ہے پہلے مجھے
سنبھالیں “
انابیہ بھی اسی کے سہارے گردن اکڑا کر مان سے بولی
“ایسے تو معاملہ بہت جان لیوا ہو جائے گا انابیہ خان”
بالاج نے اس کی نرم ہتھیلی ہو ہاتھ میں بھر کر پھولوں کی بنی روش میں قدم رکھا
انابیہ اپنے پیروں کی مدد سے ہی ہیل اتار چکی تھی
گلاب کی ٹھنڈی پتیوں پر پاؤں دھرتے ہی اس کے دل تک سکون بڑھ گیا
“سالگرہ مبارک ہو انابیہ بالاج خان”
اسے مسرور سا آنکھیں موندیں کھوئے دیکھ بالاج نے سرگوشیانہ انداز میں اس کے کانوں میں رس گھول کر سامنے کی جانب اشارہ کیا
جہاں ایک ٹیبل کے گرد موجود دو چئیروں کو آمنے سامنے لگایا گیا تھا بھیچ میں پڑا انابیہ کا فیورٹ چاکلیٹ کیک اور اوپر سجی ایک جلتی کینڈل
انابیہ کی بھگتی آنکھوں پر بالاج نے پہلے تنبیہہ اشارہ کیا پر وہ روک نہیں پائی نہ آنسوؤں کو نہ خود کو بالاج میں سمانے کو
بالاج پورے دل سے مسکرایا
یار جلدی کیک کاٹ لو انا تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں تمہارے لاج نے بالاج نے شرارتی انداز میں اس کا گال کھینچ کر کہا
جو ایک دم ہوش میں آکر تھوڑا فاصلہ قائم کر گئی تھی
“دس سال بہت نہیں تھے ہمارے بیچ فاصلوں کو قائم رکھنے کے لیے”
بالاج نے اس اجتناب پر ناگواری کا اظہار کرتے اسے قریب کیا
انابیہ مسکرا دی
“ان سالوں کا حساب تو آپ کو دینا ہی پڑے گا بالاج ایسے معافی نہیں ملے گی “
“میں تو حساب دے دوں لیکن تم شرما۔۔۔”
“لاج” انابیہ نے باقی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
“شکر ہے تم لاج بولی نہیں تو مجھے لگا میں غلط بندی کو لے آیا ہو” بالاج نے لب دبا کر اس ے سرخی مائل چہرے کو دیکھا
“بندی ؟؟!!” آپ کے نصیب میں صحیح غلط بندہ بندی جو بھی ہو صرف انابیہ بالاج ہی لکھی گئی ہے”
اس کی واس کورٹ کو مٹھیوں میں لیے جس شدت سے بولی تھی
بالاج کو بے حدّ پیاری لگی تھی
“بالاج انابیہ کا ہی ہے بیوی کل بھی آج بھی اور آنے والے کل بھی”
“ہممم ۔۔۔۔یہ کی نہ اچھے شوہروں والی بات “
انابیہ نے مٹھیوں میں دبوچے کورٹ کو سہی کرکے اس پر سے نادیدہ گرد کو جھاڑا
“شوہروں والی بات تو اور بھی بہت ہیں ” زومعنی جملہ بولتے انابیہ کی سانسوں کو خشک کرنے پر تلا تھا
“کیک ۔۔۔۔ کیک کاٹ لیں نہیں تو ٹھنڈا ہو جائے گا “
وہ جلد بازی میں جو منہ میں آیا بول گئی
بالاج کا قہقہہ بے ساختہ تھا
“لاج ” اب اس کا انداز واقع خفا ہونے والا تھا بالاج نے ہاتھ اٹھا لئیے
کیک کاٹنے کے بعد انابیہ نے بالاج کو اور بالاج نے انابیہ کو کیک کھلایا
“میرا گفٹ؟؟” انابیہ نے اپنی ہتھیلی بالاج کے سامنے کی
بالاج نے وہ ہتھیلی تھام لی
جس پر آج بالاج کے نام کے ساتھ انابیہ بھی لکھا ہوا تھا
بالاج نے اس ہتھیلی کو انگلیوں سے چھو لیا
انابیہ جھجھکی مگر اس بار ہاتھ نہیں چھڑایا
بالاج نے ہتھیلی سے ہی کھینچ کر انابیہ کو قریب کیا اور اوپر کھلے آسمان کی جانب اس کا دھیان کروایا جہاں پر آتش بازی میں اس کا بالاج کا نام اکھٹا لکھا آرہا تھا
سب بے حد مسرور کن تھا
ایک دم اندھیرا ہوگیا سفید گھر کی لائٹیں بھی بھج گئی اور آسمان کی آتش بازی بھی رک گئی
“لاج ” انابیہ نے خوف سے بالاج کو پکارا
جب لان میں دل کے شیپ میں ایک کے بعد ایک موم بتی جلتی گئی جس میں بالاج اور انابیہ کا نام لکھا تھا ابھی وہ اسی میں کھوئی ہوئی تھی آسمان سے بارش کی ماند سرخ گلاب برسنے لگے
ڈم لائٹس اون ہوگئی تھیں پیانو کی آواز وہ قریب سے سن سکتی تھی بالاج بالکل اس کے پیچھے ان کھڑا ہوا تھا
“مجھے امید نہیں تھی میری خواہش یوں پوری ہوگی “
وہ اِرد گرد کے ماحول کی خوبصورتی میں کھوئی خواب ناک لہجے میں بولی
“تم اپنے لاج کا کُل اثاثہ ہو انا”
“تمہاری تمام خواہشات کو پورا کرنا مجھ پر دس سال قبل سے ہی فرض کردیا گیا تھا “
اُسے اُس کی اہمیت جتاتا ایک دفعہ پھر سے معتبر کرگیا
انابیہ نے اپنی دونوں ہاتھوں کی گرفت اس کی قمیض کے کارلر پر مضبوط کی بالاج کی آنکھیں مسکرائی
ایک آخری چیز تھی جو ابھی ہونا باقی تھی بالاج نے اپنی پیروں کو گھمانا شروع کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں کھلائی ہواؤں میں مست سے گھومتے گئے انابیہ نے اپنا چہرہ اس کے شانے اور گردن کے درمیاں میں ٹکا لیا اور خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا آزاد ہواؤں میں اپنے لاج کے سنگ
_________
شجاع حیا اور صفا کو چھوڑنے کے بعد ایک آخری نظر بالاج کے کمرے میں مار کر نکلا سارا انتظام ان کے مطابق ہی ہوا تھا وہ پرسکون ہوا
واپسی پر اسے کچن میں کھڑی صفا نظر آئی جو فراک میں ہی کچن میں غالب چائے بنانے آئی تھی
“اہم ۔۔۔ “شجاع نے کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا
“آپ چائے لیں گے؟” صفا نے مرواتاً اس سے پوچھ لیا
“آپ اسی حلیے میں چائے بنا رہی ہیں” شجاع پوچھ ہی بیٹھا
“جی دراصل ملازمہ ابھی گئی ہیں کواٹر. ساری تھکی ہوئی تھی تو میں نے انہیں ڈسٹرب نہیں کیا “
“ویسے بھی ایک کپ چائے کی تو بات ہے “
“آپ لیں گے چائے ؟”
شجاع کے دل میں اس کے لیے پیار اور بڑھ گیا جو لڑکی ملازموں کو اتنا دھیان رکھتی ہے وہ دل کی کتنی اچھی ہو گی
شجاع کے دل نے کہا
“آپ نے اپنی نظر اتاری “
شجاع بے دھیانی میں دل میں آئی بات بول گیا
“جی ؟؟؟”
‘وہ میرا مطلب تھا خوبصورت لوگوں کو نظر لگ جاتی ہے آپ نے اپنی نظر اتار لینی تھی “
“افف شجاع کیا بول رہے ہو “
اس نے دل میں ہی خود کو ملامت کی
“وہاں پر سب اپنے ہی تھے کوئی نظر لگانے والا تھا نہیں اگر آپ نے لگادی تو اس کا پتا کوئی نہیں “
صفا نے صاف اس کے منہ پر ہی کہہ دیا
“محبت کرنے والوں کی نظر نہیں لگتی ” شجاع نے دھیرے سے کہا
“کیا کہا ؟”
“آہ ۔۔۔نہیں کچھ نہیں آپ بھی چائے پی کر ریسٹ کریں تھکی ہوئی ہوں گی “
شجاع نصیحت کرکے وہاں سے چلا گیا پیچھے صفا حیران سی وہی کھڑی رہ گئی
“صفا محبت کرنے والوں کی نظر نہیں لگتی “
عون کی سرگوشی ارد گرد پھیلی اسے بے چین کر گئی
_______
عیشاء کے وقت کچھ ٹائم باہر گزار کر بالاج انابیہ کو گھر لے آیا جہاں حیا کو دیکھ کر ایک بار پھر سے انابیہ رونے کا سیشن پورا کرتی اس سے پہلے ہی بالاج رسم وغیرہ کو تھکاوٹ کا کہہ کر ڈیلے کرواتا انابیہ کو لے کر اوپر بڑھا
“بھائی میرا نیگ ؟؟”
صفا ان کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی بالاج کی طرف دیکھ کر بولی
“مطلب تم دونوں بھابھی نند نے آج مجھے غریب کرکے ہی
ماننا ہے “
اللہ اللہ بالاج آپ طعنے دیں گے ہمیں انابیہ نے دکھی ہیروئن کی طرح سر پر ہاتھ ٹکایا
“یہ لو بھائی کی جان اور راستہ چھوڑ دو تمہاری چندہ آج پوری نوٹنکی بنی ہوئی ہے یہ نا ہو ادھر بیٹھ کر دھائیاں دینے لگ جائے “
بالاج نے خوبصورت سی چین صفا کی جانب بڑھا کر اس سے کہا
جو ہنستے ہنستے سائیڈ پر ہٹ گئی
“لاج آپ میرا مزاق …!!”
بالاج نے انابیہ کی بات ہی نہ پوری ہونے دی اسے اندھر کھینچ کر دروازہ بند کیا
“اچھا کیا کہہ رہی تھی باہر “
بالاج نے اس پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کرکے انابیہ کو گھورا
جو باہر شیر بن رہی تھی اب بلی کی طرح میاؤں کرکے رہ گئی
“لاج ” انابیہ نے اسے پکارا
بالاج بھی اس کی جانب متوجہ ہوا گرفت ہلکی ہوئی
انابیہ فائدہ اٹھاتی واشروم بھاگ گئی
“انا “
مگر اندر سے انابیہ کے قہقہے سنائی دئیے
بالاج بھی مسکراتا ہوا دروازے سے ٹیک لگا گیا ۔۔۔
“باہر نکل رہی ہو کہ نہیں ؟”
مگر دوسری جانب خاموشی تھی
“لاج یہ بال اٹک گئے ” تھوڑی دیر بعد انابیہ کی روہانسی آواز پر بالاج مٹھی کو ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔۔
