Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 20)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 20)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“آپ ۔۔آپ کا نام بھی لکھوایا ہے “انابیہ جھجھکی سی ایک دم یاد آنے پر پرجوشی سے بولی
“صرف میرا نام ۔۔۔” “بالاج کا نام بھی اپنی انا کے بغیر ادھورا لگتا ہے”
انابیہ سمجھ نہ سکی وہ شخص اسے اِس وقت پیارا لگ رہا ہے یاں وہ ہمیشہ سے ہی یوں ہی اس کا دل دھڑکانے کی حد تک پیارا تھا
یہ کیا ہوا ہے ایک دم ہی بالاج کی نظر سرخ نشان پر پڑی تو یک بعد دوسری تیوڑی اس کے ماتھے پر آئی
انابیہ آنکھیں مینچ گئی ۔۔۔
انابیہ غلطی کرکے آنکھیں مت مینچا کریں
بالاج نے انگوٹھے کو اس کی دائیں آنکھ کی بند پلکوں سے مِس کیا
انابیہ دل کی شدت پکڑتی دھڑکنوں پر بے حال ہوتی آنکھیں واہ کر گئی بالاج اسے سہارے سے کھڑا کئیے واش روم کی جانب لے جانے لگا انابیہ نے بھی اگر بالاج کو تھاما نہ ہوتا تو اپنی بے حال ہوتی طبیعت پر خود ہی زمین بوس ہوجاتی
سکھ کر پاپڑ مانند ہوئی مہندی کو نرمی سے اس کی ہتھیلیوں کلایوں اور پھر بازوؤں سے صاف کرتا اس کے زخم پر بھی نرمی سے ہاتھ پھیر رہا تھا
جبکہ انابیہ کا دھیان تو مہندی پر اب رہ ہی نہیں گیا تھا وہ حد درجہ اپنے شانے سے مس ہوتا بالاج کا مضبوط شانہ نظروں میں مرکوز کئیے رکھی تھی نہ اُس میں شانے سے اوپر دیکھنے کی ہمت تھی نہ ہی اپنے ہاتھوں میں جابجا بکھرتے بالاج کی انگلیوں کے لمس کو سہنے کی
اگر وہ اپنے سفید ہاتھوں پر کھلتے مہندی کے حد درجہ سرخ رنگ کو دیکھ لیتی تو اس سے کوئی بعید نہیں کہ وہ سب بھلائے خوشی سے اچھل پڑتی
واشروم کے دروازے کے پیچھے لٹکے تولیے سے اس کے ہاتھ بازوں کو خشک کرکے یوں ہی سہارے سنگ وہ انابیہ کو باہر لایا
بیڈ پر بیٹھانے کے بعد سائیڈ دراز سے اوئنٹمنٹ نکال کر زرا سی کریم اپنی انگلی کی پور پر نکالی اور کلائی کے سرخ حصے پر پھونک ماری کر لگانے لگا اس سارے عرصے میں انابیہ نے ایک دفعہ بھی نہ تو اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور نہ ہی بالاج کے چہرے کو اس کی نظریں یاں تو بالاج کے شانوں پر تھی یاں اس کے ہالف سلیو شرٹ سے جھلکتے مضبوط بائی سیپ والے بازوؤں پر
“اتنی بے دھیانی کیوں۔۔۔؟؟ “
اپنے کام سے فارغ ہوکر بالاج نے کھوئی ہوئی انابیہ کو پکارا
جس نے چونک کر براہ راست بالاج کی آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی کرلی
“کچھ لگایا کیوں نہیں زخم پر ؟؟”
بالاج نے پھر سے سوال کیا
سد شکر بالاج نے زخم لگنے کی وجہ نہیں پوچھ لی تھی
“کچھ لگانے کے لیے ہاتھ دھونے پڑتے اس لیے نہیں لگایا “
انابیہ نے شکر کا سانس لے کر اونٹمنٹ نہ لگانے کی وجہ بتائی
“تو دھوتی نہ ہاتھ آنا “
بالاج نے اس کی لاپرواہی پر تاسف سے کہا
“ہاتھ جلدی دھو لیتی تو گہرا رنگ کیسے آتا لاج “
اب کی باری روہانسا ہو کر کہا انداز بات یہی پر ختم کرنے والا تھا
“بہت لاپراہ اور بے دھیان ہو تم آنا اپنے معاملے میں لیکن فکر مت کرو کل جب تم پوری طرح میری دسترس میں آجاؤ گی تو میں خود ہی تمہارا دھیان رکھ لوں گا”
“کل ۔۔؟؟!!”
آ”ج کے لیے اِتنا جاننا کافی ہے انابیہ بالاج باقی باتیں کل ہوں گی فرصت سے تب تک دھیان رکھنا اور یہ یاد رکھنا بالاج خان کی اپنی انا سے محبت بتانے کو مہندی کا گاڑھا رنگ محتاج نہیں “
“کل جب مجھے ملو تو بالاج کے ساتھ آنا لکھا بھی ملنا چاہیے”
مہندی کے ڈیزائن میں چھپا کر لکھے اپنے نام پر انگلی رکھے وہ ایک جھٹکا اس کے حواسوں پر دے کر وہاں سے چلا گیا
“اللہ اللہ انابیہ تم کیسے برداشت کرو گی بالاج خان کو دل نے شریر سی سرگوشی کی “
جس پر اس نے خفگی اور کچھ جھینپ پر بھاپ اڑاتے چہرے پر اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو رکھا
________
“ویسے کیا تحفہ لیا آپ نے حدیقہ ؟؟”
“ہم پرفیوم وغیرہ کی سمجھ نہیں آئی تھی تو میں نے جیولری لے لی ” حدیقہ شاہ نے حیرانگی سے نکلتے ہوئے بتایا حیرانگی کی وجہ سے ابراہیم کا بار بار گفٹ کے متعلق پوچھنا تھا
“اچھا صحیح”
ابراہیم شاہ نے سر جھٹکا ہو سکتا ہے امپورٹڈ کلیکشن ہو تبھی اتنی ایکپینسیو ہو نہیں تو حدیقہ شاہ کو فضول خرچی ابراہیم شاہ سے بھی زیادہ بری لگتی تھی
________
ہیلو ابراہیم کیسے ہو ہیلو بھابھی
مسٹر اینڈ مسز ثرمد نے ابراہیم اور حدیقہ شاہ کو رسیو کیا تھا ویسے بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ان کے بننے والے رشتے کی وجہ سے ابراہیم شاہ انہیں زیادہ خاص تھے
“ہیلو انکل “رومیسہ بھی لائم لائٹ بٹورتی ان کے پاس آئی
“ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ ؟؟!”
رومیسہ حدیقہ شاہ سے گلے ملتی مسکرا کر بولی
“میں ٹھیک سویٹی ہیپی برتھڈے” حدیقہ شاہ نے پھولوں کا بکے ساتھ تحفہ رومیسہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا
“اوو تھینک یو سو مچ آنٹی “
“عون نہیں آیا کیا آپ لوگوں کے ساتھ ؟؟”
رومیسہ نے گفٹ پکڑتے ہی بے تابی سے پوچھا
اس کی بے تابی پر حدیقہ شاہ ابراہیم شاہ کو دیکھ کر رہ گئی
“نہیں ڈئیر اسے ضروری کام تھا اس لیے وہ آ نہیں سکا “
او اچھا رومیسہ کا لٹکا چہرہ دیکھ کر حدیقہ شاہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوئی
“آیا نہیں تمہارا دوست عون شاہ ؟؟”
ریحان نے طنزیہ مسکراہٹ رومیسہ کی جانب اچھال کر پوچھا
“نہیں اسے کوئی ضروری کام تھا اس لیے نہیں آیا !”
“تمہاری برتھڈے سے بھی زیادہ ضروری رومی ؟”
نہیں ہر گز نہیں وہ یقیناً کہیں پھسا ہو گا نہیں تو صبح یونیورسٹی میں اس نے مجھے نہ صرف وش کیا بلکہ سب سے ایکپینسیو اور پریشئیس گفٹ بھی دیا
رومیسہ نے اپنی کلائی کی زینت بنا بریسلٹ ریحان کو دیکھایا
کچھ فاصلے پر کھڑے ابراہیم شاہ کے ماتھے پر تیوڑی پڑی
“بابا آج میرا امپورٹنٹ لیکچر ہے “
“میرے دوست کی بیٹی کی برتھڈے ہے چلو گے ؟؟!”
“نو ڈیڈ میرے پییرز ہیں آگے میں بہت بزی ہوں “
“تو یہ تھا عون کا امپورٹنٹ لیکچر ؟!” ابراہیم سوچ میں محو تھے جب ثرمد کے بلانے پر اس کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔
_______
اگلی صبح جتنی روشن اور خوش کن تھی اس سے کہیں زیادہ مصروف بھی تھی بالاج ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ قبرستان چلا گیا شجاع بھی صبح کا خان ہاؤس میں ہی موجود تھا
خان ہاؤس اس وقت روشنیوں سے منور ہوا پڑا تھا
حیا کا ڈریس بھی رات کو ہی بالاج نے اسے دے دیا تھا اب وہ مکمل تیار کھڑی کبھی شجاع سے فارم ہاؤس کی ارینجمنٹس کی خبر لیتی تو کبھی بالاج کے کمرے کا نیو فرنیچر سیٹ کرتے لڑکوں پر بھڑکی جو تاخیر کرتے جارہے تھے
ابھی کمرہ سجانا بھی تھا گو کہ بالاج کے کمرے کا فرنیچر پرانہ نہیں تھا مگر حیا کی خواہش تھی کہ جیسے ہر ماں اپنی بیٹی کے لیے سب کچھ نیا دے کر اسے رخصت کرتی ہے وہ بھی انابیہ کو اسی طرح رخصت کروا کر لائے ۔۔۔
_______
“السلام علیکم شجاع بیٹا فارم ہاؤس کی تیاری مکمل ہے کیٹرنگ کا انتظام بیٹا آپ نے دیکھنا تھا “
“جی جی آنٹی بے فکر رہیں سب تیار ہے میں نے مولوی صاحب کو بھی لینے بھیج دیا ہے عصر کے فوراً بعد نکاح سٹارٹ ہو جائے گا آپ لوگ پہنچیں ادھر گیسٹ آنا بھی شروع ہوجائیں گے تھوڑی دیر میں “
“جی جی ہم بھی نکلنے لگے ہیں “
“بالاج آپ کے پاس ہے ؟؟”
“جی آنٹی ادھر ہی ہے میں دیکھتا ہوں “
_______
ناشتے کی ٹیبل پر حدیقہ شاہ اور ابرہیم شاہ بیٹھے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جاوید شاہ اپنے دوست کے ساتھ لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب عون نک سک سا تیار ٹیبل کے قریب آیا
“گڈ مارننگ ممی “
“اوہو! سلام کرنے پر ٹیکس آتا ہے عون ابراہیم؟”
ابراہیم شاہ نے نیوز پیپر فولڈ کرکے عون کو ٹوکتے ہوئے کہا
“مجھے معلوم ہے آپ کا بیٹا ہوں پورا نام لینا ضروری ہے ڈیڈ “
سوال گندم جواب چنا کے مترادف آیا
“السلام علیکم عون “
حدیقہ شاہ نے لفظوں کو دبا کر کہا
“وعلیکم السلام سویٹ ڈارلنگ”
عون انہی کے پاس ٹک گیا
“آج خیریت امپورٹنٹ کلاس نہیں ہے عون شاہ کی؟”
امپورٹنٹ کلاس پر عون کو پھر سے صفا کی یاد آئی وہ سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا
“ابرہیم چائے دوں “حدیقہ شاہ نے پس پردہ ابراہیم شاہ کو ٹوکا
ہاں ضرور حدی وہ” پانچ لاکھ “والا جو آپ نے پورچ سیٹ اٹلی سے منگوایا تھا اس میں ڈال کر دیں چائے
ابراہیم شاہ نے پانچ “لاکھ” کو خاصا دبا کر کہا
تو جوس کا گلاس منہ کو لگائے عون کو ٹھسکا لگا
عون حدیقہ شاہ نے ہڑبڑا کر عون کی پیٹھ سہلائی
ویسے حدیقہ کتنے کا گفت دیا تھا آپ نے ثرمد کی بیٹی “رومیسہ ثرمد” کو
پھر سے “رومیسہ ثرمد “خصوصاً عون کو سنانے کے لیے کہا تھا
“موم آپ کے ہسبنڈ آپ سے پیسوں کا حساب لے رہے ہیں یہ گناہ میں اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا نہیں دیکھ سکتا میں جا رہا ہوں”
عون نے خطرے کی گھنٹی بجنے پر وہاں سے نکلنے پر پر تولے
“بیٹھے رہو ادھر ہی عون ابراہیم “
ابراہیم شاہ کے لہجے میں تنبیہہ تھی
عون کو چارو ناچار بیٹھنا ہی پڑا
“ابراہیم کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ مجھ سے اتنی دفعہ گفٹ کا پوچھ چکے ہیں آپ کو یقین نہیں ہے مجھ پر میں نے اچھا ہی تحفہ دیا ہے آپ کے دوست کی بیٹی کو “
حدیقہ نے ناراضگی سے کہا
“بس دیکھ لیں مما آئندہ یہ کام آپ بابا پر ہی چھوڑ دینا “
عون نے بات کو گھماتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا اگر حدیقہ شاہ ابراہیم شاہ سے ناراض ہوجاتی تو ابراہیم شاہ پیسے والی بات کو بھاڑ میں جھونک کر انہیں منانے پر لگ جاتے
“ہمم ٹھیک کہہ رہے ہو عون “
“نہیں میری جان مجھے آپ پر شک نہیں ہے آپ نے یقیناً اچھی چیز ہی دی ہو گی اور ویسے بھی اگر آپ کا دیا گفٹ نہ بھی پسند آیا رومیسہ ثرمد کو تو آپ کے بیٹے کا دیا گفٹ ضرور پسند آئے گا “
ایک دفعہ پھر عون کو کھانسی کا دوڑا پڑا مگر اس بار عون کی پیٹھ سہلانے کی بجائے حدیقہ شاہ اسے گھورنے لگی
ساڑھے پانچ لاکھ روپے کٹے ہیں میرے اکاوئنٹ سے اپنے سپوت کو کہیں بڑی محنت سے کماتا ہے آپ کا شوہر اس لیے نہیں کہ یہ لارڈ صاحب اپنی دوستوں کے گفٹوں پر اڑاتے پھریں
“آپ نہیں چاہتے میں ساتھ ناشتہ کروں تو بتا دیا کریں “
عون نے منہ بنا کر اٹھنا چاہا
واپس بیٹھ جائیں عون ابراہیم”
“اس بار حدیقہ شاہ کے لہجے میں سختی تھی
“اپنی غلطی کو ایکسپلین کئیے بغیر بات کو خفگی میں اڑا کر نہیں جاسکتے ہیں آپ “
“موم” ایکچولی
“عون اگر ابراہیم مجھ سے نہیں پوچھتے پیسے کی بابت تو اس کا مطلب آپ اس بات کا فائدہ اٹھاؤ گے ؟”
“سوری موم “
“گفٹ دینا بری بات نہیں ہے مگر اپنی جیب سے دو تو اور بھی اچھا ہے “
ابراہیم شاہ بھی عون کو خاموش نہیں دیکھ پائے اس لیے ہلکے پھلکے انداز میں بولے
مگر خاموشی لمبی ہوگئی
“اچھا بھائی اب اپنے سپوت سے خفا مت ہوں میرے اکیلے کا خون کافی ہے اسے جلانے کے لیے “
“کیوں عون ابراہیم شاہ ۔۔۔!! “
ابراہیم شاہ جاتے ہوئے عون کے بال بگاڑنا نہ بھولے
آج بڑے عرصے بعد ابراہیم شاہ نے وہ بچپن والی حرکت کی تھی عون کے ساتھ وہ خود کو مسکرانے سے روک نہیں پایا
“لیکن سیریسلی عون پانچ لاکھ کا گفٹ” حدیقہ شاہ نے بے یقینی ظاہر کی
“موم وہ میں نے ایسے ہی پسند کرلیا تھا انٹینشنلی ایسا کچھ نہیں چاہا تھا وہ تو اس کا سوچتے ہی لے لیا “
بے دھیانی میں وہ اپنی فیلینگس بتا گیا
“کیا تمہیں اتنی پسند ہے وہ رومیسہ ثرمد جسے تصور کرتے ہی تم نے وہ گفٹ لے لیا “
حدیقہ شاہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“نہیں مما وہ اس رومیسہ کے لیے نہیں تھا یار وہ تو بس میری قسمت خراب تھی اس وقت جو رومیسہ کو دینا پڑگیا “
“شکر ہے عون مجھے بھی وہ زرا پسند نہیں آئی ویسے کون ہے وہ لڑکی جس کا تصور کرتے ہی دی عون شاہ بے حواس ہوگئے “
حدیقہ شاہ نے شریر لہجے میں کہا
“مام “
“او مائی گاڈ عون تم بلش کر رہے ہو ہاہاہا”
“ابراہیم تمہیں ایسے دیکھیں تو آج ہی اس لڑکی کی شادی تم سے کروا کر وہ لڑکی گھر لے آئیں “
“اتنے سال تم نے مجھے اور ابراہیم کو جو تنگ کیا ہے نہ گن گن کے بدلے لیں گے وہ “
حدیقہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہوا
“مام ” عون مسکاتا خفا ہوتا وہاں سے غائب ہوا
_______
“او ہاں میک اپ آرٹسٹ بھی صبح کی آئی ہوئی ہے “
حیا نے سر پر ہاتھ رکھا اس سے تو کچھ کھانے پینے کا پوچھ ہی نہیں سکی وہ
“صفا صفا۔۔!! “صفا کو فراک تھامے عجلت میں باہر آتے دیکھ حیا صاحبہ نے پکارا
“مما میں آپ کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔!!”
“میں بھی ادھر ہی آرہی تھی تم بتاؤ میک اپ آرٹسٹ کو کھانے پینے کا پوچھا میں اتنی بزی تھی پوچھ ہی نہیں سکی میڈ بھی ساری گھن چکر بنی ہوئی ہیں “
حیا نے تھکاوٹ آمیز لہجے میں کہا
“جی جی مما چائے جوس اور ہلکا ہلکا پھلکا کھانے کو لے آئی تھی فائزہ ابھی آپ چلیں چندہ رو رہی ہے “
“کیوں کیا ہوا بیا کو ؟؟”
“بیا میری جان کیا ہوا ہے ؟؟”
“مما “انابیہ حیا کو سامنے پا کر ہچکیوں میں رونے لگی
جس پر حیا ، صفا سمیت میک اپ آرٹسٹ بھی بوکھلا گئی میم پلیز مت روئیں آپ کا میک اپ خراب ہو جائے گا
“چندہ پلیز مت رو” صفا بھی روہانسا ہوکر بولی
“میری جان رو کیوں رہی ہو آپ نے کہاں جانا ہے اپنی مما کے پاس ہی تو آنا ہے “
حیا نے انابیہ کے آنسو پونچھتے ہوئے محبت سے کہا
“مم۔ما ۔۔بب۔با” انابیہ کی سسکی نکلی
حیا نے اسے اپنی آغوش میں لیا
“اس حالت میں جاؤ گی اپنے لاج کے پاس روتی آنکھوں سے”
حیا نے پیار سے دھیمی آواز میں کہا
تو انابیہ روتے روتے جھینپ گئی
“آپ زرا اس کا میک اپ ٹھیک کردیں “
جی میم میک اپ آرٹسٹ انابیہ کا میک اپ ٹچ آپ کرنے کرنے میں مصروف ہوگئی
صفا آپ کے چندہ کے تیار ہوتے ہی مجھے کال کرنا میں نغمہ سے صدقے والے بکروں کا پوچھ لوں ابھی شجاع بھی لینے آجائے گا ہم نےاس کے ساتھ جانا ہے زرا جلدی مہمانوں کے آنے سے پہلے “
“جی مما “
______
سلیقے سے سیٹ کئیے بالوں پر ایک دفعہ پھر سے ہاتھ چلایا سیاہ رنگ کی شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ کٹ دانا ورک کے ساتھ ویس کورٹ پہنے اپنے کف کو کہنیوں تک فولڈ کئیے وہ دائیں کلائی میں گھڑی پہنتا ہوا فارم ہاؤس کے وسیع و عریض لاون میں آیا جہاں نکاح کا انتظام کیا گیا تھا
اردگرد ہوتے انتظامات کو دیکھ کر بالاج کی سبز آنکھیں روشن ہوئی
” لاج “
اردگرد ہوتی محسوس ہوتی انا کی سرگوشی کو دل سے محسوس کرتا وہ اس پل کو کھویا
شجاع کی نظر جیسے ہی بالاج پر پڑی وہ بے ساختہ مسکرا اٹھا
“شہزادہ لگ رہا ہے میرا یار “
شجاع اس کے بغلگیر ہوتے بولا
بالاج کی دائیں گال کا بھنور اپنی جھپ دکھا کر غائب ہوا
“اچھا تو دیکھ لے باقی کا سب سیٹ ہے میں تب تک اپنے شہزادے کی شہزادی کو اس تک پہنچانے کا انتظام کرلوں “
شجاع آنکھ دباتا دو انگلیوں کو کنپٹی سے مس کرکے وہاں سے نکل گیا
بالاج نے آسمان کی جانب دیکھ کر گہرا سانس لیا
جب پہلی بار اس کا اور انابیہ کا نکاح ہوا تھا تب وہ دونوں ہاسپٹل میں موجود تھے سب اناً فاناً ہوا تھا اس وقت بالاج کو یہ بھی نہیں معلوم تھا ہڑبڑی میں ہوئے نکاح کا انجام کیا ہوگا مگر آج اسے اپنی انا سے محبت تھی بے حد محبت جس کی بھلائی کی خاطر وہ اپنی ماں بہن حتیٰ کہ اسے چھوڑ چھاڑ کر دو سال ان سے دور رہا ان کے لیے خود کو قابل بنایا
تو آج اسے انعام مل جائے گا “انابیہ خان” کی صورت میں
________
شجاع ابھی تھوڑی دیر پہلے انھیں فارم ہاؤس چھوڑ کر گیا تھا
شجاع کی بے لگام نظروں پر صفا خائف سی ہوئی اس دن ڈرائنگ روم میں موجود شجاع اور اس کے والدین کی باتیں سن کر وہ شجاع سے بچتی پھر رہی تھی جو آج نا ممکن تھا
جانے کیوں شجاع کے سامنے آتے ہی وہ ان کمفرٹیبل ہوجاتی تھی
صفا انابیہ کو لیئے اندر بڑھ گئی
انابیہ صفا کے ساتھ فارم کی بیک سائیڈ پر موجود روم میں بیٹھی بوکھلائی ہوئی تھی ہاتھوں پیروں میں جیسے کپکی سی طاری ہوگئی تھی
حیا اس وقت بالاج کو ڈھونڈنے میں مصروف تھی جو جانے کہاں چلا گیا تھا
مولوی صاحب شجاع کے ہمراہ آچکے تھے
مہمان بھی آچکے تھے ۔۔تھے ہی کتنے لوگ شجاع کی فیملی
اور کمال اعوان اور ساتھ جازب اعوان
حیا کی جیسے نظر بالاج پر پڑی انھون نے بے ساختہ ماشاءاللہ کہہ کر کہیں نوٹ اس کے سر پر سے وار کر ملازموں میں بانٹ دئیے تھے
بالاج نے حیا کو گلے لگایا
“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ماما “
“ماشاءاللہ میرا چاند بھی بہت پیارا لگ رہا ہے” حیا کی آواز بھیگی
“آپ روئی تو آپ کی بیا بھی رو دے گی آپ کو دیکھ کر “
بالاج نے ہنس کر کہا
وہ پاگل تو ابھی بھی رو رہی تھی
“بالاج اسے ڈھیر خوشیاں دینا کہ اس کا دامن خوشیوں کے لیے تنگ پر جائے “
“مما میں اس کا بہت دھیان رکھو گا “
“میں اریبہ مما سے کیا وعدہ نبھاؤں گا “
“یہ سب خواب سا ہے غیر یقینی سا “
“ان سب چیزوں کی میں نے کبھی خواہش کی تھی “
_______
مولوی صاحب اندر آرہے ہیں
شجاع کی آواز پر انابیہ نے حیا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما
“انابیہ جہانگیر خان ولد جہانگیر خان آپ کا نکاح بلاج احمد ولد حدید جاوید سے پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟
“انا”
بالاج کی سرگوشی ارد گرد ہوا میں گھلتی ہوئی محسوس ہوئی
“قبول ہے!! “
“انابیہ جہانگیر خان ولد جہانگیر خان آپ کا نکاح بلاج احمد ولد حدید جاوید سے پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟
“بالاج خان کی اپنی انا سے محبت بتانے کو مہندی کا گاڑھا رنگ محتاج نہیں “
“قبول ہے!! “
“انابیہ جہانگیر خان ولد جہانگیر خان آپ کا نکاح بلاج احمد ولد حدید جاوید سے پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟
“کوئی شکوہ کوئی بدگمانی کوئی بات کچھ بھی جو تمہارے دل میں ہو ؟”
“میں تمہیں ایک دفعہ پھر سے اپنے نکاح میں لینے سے پہلے تمہارے دل سے موجود ہر بدگمانی کو مٹا دینا چاہتا ہوں “
“قبول ہے۔۔!!”
آپ ے پورے ہوش و حواس میں اپنی دلی آمدگی کے ساتھ انابیہ جہانگیر نے ایک دفعہ پھر بالاج حدید کو قبول کرکے خود کو اس کی امان میں دے دیا
“بالاج احمد ولد حدید جاوید آپ کا نکاح انابیہ جہانگیر ولد جہانگیر خان سے کیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے ؟”
“بالاج میری بیا کا دھیان رکھنا بچے..اپنی اریبہ مما سے وعدہ کرو اسے رونے نہیں دو گے “
“قبول ہے !”
“آئی ہیٹ یو لاج مجھے چھوڑیں گے تو نہیں ؟؟”
نفرت کا اظہار کرتے ہوئے وہ اپوچھ رہی تھی کہ چھوڑو گے تو نہیں
خوف میں ڈوبی آواز
“قبول ہے ..!”
“بالاج احمد ولد حدید جاوید آپ کا نکاح انابیہ جہانگیر ولد جہانگیر خان سے کیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے ؟”
“لاج۔۔۔ “
“قبول ہے !!”
دونوں طرف مبارک باد کا شور مچا
