212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 2)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

ابھی وہ لائیٹر اٹھا کر مڑی ہی تھی کسی نے پرشدت انداز میں اسے بازو سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگایا اپنے منہ پر بھاری ہتھیلی کی شدت محسوس کئیے اس کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔۔

سیاہ آنکھوں میں پانی کی لکیر سی ابھری

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں ۔۔۔۔۔۔

اک لہر سی ہر دم رہتی ہے۔۔۔۔۔۔

بےساختہ ہی بالاج نے ان پر پھونک مار کر انہیں لرزنے پر مجبور کردیا

انابیہ نے آنکھوں میں حیرانگی لئیے بالاج کی اِس حرکت پر اسے دیکھا ۔۔۔

مگر پھر زیادہ دیر ان آنکھوں میں دیکھ پانا مشکل لگا تو نظریں جھکا گئی

کیا کر رہی تھی اس وقت کچن میں اپنی سرد آنکھیں اس کے خوبصورت سے تنے نقوش والے چہرے پر ڈال کر وہ سرد لہجے میں بولا

انابیہ نے اپنی سیاہ آنکھوں سے ہی دائیں جانب موجود ٹیبل کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔

بالاج نے جب اس کے چہرے کو سانس روکنے کے باعث سرخ ہوتے محسوس کیا تو بے حد نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹایا

جو اپنی بے ترتیب سانسوں کو سنبھالنے کی بجائے سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں وہاں سے دور لگا دی تھی ۔۔۔۔

اس کی سر پٹ دوڑ پر ایک لمحے کو حیران ہوتا سر جھٹک کر ٹیبل پر پڑی اس کی آدھی بچائی نیم گرم کافی کو ایک ہی گھونٹ میں حلق میں اتار گیا مگر کافی میں میٹھاس محسوس کرکے اس کے ماتھے پر ناگواری کے باعث بل پڑے لیکن پھر تھوری دیر پہلے کے منظر کو یاد کرتے پراسرار مسکراہٹ اس کے عنابی لبوں پر چھائی بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہ واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اب شاہد نیند آجانے والی تھی

شاہد ۔۔۔۔۔یقیناً۔۔!!!

________

اڑے رنگ سمیت اپنے کمرے میں گھس کر جلدی سے کنڈی لگائی اور خود کو کمبل میں چھپا لیا جیسے یہ کمبل اسے اس بیسٹ سے بچا لے گا کمبل کو چہرے تک اوڑھے آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی یہ الگ بات تھی کہ ادھر رکنے اور پھر تیز بھاگنے سے سانسیں تو بے ترتیب تھی ہی، دل بھی جیسے منہ میں دھڑک رہا تھا اپنے ہونٹوں اور گالوں پر ابھی بھی بھاری گرفت محسوس کر پارہی تھی جب جھنجھلا کر منہ تکیے میں گھسا کر سونے کی کوشش کرنے لگی

اب حال کچھ یوں تھا کہ اس کمرے کے بالکل اوپر والے کمرے میں بغیر کسی کمبل یاں کمفرٹر کے وہ شاہانہ شخص جو کچھ دیر پہلے اکتاہٹ کا شکار تھا اب پرسکون سا آنکھیں موندیں سو گیا تھا جبکہ ٹھیک اس کے نچلی منزل میں موجود کمرے میں کچھ دیر پہلے پرسکون سے لیٹی شہزادی اب ایک ملاقات میں ہی اتنی

ہڑبڑا چکی تھی کہ حواس اڑ گئے اور نیند آنا مشکل ہوگئی ۔۔۔۔

_______

اگلی صبح خاصی خوشگوار تھی چڑیوں کی چہچہاہٹ مٹی کی سوندھی سوندھی سی خوشبو روح کو سکون پہنچا رہی تھی

صبح وہ پھر ناشتہ کرکے بالاج کے اٹھنے سے پہلے ہی یونیورسٹی بھاگ آئی تھی ۔۔۔یہ الگ بات تھی یونیورسٹی میں کسی بھی کلاس میں اس کا دل نہیں لگ رہا تھا ابھی بھی وہ کمپیوٹر کا لیکچر نہایت غیر دلچسپی سے لے رہی تھی اس کا دھیان کھڑکی سے باہر بادلوں کی جانب تھا آج بھی سورج کے نکلنے کے کوئی چانسز نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔۔

_______

اسلام علیکم!!… بالاج کو ناشتے کی ٹیبل میں آتے دیکھ کر حیا نے چائے کا کھالی کپ ٹیبل میں دھرا ہینکر چیف سے ہاتھ صاف کرکے کھڑی ہوئی

وعلیکم السلام ناشتہ کرتی صفا کے سر پر پیار کرکے ماں کی جانب بڑھ کر ان کے گلے سے لگ کر پھر سربراہی کرسی میں بیٹھا تھا فقط ایک نظر “مخصوص “خالی نشست سے ہوتی واپس اس نے موڑ لی تھی

یہ نشست جب سے وہ یہاں آیا تھا اسے خالی ہی ملی تھی

اوکے مما میں جا رہی ہوں آج ایک امپورٹنٹ لیکچر ہے میرا پھر میں لاء GAT کی تیاری کے لیے کچھ کتابیں لینے بھی جاؤں گی اپنے دوستوں کے ساتھ تو مجھے لیٹ ہو جائے گی

اوکے بھیا اللّٰہ حافظ

اوکے بچہ دھیان سے بالاج نے محبت سے اپنے سے سال چھوٹی بہن کو کہا تھا تھی تو وہ سال ہی چھوٹی مگر اسے اپنا بچہ کہتا تھا اور صفا بھی بالاج کی بہت عزت کرتی تھی

حیا مسکرائی ٹینشن نہ لو میری جان ہوجائے گا اس بار ٹیسٹ پاس بس ٹینشن مت لیا کرو مجھے پورا بھروسہ ہے تم پر

یس موم اور پھر آپ کی طرح ایک کامیاب لائیر بننا ہے مجھے ماں کا گال چوم کر

اللّٰہ حافظ کہہ کر دوڑ لگا گئی ۔۔۔۔

بالاج بیٹا کہی جا رہے ہو ؟؟ حیا نے صفا کے جانے کے بعد پوچھا

جی موم یہاں آفس کا چکر لگاؤں گا میں سوچ رہا ہوں اسلام آباد والی برانچ کو مکمل طور پر میں ہی ہینڈل کروں اب کافی عرصہ دوسروں پر چھوڑا اب وقت آگیا تھوڑا ٹائم ادھر بھی دوں ۔۔۔

صحیح یہ بھی ٹھیک ہے میں بھی تم سے یہ ہی کہنے والی تھی

مگر ابھی اس وقت میں جلدی میں ہوں

حیا جاتے جاتے مڑی

او ہاں بالاج بچے میں بھول ہی گئی بیو کو 2 بجے اس کی یونی سے پک کر لینا بیٹا صفا ابھی بتا کر گئی اس نے دوستوں کے ساتھ جانا ہے تو وہ اپنی ہی گاڑی میں جائے گی اور دوسری گاڑی کی مجھے ضرورت ہے آج ایک امپورٹنٹ ہیرنگ ہے کارٹ میں

اپنا سیاہ رنگ کا کورٹ درست کرتی حیا فائل اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے ہدایات دینے لگی

وہ کچھ ہڑبڑاہٹ کا شکار سی لگی بالاج کو

بالاج نے فائنل ان کے ہاتھ سے تھام کر ٹیبل پر رکھی اور ان کے دونوں ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگائے

آپ بے فکر رہیں موم بس اپنے کیس پر دھیان دیں ان شاءاللہ ہر بار کی طرح اس بار بھی آپ کی فتح یاب ہوں گی جیت ہمیشہ سچ کی ہی ہوتی ہے

ایک جوان بیٹے کی طرف سے ملا حوصلہ حیا کا سیرو خون بڑھا گیا تھا

تم لوگ میری پاوور ہو میرے بچوں تم لوگوں کی وجہ سے ہی جو میں آج ہوں

اب سینٹی ہو جائیں گے مادام تو ٹائم یوں ہی نکل جائے گا اور میں آپ کو یوں پریشان تو ہر گز نہیں جانے دوں گا

بالاج نے انہیں حصار میں لے کر شرارتی انداز میں کہا

ہٹو جج تمہارے ماموں نہیں لگتے جو تمہاری ماں کے انتظار میں رکیں گے

حیا نے جھٹکا

ہاہاہا ۔۔۔۔ماموں ہوتے تو ان کی بیٹی کو بھی پٹا لیتے

بالاج نے بات کا بھرپور مزہ لے کر قہقہ لگایا تھا

پہلے ایک کو تو پٹا لو بیٹے تمہاری وجہ سے میری بچی ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتی بھاگ جاتی ہے حیا نے آڑے ہاتھوں لیا ۔۔۔

روعب ہی بہت ہے آپ کے شہزادے کا بالاج نے دلفریب انداز میں ہاتھ بالوں میں پھیر کر حیا کو دل میں ماشاءاللہ کہنے پر مجبور کردیا

اچھا یاد سے چلے جانا اسے لینے دیر مت کرنا

اللّٰہ حافظ!!….

ان کے جانے کے بعد بالاج نے ٹیبل پر موجود اخبار اٹھایا

کافی پیتے پیتے اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا جب ایک جگہ اس کی نظر ٹک سی گئی ۔۔۔۔

بہت جلد !!!۔۔۔۔

بہت ہی پراسرار الفاظ تھے جو اس کے لبوں سے آزاد ہوئے تھے ۔۔۔۔

_______

لیکچر کے کر صفا جوں ہی لائیبریری میں اپنی مخصوص جگہ پر آکر بیٹھی کوئی اس کے بالکل ساتھ والی چئیر میں آکر ٹک گیا ۔۔۔۔

آج آپ لیٹ ہوگئی صفا

گھمبیر مردانہ آواز پر صفا نے سر اٹھایا اپنے چاکلیٹی براؤن سیٹ بالوں پر ڈسکی گولڈش ٹون اور شارپ فیچر کے ساتھ گہری چاکلیٹی براؤن چمکتی آنکھوں پر فریم لیس گلاس لگائے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے کالج کا چاکلیٹی بوائے غلط تو نہیں کہا جاتا تھا جس کی براؤن آنکھوں میں چمک کا سبب صفا خان تھی

مسٹر عون ابراہیم ضروری نہیں سب آپ کی طرح ارلی رائزر ہوں اور وہ بھی اس ٹھنڈ میں کمبل چھوڑنا صفا نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی جیسے ٹھنڈ کی ایک لہر اس کے وجود سے گزری ہو ۔۔۔

کوئی بات نہیں میں اٹھادیا کروں گا ۔۔۔مطلب آپ کو کال کردیا کروں گی مادام آٹھ جائیں نہیں تو بہت امپورٹنٹ لیکچر مس ہوجائے گا آپ کا

کہہ کر عون ہنس دیا جبکہ صفا سر نفی میں سر ہلا گئی

تم اپنا بتاؤ جونئیر صاحب لیکچر چھوڑ کر لائیبریری میں عورتوں کی طرح گپے مارنے میں مصروف ہو

صفا نے طنز بھرے لہجے میں اسے کہہ کر نظریں کتابوں کی جانب موڑ لیں

افف صفو آپ مجھ پر اب طنز کریں گی

عون صفا کے طنزیہ ٹون پر متحیر ہو کر کہا حیرانگی کی ہی تو بات تھی صفا خان اور طنز

یہ صفو کیا ہوتا ہے بدتمیز آدمی بڑی ہوں میں تم سے صفا آپی کہا کرو یاں مس صفا

صفا نے اپنی بھوری آنکھوں سے گھور کر اس کے چور ہونے پر کہا

اب آپ کو کیا بتاؤ صفو میں مس کی بجائے مسز لگانے میں انٹرسٹڈ ہوں وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا

آہ صفا ۔۔۔۔ یار اب آپ اس پر مجھ سے بحث مت کیجئیے گا اب اس میں میری کیا غلطی ہے کہ آپ مجھ سے چھوٹی لگتی ہیں اور دوسرا اب آپ کے پیرینٹس کو میرے پیرینٹس سے زیادہ جلدی تھی تو اس میں میرا کیا قصور ہے وہ دو سال کو رک جاتے تو پ کے اس طعنے کو سننے سے میرے بچارے کان تو بچ جاتے

عون بے شرمی سے کہتا صفا کو سٹپٹانے پر مجبور کرگیا صفا نے رجسٹر اس کے کندھے پر دے مارا وہ چیخا جب لائیبریرئن نے دونوں کو پکڑ کر ڈانٹ دیا

ٹھیک ہے صفا جا رہا ہوں میں ایک امپورٹنٹ ٹوپک پوچھنے آیا تھا مگر آپ انٹرسٹڈ نہیں ہے منہ لٹکا کر عون وہاں سے غائب ہوا

جبکہ پڑھائی والی بات پر صفا سر پیٹ گئی

اب اسے اپنے غصہ کرنے کا افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

_______

کلاسس ختم ہوچکی تھی وہ معمول کے مطابق یونیورسٹی کے ایکزٹ ایریا میں کھڑی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی دونوں بازوں اپنے گرد لپیٹے ہوئے تھے صرف گرم شال اوڑھنے کی وجہ سے سردی کا اثر اب جسم پر شدّت سے طاری ہوا تھا ۔۔۔۔ اتنی سردی میں صرف شال لینے کی بے و قوفی وہ ہی کر سکتی تھی حد درجہ سردیوں کی دیوانی ۔۔۔۔۔

آج کچھ زیادہ ہی سردی تھی سورج کا بھی دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا یخ بستہ ہواؤں کے اثر سے سانسیں بھانپ کی صورت ہوا میں تحلیل ہو رہیں تھیں گال بھی اس وقت سرخ ٹماٹر بنے ہوئے تھے وہ بے حد کیوٹ لگ رہی تھی

جب اس کا کلاس فیلو اس کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔۔

ہائے انابیہ

عمیر نے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا

انابیہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی مگر پھر جھجھک کر ہاتھ ملا کر فوراً چھوڑ گئی

تم یہاں کیوں کھڑی ہو اتنی سردی ہورہی ہے

وہ عمیر بس میں گاڑی کا انتظار کر رہی ہوں ابھی آجاتی ہے

آو میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں

نہیں شکریہ وہ مجھے لے۔۔۔۔

آجاؤ !!!

ابھی انابیہ بات پوری کرتی سرد آواز پر اچھلی تھی

بالاج ۔۔۔۔

عمیر نا سمجھی سے بالاج کو دیکھنے لگا

سیاہ بےشکن ڈریس شرٹ کے ساتھ خاکی رنگ کی پینٹ کہنییوں تک فولڈ کی ہوئی آستینیں اس کی ابھری مضبوط نسیں واضح ہورہی تھیں کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی پر نظر پڑتے بیہ کو اچانک کل والی ٹکڑ یاد آئی آنکھوں میں سیاہ رنگ کی ہی گلاسز وہ بھر پور وجاہت کے ساتھ وہاں موجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ شاہد کسی میٹینگ کے لیے تیار تھا مگر لاسٹ مومنٹ میں اسے ادھر بھیج دیا گیا تبھی ُس کا چہرہ سرد تھا اسی مغرور ٹون کی بدولت آس پاس سے گزرتے لوگ بھی نظر بھر کر اُس شان دار شخص کو دیکھ رہے تھے۔۔۔خاص طور پر لڑکیاں

انابیہ کے ماتھے پر بل پڑے وہ عمیر یاں کسی کا بھی نوٹس لیئے بغیر خود ہی آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامتی اسے لے جانے لگی

ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے اچانک دیکھ کر جو خوف آنے لگا تھا وہ اڑن چھو ہوا

جیلسی کے آگے دوسرے تمام احساس دھرے کے دھرے رہ گئے

مگر مین گیٹ سے نکلتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ اس کے ہاتھ پر بالاج کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی

بالاج۔۔۔۔۔

ششش!!!