212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 19) Part - 1

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“سر آپ کا پارسل “

بالاج جیسے ہی بڑی سی بوتیک میں لے کر انابیہ کو اندر داخل ہوا

وہاں کھڑا مینیجر مؤدب سے انداز میں ہاتھ میں بھاری بھرکم زپڈ کوور پکڑے کھڑا تھا

“ماہا آپ میم کو ڈریس دیکھا دو “

“اوکے سر”

انابیہ ہنوز نا سمجھی سے سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ لیڈی سٹاف سے سیلز گرل مینجر کے آرڈر پر مینیجر کے ہاتھ سے وہ زپڈ کوور تھانے اب بالاج کے ساتھ حیران پریشان کھڑی انابیہ کے پاس آئی

“میرے ساتھ آئیں میم “

انابیہ نے چونک کر بالاج کو دیکھا تھا جس نے اب جا کر اس کا ہاتھ آزاد کیا تھا

بالاج کے سر ہلانے پر انابیہ کچھ جھجھکتی سیلز گرل کی میت میں آگے بھر گئی

“سر اتنا بھاری اور خوبصورت ڈریس ہے بہت سوٹ کرے گا

آپ کی امیدوں پر پورا اترتے گا “

مینیجر اب بالاج کے پاس کھڑا اس کی خوش آمدی کرنے میں مصروف ہوگیا

انابیہ زپڈ کوور میں سے نکلنے والی ڈریس کو دیکھ کر شاک ہوگئی

سفید رنگ کی گھیرے دار میکسی جس پر بہت باریکی سے سنہری سا کام کیا گیا تھا

وہ منہ کھولے حیران تھی یہ اس کا ڈریم ڈریس تھا مگر اسے یہ بھی علم تھا کہ حیا اسے کبھی بھی شادی والے دن سفید رنگ نہیں پہننے دیں گی مگر اپنے سامنے اپنی امیجینشن کو سچ ہوتے دیکھ وہ شاک ہوئی تھی

“میم آپ نے پہن لیا یاں میں آپ کی کوئی ہلپ کروں ؟؟”

سیلز گرل کی آواز پر انابیہ کو ہوش آیا

“آہ۔۔نہیں میں پہن لوں گی “

وہ ڈریس پہن کر باہر آئی تو سیلز گرل کا ری ایکشن اس کے گال لال کرگیا

جو منہ کھولے اس کی تعریفیں کر رہی تھی

“میم یو آر سو لکی!”

“سر کی چوئس بہت کمال ہے “

” سر نے اپنی انسٹرکشنز میں ڈریس بنوایا ہے اور اب تک کا ہمارا سب سے ٹف ٹائم رہا یہ ڈریس اس کی باریکی کام ہر چیز”

“آئی ایم ٹیلنگ یوں یو آر ویری لکی”

“I am telling you you’re very lucky”

“یہ اب تک کا سب سے مہنگا ڈریس ہے ۔۔”

وہ سیلز گرل ڈریس کی قیمت سے اس کی خوش قسمتی کا اندازہ لگا رہی تھی

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے شوہر نے اسے کیسے کیسے کہاں کہاں معتبر کیا تھا کہ یہ سب نہ بھی ہوتا تو وہ خود کو خوش نصیب ہی سمجھتی

“چلیں میم سر ویٹ کر رہے ہوں گے “

“ج۔جی”

بے شک یہ اس کا ڈریم ڈریس تھا مگر اتنی ہی جھجھک بھی محسوس کر رہی تھی وہ اسے پہن کہ حالانکہ اس کی امیجینشن میں سلیویس سفید میکسی تھی مگر اس میکسی کے بازو ہاتھوں کو تجاوز کرتے درمیانی انگلیوں میں ڈوری کے ساتھ باندھے گئے تھے جس سے ہاتھ کافی حد تک چھپ چکے تھے

بلاشبہ یہ ڈریس بے حد خوبصورت تھا ہر چیز کا دھیان رکھا گیا تھا ۔۔

“ہاں”

بالاج اس سے پہلے مینیجر کے مسلسل بولنے کی وجہ سے اسے کچھ سخت سست سناتا کہ سیلز گرل کے سہارے اپنی میکسی سنبھالتی آتی انابیہ کو دیکھ کر مبہوت ہوگیا

بغیر کسی زیب و زینت کے میک اپ سے مبرا چہرا وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی

شاید ہی کبھی کسی کو سفید رنگ اتنا جچا ہو

بالاج کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی ۔۔۔

“گورجیز میم لوکنگ جسٹ واو “

مینیجر کے کامپلیمینٹس پر بالاج کو ہوش آیا تھا

“ہمم ۔۔ انا جاؤ چینج کرکے آو “

بالاج کی سپاٹ آواز پر انابیہ نے منٹ سے پہلے قدم موڑ لیئے وہ بالاج کی پوزیسیونیس محسوس کر چکی تھی

“وہاں سے مڑتے ہوئے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ انابیہ کے چہرے پر آئی ۔۔۔۔”

_______

“یار مما آپ لیڈیز اتنی چوزی کیوں ہوتی ہو یار چیز سوچ سوچ کر چوز کرتی ہو “

عون نے اپنی ماں کو ایک اور گفٹ ریجکٹ کرنے کے بعد اگلے آؤٹ لیٹ کی طرف جاتے دیکھ جھنجھلا کر کہا

“اور کتنی لیڈیز سے پالا پڑا ہے تمہارا عون ابراہیم جو اپنا تجربہ بتا رہے ہو “

حدیقہ شاہ نے گھور کر شاپنگ بیگ عون کو تھماتے آگے بڑھی

“اوو موم آپ مسٹر شاہ کی طرح وائس کر رہی ہیں “

“بی ہیو عون وہ میرے شوہر اور تمہارے بابا لگتے ہیں “

پر مجھے لگتا ہے وہ آپ کے شوہر زیادہ لگت۔۔۔صفا حدیقہ شاہ کو چھیڑتے ہوئے سامنے دیکھتے ہوئے ایک دم چونک گیا

مما آپ پسند کریں میں ابھی آیا

______

صفا بالاج اور انابیہ کے وہاں سے جانے کے بعد جیولری کلیکشن سائیڈ پر آئی جب ایک خوبصورت سے ڈائمنڈ کی بریسلٹ پر اس کی نظریں ٹکی تھی سلور چھوٹی چھوٹی رنگز پر سبز رنگ کے نگینے جڑے تھے اس کی آنکھوں میں ستائش ابھری مگر پرائز ٹیگ پر نظر پڑتے وہ چونک گئی وہ بریسلٹ اُس کی سوچ سے بھی زیادہ مہنگا تھا اُس نے سر جھٹکا اسے جیولری اتنی پسند نہیں تھی مگر یہ بریسلٹ اسے خوبصورت لگا تھا

” آپ پر بہت سوٹ کرے گا “

اپنے پیچھے سے آتی عون کی آواز پر صفا ایک دم اُچھلی

“تم ؟!!” تم یہاں پر کیا کر رہے ہو ؟! “

“وہی جو آپ یہاں پر کر رہی ہیں” عون نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا

“تمہیں سکون نہیں ہے”

صفا نے اُس ڈھیٹ کو گھورا

“سکون میرے پاس کہاں ہے میرا سکون تو لاپتہ ہوگیا

کسی حسین پری نے مجھے خبر بھی نہ ہونے دی اور بہت

پیار سے مجھ سے چڑا لیا”

وہ دھیما بے بس سا مسکرایا

صفا نے بے ساختہ اس سے نظریں چُرائی

عون نے شدت سے اس کا آنکھیں چرانا محسوس کیا

وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ گئی

عون اسے روک نہیں پایا اس کے جانے کے بعد عون دوبارہ سے اسی بریسلٹ کی طرف متوجہ ہوگیا

جبکہ صفا کچھ اور دیکھنے کی غرض سے آگے بڑھی جب ایک لیڈی سے کسی کی ٹکر ہوئی مگر وہ لڑکی بغیر اس عورت کو دیکھے آگے تنفر سے بڑھ گئی تھی

” آنٹی آپ کو لگی تو نہیں ؟” صفا پریشانی سے ایک دم حدیقہ شاہ کے پاس آئی جو ٹکر کے سبب ایک پل کو لڑکھڑا ہی گئی تھی

“آہ ۔۔ نہیں میں ٹھیک ہوں بچے “

“کتنی بدتمیز لڑکی تھی آپ کے بڑے ہونے کا ہی لحاظ کرلیتی”

صفا نے غصے سے اس لڑکی کی پشت کو گھورا تھا جو اب شوپ سے باہر نکل گئی تھی

“کوئی بات نہیں بچے میں ٹھیک ہوں” حدیقہ شاہ نے صفا کے غصے سے سرخ چہرے پر پیار سے ہاتھ لگا کر کہا ۔۔۔

“اوکے آنٹی دھیان رکھیئے گا “صفا نے اُن سے ہاتھ ملا کر چھوڑا

“سنو بیٹا “حدیقہ شاہ نے ایک دم آواز دے کر صفا کو روکا

“جی آنٹی ؟”

وہ ایک دم مڑی

“نہیں کچھ نہیں ہمیشہ خوش اور آباد رہو “

حدیقہ شاہ اسے دعا دیتی آگے بڑھی

“موم لے لیا آپ نے جو لینا تھا عون حدیقہ کو دیکھ کر ان کی جانب آیا “

ہاں لے لیا ہے

“چلیں پھر بلنگ کروا کر نکلتے ہیں میری بہت ہی امپورٹنٹ کلاس ہے “

اپنی بائیں کلائی پر چمکتی گاڑی پر طائرانہ نظر ڈال کر اس نے بل کروا کر حدیقہ شاہ سے وہ منی بیگ تھام لیا

اب وہ انہیں بازوں کے حصار میں لئیے شاپ سے نکل گیا

________

بالاج اور انابیہ کو گئے پندرہ منٹ سے زیادہ ہوگئے تھے صفا کو بھوک بھی لگی تھی اس نے اپنے پرس سے موبائل نکال کر بالاج کو کال ملانے کے لیے ابھی فون اوپن ہی کیا تھا جب شرمائی مسکائی سی انابیہ بالاج کی میت میں اس کے پاس آئی

“بچے کچھ پسند کیا آپ نے پھر ؟” بالاج نے اسے خالی ہاتھ دیکھ کر استفسار کیا

“بھیا آپ کو پتا ہے مجھے ان سب کا اتنا نہیں پتا میری شاپنگ ہمیشہ مما ہی کرتی ہیں” صفا روہانسا ہو کر بولی

تو بالاج نے اسے اپنے حصار میں لیا

“تو بھائی کی جان پریشانی والی کونسی بات ہے آپ بے فکر رہو آپ کا ڈریس کل آپ کے پاس ہوگا”

بالاج نے اسے شاپنگ کی فکروں سے آزاد کیا

“اچھا بھیا چلیں پھر اب کوئی شاپنگ نہیں کرنی تو کچھ کھلائیں بہت بھوک لگ رہی ہے “

“ہاں چلو ! “بالاج نے ہامی بھری

“چلو چندہ صفا نے انابیہ کا ہاتھ تھما جس کا ہاتھ بالاج کی موجودگی کے باعث بھیگا ہوا تھا “

صفا نے اُس آؤٹ لیٹ سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دو چیزوں کو کھوجنا چاہا جو دونوں ہی ندارد تھی

“عون ابراہیم!!”

“بریلسٹ!!”

________

اپنے آفس میں میٹنگ اٹینڈ کرنے سے پہلے ابراہیم شاہ کچھ پوائنٹس چیک آؤٹ کر رہے تھے جب اُن کے موبائل پر بلنک ہونے والی مخصوص ٹون نے انہیں متوجہ کیا

جہاں ان کے کریڈٹ کارڈ سے چند منٹ پہلے ساڑھے پانچ لاکھ کا بل پے ہوا تھا ایک پل کو تو ابراہیم شاہ کے ماتھے پر پر سوچ لکیریں نمودار ہوئی تھی

اگلے ہی پل وہ فراموش کئیے اپنی میٹنگ کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔

________

عون کا یونیورسٹی آتے ہی موڈ آف ہوگیا کیونکہ اسے خبر ملی جس امپورٹنٹ لیکچر کے لیے وہ آج اتنی ہڑبڑی میں آیا تھا وہ سر ہی آج ایبسینٹ تھے

لیکن ابھی بھی ساری کلاس ڈین کے آرڈر پر ڈسکشن روم میں موجود تھی

اتنے میں نک سک سی تیار رومیسہ کلاس میں اپنی دوستوں کے ہمراہ آئی بوٹل گرین کیزول میکسی میں کھلکھلائی سی پیاری لگ رہی تھی

عون نے ایک نظر اُس پر ڈال کر نظریں دوبارہ اپنے فون پر مرکوز کرلی آج کا لیکچر اس سمیت وہاں بیٹھے تمام بچوں کی پریکٹیکل لائف کے لیے امپورٹنٹ تھا اسے سر قیوم کی غیر زمہ داری پر تعجب ہوا

وہ ایسے تو ہر گز نہ تھے

خیر اتنے میں دین سر بھی وہاں آچکے تھے

تو سٹوڈنٹس میں جانتا ہوں اج کی کلاس آپ لوگوں کے لیے کتنی اہم تھی اور آپ کے لاسٹ سمسٹر کے آنے والے دن آپ کی سٹڈیز اور کریئر کے لیے بہت اہم ہیں مگر مجھے بتاتے ہوئے بہت افسوس ہورہا ہے ہمارے پیارے دل عزیز سر قیوم کا گزشتہ دن ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے اللّٰہ پاک ان کی درجات بلند فرمائے آمین

سر قیوم کے انتقال کی خبر پر بچوں میں ایک دم سے کھلبلی سی مچ گئی کچھ حیران اور کچھ پریشان نظر آئے عون بھی گنگ ہوا ابھی کچھ دن پہلے تو وہ بالکل فٹ تھے پھر اچانک

خیر بچوں باقی مس مبشرہ کے بیٹے کی شادی ہے اور وہ لیو پر ہیں ان کا آنا بھی اپپوسیبل ہے اتنے ارجنٹ ناٹس پر آپ لوگوں کے لیے لیکچرار کا انتظام کروانا بہت مشکل ہوگیا ہے

“پر کیوں سر یہ ہمارا کام نہیں بلکہ ادارے کی زمہ داری ہے ہمارے کرئیر پر کتنا غلط اثر پر سکتا ہے اس سب کا “رومیسا آگے بڑھ کر بولی جس کی کافی سٹوڈنٹس نے تائید بھی کی تھی

جی بچے میں سمجھتا ہوں

“نہیں سر ” بچوں نے احتجاج کیا

سر آپ کسی سینئر سٹوڈنٹ سے بات کریں جو آپ کو لگے بہتر ہے

سی آر نے صلح جو انداز میں مشورہ دیا

سر آپ مس صفا کو کیوں نہیں کہتے انھوں نے ہماری پہلے بھی کلاسس لی ہوئی ہیں اور تو اور وہ بھی اپنے گی اے ٹ ٹیسٹ کے لیے یونیورسٹی بھی آتی رہی ہیں ان کا طریقہ ہمیں پہلے بھی کافی پسند آیا تھا

عون نے صفا کے نام پر چونک کر رومیسا کو دیکھا

جس کی دوست خود جتنا حیران ہوتی کم تھا

مگر وہ تجربہ کار نہیں ہیں

سر نہ ہونے سے بہت بہتر ہیں وہ عون نے بھی سوچ کر اپنی بات ڈین کے آگے رکھی

ڈین سر نے عون کی طرف دیکھا وہ کلاس کا سب سے ہونہار سٹوڈنٹ تھا

ڈین سر کے چہرے پر اب پر سوچ لکیریں نمودار ہوئی تھی

_______

حیا وضو بنا کر نماز ادا کرنے کی غرض سے کمرے میں آئی جب کمال اعوان کے فون پر وہ جاہ نماز ہاتھ میں تھامے فون اٹینڈ کر گئی

السلام علیکم

“جی سر جی ؟ کیسے ہیں آپ ؟”

حیا صاحبہ نے ان کا حال احوال پوچھا

“حیا خرم داد کیس کا مہرہ مل گیا ہے “

فون کے دوسری جانب سے ملنے والی خبر پر حیا نے گہرا سانس ہوا میں خارج کیا اس کیس پر وہ پانچ سال سے کام کر رہی تھی بالآخر اس نے اللہ کا شکر کیا

“جی سر عصر کے فوراً بعد میں آپ کے آفس میں ہوں گی آپ جازب صاحب کو بتا دیجئے گا “

________

ابھی بالاج اسے ڈراپ کرکے صفا کو اس کی یونیورسٹی چھوڑنے گیا جہاں سے اسے کسی ضروری کام سے اس کے سر نے یاد کیا تھا پھر بالاج نے صفا کو ڈراپ کرتے اپنے بھی کسی ضروری کام سے چلے جانا تھا انابیہ سب سے پہلے حیا کے کمرے میں گئی جہاں وہ نماز ادا کر رہی تھی پھر وہ اپنے کمرے میں چلی آئی

یہ احساس اس کے لیے کتنا خوش کُن تھا اُس نے جس کی چاہ کی وہ تب سے اس کے نصیب میں ہے جب سے اسے چاہ لفظ کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا اور اب بہت جلد وہ پور پور اُس کی ہونے والی ہے

یہ حقیقت ہے اُسے اپنے لاج کا پوزیسیو روپ سب سے زیادہ بھاتا تھا وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو کسے کے خود کے لیے پوزیسیو ہونے کو اس کا شک اور ٹاکسک روپ سمجھتی تھی

اسے تو اپنا لاج ایسے ہی پسند تھا اور اس کے لیے پوری دنیا سے قطع تعلق بھی ہوجاتی تو اسے منظور تھا

“سب کی اپنی پسند ہوتی ہے اور انابیہ بالاج کی پوری پسند ہی بالاج خان تھا “

وہ خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی بالاج کے واپس آنے کے بعد کے روپ کو دیکھ کر وہ یہ امید ہی چھوڑ چکی تھی کہ بالاج خان پھر سے اس کے پہلے کی طرح لاڈ اٹھائے گا یاں اسے بغیر محسوس کروائی اس کی پرواہ کرے گا مگر کل سے تو جیسے اس کے دل میں موجود سارے وسوسے دھوئے کی مانند ہوا میں تحلیل ہوتے گئے ۔۔۔۔

گھڑی کی سوئیوں پر نظر پڑتے ہی اس کا ارادہ وقت نکلنے سے پہلے نماز ادا کرنے کا تھا پھر اسے حیا کے نکلنے سے پہلے اسے اپنی شاپنگ دیکھانی تھی

_________

“السلام علیکم سر آپ نے مجھے یاد کیا “

صفا اس وقت اپنی یونیورسٹی کے لاء ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریٹر کے آفس میں اپنے سر کے سامنے موجود تھی

“جی بیٹا یہ سمجھ لیجئے آپ کی مدد درکار ہے “

“جی سر آپ حکم کریں صفا نے احتراماً کہا “

ڈین اسے موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے لگے صفا کے ہاتھ پاؤں یکدم ہی ٹھنڈے پڑے

“سر سب سے پہلے تو قیوم سر کا سن کر افسوس ہوا وہ بہت اچھے استاد تھے اور انھوں نے میری بلخصوص ہم تمام لاء سٹوڈنٹس کی بہت مدد کی تھی “

“جی واقع ہمیں بھی افسوس ہے ہم نے ایک بہترین استاد کو کھو دیا ہے مگر ہم بھی کیا کر سکتے ہیں جو اللہ کو منظور”

انھوں نے بھی افسردہ ہو کر کہا

“جی سر “

‘خیر سر ابھی تو میرے گیٹ ٹیسٹ کا رزلٹ بھی نہیں آیا اور میرا ایس سچ کوئی تجربہ بھی نہیں ہے “

“جی میں جانتا ہوں کہ اپ کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں ہے ہوسکتا ہے یہ کچھ عرصہ جونیئرز کو پڑھا کر ان کی مدد کرکے بھی آپ کو تجربہ مل جائے میرے خیال سے پڑھنے سے زیادہ پڑھانے والا روز کچھ نیا ایکسپرئینس کرتا ہے اور دوسری اہم بات مجھ سے بچوں نے خود کہا آپ سے درخواست کرنے کو آپ نے غالبًا ان کی کلاس لی تھی پہلے بھی ان کو آپ کا انداز بہت بھایا تھا “

“نہیں سر ریکوئسٹ کیسی آپ حکم کریں “

” کل میرے بھائی کا نکاح ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں پرسو سے سٹارٹ کروا دیتی ہوں تاکہ مزید ان کا کوئی حرج نہ ہو “

“بہت بہت شکریہ صفا بیٹا آپ بالکل اپنی مما جیسی ہیں انھوں نے بھی یہاں سے ہی اپنی سٹڈیز کمپلیٹ کی تھی “

“جی سر جانتی ہوں اور میری خواہش ہے ان کی طرح بہترین ایڈوکیٹ بنو “

“ان شاءاللہ “

________

صفا ڈین کے آفس سے نکلتی ہوئی مین گراؤنڈ کی جانب آئی تھی اس نے ڈرائیور کو کال کرنی تھی

مگر پیچھے شور بہت تھا غالباً کسی کی سالگرہ تھی

جب دائیں جانب بنے جم گٹھے میں اپنے نام کے پکارے جانے پر صفا چونک کر پیچھے مڑی

_______

بچے کلاس سے فارغ ہوکر ڈپارٹمنٹ کے مین گراؤنڈ کی جانب اکٹھے ہوگئے تھے آج رومیسہ کی سالگرہ تھی جس کی سسلیبریشن کا انتظام کیا تھا رومیسا عون کو بھی ساتھ ہی کھینچ کر لے گئی جسے چارونا چار جانا پڑا نہیں تھا اس کا ارادہ اب گھر کے لیے نکلنے کا تھا

“ہیپی برتھڈے ٹو یو رومی “

“ہیپی برتھڈے ٹو یو”

سب کی تالیوں میں رومیسہ نے کیک کاٹا اور سب کو کھلایا سب کو کھلانے کے بعد وہ عون کے پاس آئی

جو مجبوری کے مارے ہی وہاں کھڑا تھا سب اب رومیسہ کو گفٹ دے رہے تھے

عون کو اب افسوس ہوا اسے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ رومیسہ کا برتھڈے ہے کجا کہ وہ کوئی گفٹ لیتا

مگر جب رومیسہ نے براہِ راست سب کے سامنے اس سے گفٹ مانگا تو وہ زرا اوکورڈ ہو کر اپنی سیاہ ہڈی کی جیب میں ڈال گیا

اس وقت سچویشن ایسی تھی کہ اسے یاد ہی نہ رہا کہ اُس نے مال سے خریدا ہوا “کسی خاص “کے لیے خریدا گفٹ اس کی جیب میں ہی موجود ہے

عون نے ہاتھ مارا تو ڈارک مہرون رنگ کی کیس اس کی جیب سے برآمد ہوئی

“یہ میرے لیے؟”

ابھی عون سمجھتا رومیسہ نے اچکنے کے سے انداز میں وہ کیس تھاما اور اسے کھولا رومیسہ کے ساتھ اس کی دوستوں کا بھی منہ کھل گیا

بلاشبہ وہ سبز نگینوں والا بریسلٹ واقع بہت خوبصورت تھا اتنا خوبصورت کے کسی کو بھی مبہوت کردے

“شکریہ عون “

وہ فرط جذبات میں اس کے گلے لگنے لگی تھی جب عون نے لب بھینچ کر فاصلہ اسے اپنی غائب دماغی افسوس ہنے کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا تھا

یہ بریلسٹ صفا کے لیے لی تھی تو وہ کیسے رومیسہ اپنے کلائی میں سجا سکتی ہے

“صفا “

“مس صفا “

عون اسی بریلسٹ کو گھور کر رہ گیا اب وہ لے بھی نہیں سکتا تھا جب صفا کے نام پر اس کی تمام حسیں الرٹ ہوئی تھی وہ مڑا تو وہ بالکل پیچھے ہی کھڑی تھی

“مس صفا ہمیں جوئن کریں میری برتھڈے ہے “

رومیسہ بڑے پیار سے کھینچ لائی جو منع بھی نہ کر سکی

“مس صفا کیسی ہیں آپ “

دوسرے سٹوڈنٹس بھی اس کی کافی عزت کر رہے تھے

“میں ٹھیک الحمدللہ “

صفا کی نظر بے دھیانی میں ہی رومیسہ کی کلائی میں موجود بریسلٹ پر اٹکی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو یہ بریسلیٹ وہ اؤٹلیٹ میں دیکھ رہی تھی جہاں سے غائب تھا

وہ کیسے بھول سکتی تھی اس بریسلٹ کو جو اس وقت بڑی شان سے رومیسہ کی کلائی میں موجود تھا

رومیسہ نے بھی اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے ہوئے اٹھلا کر اس بریسلٹ پر انگلیاں پھیڑی

صفا نے سر جھٹکا وہ کوئی اکلوتا بریسلٹ نہیں تھا

مگر اگلے ہی لمحے رومیسہ کے لفظوں نے اس کے دل پر نادیدہ سا بوجھ ڈال دیا

“یہ مجھے عون نے گفٹ کیا ہے سب سے بہترین گفٹ “

صفا نے چونک کر عون کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا ایک دم سے نظریں چرا گیا

“ہیپی برتھڈے رومیسہ وش یو مینی مینی ریٹرنز آف دا ڈے “

صفا اسے کیک کھلا کر وہاں سے نکلتی چلی گئی پیچھے عون کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔