Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 16)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 16)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
بھیگی پلکوں سے دھند سے ڈھکے آسمان کی جانب دیکھتی اس کی آنکھوں میں یاسیت سی سمٹ آئی
آج کا سیاہ دن تو اُس کی روح کو بھی گھائل کرنے کو کافی تھا مگر اسے اپنا غم چھپانا تھا سب سے ہمیشہ کی طرح ۔۔۔
اس کی اریبہ مما کہتی تھی وہ بہت بہادر تھی
ہاں وہ اپنے غم چھپا لیتی تھی وہ واقع بہت بہادر تھی
وہ اپنی لہ میں کھوئی ہوئی جب اس کے کندھے پر کوئی چیز لگی تھی
سردی کے باعث درد دگنا ہوا
صفا نے چونک کر اپنے پاؤں کے پاس کاغز کا گولا دیکھا
کاغز کا گولا اس قدر وزنی
پھر صفا نے اس سمت کی جانب چہرہ کیا جہاں سے یہ چیز آئی تھی
گیلی بھوری آنکھیں پھیل گئی
صفا نے انہیں مسلا
ایک دفعہ دو دفعہ کہیں دفعہ ۔۔۔۔
مگر وہی تھا اپنی تمام تر بے شرمی کے ساتھ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا عون ابراہیم!! عرف بے شرم انسان
“عون تم یہاں ۔۔۔۔؟؟”وہ بے یقینی سے اپنے گھر کے سامنے کھڑے عون کو دیکھ رہی تھی
اتنے فاصلے سے نہ تو وہ کچھ سن سکتا تھا نہ ہی صفا
عون نے فون نکال کر اسے فون کا اشارہ کیا
مگر صفا ہڑبڑائی سی کھڑی تھی
عون تم ۔۔۔۔ وہ پریشان سی اپنا فون ڈھونڈنے لگی جلدی سے اپنے کمرے میں آکر اس نے اپنے سائیلینٹ لگے فون کو اٹھاکر عون کی کال پک کرتے دوبارہ ٹیرس پر آئی
صفا کا کمرہ بیک سائیڈ پر تھا تو گھر کا پچھلا گیٹ اس طرف لگتا تھا
کیا مسئلہ ہے عون ابراہیم یہاں پر کیا کر رہے ہو میرے بھائی سے ٹانگیں تڑوانے کا شوق ہوا ہوا ہے تمہیں
صفا کی تپی تپی آواز میں بھی سوگواریت کا عنصر نمایاں تھا
آپ کو کیا ہوا ہے صفا ؟؟
عون نے جس انداز میں پوچھا تھا
صفا کا دل پھر سے بھر آیا مگر اس نے ضبط کرلیا
میں ۔۔۔میں پاگل ہوں جو تمہیں یہاں کھڑی جواب دے رہی ہوں اور مجھے کیا ہونا ہے
صفا نے جھنجھلا کر خامخواہ آتے آنسووں کو اندر دھکیلا
اچھا ۔۔۔عون نے فکر مندی سے دور سے ہی اس کے تاثرات نوٹ کئیے
اب تم پھٹو گے یہاں کیوں آئے ہو ؟؟
اتنا روڈ لہجہ وہ ضرور بہت پریشان تھی عون نے ہمیشہ کی طرح درگزر کیا
آپ کی طرف میں نے کچھ پھینکا تھا اسے کھول کر دیکھیں
عون نے نرمی سے کہتے ہائے اسے اشارتاً بھی کہا
صفا نے چونک کر زمین پر دیکھا
اور پھر جھک کر وہ چیز اٹھائی وہ دو پرچیاں تھی جو پتھر کے اوپر لپیٹی ہوئی تھی
صفا نے فون اپنے کان کندھے کے بیچ میں اڑایا اور پرچیاں کھولنی شروع کی
یہ کیا ہے ؟؟؟
بل عون نے مزے سے کہا
کیسا بل ؟؟
آج آپ کے انکل اور اریبہ مما کی برسی ہے تو ان کے نام پر ایک یتیم خانے میں کھانا کھلایا اور کپڑے بھی بنٹوائے اور دوسرے بل میں ان پھولوں کے پیسے ہیں جو آج میں آپ کے حصے کے ان کی قبروں پر ڈال کر آیا
کتنی مشکل سے میں نے بل بنوایا کُھلے پھولوں کی پتیوں کا
وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر صفا کو تو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا وہ ساکن سی اپنے ہاتھ میں تھامی پرچی پر سیاہی سے لکھے ہندسوں کو دیکھ رہی تھی بالکل غائب دماغی سے
“عون۔۔۔!!!”
صفا کا لہجہ جزبات سے لبریز تھا
میں وعدہ خلاف نہیں صفا پچھلے سال وعدہ کیا تھا نہ کہ آج کے دن آپ کو اداس نہیں ہونے دوں گا
______
“صفا آپ اداس لگ رہی ہیں !!کیا ہوا ہے ؟؟”
عون صفا کا رجسٹر اس کے پاس رکھتے ہوئے فکر مندی سے بولا
کچھ نہیں صفا نے اپنی آنکھ میں آیا آنسو پونچھا
کچھ ہوا تو ہے کیا میری کوئی بات بری لگی ہے ؟؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے عون دراصل آج کے دن میرے انکل اور اریبہ مما کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اریبہ مما کے آخری وقت میں بھی میں ان کے پاس تھی تو بس انہی کی یاد آگئی
صفا نے اپنے لہجے کو متوازن کرتے ہوئے کہا
تو اس میں رونے والی کیا بات ہے صفا آپ اُٹھیں
عون نے خود اٹھنے کے ساتھ ساتھ صفا کو بھی اٹھایا
کیا کر رہے ہو عون ؟؟ صفا نے اٹھتے ہوئے کہا
ارے یار چلیں نہ
کہاں لے کر جا رہے ہو عون آخری لیکچر ہے میرا پھر میرا ڈرائیور بھی آجائے گا
صفا نے پریشانی سے کہا
چلیں نہ لیکچرز بھی روز ہوتے ہیں ڈرائیور بھی روز آتا ہے
آپ چلیں میرے ساتھ
عون اسے پہلے شاپنگ سینٹر لے کر گیا جہاں سے اس نے بچوں کا سامان کھلونے وغیرہ لئیے
صفا کو کافی حد تک سمجھ آگئی تھی
عون نے بل دینا چاہا مگر صفا نے اسے سختی سے منع کرکے خود بالاج کے دئیے ہوئے اپنے کارڈ سے بل ادا کیا
پھر وہ دونوں اپنی یونیورسٹی کے قریب یتیم خانے میں گئے جہاں بچوں میں سامان بانٹتے ہوئے صفا اپنے غم بھلا چکی تھی
وہاں اس نے ایک کی بجائے دو گھنٹے گزارے
اس دوران ڈرائیور کی کال آئی تھی جسے اس نے ایکسٹرا کلاس کا کہہ دیا تھا
پھر عون نے کُھلے پھول خریدے صفا کے ہی پیسوں سے
گاڑی قبرستان کے باہر رکی تھی
چلیں ۔۔صفا۔۔۔!!!
مگر صفا نے آنکھیں مینچ کر زور زور سے نفی میں سر ہلایا
“مما کہتی ہیں لڑکیاں قبرستان میں نہیں جایا کرتی “
عون نے بھی اثرار نہیں کیا بلکہ خود ہی پھولوں کا شاپر اس سے تھام کر اریبہ خان اور جہانگیر خان کی قبریں تلاش کرنے لگا
جبکہ صفا گاڑی میں بیٹھی ان کو یاد کرکے فاتحہ خوانی کرنے لگی تھی
اس کے دل پر جو بوجھ تھا اب کم ہو چکا تھا
جو عون کی ہی بدولت تھا
آپ کو معلوم ہے میں نے آپ کو بل کیوں دئیے ؟؟
“میں تمہیں لٹا دوں گی یہ پیسے” صفا نے ہوش میں کر اسے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے کہا
فون دائیں کان سے پکڑ کر بائیں کان پر لگاتے عون نے نفی میں سر ہلایا
“اس لیے نہیں کہ آپ غیر مردوں کی مقروض ہونا پسند نہیں کرتی
کیونکہ اتنا تو مجھے معلوم ہے آج نہیں تو کل غیر نہیں رہوں گا۔
پھر یہ بندہ اور نا چیز کے پیسے بھی آپ کے “
“اس لیے کہ ابھی میں سٹوڈنٹ ہوں اور غریب سا بندہ بھی
دوسرا میرا ادھار دینے کے بہانے ہی صحیح آپ مجھ سے ملیں گی تو ۔۔۔”
عون نے شرارتی انداز میں کہا ارادہ بس اس کا دھیان بھٹکانے کا تھا
تمہارا زخم کیسا ہے عون ؟؟!
صفا نے نظر انداز کردیا تھا پہلی دفعہ اسے غصہ نہیں آیا تھا یاں وہ عون کے وعدے کی وجہ سے نظر انداز کر گئی
زخم ؟؟!!! عون کا دھیان اپنے زخم پر گیا
وہ زخم بھی جیسے مسیحا کی آواز پر دھک دھک کرنے لگا تھا
دھڑکنیں بھی تیز ہوگئیں تھیں
زخم تو اسی دن ٹھیک ہوگیا تھا جس دن اس کو آپ کے ہاتھ کی مسیحائی ملی تھی
عون پاگل ہو تم۔۔۔۔ بالکل پاگل۔۔۔۔ مت کرو خود کو خوار اس چیز کے پیچھے جو ممکن نہیں
“لوٹ جاؤ عون ابراہیم “
اگر میری کسی بھی بات کی وجہ سے تمہیں بڑھا وا ملا تو مجھے بھی معاف کردو عون مگر یوں خود کو اور مجھے اذیت مت دو
صفا نے بے بسی سے کہا اسے اپنے سے زیادہ عون کی فکر تھی وہ غلط راستے پر تھا
آپ مجھ سے معافی کیوں مانگ رہی ہیں صفا آپ کی کیا غلطی ہے ؟؟
غلطی تو اِن آنکھوں کی ہے جو ہر وقت آپ کی دید کی طلب کرتی ہیں
اور پھر یہ دل عون نے ایک دفعہ پھر اپنے مردہ ہوتے زخم کو ضرب لگا کر جگایا کہ آیا اِس زخم میں زیادہ درد ہوتا ہے یاں صفا کے اسے “لوٹ جاو” کہنے پر زیادہ درد ہوتا ہے
اور ثابت ہوگیا محبوب کے سفاک لفظوں سے زیادہ درد ہوتا ہے
یہ دل جس دن مردہ ہوجائے گا اس دن میں لوٹ جاؤں گا اس راستے سے صفا
صفا نے تڑپ کر اسے دیکھا جو بات تو اپنی جان کے نکل جانے کی کرتا تھا مگر تکلیف اسے کیوں ہوتی تھی
تو مر جاؤ عون ابراہیم
وہ غصے سے وہی پتھڑ اس کی طرف پھینک کر وہاں سے مڑ گئی
عون بر وقت جھگ گیا نہیں تو پتھڑ اس کے پیچھے موجود گاڑی کے دروازے پر لگنے کی بجائے اس کے سر پر لگتا
عون نے مسکرا کر زمین پر گڑا ہوا پتھڑ اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا
وہ کیا گانا تھا ایک آنکھ بند کرکے سوچنے والے انداز میں سر پر ہاتھ رکھا
او ہاں
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے
پل میں بنادے جو دیوانہ عشق ہے
گنگناتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھا اب وہ پرسکون تھا کیونکہ اب صفا پر سکون تھی
طریقہ سراسر غلط تھا اس کا مگر کام نہیں
لیکن یہ بات عون ابراہیم کو کون سمجھائے کون ؟؟؟
_______
“ہیلو خرم !!!”
” میں نے کل تم سے کسی کا بائیو ڈیٹا نکلوانے کا کہا تھا۔۔”
“کہاں مرے ہوئے ہو اگر کام نہیں ہوتا تو بتاؤ کسی اور کو لگاؤ تم لوگ تو سارے مفتے کے لیے پل رہے ہو “
حدید شاہ غصے سے پھٹ پڑے
“کیا مطلب مشکل ہے تم سے کل کے آئے لڑکے کے خاندان اور حسب نسب کا نہیں پتا لگ رہا “
“مجھے دو بجے تک ساری ہسٹری چائیے ان خانوں کی نہیں تو تمہیں ہسٹری بنانے میں مجھے دیر نہیں لگے گی !!”
حدید شاہ نے غصے سے فون پٹخ دیا ۔۔۔
سانسیں پھر سے پھول رہی تھیں
مگر یہ غصے سے کہیں زیادہ کسی دوسری سوچ سے پھول رہی تھیں ۔۔۔۔
________
ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد بالاج قبرستان آیا وہ دو سالوں بعد آج یہاں آرہا تھا اریبہ اور جہانگیر کی قبر پر پہلے سے ہی تاشے پھول دیکھ کر ایک لمحے کو وہ چونکا تھا
کیونکہ جیسے اس کا حیا اور صفا کا اس دنیا میں ان کے سواہ کوئی نہیں تھا ویسے ہی جہانگیر اور اریبہ کے خاندان والوں کا کوئی آتا پتا نہیں تھا تو پھر یہ پھول ؟؟
بالاج نے سر جھٹک کر پھول دونوں کی قبروں پر پھینکے اور ہاتھ اٹھا کر سورة فاتحہ کی تلاوت کرکے ان کی مغفرت کی دعا کی
قبرستان سے ہونے کے بعد بالاج نے ویران سڑک پر گاڑی روک کر سر ڈرائیونگ سیٹ پر ٹکا لیا ۔۔۔
اسے انابیہ کی باتیں یاد آنے لگیں
وہ انابیہ کی سوچ پر حیران ہونے سے کہیں زیادہ پریشان ہوگیا تھا اس نے گزشتہ دو سالوں میں صرف اپنے بزنس میں محنت نہیں کی تھی اپنی خود کی ذات پر بھی محنت کی تھی جیسے اس نے انابیہ اور اس کے دوستوں کے منہ سے سنا تھا جیسے وہ چاہتی تھی وہ ویسا ہی بن جانا چاہتا تھا
مگر اب اسے وہ سب پسند نہیں آرہا کیا اسے بالاج کی کئیر محسوس نہیں ہوتی ؟!!۔۔۔
کتنی دفعہ بالاج نے خود واضح لفظوں میں اسے کہا کہ وہ اس سے ہر گز بے خبر نہیں ہے پھر بھی وہ یہ ہی سوچتی ہے کہ بالاج کو اس کی فکر نہیں ہے
بالاج نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔
شاہد ایسا ہی ہے کچھ معاملوں کو وقت دے کر نپٹایا جاتا ہے نہ کہ انہیں بعد میں پھر کبھی کہہ کر اور الجھایا جاتا ہے
انابیہ کے معاملے میں بھی یہ ہی سین تھا وہ اپنی رخصتی صرف اور صرف اپنے “ذاتی بدلے” کی وجہ سے ٹال رہا تھا جس کا نتیجہ اس کے سامنے تھا اس کی بیوی اس کی محبت اس سے خفا اور بدگمان ہوگئی ۔۔۔
مگر وہ بالاج کو بھی تو سمجھے ۔۔۔
بالاج نے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھا
“صرف مرد مت بنو۔۔۔مرد کہلانے کے لائق بھی بنو “
بالاج کو ایک دفعہ حیا کا کہے جانے والا جملہ یاد آیا
اس کے لب مسکرائے
آئی لو یو موم !!! آپ مجھے کبھی بھٹکنے نہیں دیتی
بالاج کو حیا پر پیار آیا
بالاج کو انابیہ کی خفگی ٹھیک لگنے لگی وہ تو اس کے ماضی سے بے خبر تھی تو وہ کیسے اُسے اِس سچویشن میں سمجھتی
“اور مرد اپنی عورت کی خامیوں کو بے پردہ نہیں کرتے
وہ انہیں سلجھاتے ہیں “
________
سر بالاج خان دو سال یو۔کے میں تھے اب وہ یہاں اپنے دوست کے ساتھ اپنی اسلام آباد والی برانچ سنبھالتے ہیں
ان کی والدہ حیا خان صاحبہ ایڈوکیٹ ہیں اور ان کی بہن صفا خان جی اے ٹ کا ٹیسٹ دے کر آج کل فری ہیں
اس کے علاؤہ بالاج خان کے مامو کی بیٹی بھی ان کے ساتھ رہتی ہےان کے ماموں کا سالوں پہلے انتقال ہوچکا ہے
ساری انفارمیشن سنتے ہوئے حدید شاہ کے ماتھے پر سے بل کم نہیں ہوئے تھے
انہیں وہ آدمی یاد آرہا تھا جو اس دن انہیں وہاں نظر آیا تھا جس سے بالاج خان نے سٹیج سے اترے ہی گلے لگایا تھا
اچھا اور بالاج خان کے والد؟؟؟
حدید شاہ نے ماتھا مسلتے ہوئے خرم سے پوچھا
نہیں سر ان کی کوئی خبر نہیں شاید ان کی دیتھ ہوگئی ہے یاں سیپریشن مگر ان کی کوئی خبر نہیں ملی مجھے ۔۔۔
تو پتا کرو خرم جلدی پتا کرو اور گھر کا ایڈریس ؟؟
جی سر وہ مل گیا ہے میں نے آپ کو میل کردیا ہے !!
تو پہلے بتاتے ایڈیٹ!!
حدید شاہ نے اسے سنا کر فون پٹخا
حدید شاہ نے بے چینی سے میل اوپن کی اور گھر کا ایڈریس دہرایا
پارٹنر کی حیثیت سے تو آہی سکتا ہوں تمہارے گھر بالاج خان
حدید شاہ نے موبائل سکرین پر جگمگاتی روشنی کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔
________
صفا سے ملنے کے بعد وہ سیدھا حدید شاہ کے گھر گیا تھا جہاں اسے ملازم سے پتا لگا تھا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی کسی کام سے گئے ہیں
عون نے انہیں کال کی مگر جواب موصول نہیں ہوا اس نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی
گیراج میں گاڑی پارک کرتے ہوئے عون نے دوبارہ حدید شاہ کا نمبر ملا کر فون کان کے ساتھ لگایا
“عون یہ گاڑی پر کیا ہوا ہے ؟؟ “
حدیقہ شاہ جو لان میں میں بیٹھی چائے پی رہی تھی عون کو پریشان سا دیکھ کر اس کے پاس چلی آئی
مگر ان کی نظر گاڑی کے دروازے پر پڑے بڑے سارے ڈینٹ پر پڑی
عون اپنی گاڑی کے معاملے میں کتنا ٹچی اور چوزی تھا سب ہی جانتے تھے
عون نے چونک کر گردن موڑ کر اپنی سفید رنگ کی گاڑی پر پڑا بدنما ڈینٹ دیکھا پھر اپنی مضبوط انگلیوں کے پوروں سے اسے چھوا
حادثہ!!!
بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا
“حادثہ ؟؟!! اللہ خیر کرے یہ کیا کہہ رہے ہوں عون ؟؟تم ٹھیک ہوں نہ میرے بچے “
حدیقہ شاہ نے فکر مندی سے عون کے شانے چھوئے
“جی مما میں بالکل فٹ!!”
“یہ کچھ نہیں بس مجھ سے گاڑی کہیں لگ گئی “
“اچھا دھیان رکھا کرو میری جان آور او اندر فریش ہوجاؤ میں نے تمہارے لیے بریانی بنائی ہے تم فریش ہوجاؤ میں لگواتی ہوں “
“اوکے موم ۔۔!!”حدیقہ شاہ کے کندھے میں ہاتھ ڈال کر ان کے سر پر پیار کرتا وہ بولا
اچھا آجاو اندر تم ۔۔۔
حدیقہ شاہ اسے تلقین کرنے اندر کی جانب بڑھ گئی
“حسین حادثہ !!۔۔۔ “حدیقہ شاہ کے وہاں سے جانے بعد عون نے گاڑی کے اس حصے پر ہاتھ پھیرا اور پھر لب دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ روکی”
______
حدید شاہ کی گاڑی اس وقت خان مینشن سے کچھ فاصلے پر موجود تھی
جب ایک اور سیاہ رنگ کی گاڑی گیٹ کے بالکل پاس آکر رکی تھی
گارڈ نے دروازہ کھولنا چاہا مگر شاید گاڑی میں موجود نفوس نے مین گیٹ کھولنے سے سے منع کردیا تھا
گارڈ کے انداز سے لگتا تھا گاڑی میں موجود شخص کافی شناسا تھا
تبھی گاڑی کا دروازہ کھلا
اسی دن والا شخص اپنے فارمل سیاہ پینٹ کارٹ میں ہاتھ میں سفید اور سرخ رنگ کا بوکے تھامے باہر نکلا تھا
حدید شاہ کے ماتھے پر بے ساختہ بل پڑے
جس کا اندازہ انہیں خود بھی نہیں ہوا تھا
جازب کمال کی گاڑی کی دوسری طرف سے کمال اعوان بھی نکلے تھے
حدید شاہ کو وہ بوڑھا سا چہرہ بے حد شناسا سا لگا تھا مگر کون تھے دماغ میں نہیں آرہا تھا
وہ دونوں گھر کے اندر چلے گئے
حدید شاہ نے گاڑی کے نم ر کی تصویر کھینچی
ان کے اندر جاتے ہی حدید شاہ نے بھی گاڑی موڑ لی
وہ جو یہ ارادہ کرکے آئے تھے اندر جا کر اپنے تمام شکووں کو جھٹک دیں گے بغیر تصدیق کیے ہی واپس مڑ گئے ۔۔۔۔
_______
سر آپ سے ضروری بات کرنی ہے
علی بخش نے مؤدب انداز میں فون پر بالاج سے کہا
تم کواٹر میں ہی رکو علی بخش میں اسی طرف آرہا ہوں
شجاع کا فون کان سے لگائے بالاج کواٹر روم میں آیا تھا
“ہاں میں آج گھر پر ہی ہوں آجا اوکے ۔۔۔۔”
“ہاں بولو علی بخش کیا بات کرنی تھی تم نے مجھ سے ؟؟”
سر دوپہر میں ایک گاڑی گھر کے بیک سائیڈ میں تیس سے چالیس منٹ کھڑی رہی تھی اور پھر وہاں سے چلی گئی اور ایک گاڑی ابھی تھوڑی دیر پہلے مین گیٹ سے کچھ فاصلے پر بھی کافی دیر کھڑی رہی تھی
تم نے گاڑی کا نمبر پتا کروایا ؟؟
بالاج نے پر سوچ انداز میں کہا
نہیں سر دوپہر کے وقت بھی دھند تھی اور گھر کے پچھلے گیٹ پر اتنے کیمرے موجود نہیں ہے کہ گاڑی کا نمبر یاں گاڑی کے مالک کا پتا لگتا اور ابھی اس وقت بھی دھند اس قدر بھر چکی ہے کہ بس گاڑی کی حرکت ہی نظر آئی
علی بخش نے تفصیل سے بتایا
ہمم۔۔۔ تھیک ہے علی بخش تم گھر کی بیک سائیڈ پر اپنے گارڈز تعینات کروادو اور کیمرے بھی زیادہ کرواؤ مجھے کوئی کوتاہی نہیں چائیے
بالاج نے تفصیل سے اسے سمجھاتے ہوئے اپنے فون پر آتی کال پر دھیان دیا
اوکے سر آج ہی میں یہ سارے کام کروا دوں گا
“اوکے گڈ علی بخش ۔۔۔۔”
وہاں سے مڑتے ہوئے بالاج نے اپنے فون پر گرفت مضبوط کی
“تو مجھ تک پہنچ ہی گئے آپ “
“مگر اپنی فیملی تک نہیں پہنچنے دوں گا مسٹر شاہ “
