Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 15)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 15)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
صبح حدید شاہ جب بیدار ہوئے تو انہیں یاد آیا وہ
اس وقت عون کے گھر پر موجود ہیں ۔حدید شاہ نے ارد گرد نظر دہرائی وہ عون کا ہی کمرہ تھا رات کو اپنی
نا ساز حالت کی وجہ سے وہ محسوس نہیں کر سکے تھے وہ جلدی سے اٹھ کے فریش ہو کر ان کا ارادہ واپس
جانے کا تھا لون سے نکلتے ہوئے ان کی نظر اپنے
والد پر پڑی ابراہیم شاہ حدیقہ شاہ اس وقت “اُن” کے
ساتھ خوش گپوں میں مصروف تھے بس ایک لمحہ حدید نے “اُن” کو دیکھا اور پھر وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے ۔۔۔
فیصل شاہ ایک دم خاموش ہوئے ان کی نظر حدید شاہ پر نہیں پڑی تھی نہ ہی انہیں جاتا دیکھا تھا مگر ان کا چونک جانا اور ایک دم خاموش ہوجانا عون نے محسوس کیا
“کیا ہوا نانو؟؟” عون نے فکر مندی سے کہا
“اہ۔۔ نہیں کچھ نہیں ” فیصل شاہ نے حدید کی موجودگی کو وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا
مگر عون کو ضرور حدید شاہ یاد تھے تبھی وہ کام کا
کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا
قدم تیز ہوگئے ۔۔۔ مگر کمرہ بالکل خالی تھا
مطلب صاف تھا حدید شاہ جا چکے ہیں
عون نے سر پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلایا پھر گہری سانس بھر کر دروازہ بند کرکے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔
ایک ضروری کام کو پورا کرنے ۔۔۔!!
_______
اسے یاد نہیں تھا کب وہ رات کو بالاج سے شکوہ کرتے
کرتے سوئی مگر صبح تک وہ قدرے بہتر ہوگئی تھی
منہ ہاتھ دھو کر وہ اپنے کمرے کے ساتھ اٹیچ چھوٹے سے ٹیرس میں آگئی
آسمان میں اس وقت دھند کے باعث ہر چیز چھپی ہوئی تھی
“چندہ کیسی ہو اب ؟؟”
اپنے پیچھے سے صفا کی آواز پر وہ چونک گئی
انابیہ نے غور نہیں کیا تھا یاں شاید غور کر نہیں سکی صفا کی سرخ آنکھیں۔۔۔
“میں ۔۔؟؟”نا سمجھنے والے انداز میں صفا کو دیکھا
“میں ٹھیک ہوں زندہ ہوں بالکل یتیم اور مسکین “
انتہائی سفاکی سے کہتی صفا کا کلیجہ چیڑ گئی
“انابیہ !!!”
صفا نے سختی سے سر زنش کی
“ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں آپو بالکل یتیم اور مسکین”
خود اذیتی سے استہزایہ لہجے میں بولی
“ایسا کیسی کہہ سکتی چندہ مما میں بھائی ہم ہیں نہ تمہارے ساتھ اور مما وہ اگر یہ سنیں گی تو کیسا لگے گا انہیں؟؟ “
“مما اور بھائی تو تمہاری وجہ سے اپنے اپنے کام پر بھی نہیں گئے آج تو “
صفا نے آنسووں کو روک کر ضبط سے کہا
” ہاں آپ مما اور آپ کا بھائی نہ آج کے ہی دن ہی میں آپ کے بھائی کے سر پر زبردستی مسلط کی گئی نہ “
انابیہ کے کمرے میں آتا بالاج “زبردستی مسلط” لفظ پر ششدر ہوا تھا وہ وہی سے مڑ چکا تھا
صفا کے ساتھ ساتھ انابیہ بھی اس کی موجودگی محسوس کرکے چونک گئی بالاج وہاں سے چلا گیا تھا مگر صفا ہر حال میں انابیہ کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی تھی
“بیو میری جان یہ سب تم سے کس نے کہا ہے بھائی تو تم سے بہت پیار کرتے ہیں میری جان “
صفا نے اپنا ہاتھ اس کی گال پر رکھ کر نرم لہجے میں کہا
“اچھا اگر پیار کرتے ہیں تو مجھ سے اتنا بے خبر کیوں ؟..آپو کیوں؟؟”
“دو سال پہلے میرے اتنے ترلے منتوں کے بعد کیوں گئے کیوں مجھے اپنا عادی کیا ؟؟ کیوں ؟؟!!”
“انہیں تو یہ بھی نہیں پتا ہو گا میں پڑھتی کیا ہوں میری کتنی پڑھائی رہتی ہے “
“انہیں کچھ خبر نہیں ہے اور جن سے محبت کی جائے ان سے یوں بے خبر نہیں ہوا جاتا “
انابیہ پھٹ پڑی
“تم سے کس نے کہا بھائی تم سے بے خبر ہیں بیو ؟؟ تمہاری ایک ایک حرکت سے واقف ہیں بھائی آج سے نہیں تمہیں نکاح میں لینے کے بعد سے تم ضرور چھوٹی تھی بھائی نہیں ۔”
“تمہاری پڑھائی سے لے کر تمہارے گیدرننگ تک کو جانتے ہیں بھائی تمہارے سبجیکٹس سے لے کر تمہارے سر اور ٹیچرز سے واقف ہیں”
“حتیٰ کہ جو تم نے ان گزشتہ سالوں میں جو کورس بدلہ جو کوچنگ بدلی بظاہر تو تمہاری پسند کے تھے مگر ان سب کے پیچھے بھائی تھے اور ان پچھلے دو سالوں کی بات کر رہی ہو تم اتنا دور ہونے کے باوجود تمہاری ساری روٹین سے واقف تھے بھائی “
“یہ بھائی اور میرا سیکرٹ تھا اور میں نے بھائی سے وعدہ کیا تھا تمہیں اس کی خبر نہیں لگنے دوں گی مگر کوئی بھی وعدہ کسے کے گھر کے خراب ہونے سے بڑا نہیں ہوتا “
“آپ ج۔۔۔ جھوٹ۔۔۔ بول ۔۔رہی ہیں آپ تو اپنے بھائی کا ساتھ دیں گی نہ “
انابیہ کا لہجہ مضبوط نہیں تھا لڑکھڑایا سا تھا حیران سا
“اچھا تو بتاؤ تم اپنے دستوں سے بھائی کی باتیں نہیں کرتی تھی ؟؟ “
صفا نے سنجیدگی سے پوچھا
انابیہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا
اسے اپنے میٹرک کے لاسٹ ائیر کے دن یاد آنے لگے جب پہلی بار بالاج اسے پک کرنے آیا تھا اس کی دوستوں کا آنکھیں پھاڑ کر بالاج کو دیکھنا
اسے بہت بُرا لگا تھا
اور پھر اگلے ہی دن بالاج کے بارے میں پوچھنا
“یار انابیہ یہ کل جو ہینڈسم سا لڑکا تھا جس نے تمہیں پک کیا تھا کیا وہ تمہارا بھائی ہے ؟؟”
انابیہ کی دوست ارم نے دلچسپی سے اسے دیکھ کر پوچھا
“ن۔نہیں وہ میرے ۔۔۔۔کزن “
وہ ہسبینڈ کہتے کہتے رکی تھی حیا نے اسے ان سب چیزوں سے پڑھائی تک دور رکھا تھا اور خود اسے بھی یہ ہی تلقین کی تھی
“اففف یار وہ کتنے پیارے تھے مجھے لگا تمہارے بھائی “
“کہیں میریڈ تو نہیں ؟؟ “
دوسری دوست نے بھی دلچسپی سے کہا
نہیں ۔۔انابیہ نے نفی میں سر ہلایا
اپنے دوستوں کے تبصروں کے بعد اس کا نظریہ بالاج کو دیکھنے کا آہستہ آہستہ بدلنے لگا تھا
وہ جو اس کی بہترین دوست تھی بلا جھجھک اس سے ہر بات کر لیتی تھی ۔۔
اریبہ اور جہانگیر کے انتقال کے بعد سے اس نے ہمیشہ حیا بالاج اور صفا کی اپنے لیے محبت دیکھی
خاص طور پر بالاج کا نرم لہجہ محبت بھرا انداز وہ اپنی ہر طرح کی بات بالاج سے شئیر کرتی اپنی دوستوں سے لے کر اپنی پڑھائی سے لے کر ہر چھوٹی بڑی بات
مگر اب وہ بات بات میں جھجھکنے لگی جسے بالاج نے بہت شدت سے محسوس کیا
ایک دم ہی انابیہ کے مزاج کا بدل جانا اس کا شرمانا اسے عجیب بھی لگا اور شاید اس کی عمر کا تقاضا بھی لگا
مگر اسے بات کی گہرائی کا اندازہ تب ہوا جب ایک دن انابیہ کو پک کرنے گیا تو اس نے انابیہ اور اس کی دوستوں کی باتیں سنیں تھی
انابیہ تم کتنی لکی ہو تمہاری اتنی چھوٹی ایج میں اتنے پیارے لڑکے سے منگنی ہوگئی
تو کیا بالاج بھائی تمہارے سارے نکھرے اٹھاتے ہیں ؟؟
کسی نے اشتیاق سے پوچھا تھا
وہ تو پوزیسیو بھی ہوں گے ؟؟
‘”ہاں وہ بہت پوزیسیو ہیں “
انابیہ نے بالاج کی اپنے لئیے شدت پسندی کو محسوس کیا وہ جو اسے فضول دوست بنانے سے منع کرتا تھا اور اسے لڑکوں سے بات چیت کرنے سے بھی منع کرتا تھا
اس کی زرا سی چوٹ پر پریشان ہوجانا
“پھر تو تم لکی نہیں ہو انابیہ “
انابیہ کی ایک کلاس فیلو نے سنجیدگی سے کہا
“کیوں ؟!!” انابیہ کے ماتھے پر بل پڑے
“میں نے ایک ناول میں پڑھا تھا جو پوزیسیو لڑکے ہوتے ہیں وہ بے جا پابندیاں لگاتے ہیں اور اپنی ہیروئین کو مارتا تھا ٹارچر بھی کرتا تھا وہ ہیرو “
انابیہ پریشان ہوئی
“میرے لاج ایسے نہیں ہیں “
اس نے روہانسا ہو کر اس لڑکی کی مزاحمت کی
“اوو۔۔۔ میرے لاج ؟؟ “
انابیہ نے اپنا چہرہ چھپالیا تھا
تو اس کی دوستوں نے ہوٹنگ کی
بالاج نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینجی تھی اور ساتھ ساتھ ان لڑکیوں کے ساتھ انابیہ پر بھی غصہ آرہا تھا
وہ کیسے ان لڑکیوں سے یہ سب باتیں شئیر کر
سکتی ہے
مگر وہ نہیں چاہتا تھا انابیہ پر غصہ نکالے اس لیے وہاں سے دور ہوکر گیٹ کے پاس کھڑا ہوگیا
انابیہ وہاں آئی بالاج نے خاموشی سے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا
انابیہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھ گئی
اس نے بالاج کے سپاٹ تاثرات کو نوٹ نہیں کیا تھا
“لاج گجرے !!”
سگنل پر گاڑی کے رکنے پر انابیہ نے بالاج کا دھیان وہاں شیشے کے دوسری جانب کھڑی عورت کی طرف کروایا جس کے ہاتھوں میں ڈھیر سارے گجرے تھے
“فضول چیزوں کو چھوڑ کر پڑھائی کی طرف دھیان لگاؤ انابیہ “
اس کا لہجہ سخت تھا مگر اتنا نہیں
لیکن پہلی دفعہ بالاج کے غصے کا سامنا کیا تھا اس نے وہ ایک دم چپ ہوگئی
بالاج نے بھی اپنے غصے کو ضبط کرنا تھا اس لیے اسے نہیں چھیڑا
انابیہ کی آنکھوں میں آنسو آئے مگر وہ اندر لے گئی
“مما سے شکایت کروں گی “…سوں سوں کرتی وہ گاڑی کا دروازہ زور سے مار کر گئی تھی
بالاج نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دیا
اس کی یہ ہی معصومیت یہ ہی بےوقوفیاں وہ نہیں چاہتا تھا ابھی ختم ہو اس لیے ہی تو وہ غصہ کر گیا تھا
اب بے شک بالاج کو اس کا کوچنگ سینٹر چینج کروانا پڑتا یاں اس کی صحبت کو چھڑوانا پڑتا وہ سب کچھ کرتا
_______
“بالاج کیا کہہ رہی ہے میری بیا ؟۔۔۔”تم نے کیوں اسے کچھ کھلانے سے منع کیا اور کیوں اسے ڈانٹا ؟؟”
حیا نے بالاج کے اندر آتے ہی اس سے استفسار کیا
بالاج نے حیرانی سے حیا کے بازوؤں میں۔ سمائی مس چالاک کو دیکھا جو بیان بدلنے کے ساتھ اس پر الزام لگا رہی تھی
“مما میں ۔۔۔!!”
“بالاج میں نے کہہ دیا نہ آئندہ جو بیا کہے گی وہ لے کر دینا ہے تم نے اس کو .”
“ٹھیک ہے مما !!”
بالاج نے سر خم کیا
انابیہ نے دانت نکالے پھر بالاج کو منہ چڑھا کر وہاں سے بھاگ گئی
بالاج بیا کو مت ڈانٹا کرو انابیہ کے جانے کے بعد حیا نے سنجیدگی سے کہا
“مما میں نے بیا کو ڈانٹا نہیں مگر مجھے بیا پر غصہ تھا بالاج نے سارا واقع اپنی ماں کے گوش گزار کیا”
تو وہ بھی کچھ پریشان ہوئی
“بالاج بچے یہ اس کی ٹین ایج ہے اس عمر میں لڑکیاں فینٹسی میں رہنے لگتی ہیں انہیں ایسی باتیں اپنے ساتھ منصوب کرنا اچھی لگنے لگتی ہیں “
“مگر اس میں سب سے بڑا ہاتھ اس عمر میں۔ بچوں سے لاپرواہی برتنا اور بچوں کی بدلتی صحبت کا ہوتا ہے. “
“ایسے میں اگر ہم زبردستی اور غصہ کریں گے تو بچہ بھی بدگمان ہوتا ہے ۔”
“میں اسے سمجھاو گی اور ویسے بھی پیپرز کے بعد وہ کالج میں چلی جائے گی اس کی دوستیاں ختم ہو جائے گی ۔۔!!”
حیا نے تفصیلاً اسے سمجھانے کے ساتھ اپنی رائے دی
“مما دوستیاں ختم ہو جائیں گی اور پھر نئی جگہ جا کر نہیں دوستیں ملیں گی مگر اس کا دھیان تو اسی طرف رہے گا نہ “
میرے پاس اس کا حل ہے۔۔!”
حل ؟؟ کیسا حل بالاج ؟؟
“مما میں نے آپ سے یو-کے کے بارے میں بات کی تھی یہاں کا کام شجاع سنبھالے گا انکل کے مطابق بھی یہ ایک اچھی اوپرچیونیٹی ہے ہمارے لیے صفا کے فیوچر کے لیے میرے لیے انابیہ کے لیے “
“مگر بالاج تم دور !! “
حیا کا سوچ کر ہی حال عجیب ہوا
“مما ۔۔۔ آپ ہیں نہ ” بالاج نے ان کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر دھیرے سے دبایا
حیا کا حوصلہ بھر گیا
“جاؤ میری جان اللّٰہ پاک تمہیں کامیاب کرے “
“میرا جانا اب ضروری بھی ہوگیا ہے تاکہ آپ کی جھلی بہو اپنی پڑھائی پر دھیان رکھے اور پھر رخصتی کا سوچیں “
بالاج نے حیا کو ہنسانے کی غرض سے کہا
حیا بالاج کے گلے لگ گئی
صفا جو کافی دیر سے وہی پر کھڑی تھی وہ بھی بھاگ کر بالاج کے گلے لگی تھی بالاج نے اسے بھی اپنے پر شفقت حصار میں لیا
“میرا بچہ بہادر بچہ” صفا کو رونے سے بعض کیا
“صفو !! “بالاج نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
جی بھیا صفا نے اپنے آنسو صاف کیئے
“زرا بات تو سننا “
بالاج صفا کو وہاں سے لے گیا
“یہ باتیں بیا کو نہیں پتا لگنی چائیے بچے آپ سمجھ دار ہو مگر وہ نہیں سمجھ سکے گی آپ دھیان رکھو گی اس کا پیچھے سے ؟؟”
“بھیا یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے وہ میری بھی بہن ہے “
_______
ابھی دو دن ہی ہوئے تھے کہ انابیہ نے رولا ڈال دیا کہ اس کی دوستوں نے پری انجینئرنگ میں داخلہ لینا ہے تو وہ بھی سیم کالج میں جائے گی
حیا نے اسے سمجھایا مگر انابیہ نے حیا کو ایموشنل بلیک میل کیا صفا کے سمجھانے سے بھی کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا تھا
بالاج نے زرا سی سختی کی تو انابیہ پھر سے ناراض ہوگئی
اسے اپنی دوست کی “بے جا پابندیوں” والی بات تھوڑی تھوڑی سچ لگنے لگی۔۔۔
بالاج نے خاموشی دھرتے ہوئے انابیہ کی بات مان لی مگر ساتھ ہی اس نے یہ علان بھی کردیا کہ وہ دو سال کے لیے یو-کے جا رہا ہے
انابیہ کی حالت متغیر ہوگئی
مگر بالاج نے تو جانا تھا انابیہ کے ترلے کرنے کے باوجود بھی اسی کے لیے اس سے دور ہونا تھا
اور انابیہ وہ سمجھتی رہی اس کی ضد کے بدلے میں بالاج نے اسے ٹارچر کرنے کے لیے جانا تھا
انابیہ کا چہرہ بھیگا ہوا تھا
اس نے بھیگی آنکھوں سے صفا کو دیکھا
” بیا تمہارے بیمار ہونے کی خبر بھائی پر کیسی گزری وہ میں نے دیکھی “
“اور پھر تمہیں یاد ہے روز کی میری ان لائن کلاس وہ کلاس نہیں تھی روز کی ویڈیو کال تھی جس میں میں بھائی کو مما کے ساتھ تمہیں دیکھاتی”
“یہ ہی نہیں بس بلکہ تمہیں پری انجینئرنگ چھوڑنے سے لے کر جو تم پڑھ رہی ہو اس کی سجیشن دینے والے ان ڈائریکٹ بھائی ہی تھے اتنا تو تم بھی نہیں جانتی تمہارے انٹرسٹ کیا ہیں تم کیا ایزیلی پڑھ سکتی جتنا بھائی کو معلوم ہے ابھی تک کہہ رہی ہو تم مسلط ہو ان پر اسے مسلط ہونا کہتے ہیں ۔۔۔۔؟؟”
“آپو۔۔۔” انابیہ اس کے گلے لگ کر رونے لگی تمام حقیقتیں جان کر اس کا دل شدت سے رونے لگا وہ کتنی اذیت دیتی ہے اپنے لاج کو
“آپو وہ ناراض ہو کر گئے ہیں وہ نہیں مانیں گے اب “
“مان جائیں گے بھائی تم فکر مت کرو اپنا چہرہ صاف کرو فریش ہوجاؤ مما بھی بہت پریشان ہیں تمہیں ایسے دیکھ کر “
انابیہ نے اسبات میں سر ہلاکے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
صفا نے اس کے گال کو چھوا اور وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
_______
حیا اپنی نگرانی میں انابیہ کے لیے لائٹ سا ناشتہ ریڈیو کروا رہی تھی جب انہیں جازب کمال کی کال آئی
“اسلام علیکم جازب صاحب کیسے ہیں آپ ؟؟ “
“جی میں آج نہیں آ پاؤں گی بیا کی طبیعت کل کی خراب ہے ۔۔۔”
“جی اب بہتر ہے مگر میں آج اسی کے پاس ہوں ۔۔”
“جی بہتر !!”
“آپ بتائیں سر جی کی طبیعت کیسی ہے ؟؟”
“جی صحیح ٹھیک ہے “
“اللّٰہ حافظ!!”
