Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode


💞💞💞💞💞💞💞💞
کیا تو جانتا ہے کہ تیرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
اور جو تو نے کیا ہے دبیر کا اشارہ فاز کی حالت کی طرف تھا۔تجھے کیا لگتا ہے میں تجھے آسانی سے جانے دوں گا؟
اور تجھے تو یہ بھی لگ رہا ہو گا کہ دبیر ڈر گیا اور اب کہی چھپ کر بیٹھا ہو گا.
کیا سچ میں تجھے لگتا ہے کہ دبیر تیرے جیسے نالی کے کیڑے سے ڈر سکتا ہے؟
دبیر نے عام سے لہجے میں کہتے ہوئے آفندی کو طیش دلا دیا تھا۔
میرے اڈے پر کھڑے ہوتے تو مجھے دھمکی دے رہا ہے آفندی نے غصے سے اپنے ہاتھ دبیر کے کالر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
جس نے آدھے راستے میں ہی آفندی کے بازوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا تھا۔
اس کے دائیں جانب کرن اور بائیں جانب ذیشان کھڑے تھے۔
پیچھے کھڑے کچھ آدمیوں کو اسد اور کبیر بے ہوش کر چکے تھے۔
یہ اڈا تھوڑی دیر بعد میرا ہونے والا ہے اور مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی بھی میرے گریبان تک پہنچے
کیونکہ جو بھی ایسی حرکت کرتا ہے میں اُس کے ہاتھ توڑ دیتا ہوں۔
دبیر نے کہتے ہی اپنے سر کو خم دیا کبیر اور اسد اس کے اشارے کے انتظار میں ہی کھڑے تھے دبیر کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی اسد وہاں آگیا تھا۔
ان دونوں نے مل کر گھر کا پچھلا حصہ اچھے سے دیکھ لیا تھا۔
اسد نے ذیشان کے سر کے پیچھے گن رکھ دی اور دوسری جانب کبیر نے آفندی کی کن پٹی پر گن رکھ دی تھی۔
کچھ پل کا کھیل تھا پہلے بازی آفندی کے ہاتھ میں تھی لیکن اب دبیر کے ہاتھ میں تھی۔