Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
مصطفیٰ بھائی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
مریم نے مصطفیٰ کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
مریم…….
بھابھی اس سے پہلے مصطفیٰ اپنا جملہ مکمل کرتا فاز نے پیچھے سے آکر مصطفیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
جس نے گھور کر فاز کو دیکھا تھا۔
مجھے پہلے نہیں بتا سکتے تھے یہ بھی یہی پر ہے مصطفیٰ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
مجھے کیا پتہ تم رانی کو یہی لے کر آؤ گے فاز نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
میرے پاس اور کوئی جگہ تھی جو میں اُسے وہاں لے کر جاتا
مصطفیٰ کا دل کیا فاز کا سر پھاڑ دے ۔
آپ دونوں کی بات چیت ختم ہو گئی ہو تو میری بات کا بھی جواب دے دیں۔
مریم جو دونوں کو ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کرتے دیکھ رہی تھی غصے میں بولی۔
بھابھی جی یہ کمینہ میرا مطلب ہے مصطفیٰ نے اپنے کندھے پر بڑھتی گرفت پر اپنی الفاظ کی درستی کی
فاز میرا دوست ہے۔
مصطفیٰ نے جلدی سے کہا۔
آپ نے تو مجھے نہیں بتایا مریم نے فاز کو دیکھتے پوچھا ۔
بیوی آپ نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں فاز نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
ویسے مصطفیٰ بھائی آپ میں ہمت ہے جو اپنے دوست کو برداشت کرتے ہیں
مریم نے غصے سے فاز کو گھورتے ہوئے کہا ۔
ویسے آپ بھی تو پوری زندگی جھیلنے والی ہیں
فاز نے مریم کی طرف اپنے قدم بڑھاتے ہوئے کہا ۔
جس نے اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھا دیے تھے
مصطفیٰ بھائی آپ کے دوست سے مل کر مجھے زرا سا بھی اچھا نہیں لگا۔
مریم نے مصطفیٰ کو دیکھتے صاف گوئی کا مظاہرہ کیااور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
مصطفیٰ قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا ۔
منہ بند کر مکھی چلی جائے گی
فاز نے مصطفیٰ کو دیکھتے کہا ۔
ویسے تم دونوں کی جوڑی ایک دم پرفیکٹ ہے
مصطفیٰ بنے ہنستے ہوئے کہا.
میرا چھوڑو رانی کا مریم کو کیا کہنا ہے اُس کے بارے میں سوچو
فاز نے گھورتے ہوئے کہا اور مصطفیٰ کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ جو سوچ میں پڑ گیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
ذیشان کو ہوش آچکا تھا۔رانا صاحب اور حسیب اس کے پاس ہی بیٹھے تھے۔
ڈیڈ عمر نے بہت برا کیا ہے اُس کمینمے کو میں جان سے مار دوں گا
نہیں جان سے نہیں ماروں گا اُسے بے بس کر اُس کے سامنے اُس کی بیوی کو اپنا بناؤں گا ذیشان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ رانا نے تحمل سے کہا
میں ٹھیک ہوں مجھے کچھ نہیں ہوا ۔
ذیشان نے غصے سے کہا۔
بھائی ڈیڈ ٹھیک کہہ رہے ہیں ہم فاز سے ضرور بدلہ لیں گے لیکن پہلے آپ ٹھیک ہو جائیں
حسیب نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
ذیشان نے غصے سے حسیب کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
نیہا اپنے بھائی کو دیکھنے نہیں آئی تھی۔بھائی سے زیادہ اسے شیرو عزیز تھا اور اس وقت بھی اُسکے فلیٹ پر موجود تھی ۔
دبیر جو حویلی سے سیدھا اپنے فلیٹ پر آیا تھا کہ کچھ دیر اکیلے رہ کر اپنے دماغ کو سیٹ کر سکے ۔
لیکن صوفے پر بیٹھی نیہا کو. دیکھ کر اس کا پارہ ہائی ہو گیا تھا ۔
تم اندر کیسے آئی؟
دبیر نے سرد لہجے میں پوچھا اس کے اس فلیٹ کا رانا کو بھی معلوم تھا۔
ویسے میں لاک کھولنے میں ماہر ہوں اور تمھارے فلیٹ کا لاک تو آسانی سے کھل گیا تھا۔
میرے خیال سے تمہیں اپنے دروازے کا لاک چینج کروانا چاہیے کوئی بھی آسکتا ہے اور تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے نیہا نے دبیر کے سامنے کھڑے ہوتے مشورہ دینے والے انداز میں کہا۔
شیرو دودھ پیتا بچہ نہیں ہے نیہا ڈارلنگ وہ جانتا ہے کہ اُس کے فلیٹ پر کوئی بھی آسکتا ہے لیکن اُسے خطروں سے کھیلنے کا شوق ہے۔اور جو اُسے نقصان پہنچانے آتا ہے پھر اُس کی لاش یہاں سے باہر جاتی ہے۔
دبیر نے ہلکا سا مسکراتے نیہا کے بالوں کی لٹ کو کھینچتے ہوئے کہا۔
نیہا دبیر کی بات تو سن ہی نہیں رہی تھی وہ تو قریب سے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
تم اتنے ہینڈسم کیوں ہو؟
نیہا نے کھوئے ہوئے انداز میں اپنا ہاتھ دبیر کے چوڑے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ۔
آہ تمھارا ٹائم ختم ہو گیا نیہا میڈم اب عزت کے ساتھ یہاں سے چلی جاؤ ورنہ ذلیل کرکے نکالوں گا
دبیر نے نیہا سے دور ہوتے اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتے کہا ۔
اگر تم مجھے ذلیل بھی کرو گے تو میں خوشی خوشی ہو جاؤ گی عباس
نیہا نے دبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
دبیر نے مڑ کر نیہا کو دیکھا پل بھر میں اس کا چہرہ سنجیدہ ہوا تھا۔
تم مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتی ہو؟ یہ تمھاری کیسی محبت ہے جس میں تم کسی دوسرے مرد کا ساتھ خوشی خوشی قبول کر لیتی ہو وہ بھی صرف ایک رات کے لیے؟
دبیر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
اگر تم کہو گے تو میں سب کچھ چھوڑ دوں گی صرف ایک بار صرف ایک موقع مجھے دے دو
نیہا نے دبیر کا ہاتھ تھامتے ہوئے بے بسی سے کہا ۔
میرے لیے اپنے باپ اور بھائیوں کے خلاف جا سکتی ہو؟
دبیر نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں نیہا نے بنا سوچے سمجھے جواب دے دیا۔
دبیر کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔
ٹھیک ہے ابھی تم اپنے گھر جاؤ میں ضرور تمھارے بارے میں کچھ نا کچھ سوچوں گا
دبیر نے اپنا ہاتھ نیہا کے ہاتھ سے الگ کرتے کہا۔
تھیک یو سو مچ عباس نیہا نے خوشی سے دبیر کے گلے لگتے کہا ۔
آج اسے لگ رہا تھا اسے سب کچھ مل گیا ہے ۔
اب جاؤ یہاں سے دبیر نے رخ موڑے کہا ۔
نیہا نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی
دبیر وہی صوفے پر بیٹھ گیا تھا اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر پینے لگا اب تو اسے سگریٹ پینے کی گندی عادت پڑ گئی تھی اس کے بغیر دبیر کا گزرہ نہیں ہوتا تھا ۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد دبیر فرش ہونے چلا گیا تھا
اسے آج کبیر سے ملنا تھا۔
💞💞💞💞💞
زری کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو. کمرے میں تنہا پایا۔
دبیر اچھا انسان نہیں ہے وہ کسی مقصد کے تحت یہاں آیا ہے مجھے گھر میں بتانا چاہیے
زری نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
لیکن میں کیسے کہوں گی اگر دبیر برا ہے تو شاہ میر کون سا اچھا ہے ماں جی پہلے ہی پریشان ہیں۔
یا اللہ میں کیا کروں کسے بتاؤں؟
وہ چاہتا ہے شاہ میر مجھے طلاق دے دے لیکن میں نے اُس کا کیا بگاڑا ہے میرے ساتھ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے۔
زری نے بے بسی سے کہا ۔
اس وقت زری خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی۔
کوئی بھی اپنا اس کے پاس نہیں تھا اپنی ماں کو بھی کچھ نہیں بتا سکتی تھی اگر بتاتی بھی تو کیا کہتی۔
شاہ میر آپ کبھی نہیں سدھر سکتے کبھی نہیں زری کو تھپڑ یاد آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
بی بی جی بڑی بیگم صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں ملازمہ نے کمرے میں داخل ہوتے زری کو کہا جس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
تم جاؤ میں آرہی ہوں زری نے بھاری لہجے میں کہا۔ملازمہ وہاں سے چلی گئی تھی۔زری نے اپنا حلیہ درست کیا اور خود بھی کمرے سے باہر چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
ویسے جس انسان کی تمہیں تلاش ہے وہ کب تک مل جائے گا تمہیں؟
دبیر نے کبیر کو دیکھتے پوچھا دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔کبیر نے بلیک کلر کی پینٹ شرٹ پہنی تھی ماتھے پر بکھرے بال چہرے پر سنجیدگی لیے کھانا کھا رہا تھا ۔
دبیر نے بلیک پینٹ کے ساتھ ریڈ شرٹ اور اوپر بلیک ہی واسکٹ پہنی تھی بالوں کو جل سے اچھی طرح سیٹ کیے آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے دونوں بے حد خوبصورت لگ رہے تھے۔
آتے جاتے لوگ دونوں کو دیکھتے تو تعریف کیے بنا نا رہ پاتے
دبیر کے سوال پر کبیر چونکا ضرور تھا پھر مسکرا پڑا کیونکہ دبیر کو پہلی مرتبہ ہی دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا دبیر بہت پہنچی ہوئی چیز ہے۔
بس ایک بار کمینہ ہاتھ آجائے اُسے دادی یاد نا دی لا دی تو میرا نام بھی کبیر نہیں
کبیر نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے کہا ۔
ابھی وہ پاکستان نہیں آیا
دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔
ہاں جانتا ہوں۔
کبیر نے کہا اور اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
لیکن کچھ فاصلے پر بیٹھی لڑکیاں دونوں کو گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں اور دنوں کی نظریں کبیر کو تنگ کر رہی تھیں۔
بہنوں میں شادی شدہ ہوں اور میری ایک عدد خوبصورت بیوی بھی ہے میں آپ لوگوں کو لیفٹ نہیں کروا سکتا لیکن یہ بھائی صاحب ابھی سنگل ہے ان پر آپ لائن مار سکتی ہیں ۔
کبیر نے اونچی آواز میں اُن لڑکیوں کو دیکھتے کہا جو بے شرمی سے ہنس پڑی تھیں ۔
ارد گرد کے لوگ بھی کبیر کے انداز پر ہنس پڑے تھے ۔
دبیر نے کھا جانے والی نظروں سے کبیر کو دیکھا۔
یار مجھ سے کھانا نہیں کھایا جا رہا تھا اب وہ تمہیں دیکھیں گئیں میں آرام بسے کھانا کھا سکتا ہوں اب تم روزانہ تو کھانا کھلاؤ گے نہیں اس لیے میں پیٹ بھر کر کھاؤں گا ۔
کبیر نے دبیر کو دیکھتے ایک آنکھ دباتے کہا اور ویٹر کو آواز دے کر مزید کھانا آڈر کیا اور وہ کھانا پانچ یا چھ لوگوں کا تھا ۔
تم انسان ہی ہو نا؟ دبیر نے کبیر کو دیکھتے پوچھا ۔
میرے کھانے پر نظر مت رکھو اپنا کھاؤ کبیر نے گھورتے ہوئے کہا۔
اتنے میں اس کا موبائل رنگ ہوا۔میسج پڑھنے کے بعد کبیر نے دبیر کو دیکھا ۔
مجھے ایک ارجنٹ کام سے جانا ہے تم ایسا کرنا وہ کھانا میرے فلیٹ پر لے جانا کبیر نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
لیکن جانے سے پہلے وہ پیمنٹ کر گیا تھا ۔
سنو باہر جو پانچ بچے بیٹھے ہیں جو کھانا میں نے دوبارہ آڈر کیا تھا ان کو دے دینا اگر کوئی چالاکی کی تو…… کبیر نے سنجیدگی سے ویٹر کو دیکھتے اپنی بات ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا ۔
ایسا کرو وہ خالی ٹیبل پر کھانا لگاؤ میں بچوں کو کے کر آتا ہوں اُن کے پاس میرا نمبر ہے اگر اُن کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی تو وہ مجھے کال کر کے بتا دیں گے ۔اور میرے تعلقات ٹائیگر سے بھی ہیں اور تم تو اچھے سے جانتے ہو ٹائیگر کون ہے؟
کبیر نے سرد لہجے میں کہا اسے ویٹر کی شکل دیکھ کر ہی پتہ چل گیا تھا کہ وہ کیسا ہے اس لیے اُسے وارن بلکر رہا تھا ۔
سر آپ بے فکر رہیں ویٹر نے جلدی سے کہا ۔
دبیر کال اٹینڈ کرنے کے لیے باہر گیا تھا ۔
کبیر اُن پانچ بچوں کو اندر لے کر آیا اور اُن کو ٹیبل پر بیٹھا کر وہاں سے چلا گیا
جو خوشی خوشی کھانا کھانے لگے تھے۔
دبیر نے واپس آتے ویٹر کو آواز دی تاکہ پیمنٹ کرکے جائے ۔
سر وہ جو آپ کے ساتھ آئے تھے انہوں نے ساری پیمنٹ کر دی ہے ویٹر نے مودبانہ انداز میں کہا۔
دبیر کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی تھی اور جو انہوں نے بعد میں آڈر کیا تھا وہ؟
دبیر نے ویٹر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
سر وہ انہوں نے اُن بچوں کے لیے کیا تھا ۔ویٹر نے بچوں کی طرف اشارہ کرتے کہا جو کھانا کھا رہے تھے ۔
اس بار دبیر کھل کر ہنس پڑا تھا ٹھیک ہے جاؤ دبیر نے اُن بچوں بکو دیکھتے کہا ۔
بچوں نے جب کھانا کھا لیا تو آئسکریم دبیر نے اُن کو لے دی تھی اور بچوں کے جانے کے بعد خود بھی وہاں سے باہر چلا گیا ۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
فاز کھولو اسے دبیر نے اسلم کو دیکھتے کہا جس نے فوراً اسلم کو کھول دیا۔
میں تمہیں آذاد کر رہا ہو وہ دروازہ دیکھ رہے ہو وہاں سے تم باہر جا سکتے ہو۔
لیکن ایک شرط پر دبیر نے اسلم کو. دیکھتے کہا جو آذادی کا سن کر خوش ہو گیا تھا۔
دبیر سیدھا تہہ خانے میں آیا تھا ۔اور دبیر کو دیکھتے ہی اسلم گڑگڑاتے لگا تھا ۔کہ ہو سکتا ہے دبیر اس کی مدد کر دے ۔
کون سی شرط اسلم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
تمہیں بھاگنا ہوگا جتنا تیز تم بھاگ سکتے ہو بھاگو اگر تم رک گئے تو میرا بولٹ تمہیں دبوچ لے گا
دبیر نے بولٹ کے سر ہر پیار کرتے کہا ۔
اسلم دبیر کے ساتھ کھڑے کتے کو دیکھ کر ڈر گیا تھا غصے سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں ۔
جاؤ دبیر نے سرد لہجے میں کہا ۔اسلم بنا کچھ سوچے دروازے سے باہر چلا گیا۔
باہر سڑک بلکل صاف تھی اسلم نے بھاگنا شروع کیا اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔بولٹ اپنی زبان باہر نکالے اسلم کو گھور رہا تھا۔
اسلم نے اس بار اندھا دھن بھاگنا شروع کیا اسے یہی لگ رہا تھا۔
کتا اس نے پیچھے آرہا ہے لیکن وہ وہی بیٹھا تھا۔
دبیر نے فاز کو کہا تھا جتنی سزا اُسے مل چکی ہے وہی کافی ہے اس لیے اسلم کو چھوڑ دیا۔
اس سے پہلے فاز اس سے سب کچھ کہلوا چکا تھا جو کچھ اس نے مریم کے ساتھ کیا اور ویڈیو بھی بنا لی تھی
کیونکہ اس کی بیوی اس پر یقین تو کرتی نہیں تھی ۔
واہ ہیرو آج تو بہت پیار لگ رہا ہے ۔
فاز نے دبیر کو دیکھتے مسکرا کر کہا جو ہنس پڑا تھا۔
فاز زری کو ساری سچائی میں بتا چکا ہوں
دبیر نے چہرے پر سنجیدگی لاتے کہا۔
اگر اُس نے سب کو بتا دیا تو؟
فاز نے حیرانگی بسے پوچھا۔
نہیں وہ کسی کو نہیں بتائے گی اور اب مجھے صرف ایک رات کے لیے زری کو اغوا کرنا ہے اُس کے بعد میں اُسے دوبارہ حویلی چھوڑ دوں گا ۔
دبیر نے فاز کو اپنا پلان بتاتے ہوئے کہا۔
تم کرنا کیا چاہتے ہو دبیر؟ فاز نے پریشانی سے پوچھا ۔
فکر مت کرو ایسا ویسا کچھ نہیں کروں گا ۔
اور میں حویلی جا رہا ہوں زری کو ایک اور سچ سے آگاہ کرنا ہے ۔
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔اور پیچھے دروازے سے باہر چلا گیا ۔
زری تمھارا اب اللہ ہی مالک ہے فاز نے گہرا سانس لیتے کہا اور خود بھی تہہ خانے سے باہر چلا گیا۔
💞💞💞💞💞💞
حویلی میں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔زری نغمہ بیگم کے کمرے میں کافی وقت تک بیٹھی رہی تھی۔
اور اب ان کے کمرے سے نکل کر کچن کی طرف جا رہی تھی۔
سب کا خیال اسے ہی رکھنا تھا۔رانی کا بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔
زری نے بے دلی کے ساتھ کچن کو دیکھا اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
زری نے اپنی ماں کے پاس جانے کا سوچا کم از کم ماں کے پہلو میں چھپ کر رو کر اپنے دل تو ہلکا کر سکتی تھی ۔
زری مڑ کر کچن سے نکلنے لگی تو پیچھے کھڑے دبیر کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی
زری نے سنبھل کر نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو دبیر کو دیکھ کر ڈر گئی ۔
اور یہ بات دبیر نے بھی نوٹ کی تھی۔
کیسی ہو جانِ من دبیر نے زری کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے گہرے لہجے میں پوچھا ۔
تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟
زری نے بےبسی سے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
شاہ میر سے طلاق لے لو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور تم الگ سے اپنے مطابق اپنی زندگی گزار سکتی ہو۔
دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔
میں شاہ میر سے طلاق کیوں لوں؟
میرا نام اُن کے ساتھ جڑ چکا ہے اور اتنا آسان نہیں ہوتا سب کچھ ایک سیکنڈ میں ختم ہوجانا۔
زری نے دبیر کو دیکھتے کہا ۔
جو ہلکا سا ہنس پڑا تھا
مجھے معلوم تھا تم بہت ضدی ہو تو میں تم سے پہلے ہی معذرت کرتا ہوں
دبیر کا لہجہ ایک سیکنڈ میں تبدیل ہوا تھا ۔
کیا مطلب؟
زری نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔
آگے جو میں کرنے جارہا ہوں وہ تمھارے لیے تکلیف دہ ضرور ہو گا لیکن میں دیکھنا چاہتا ہوں تمھارا گھٹیا شوہر کتنا تم. پر یقین کرتا ہے
دبیر نے زری کی طرف اپنے قدم بڑھاتے ہوئے کہا جو پیچھے کو کھسکتی فریج کے ساتھ جا لگی تھی۔
تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے رویا مت کرو دبیر نے تھوڑا سرد لہجے میں کہا ۔
زری کے آنسو میں روانگی آگئی تھی ۔
شیششش دبیر نے زری کے ہونٹ کو اپنے انگوٹھے سے سے سہلاتے ہوئے کہا ۔
زری آنکھوں میں خوف لیے سانس روکے کھڑی تھی۔
جانتی ہو کچھ ٹائم پہلے چھت پر تمہیں شیرو ملا تھا ۔
دبیر نے زری کی گردن سے بال پیچھے کرتے اس کے کان کی طرف جھکتے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
دبیر کی گرم سانسوں کے تھپڑ زری کی گردن کو جھلسا رہے تھے ۔
وہ میں ہی تھا۔
دبیر نے کہتے ہی ہلکا سا اپنے ہونٹوں سے زری کی گردن کو چھوا اور پیچھے ہٹ گیا۔
زری کی خوف سے ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
دبیر زری کے دل میں خود کے لیے خوف پیدا کرنا چاہتا تھا جو وہ چکا تھا۔
شاہ میر سے تمھاری کیا دشمنی ہے؟ اور کیوں میرے پیچھے پڑے ہو؟
کسی فری ٹائم نے بتاؤں گا پوری تفصیل سے دبیر نے آنکھوں میں چمک لیے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا ۔
زری کا دل کیا خود کو ختم کر لے لیکن ایسا کر نہیں سکتی تھی۔
