Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

سر آپ کے لیے ایک پارسل آیا ہے ۔پاشا کے آدمی نے ڈرتے ہوئے اپنے کھڑوس بوس کو کہا جو فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ سے سب آدمیوں پر قہر بن کر برسا تھا۔
کھولو اسے پاشا نے پارسل کی طرف اشارہ کرتے سرد لہجے میں کہا۔
آدمی نے پارسل کھولا تو اندر ایک باکس میں کچھ تصویر تھیں ۔
آدمی نے وہ تمام تصاویر پاشا کے سامنے ٹیبل پر رکھی ۔پاشا نے اُن تصاویر کو دیکھا تو ایک دم اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے ۔
شیرو یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔
پاشا نے تصویر میں موجود عباس کو دیکھتے ہوئے کہا جو پٹرول کو وہاں پڑے ہتھیاروں پر ڈال رہا تھا ۔
اُسی تصویر کے پیچھے لکھا تھا۔
تمھارا شیرو واپس آگیا ہے پاشا۔
پاشا کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔شیرو نے آتے ہی اس کا بہت زیادہ نقصان کر دیا تھا اب آگے پتہ نہیں کیا کرنے والا تھا ۔
پتہ لگاؤ شیرو اس وقت کہاں ہے؟ پاشا نے اپنے آدمی کو حکم دیتے کہا ۔
اور خود وہی آنکھیں موندے صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا ۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
ماضی💞💞
علی اور عباس دونوں گھر سے کافی دور آگئے تھے ۔اندھیرا ختم ہوتا جارہا تھا دونوں تھوڑی دیر رکتے اور پھر بھاگنے لگتے۔
کہاں جانا تھا اس بات سے دونوں انجان تھے ۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
عباس نے خالی سڑک کو دیکھتے ہوئے علی سے پوچھا۔
پتہ نہیں علی نے جواب دیا اور ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھ گیا دونوں کے کی ٹانگیں اب درد کرنے لگے تھیں۔
عباس بھی علی کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا ۔
ابھی انکو بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ ان کے پاس سے کچھ کالے رنگ کی مرسڈیز گزریں۔
علی بہت غور سے اُن گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا ۔
گاڑی روکو گاڑی میں بیٹھے آدمی نے اپنے گلاسز اتارتے ڈرائیور کو حکم دیا ۔گاڑی کچھ فاصلے پر جا کر رک گئی تھیں ۔
تیسری گاڑی کا دروازہ کھلا اور اندر سے ایک خوش شکل آدمی باہر نکلا جس کی عمر لگ بھگ چالیس سال لگ رہی تھی۔
وہ آدمی چلتا ہوا علی اور عباس کے پاس آیا اس نے کالے رنگ گا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا ۔
بچوں کیا تم لوگ اپنے گھر کا راستہ بھول گئے ہو؟
اُس آدمی نے دونوں کے پاس گھٹنے کے بل بیٹھے پوچھا ۔
نہیں ہم تو اپنے گھر سے بھاگ کر آئے ہیں علی نے ابو کا قتل کر دیا اس لیے ہم وہاں سے بھاگ آئے ۔عباس نے اچھے بچوں کی طرح ساری بات آدمی کو بتا دی جو پہلے تو تھوڑا حیران ہوا پھر مسکرا پڑا اور علی کا دل کیا عباس کا سر پھاڑ دے ۔
انکل ہم اپنے گھر چلے جائے گئے یہ جھوٹ بول رہا ہے چلو یہاں سے علی نے عباس کو بازو سے پکڑتے کھڑے کرتے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
اگر تم لوگ چاہو تو میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں اور میں وعدہ کرتا ہوں تم دونوں کو پولیس سے بھی بچا لوں گا کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں چلے گا۔
اُس آدمی نے کہا ۔
علی کے قدموں کو بریک لگی تھی ۔
آپ کون ہیں؟
علی نے اُس آدمی کو دیکھتے ہوئے پوچھا
چلو میرے ساتھ سب پتہ چل جائے گا اُس آدمی نے کہا اور دونوں پھر اُس کے ساتھ چلے گئے۔
اُس آدمی کا نام دانیال تھا۔جو دنیا کے سامنے تو ایک کامیاب بزنس مین تھا لیکن اس کے تعلقات مختلف ملکوں کے ڈان سے تھے ۔ ڈرگز، لڑکیاں اور ہتھیاروں کو سپلائی کرنا دانیال کا کام تھا ۔
اس نے علی اور عباس کو پڑھایا لکھایا اور اپنے بزنس کے بارے میں بھی ان کو وقت کے ساتھ ساتھ بتاتا رہا۔
دانیال اور علی نے عباس کا نام شیرو رکھا تھا۔
عباس کو یہ نام بہت پسند آتا تھا۔دانیال پیار سے عباس کو شیرو کہتا تھا ۔
چونکہ عباس کو کتے پالنے کا بہت شوق تھا تو دانیال نے ایک جرمن شیفرڈ عباس کو گفٹ کیا یہ کتا خاص دانیال نے عباس کے لیے منگوایا تھا ۔
عباس کو دانیال کا. یہ گفٹ بہت پسند آیا۔ ۔جس کا نام اس نے بولٹ رکھا تھا۔جرمن شیفرڈ کسی بھی انسان کے ساتھ اتنی جلدی ایڈجسٹ نہیں ہو جاتے ۔اسے بھی ٹائم. لگا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بولٹ عباس کا لاڈلہ بن گیا تھا ۔دانیال کے رکھے ہوئے سارے پالتو کتوں پر بولٹ اکیلا بھاری تھا ۔
علی کو جانور کچھ خاص پسند نہیں تھے ۔اس لیے وہ ان سب چیزوں سے دور رہتا تھا ۔
دانیال نے علی اور عباس کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔
دونوں دانیال کے کام میں بہت مدد کرتے تھے وقت کے ساتھ دانیال نے اپنا سارا کاروبار عباس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ۔
کیونکہ وہ کچھ سالوں میں ہی جان گیا تھا عباس اور علی دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔اور دانیال کے کام کو زیادہ اچھے سے عباس ہی سنبھال سکتا تھا ۔
لیکن یہ بات جب علی کو پتہ چلی تو اسے دانیال پر بہت غصہ آیا ۔لیکن خاموش رہا ۔
عباس کام کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا تو اس کو خبر ملی کہ دانیال کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور ایکسیڈنٹ اتنا شدید تھا کہ گاڑی کو آگ لگ گئی اور دانیال کی لاش بھی جل گئی ۔اور اُسی وقت دفنا دیا گیا۔
عباس کے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں تھی ۔وہ اُسی دن گھر واپس آگیا تھا۔اور دانیال کی قبر پر کافی وقت تک خاموشی سے بیٹھا رہا ۔
علی نے عباس کو بہت حوصلہ دیا دونوں نے پھر دانیال کے کام کو. سنبھال لیا تھا ۔
علی نے اپنا نام پاشا رکھا اور علی نام کو اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکا دیا ۔
دانیال کے جانے کے بعد پاشا نے لوگوں کے دلوں میں اپنی دہشت پیدا کی۔
اور بہت سے ایسے کام کرنے لگا جو اسے نہیں کرنے چاہیے تھے عباس ابھی اس بات سے لاعلم تھا ۔
💞💞💞💞💞
حال💞💞💞
رانی مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے چلو میرے ساتھ
مصطفیٰ نے کچن میں چائے بناتی رانی کو کہا ۔جس نے حیرانگی سے مصطفیٰ کی طرف دیکھا کیونکہ نکاح کے بعد اس نے رانی سے بات کرنا چھوڑ دی تھی بلکہ دیکھتا بھی نہیں تھا ایسا رانی کو لگتا تھا ۔
جو بھی بات کرنی ہے آپ یہی کر لیں میں آپ کے ساتھ کہی نہیں جاؤں گی ۔. رانی نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
ٹھیک ہے تو سنو تم شاہ میر سے طلاق لے لو
مصطفیٰ نے سنجیدگی سے کہا ۔
رانی نے مصطفیٰ کی طرف حیرانگی سے دیکھا۔
شادی کیا آپ کے لیے بچوں کا کھیل ہے؟ رانی نے سنجیدگی سے مصطفیٰ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جب تم شاہ میر کے ساتھ خوش نہیں ہو اور وہ بھی زرتشہ سے نکاح کر چکا ہے تو اب اُس کے نام کے ساتھ جڑے رہنے کا کیا مطلب ہے؟
مصطفیٰ نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا ۔
آپ کو کس نے کہا کہ میں خوش نہیں ہوں؟ میں بہت خوش ہوں اور بہتر ہو گا آپ میرے معاملے سے دور رہیں ۔
رانی نے سرد لہجے میں کہا اور مصطفیٰ کے پاس سے گزر کر باہر جانے لگی۔
جب اچانک مصطفیٰ نے اس کی کلائی پکڑی اور اپنے سامنے کھڑا کیا ۔
کیا تم شاہ میر سے محبت کرتی ہو؟ مصطفیٰ نے تھوڑا رانی کی کے چہرے کی طرف جھکتے ہوئے اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
شاہ میر میرا شوہر ہے اور اس سے میں بہت محبت کرتی ہوں اور ہمیشہ کرتی رہتی ہوں کم از کم انہوں نے مجھے ابھی تک اس حویلی میں تو رکھا ہے اور میں بہت خوش ہوں
رانی نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
مصطفیٰ نے گہرا سانس لیا آج اسے رانی ایک الگ ہی رانی لگی تھی ۔جسے اب کسی کی پرواہ نہیں تھی۔اور اسے بے حس بنانے میں زیادہ ہاتھ حویلی والوں کا ہی تھا
مصطفیٰ بھی کچن سے باہر چلا گیا تھا۔وہ جانتا تھا جو غلطی وہ کر چکا ہے اُس کی اتنی جلدی اسے معافی نہیں ملے گی.
💞💞💞💞💞💞
مریم اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو ابھی بھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
اس نے شکر ادا کیا کہ اس کی ماں کمرے میں موجود نہیں ورنہ مریم کو دیکھ کر ضرور پریشان ہوتی۔
وہ انسان پاگل ہے میں اب کبھی اُس کے سامنے نہیں جاؤں گی۔
مریم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔اسے اب فاز سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔
مریم وہی چارپائی پر آنکھیں موندے لیٹ گئی۔
اس نے اپنے لیے ایک فیصلہ کیا جس سے اس نے اپنی ماں کو آگاہ کرنا تھا۔اور وہ فیصلہ اس کی زندگی بدلنے والا تھا۔
💞💞💞💞
زری اب کافی بہتر تھی آج موسم بھی خوشگوار تھا باہر بادل گرج رہے تھے ۔
رانی مجھے لگتا ہے بارش ہونے والی ہے زری نے کھڑکی سے باہر موسم کو دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا ۔
رانی نے چونک کر زری کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا پڑی وہ جانتی تھی زری بارش کی دیوانی ہے ۔
زری میڈم ابھی تجھے بخار ہے اور بارش میں جانے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دے ۔
رانی نے صاف اسے منع کرتے ہوئے کہا ۔
رانی تو جانتی ہے مجھے نہیں روک سکتی اس لیے بارش نا ہونے کی دعا کر اگر بارش ہوئی تو میں ضرور جاؤں گی ۔
زری نے مسکراتے ہوئے کہا آج کافی دنوں بعد زری مسکرائی تھی ۔رانی بھی اسے مسکراتا دیکھ خاموش ہو گئی تھی ۔
میں سونے لگی ہوں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے جگا دینا رانی نے زری کو کہا اور بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر لیٹ گئی اور مصطفیٰ کی باتوں کو یاد کرنے لگی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی جو اس نے مصطفیٰ کو جواب دیا۔
لیکن یہ بھی سچ تھا اب اسے کسی چیز کی خواہش نہیں رہی تھی۔
یہی سب کچھ سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔
زری کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے پر پڑتی سکون دے رہی تھی۔اس نے حویلی کی چھت پر جانے کا سوچا اپنا ڈوپٹہ بیڈ سے اٹھایا اور کمرے کی لائٹ بند کرکے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
حویلی کی چھت سے پورا گاؤں نظر آتا تھا زری نے گہرا سانس لیا اور آنکھیں بند کیے وہی کھڑی ہلکی ہلکی ٹھنڈ کو محسوس کرنے لگی چاند کی روشی اس پر پڑ رہی تھی ۔
چھت کے کونے میں ایک ہیولا سا کھڑا تھا جسے زری دیکھ نہیں پائی تھی ۔جو پہلے سے یہاں موجود تھا۔
دبیر کافی وقت سے چھت پر تھا اس نے زری کو آتے دیکھا اور غور سے اس کی ایک ایک حرکت کو دیکھنے لگا اسے زری بہت معصوم لگی تھی بےشک جو اس کے ساتھ ہوا وہ غلط تھا ۔
زری نے آنکھیں کھولی اور چاروں اور اپنی نظر دوڑائی اسے چھت کے ایک کونے میں کسی کا عکس نظر آیا ۔
زری نے غور سے دیکھا تو وہاں کوئی کھڑا تھا۔زری ایک دم گھبرا سی گئی تھی اس سے پہلے وہ نیچے جانے کا سوچتی بارش شروع ہو گئی تھی اور بارش اس کی کمزوری تھی ۔
بارش کو دیکھتے ہی زری کے چہرہ کھل اٹھا تھا ۔جو مقابل نے بھی محسوس کیا تھا۔
بارش تیز ہو گئی تھی ۔
زری سب کچھ بھولے بارش کو انجوائے کرنے لگی ۔
اس کے کپڑے بھیگ کر جسم کے ساتھ چپک گئے تھے۔دبیر جو زری کو دیکھ رہا تھا اس نے اپنی نظروں کا رخ تبدیل کر لیا ۔لیکن اس کی نظر بار بار بھٹک کر زری کی طرف جا رہی تھی ۔
دبیر زری کے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ خود کی طرف کیا زری نے مقابل کو دیکھا جس کا چہرہ اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آرہا تھا ۔
زری کو ایک دم مقابل سے خوف محسوس ہوا تھا ۔ابھی تو وہ اُس دن کا خوف بھی اس کا کم نہیں ہوا تھا ۔
کو کون ہو تم؟
زری نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے کپکپاتے لہجے میں پوچھا ۔
دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی ۔اس نے زری کا بازو چھوڑا اور اس کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا ۔
زری دبیر کے اس قدر قریب آنے پر بوکھلا گئی تھی ۔وقت آنے ہر بتا دوں گا ڈارلنگ اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔
دبیر نے زری کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا جس سے اس کے ہونٹ زری کے کان سے ٹچ ہوئے تھے ۔
زری نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دبیر کے سینے پر رکھا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔
لیکن ناکام رہی ۔
جاؤ نیچے ابھی تمھارا بخار ٹھیک نہیں ہوا دبیر نے زری کو چھوڑتے سنجیدگی سے کہا ۔زری بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔
جلد ہی کچھ کرنا پڑے گا دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا اور خود بھی وہاں سے نیچے چلا گیا ۔