Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

عمر شاید یہ مجھے بھول گیا ہے میرے ہی ٹھکانے پر آکر مجھے نہیں پہچان رہا ۔
کس طرح اس کی یادداشت واپس لائی جائے؟ شیرو نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے عمر سے پوچھا
سامنے زمین پر گرے انسان کو تو سانپ سونگ گیا تھا۔
ت تم نے تو یہ کام چھوڑ دیا تھا نا آدمی نے ڈر کے مارے کپکپاتے لہجے میں پوچھا ۔
تم جیسے گھٹیا انسان چاہتے ہی نہیں تھے کہ شیرو انسان بن کر سکون کی زندگی گزارے تم لوگ مجھے دوبارہ جانور بنے دیکھنا چاہتے تھے
اس لیے واپس آنا پڑا تاکہ تم جیسے گند کو ختم کر سکوں۔
شیرو نے آدمی کو بالوں سے پکڑتے ہوئے غصے سے داڑھتے کہا ۔
شیرو میرا کوئی قصور نہیں ہے مجھے جیسا رانا صاحب نے کہا میں نے ویسا ہی کیا۔اُد نے کہا تھا کہ پتہ کرو شیرو آجکل کہاں ہے ۔
آدمی نے سامنے کھڑی موت کو دیکھتے ہوئے سچ بولنے میں ہی عافیت جانی
رانا رانا اُس کمینمے کو لگتا ہے سکون نہیں ہے بےغیرت انسان ہمیشہ ذلیل ہونے اپنے کتوں کو بھیج دیتا ہے اس بار تو تیرے رانا صاحب کا وہ حال کروں گا کہ وہ اپنے پیدا ہونے پر بھی پچھتائے گا۔
شیرو نے اس کے سر کو پیچھے جھٹکتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
عمر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے رانا کو بھیج دو تاکہ دوبارہ مجھے ڈسٹرب کرنے سے پہلے سو بار سوچے اور ہاں اب رانا کو ہون بتائے گا کہ شیرو کہاں پر ہے؟
عباس نے سوچنے والے انداز میں عمر کو. دیکھتے پوچھا جو ہنس پڑا تھا۔
عمر اپنے مہمان کی اچھے سے خاطر تواضع کرنا
شیرو نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
چھوڑ دو مجھے میں معافی مانگتا ہوں آدمی نے چیختے ہوئے کہا لیکن کسی نے اس کی نہیں سنی اور عمر کے اشارہ کرنے پر پیچھے کھڑے دو حبشی اُس آدمی کو اٹھا کر لے گئے۔
💞💞💞💞💞
کیا ہوا دبیر؟ اتنے غصے میں کیوں ہو؟ فاز نے حیرانگی سے پوچھا دبیر سیدھا بلیک پیلس آیا تھا اور بے تحاشہ غصے میں تھا ۔
کچھ نہیں میں تو ٹھیک ہوں دبیر نے سرخ آنکھیں فاز کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے اپنی کنپٹی دباتے کہا ۔
گاؤں کب چلنا ہے؟ دبیر نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
دبیر میرا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے گاؤں جانے کا ابھی میں اپنی بیوی کے پاس ٹھہروں گا فاز نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔
کیا حال ہے تمھاری بیوی کا؟ دبیر نے اپنی ٹینشن کو بھول کر فاز سے پوچھا جو کافی خوش نظر آرہا تھا۔
بے چاری کا رو رو کر برا حال ہے جیسے پتہ نہیں کون سے ظلم میں نے اُس پر ڈھا دیے ہیں
فاز نے گہرا سانس لیتے معصومیت سے کہا ۔
دبیر ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑا تھا
چلو مجھے اپنی بیوی سے ملا دو پھر مجھے گاؤں کے لیے نکلنا ہے دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔فاز نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں کمرے سے باہر چلے گئے ۔
مریم…. فاز نے کمرے میں داخل ہوتے مریم کو پکارا جس نے غصے سے فاز کو دیکھا آنکھیں اور ناک رونے سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
فاز کے پیچھے ہی دبیر کمرے میں داخل ہوا تھا ۔
دبیر نے ایک نظر مریم کو دیکھا تو فاز کو باہر جانے کا اشارہ کیا فاز خاموشی سے باہر چلا گیا تھا۔وہ جانتا تھا اد کی موجودگی میں وہ کوئی الٹا ہی جواب دے گی۔
کیسی ہو گڑیا؟
دبیر نے بیڈ پر کچھ فاصلے پر بیٹھتے میٹھے لہجے میں پوچھا ۔
مریم نے کوئی جواب نہیں دیا
میں فاز کا دوست ہوں تم یہ بھی سمجھ سکتی ہو میرے لیے وہ میرے بھائی کی طرح اہم ہے ۔
میں جانتا ہوں اُس نے جو کچھ بھی کیا وہ غلط تھا ۔اور یقین کروں میں نے اسے بہت ڈانٹا لیکن اب تو نکاح ہو چکا ہے ۔
دبیر نے شرمندگی سے کہا ۔
مریم نے حیرانگی سے دبیر کی طرف دیکھا۔اس کے اندر ایک چھوٹی سی امید کی کرن جاگی تھی۔
تو کیا آپ میری مدد کریں گئے؟ مریم نے امید بھرے لہجے میں. پوچھا
بلکل دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
میری بات سنو مریم تمہیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اور میں یہ بھی جانتا ہوں تمھاری منگنی بھی ہو چکی تھی اور تم اپنے منگیتر کو پسند بھی کرتی تھی ۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں اُس لڑکے کے بارے میں خود سب کچھ معلوم کرواؤں گا اگر وہ مجھے تمھارے لیے بہتر لگا تو وہی ہو گا جو تم چاہو گی
دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔
لیکن آپ اپنے بھائی کے خلاف جا کر میری مدد کیوں کر رہے ہیں؟ مریم نے بے یقینی سے پوچھا۔
اگر سچ کہوں تو تمہیں دیکھتے ہی جو پہلا خیال دماغ میں آیا وہ یہی تھا اگر میری کوئی بہن ہوتی تو تمھارے جیسی ہوتی
تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی۔
ہو دبیر نے کہا۔
شکریہ آپ کا مریم نے نظریں جھکا کر کہا
اگر میری بہن ہوتی تو مجھے شکریہ تو کبھی نا بولتی بلکہ پورے حق سے کہتی کہ بھائی میری مدد کرو
لیکن مجھے لگتا ہے تم نے مجھے اپنا بھائی نہیں مانا دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا ۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے مریم نے جلدی سے کہا۔
پھر ٹھیک ہے تمھارا بھائی تمھارے ساتھ ہے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ گھر تمھارا بھی ہے جہاں جانا ہے جاؤ اور ہاں فاز سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ کچھ کہے تو بلا جھجھک مجھے کال کرنا میں خود اُس کی کلاس لوں گا
دبیر نے کھڑے ہوتے کہا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا ۔
دبیر کی بات نے مریم کو کافی حد تک مطمئن کر دیا تھا ۔
باہر فاز کھڑا تھا ۔فاز مریم کو. کسی قسم کا یہاں مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اگر تم نے اُسے کسی قسم کی بھی تکلیف دینے کی کوشش کی تو پھر میرے قہر سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا ۔
دبیر نے گلاسز لگاتے فاز کو کہا جو حیرانگی سے دبیر کو. دیکھ رہا تھا ۔
کون مجھے کہہ رہا تھا اگر نکاح کے لیے نا مانے تو تہہ خانے میں بند کر دینا فاز نے دانت پیستے پوچھا۔
اُس وقت میں اسے جانتا نہیں تھا لیکن اب وہ دبیر کی بہن ہے اگر کسی نے اُس کے ساتھ برا کیا تو اُس کی خیر نہیں پھر چاہے وہ دبیر کا اپنا دوست ہی کیوں نا ہو ۔دبیر نے دو ٹوک انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
فاز کا دل کیا اپنا سر پھاڑ لے کیونکہ اگر مریم کو دبیر نے اپنی بہن بنایا ہے تو مریم کو اگر ہلکی سی خراش بھی آتی ہے تو فاز کی خیر نہیں تھی۔
چل فاز بیٹا اب ساس کا کام دبیر سرانجام دے گا۔فاز نے گہرا سانس لیتے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا ۔
💞💞💞💞
صبح زری کی آنکھ کھلی تو اسے اپنا سر پھٹا ہوا محسوس ہوا تھا۔
گزری رات آنکھوں کے سامنے گھومی تو بے ساختہ آنسو آنکھوں سے نکل کر تکیے کو بھگونے لگے تھے ۔
میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی شاہ میر تم بہت برے ہو تمہیں کسی کی تکلیف کا احساس نہیں ہے تم بہت برے ہو.
زری نے اپنی سسکی کو دباتے دل میں کہا ۔
زری میرا بچہ تو ٹھیک ہے؟
رضیہ نے زری کے سرہانے بیٹھتے پیار سے پوچھا۔
اماں میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے زری نے اپنی ماں کی گود میں سر رکھتے بھاری آواز میں کہا۔
اس نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
زری میری دھی رانی میں تجھے دوا لا دیتی ہوں تو رونا تو بند کر اور پوری رات کہاں تھی تو؟ رضیہ نے زری کے آنسو صاف کرتے پوچھا ۔
زری کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر روئے
اور سب کچھ اپنے ماں کو بتا دے
لیکن اپنی ماں کو بتانے کی ہمت شاید اس میں نہیں تھی ۔
اماں میں رانی کے پاس رک گئی تھی باتیں کرتے وقت کا پتہ نہیں چلا۔زری نے اپنی ماں سے نظریں چراتے کہا ۔
چل ٹھیک ہے تو رونا بند کر میں تیرے سے دوا لاتی ہوں ایسا کر پہلے ناشتہ کر لے پھر دوا بھی لے لی ۔
رضیہ نے اٹھنے سے پہلے زری کے ماتھے پر اپنا شفقت بھرا لمس چھوڑتے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی ۔
زری کا اس وقت دل کر رہا تھا کہی دور چلی جائے جہاں سوائے اللہ کی ذات کے کوئی نا ہو کچھ وقت وہ اکیلے تنہا رہنا چاہتی تھی خود کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی ۔شاید زری نے بہت جلد ہمت ہار لی تھی وہ نہیں جانتی تھی زندگی میں بہت ساری مشکلات آتی ہیں اور انسان کو ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
💞💞💞💞💞
ابا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے شاہ میر نے فضیل اعوان کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جو حقے کے گہرے کش لے رہا تھا ۔
کیا بات ہے بیٹا جی؟
فضیل نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ابا جان میں چاہتا ہوں ایک ہفتے تک زری رخصت ہو کر اس حویلی میں آجائے میں مزید صبر نہیں کر سکتا ۔شاہ میر نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
ٹھیک ہے بیٹا جی جیسا آپ کو بہتر لگے میں کچھ سوچتا ہوں ۔فضیل نے عام سے لہجے میں کہا ۔
ابا جان آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا؟ شاہ میر نے حیرانگی سے پوچھا ۔
کیونکہ اسے امید نہیں تھی کہ فضیل اتنی جلدی مان جائے گا ۔
بیٹا جی مجھے کیا اعتراض ہونا ہے میرے بیٹے کی خوشی میرے لیے اول ترجیح ہے ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ ابا جان شاہ میر نے خوشی سے کہا اس سے پہلے فضیل کچھ کہتا دبیر دروازہ ناک کرکے کمرے میں داخل ہوا اور دونوں کو مشترکہ سلام کیا دونوں نے خوشی دلی سے سلام کا جواب دیا۔
بیٹا جی آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے فضیل نے دبیر کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس نے ایک نظر شامیر کو دیکھا جو شاید دبیر کے جواب کا منتظر تھا ۔
جی وہ دراصل کام بہت زیادہ تھا نیند پوری نہیں ہوئی دبیر نے گہرا سانس لیتے سنجیدگی سے کہا ۔
کوئی بات نہیں بیٹا تم کمرے میں جاکر آرام کرو ۔
ابھی تم بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو فضیل نے پیار سے کہا ۔
جی بہتر دبیر نے کہا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا ۔
بہت سمجھدار اور اچھا لڑکا ہے فضیل نے حقے کا کش لیتے ہوئے کہا ۔
جو تھکے سے چہرے کے ساتھ زیادہ پرکشش لگ رہا تھا۔
ٹھیک کہا آپ نے ابا جی
شاہ میر نے بھی اپنے باپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔
شاہ میر میں سوچ رہا تھا کیوں نا دبیر سے تم دوستی رشتے داری میں تبدل کر لو ۔
مجھے تو یہ لڑکا بہت اچھا لگا ہے اور تم بھی اسے جانتے ہو ہماری کرن کو بہت خوش رکھے گا۔
فضیل نے اپنے خیالات سے شاہ میر کو آگاہ کرتے کہا ۔
ابا جان ویسے تو مجھے بھی دبیر میں کوئی برائی نظر نہیں آئی لیکن اتنی جلدی بھی کیا ہے۔پہلے میں مزید اُس کے بارے جان لوں پھر بات کر لیں گئے ویسے مجھے بھی دبیر کرن کے لیے مناسب لگا ہے۔
شاہ میر نے لائٹر سے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا
ٹھیک کہہ رہے ہو تم ہمیں پہلے دبیر کے بارے میں جاننا چاہیے۔
کرن میرے دل کا ٹکرا ہے میں نہیں چاہتا اُس کے بارے میں کوئی غلط فیصلہ کر لوں فضیل نے سنجیدگی سے کہا ۔
جی بلکل اور ابا جان مجھے شہر میں ایک ضروری کام ہے میں کل تک واپس آجاؤ گا آپ کو یہی بتانے آیا تھا شاہ میر نے کھڑے ہوتے کہا۔ٹھیک ہے بیٹا جی خیال رکھنا اپنا فضیل نے کہا۔اور پھر شاہ میر وہاں سے چلا گیا ۔
💞💞💞💞💞
دبیر اُس کے بعد اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔اس نے کھانا بھی اپنے کمرے میں منگوایا تھا یہ کہہ کر کہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔
کرن کو جب سے دبیر کی واپسی کا علم ہوا تھا وہ اس سے بات کرنے کے لیے بے چین ہو رہی تھی لیکن وہ تو اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں نکل رہا تھا۔
اور اب جب سب سو گئے تو چھت پر چہل قدمی کے لیے آیا تھا۔
اس نے اپنی جیب سے لائٹر اور سگریٹ نکالا اور اس سلگا کر غور سے سگریٹ کو دیکھنے لگا۔
سگریٹ پینے سے تو اس نے فاز کو بھی ہمیشہ سے روکا تھا۔
لیکن آج سینے میں لگے آگ کو کسی طرح بجھانا تھا جو شاید اب کبھی نہیں ختم ہونی تھی ۔عجیب سی بےچینی نے اسے گھیرا ہوا تھا ۔
دبیر نے لاسٹ ٹائم تقریباً دو سال پہلے سگریٹ کا پیا تھا۔لیکن آج نا جانے کیوں اسے سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی تھی ۔
سنا تھا اس نے سگریٹ پینے سے انسان تھوڑی دیر کے لیے ہی لیکن اپنی تمام ٹیشن کو بھول جاتا ہے۔لیکن دبیر کی ٹینشن ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جا رہی تھی ۔
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آخر کس چیز پر اسے زیادہ غصہ آرہا ہے اور کیوں؟
اتنے میں اسے کسی دوسرے وجود کا بھی احساس ہوا ۔جیسے کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔
دبیر نے مڑ کے دیکھا تو کرن چہرے پر مسکراہٹ لیے دبیر کے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی ۔
دبیر اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔کرن کو. دیکھ کر تو مزید اس کا موڈ خراب ہو گیا تھا ۔
دبیر نے سگریٹ زمین پر پھینکا اور اُس پر اپنا وزنی شوز رکھ کر وہاں سے جانے لگا ۔
کرن نے دبیر کا بازو پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی ۔
دبیر جو پہلے ہی اپنے سینے میں لگی آگ میں جل رہا تھا غصے میں اس نے کرن کا وہی ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر کے ساتھ لگا دیا
خاموشی میں کرن کی درد بھری کراہت گونجی تھی ۔
تمہیں زیادہ شوق نہیں ہے غیر مرد کو چھونے کا؟ دبیر نے کرن کو دیکھتے ماتھے پر بل ڈالے سرد لہجے میں پوچھا۔
بازو چھوڑو میرا کرن نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا درد سے اس کی جان نکل رہی تھی ۔
کیوں؟
تم نے ہی مجھے جانے سے روکا تھا نا؟ اب تمھارے قریب کھڑا ہو مس تو اب کیا تکلیف ہو رہی ہے؟
دبیر نے مزید کرن کے قریب ہوتے کہا دونوں میں فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا ۔
کرن کو اب دبیر کے چہرے سے خوف محسوس ہونے لگا تھا ۔اندھیرے میں اس کا چہرہ مزید خطر ناک لگ رہا تھا ۔
دبیر نے کرن کی آنکھوں میں خوف دیکھا تو مسکرا پڑا اور اس کا بازو چھوڑو کر ہلکا سا دھکا دیا ۔جو لڑکھڑا کر کچھ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی اور اپنے بازو کو دیکھنے لگی ۔
آئندہ رات کے وقت کسی بھی مرد کے پاس جانے سے پہلے سو بار سوچنا
شیطان آتے دیر نہیں لگتی۔لیکن ایک بات میری یاد رکھنا دوبارہ اگر تم میرے سامنے اس حلیے میں آئی تو…… آگے تم خود بھی سمجھدار ہو دبیر نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا اس کا اشارہ کرن کے لباس کی طرف تھا۔
دبیر کہتے ہی وہاں رکا نہیں تھا ۔
کرن نے جاتے ہوئے دبیر کو دیکھا ایک دن تم میرے پاس ہی آؤ گئے دبیر دیکھ لینا کرن نے غصے سے کہااور پھر خود بھی نیچے چلی گئی۔
💞💞💞💞💞
مجھے گاؤں جانا ہے مریم نے فاز کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا جو لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔
مریم کو دیکھتے ہی اس نے لیپ ٹاپ بند کر دیا اور مریم کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا مریم بول پڑی تھی دیکھو اگر تم نے کوئی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو میں دبیر بھائی کو بتا دوں گی۔مریم نے انگلی سے فاز کو تنبیہ کرتے کہا۔
ارے واہ تم مجھے دھمکی دے رہی ہو؟
فاز نے مریم کو دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں پوچھا اور اس کی طرف قدم بڑھانے لگا جو پیچھے کو کھسکتی جا رہی تھی ۔
میں سچ کہہ رہی ہوں میں بتا دوں گی مریم نے اپنے لہجے میں مضبوطی لاتے کہا ۔
اچھا ٹھیک ہے تو کیا کہو گی؟
فاز نے مریم کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کے قریب کرتے پوچھا ۔جو فاز کے قریب آنے پر ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
مسز اپنے بھائی کو بتاؤ گی کہ میرے شوہر نے میرے قریب آنے کی کوشش کی؟ فاز نے مریم کے کان کے پاس سرگوشی کرتے بےباکی سے پوچھا ۔
فاز چھوڑو مجھے ورنہ….
مریم نے بات کو ادھورا چھوڑتے کہا ۔
ورنہ کیا مسز؟
فاز نے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے خمار آلود لہجے میں پوچھا ۔
ابھی آپ کے بھائی کو کال کرو گی اور کہو گی آپ نے مجھے ڈانٹا ہے مریم نے دھمکاتے ہوئے کہا۔
اتنا تو اسے معلوم ہو گیا تھا کہ فاز ایک ہی انسان کی بات مانتا ہے اور وہ دبیر ہے ۔
ہمم ٹھیک ہے یہاں سے جانے کے بعد کال کر لینا دبیر کو فاز نے دبیر پر زور دیتے ہوئے کہا ۔
فاز مجھے واپس جانا ہے اماں اور زری بھی اکیلی ہیں اس بار مریم نے بے بسی سے بھاری لہجے میں کہا آنکھوں میں نا چاہتے ہوئے بھی آنسو آگئے تھے۔
مریم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر فاز بھی سیریس ہو گیا ۔
ٹھیک ہے میں تمہیں کل گاؤں لے جاؤں گا لیکن ہمارے نکاح کا حویلی میں کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے میں نے تمھاری خالہ کو بھی منع کر دیا ہے وہ بھی کسی کو کچھ نہیں بتائے گی۔
فاز نے انگلی کی پور سے مریم کی آنکھ سے نکلے آنسو کو چنتے کہا ۔
مریم نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔
اب تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو فاز نے کہتے ہی اپنے لب مریم کے ماتھے پر رکھ دیے
مریم کچھ پل کے لیے شوکڈ ہو گئی تھی ۔
لیکن بولی کچھ نہیں
جاؤ فاز نے مریم سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے کہا ۔
مریم نظریں جھکائے وہاں سے چلی گئی ۔ فاز نے اپنی گاڑی کی چابیاں پکڑی اور خود بھی کمرے سے نکل گیا ۔
💞💞💞💞
زری میری بچی کیا ہو گیا ہے تجھے؟ رضیہ نے گم سم سی بیٹھی زری کو دیکھتے پوچھا اتنے میں رانی بھی وہی آگئی ۔
کیا ہوا اماں؟
رانی نے رضیہ سے پوچھا۔
پتہ نہیں میری دھی کو کیا ہو گیا ہے کل سے ایسے ہی گم سم بیٹھی ہوئی ہے رضیہ نے پریشانی سے کہا۔
اماں آپ فکر مت کریں ہو سکتا ہے مریم کو یاد ک رہی ہو رانی نے حوصلہ دینے والے انداز میں کہا ۔
تو کہتی ہے تو مان لیتی ہوں لیکن تو اس سے پوچھ اسے ہوا کیا ہے؟ رضیہ نے رانی کو کہا اور خود اُٹھ کر باہر چلی گئی ۔
زری کیا ہوا ہے تجھے؟
رانی نے زری کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے پوچھا
زری جو خود پر ضبط کیے بیٹھی تھی رانی کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
زری اب تو مجھے ٹینشن ہونے لگی ہے کیا ہوا ہے تجھے؟ رانی نے زری کے آنسو صاف کرتے بےچینی سے پوچھا؟
رانی مجھے شاہ میر کے ساتھ نہیں رہنا
مجھے اُس جانور کے ساتھ نہیں رہنا
زری نے روتے ہوئے کہا ۔
زری میری طرف دیکھ
رانی نے زری کا چہر اوپر کرتے کہا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
ہو سکتا ہے تو شامیر کو سیدھے راستے پر لے آئے کہتے ہیں نا جو ہوتا ہے ہماری بھلائی کے لیے ہوتا ہے تیرا نکاح جیسے بھی ہوا آگے تیری ذمہ داری ہے کہ تو شامیر کو ٹھیک کرے اور تو اسے ٹھیک کر سکتی ہے وہ تجھ سے محبت کرتا ہے ۔رانی نے درد بھرے لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا ۔
محبت؟ تو جو تم سے کرتا تھا وہ کیا تھا رانی؟
زری نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
مجھ سے وہ کبھی محبت نہیں کرتے تھے زری میری خوبصورتی نے اُن کو متاثر کیا تھا اور یہ بات وہ اپنی زبان سے کہہ چکے ہیں۔
یہاں بات میری نہیں تیری ہو رہی ہے زری یہ رونا دھونا چھوڑ
تو زرتشہ ہے میری سہیلی جو ہر مسئلے کو مسکرا کر حل کرتی تھی ۔تو ہمت نہیں ہار سکتی ۔
مشکلات کے بعد ہی آسانی آتی ہے اور پھر سکون ہی سکون ہوتا ہے تو کمزور نہیں پڑ سکتی سمجھ گئی؟
رانی نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔
لیکن رانی…..
زری اللہ پر چھوڑ دے سب کچھ وہ جو کرتا ہے ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے اس لیے اب کوئی بحث نہیں اور چل میرے ساتھ حویلی چھت پر چلتے ہیں موسم بھی اچھا ہو رہا ہے رانی نے کھڑے ہوتے کہا ۔
مجھے ابھی حویلی نہیں جانا زری نے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔
شاہ میر شہر گئے ہیں وہ کل واپس آئے گئے ۔
رانی زری کے انکار کی وجہ سمجھ گئی تھی۔اس لیے جلدی سے کہا۔
اچھا چلو زری نے رانی کی بات سننے کے بعد کہا۔
اور جس معصومیت سے زری نے کہا تھا رانی کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی تھی ۔پھر دونوں کمرے سے باہر چلی گئی۔زری نے رانی کو رات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا وہ رانی کو تکلیف دینا نہی چاہتی تھی ۔
💞💞💞💞
رانی زری کو حویلی کی چھت پر لے آئی تھی دوپہر کے وقت گاؤں کا منظر بہت پر کشش نظر آرہا تھا۔
بادل بھی چھائے ہوئے تھے ۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے زری کو اچھے لگ رہے تھے ۔
زری میں چائے اور ساتھ کچھ کھانے کو لاتی ہوں رانی کہتے ہی وہاں سے چلی گئی ۔
زری نے گہری سانس لی اور آنکھیں بند کیے ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی ۔
السلام عليكم
پیچھے سے آتی آواز زری کو ہوش کی دنیا میں لائی زری نے مڑ کے دیکھا تو کچھ پل کے لیے تو اپنے پلکیں جھپکانا بھول گئی ۔