Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 41
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
بیر پاشا کے گھر داخل ہوا پاشا کے آدمیوں نے خود اسے اندر آنے دیا تھا۔
پیسہ کیا کچھ نہیں کر سکتا دبیر نے پاشا کے آدمیوں کو دیکھتے سوچا۔
پیسہ سب کچھ کر سکتا ہے دبیر اپنی سوچ پر خود ہی ہنس پڑا تھا۔
پاشا اپنے کمرے میں ہے ساتھ اُس کے ایک لڑکی بھی ہے ۔
پاشا کے آدمی نے دبیر کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ بس دو آدمی یہی رہے گے اور آگے میں خود سنبھال لوں گا
دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
اوکے سر آدمی نے اثبات میں سر ہلاتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
دبیر سیدھا پاشا کے کمرے کی طرف گیا تھا اس نے چابی سے لاک کھولا۔
کلک کی آواز پر دروازہ کھل گیا۔
دبیر جب دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو ایک پل کے لیے پاشا بھی حیران ہوا تھا کہ کون اس کے کمرے میں آیا ہے کیونکہ وہ اپنے آدمیوں کو کہہ کر گیا تھا کہ کوئی اسے ڈسٹرب نا کرے۔
دبیر نے ایک نفرت بھری نظر پاشا اور اس کے ساتھ لیٹی لڑکی پر ڈالی جس نے چادر سے خود کو کور کیا تھا۔
اگر تم زندہ رہنا چاہتی ہو تو ایک سیکنڈ سے پہلے یہاں سے غائب ہو جاؤ ورنہ اس کمینے کے ساتھ تمہیں بھی زندہ دفن کر دوں گا۔
دبیر نے آنکھوں میں خوف لیے پاشا کے ساتھ چپکی لڑکی کو دیکھتے کہا۔
جو دبیر کی بات سن کر ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے غائب ہوئی تھی۔
تم اندر کیسے آئے؟ پاشا نے دھاڑتے ہوئے پوچھا
ایک بات تو تم بھی مانتے ہو گے کہ پیسہ انسان سے کچھ بھی کروا سکتا ہے اور تمھارے سارے آدمیوں کو صرف ایک بار میں نے آفر کی کہ میری طرف آجاؤ میں تمہیں پاشا سے زیادہ پیسہ دوں گا
کسی ایک نے بھی منع نہیں کیا
تو اب بھائی صاحب آپ مجھے بتائیں کس طرح کی موت آپ کو دی جائے؟
دبیر نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے پاشا کو دیکھتے پوچھا۔
جو بنا شرٹ کے بیڈ پر بیٹھا دبیر کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
تم مجھے نہیں مار سکتے عباس تم میرے بھائی ہو تمھارے اندر اتنی ہمت نہیں ہے
پاشا نے ہنستے ہوئے کہا۔
ٹھیک کہا عباس پاشا کو نہیں مار سکتا کیونکہ عباس تو پاشا کا بھائی ہے تو وہ کیسے اُسے مار سکتا ہے پھر چاہے پاشا نے عباس کی بیوی کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہو یا اپنے باپ کو بھی کیوں نا مارا ہو عباس سچ میں پاشا کو نہیں مار سکتا
لیکن دبیر نے نفی میں سر ہلاتے کہا اور چلتا ہوا پاشا کے سامنے کھڑے ہوتے مزید کہا۔
تمھارے سامنے عباس نہیں بلکہ دبیر کھڑا ہے جو اپنی بیوی کا بدلہ ضرور لے گا اور تڑپا تڑپا کر اپنی بیوی کے قاتل کو مارے گا ۔
دبیر نے کرخت لہجے میں پاشا کو دیکھتے کہا۔
تم مجھے مارنا چاہتے ہو تو یہ لو گن مار دو پاشا نے اپنی گن کو دبیر کے ہاتھ میں پکڑاتے اس کا رخ اپنی طرف کرتے کہا۔
دبیر پاشا کو دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
اتنی آسان موت تو میں تمہیں ہرگزنہیں دوں گا۔تمھاری موت شاہ میر سے زیادہ بھیانک ہو گی۔تم اپنی آخری سانس تک پچھتاؤ گے تڑپ تڑپ کر مرو گے لیکن کوئی تمہیں بچانے نہیں آئے گا۔دبیر نے سرد لہجے میں پاشا ہو دیکھتے کہا۔
جس نے دبیر کے ہاتھ سے گن چھینی اور اپنی کنپٹی پر رکھ دی۔
دبیر پاشا کی اس حرکت پر ہنس پڑا تھا۔
پاشا تو بہت کمزور نکلا مجھے تم سے اس قسم کی بچکانہ حرکت کی امید نہیں تھی۔
لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ تمھاری گن خالی ہے دبیر نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے کہا۔
اور آج پہلی بار پاشا کو دبیر سے ڈر محسوس ہوا تھا۔
تمہیں کیا لگا تم دوبارہ آفندی کے ساتھ مل کر میری فیملی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرو گے اور مجھے پتہ نہیں چلے گا۔
میرے گھر کو آگ لگانے کا پلان تم دونوں کا تھا۔
آفندی سیدھا تمھارے پاس آیا تھا اور تم نے ہی اُسے اپنے مفید مشورے سے نوازہ تھا کیونکہ پیلس کا صرف تمہیں ہی معلوم تھا۔
دبیر نے اپنی جیب سے سلور کلر کا اپنا چاقو نکالتے ہوئے کہا۔
تمہیں کیسے پتہ چلا کہ آفندی میرے پاس آیا تھا ۔پاشا نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ اس بارے میں صرف آفندی اور پاشا کو ہی معلوم تھا اس کے کسی آدمی کو بھی معلوم نہیں تھا۔
اور آفندی کو ویسے بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ پاشا نے اس کی گرل فرینڈ کو مارا ہے دونوں ایک جیسے تھے آفندی نے پاشا کو یہ کہہ کر مطمئن کیا تھا کہ میں نے عائشہ کو اس لیے بھجیا تھا کہ اگر کبھی پاشا کسی مصیبت میں پھنس جائے تو آفندی اس کی مدد کر سکے اور پاشا نے اسکی بات پر یقین بھی کر لیا تھا۔
کیونکہ آفندی اچھی طرح پاشا کو سمجھ گیا تھا کہ اسے کس طرح ہینڈل کرنا ہے۔
پاشا کے سوال پر دبیر ہنس پڑا تھا
اب تو تم. مرنے والے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں
آفندی اپنی ساری باتیں ارحم کو بتاتا ہے بہت بھروسہ کرتا ہے اُس پر لیکن اسے نہیں پتہ کہ ارحم کیا چیز ہے
دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اور پاشا کو ساری بات سمجھ میں آگئ تھی۔
اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟
پاشا نے ایک نظر باہر کے دروازے کی طرف ڈالتے ہوئے پوچھا
دبیر اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
پاشا جانتا تھا کہ دبیر اس سے زیادہ طاقتور ہے اور وہ تو مارشل آرٹ کی کلاسز بھی لے چکا ہے۔دانیال نے اسے خود ٹرین کیا تھا۔
اس لیے یہاں سے بھاگنے میں ہی فائدہ تھا۔
یار تم تو بہت ڈرپوک ہو دبیر نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
پاشا نے دبیر کی بات کو اگنور کیا اور بیڈ کے اوپر بسے پھلانگ کر کمرے سے باہر بھاگ گیا۔
کہاں تک بھاگو گے؟
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞
پاشا اپنے کمرے سے باہر آیا تو اتنا بوکھلایا ہوا تھا کہ اسے سمجھ نہیں آئی کہ کہاں جائے اس نے اپنے قدم مین گیٹ کی طرف بڑھا دیے لیکن وہ بند تھا۔
پاشا دوبارہ گھر کے اندر گیا وہاں ایک کمرے میں باہر جانے کا راستہ تھا پاشا جب اندر داخل ہوا تو باہر سے کسی نے دروازہ بند کر دیا
پاشا نے باہر جانے والے دروازے کو بھی کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
کمرے میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔پاشا کو ایسا لگا جیسے کوئی چیز اس کی ٹانگوں پر چل رہی ہے۔
اس نے زور سے اپنے پاؤں جھٹکے لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس کا پاؤں پھسلا اور سیدھا زمین پر جا گرا
کمرے میں موجود بچھو پاشا کے جسم کے ساتھ چپک گئے تھے۔
پاشا نے تکلیف سے کراہ کر اپنے جسم سے ایک دو بچھو اتار کر پھینکے لیکن کافی اس کے جسم کے ساتھ چپکے کاٹ رہے تھے۔
دبیر کمرے کے باہر کھڑا تھا اس نے بیس منٹ بعد کمرے کا دروازہ کھول دیا پاشا نے روشنی دیکھتے ہی اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔
پاشا جب باہر آیا تو بچھو اس کے جسم کے ساتھ چپکے تھے اور خون بھی نکل رہا تھا۔
پاشا بھاگتا ہوا باہر گیا۔
اس نے دوسرے گیٹ کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے لیکن وہ بھی بند تھا۔
پاشا نے بے بسی سے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا اور اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھانے لگا۔
اس کی دائیں جانب سوئمنگ پول تھا۔دبیر جو اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا پاشا کے قریب آنے پر اس نے دھکا دیا پاشا پانی میں جا گرا تھا۔
دبیر نے بچلی کی وائر کو سوئمنگ پول میں پھینک دیا تھا۔
پاشا کے گرتے ہی وہ پانی میں تڑپنے لگا تھا۔
تمہیں سوئمنگ بہت زیادہ پسند ہے نا
اب انجوائے کرو میرے خیال سے جتنی تکلیف تم نے برداشت کی ہے وہ بھی کم ہے مجھے تمہیں اس سے زیادہ تکلیف دینی چاہیے تھی۔
دبیر نے جھٹکے کھاتے پاشا کے وجود کو دیکھتے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
پورے پول میں کرنٹ دوڑ گیا۔
دبیر کچھ سیکنڈ کھڑا پاشا کو دیکھتا رہا
گڈ بائے علی
دبیر نے پاشا کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھتے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
دبیر نے گھر سے باہر نکل کر ایک نظر پورے گھر کو دیکھا یہ وہی گھرا تھا جہاں دانیال پاشا اور دبیر کو لے کر آیا تھا اس گھر میں دبیر کی بہت سی یادیں تھیں۔
آج اس نے اپنے بیوی کا بدلہ لے لیا تھا۔
دبیر سیدھا قبرستان گیا تھا۔
اس نے اقرا کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور وہی بیٹھ گیا۔
آج میں نے تمھارا بدلہ لے لیا اقرا
تم خوش تو ہو گی۔میں نے شاہ میر اور پاشا دونوں کو اُن کے کیے کی سزا دے دی ہے۔
لیکن میں بھی اچھا نہیں ہوں
میں نے بھی زری کے ساتھ بہت برا کیا ہے وہ بھی تو بے قصور تھی لیکن میں نے اُسے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا۔
میری وجہ سے اُس نے اپنا بچہ کھو دیا اور اب مجھے لگتا ہے کہ میں نے اُس کے ساتھ اچھا نہیں کیا وہ بہت اچھی ہے لیکن میں اُس کے قابل نہیں ہوں۔
دبیر آہستگی سے سر جھکائے بیٹھا باتیں کر رہا تھا جیسے اقرا اس کے سامنے بیٹھی ہو۔
دبیر کافی ٹائم وہی بیٹھا اقرا سے باتیں کرتا رہا۔
جو باتیں وہ کسی اور کے سامنے نہیں کرتا تھا آج یہاں بیٹھ کر کر رہا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
کیا آپ جانتے ہیں منیب نے کرن کو طلاق دے دی؟ نغمہ بیگم نے بے یقینی سے فضیل کو دیکھتے پوچھا۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے نغمہ بیگم نے منیب کو کال کی تھی اور جو بات اُس نے نغمہ بیگم کو بتائی اُسے سن کر وہ پریشان ہو گئی تھیں۔
کیوں اب کہاں گئی اُس کی محبت؟ فضیل نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
آپ کی بیٹی نے خود طلاق مانگی تھی اور منیب کی ماں کی جان لینے کی کوشش کی اور اس وقت وہ کوما میں ہے۔
اب کرن کہاں ہے؟ کسی کو معلوم نہیں ہے۔
نغمہ بیگم نے غصے سے کہا۔
میری بیٹی اپنے بھائی کا بدلہ لینے گی ہے۔فضیل نے فخریہ انداز میں کہا
تو یہ آپ کی دی ہوئی ڈھیل ہے
شرم آنی چاہیے آپ کو فضیل اعوان شرم سے ڈوب مرنا چاہیے
اور کس بدلے کی بات کر رہے ہیں آپ؟
آپ کا بیٹا کیا کچھ کرتا تھا کیا آپ کو معلوم نہیں ہے؟
اور جتنے اُس کے دشمن تھے کسی نے بھی مار دیا ہو گا اُسے اور آپ نے بے شرموں کی طرح اپنی بیٹی کو بدلہ لینے بھیج دیا؟
آپ جیسا انسان کبھی نہیں سدھر سکتا میری زندگی تو آپ نے برباد کی ساتھ اپنے بچوں کی بھی کر دی۔
میں یہاں سے جا رہی ہو مجھے آپ جیسے انسان کے ساتھ ہرگز نہیں رہنا نغمہ بیگم نے غصے سے فضیل کو دیکھتے کہا۔
تم میری بیوی ہو اور مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی
فضیل نے کھڑے ہوتے سرد لہجے میں کہا۔
آج آپ مجھے روک نہیں سکتے فضیل صاحب
میں صرف آپ کے ساتھ تھی تو اپنے بچوں کی خاطر ورنہ نا تو کل مجھے آپ سے محبت تھی نا آج ہے اور آپ بھی جانتے ہیں زبردستی آپ مجھے یہاں لائے تھے اور نکاح کیا تھا۔
میں نے بھی اسے اپنی قسمت سمجھ کر سمجھوتہ کر لیا لیکن آج اتنے سالوں بعد بیٹے کی جدائی بھی آپ کو سدھار نہیں سکی ۔
اور اب میں جارہی ہوں۔
میں نے اپنے دونوں بچوں کو آپ کی وجہ سے کھو دیا ہے اور اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے
نغمہ بیگم نے بے بسی سے کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔
فضیل وہی غصے سے بیٹھ گیا تھا اگر تمہیں لگتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تم اس حویلی سے باہر قدم نکال سکتی ہو تو یہ تمھاری بھول ہے
فضیل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
نغمہ بیگم دو بہنیں تھیں چھوٹی بہن دبیر کی ماں تھی۔فضیل نے نغمہ بیگم کو شہر میں دیکھا اور اپنا دل ان پر ہار بیٹھے
نغمہ بیگم بڑی بہن تھی۔ماں باپ ایک حادثے میں وفات پا چکے تھے۔
فضیل اعوان زبردستی نغمہ بیگم کو اپنے ساتھ گاؤں لے گیا تھا اور ان سے نکاح کر لیا۔
نغمہ بیگم کے پیچھے کوئی نہیں تھا جو ان کا حال معلوم کرتا اس لیے وہ خود بھی خاموش ہو گئی تھیں۔
دبیر کی ماں کی شادی فضیل نے ہی ایک ایسے آدمی سے کروا دی تھی جو نشہ کرتا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
فاز لڑکی کو ہسپتال لے آیا تھا وہ ابھی تک بے ہوش تھی
فاز کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب وہ کیا کرے دبیر کو کال کی لیکن اُس کا نمبر بند جا رہا تھا اور مصطفیٰ کو ابھی تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔تو مجبوراً فاز کو رات وہی رکنا پڑا
دبیر قبرستان سے باہر نکلا تو اس نے اپنا موبائل چیک کیا فاز کی کافی کالز آئی ہوئی تھیں۔
دبیر نے دوبارہ کال کی تھوڑی دیر بعد فاز نے کال اٹینڈ کی اور ساری صورتحال دبیر کو بتا دی تھی۔
دبیر نے اسے وہی رکنے کا کہا تھا۔
دبیر اپنے کمرے میں داخل ہوا تو زری سو رہی تھی دبیر نے اسے کہا تو تھا کہ وہ رات آجائے گا۔لیکن اسے وقت کا پتہ نہیں چلا تھا۔
دبیر فریش ہونے چلا گیا جب واپس آیا تو زری اُٹھ چکی تھی۔
تم کب آئے؟
زری نے بال باندھتے ہوئے پوچھا۔
تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں تم مجھے مس کر رہی تھی؟
دبیر نے شرارتی لہجے میں بیڈ پر لیٹے پوچھا
میں کیوں تمہیں مس کروں گی۔
زری نے گھور کر دبیر کو دیکھتے کہا۔
تم نے کچھ زیادہ ہی خوش فہمی نہیں پال رکھی؟
زری نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
آہ کبھی کبھار پال لینی چاہیے صحت کے لیے اچھی ہوتی ہوتی ہے دبیر نے آنکھیں بند کیے اپنے سر کو دباتے کہا۔
تمھارا سر درد کر رہا ہے زری نے سنجیدگی سے پوچھا
ہاں تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ دبیر نے آنکھیں کھولتے پوچھا۔
ایک مشورہ دینا ہے اپنا سر دیوار میں مارو ٹھیک ہو جائے گا زری سنجیدگی سے کہتی فریش ہونے چلی گئی۔
دبیر ہلکا سا مسکرا پڑا تھا اور دوبارہ اپنی آنکھیں موند لیں۔
💞 💞 💞 💞 💞
زری دبیر کے لیے کافی بنا کر لے آئی تھی وہ جانتی تھی کہ دبیر جاگ رہا ہے
کافی پی لو
زری نے سائیڈ ٹیبل پر کافی رکھتے کہا۔
دبیر جو آنکھیں موندے لیٹا تھا حیرانگی سے اس نے زری کی طرف دیکھا جو کافی سائیڈ ٹیبل پر کافی رکھ رہی تھی۔
دبیر نے اس کو بازو سے کھنچا زری دبیر کے سینے پر آگری تھی۔
اس مہربانی کی وجہ؟ دبیر نے زری کے بال کان کے کرتے دلچسپی سے پوچھا۔
تم…. چھوڑو مجھے زری نے دانت پیستے کہا اور دبیر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن دبیر نے اسکی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کت لی تھی۔
ایک اور مہربانی کر دو اپنے خوبصورت ہاتھوں سے میرا سر بھی دبا دو
کافی پینے کی ضرورت نہیں پڑے گی
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
دبیر چھوڑو مجھے ورنہ تمہیں قتل کر دوں گی۔
زری نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
اس کا چہرہ دبیر کے چہرے سے اس قدر قریب تھا کہ دبیر کی گرم سانسیں اس اپنے چہرے پر پڑتی محسوس ہو رہی تھیں۔
میں تیار ہوں
دبیر نے اپنے دوسرے ہاتھ سے زری کے بالوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے کہا۔
کس لیے؟ زری نے ناسمجھی سے پوچھا۔
دبیر نے جھٹکے سے زری کا چہرہ نیچے کیا تھا اس کے ہونٹ دبیر کی گال جا ٹکرائے تھے۔
قتل ہونے کے لیے دبیر نے زری کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔اور اس کے کان پر اپنے لب رکھ دیے۔
زری ایک دم کانپ سی گئی تھی۔
کون سا شیمپو استعمال کرتی ہو؟ دبیر نے زری کے بالوں کی خوشبو کو اندر اتارتے خمار آلود لہجے میں پوچھا۔
زری کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔
دبیر ہادی جاگ گیا ہو گا مجھے اُس کے پاس جانا ہے
زری کو. یہی بہانہ اس وقت ٹھیک لگا تھا اوراس وقت کو کوس رہی تھی کہ کیوں اس نے دبیر کے لیے کافی لانے کا سوچا۔
گھر میں بہت سے لوگ ہیں اور ویسے بھی وہ مریم کے پاس ہے وہ سنبھال لے گی
دبیر نے کہتے زری کو بیڈ پر لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر آگیا۔
دبیر مت بھولو میں نے ابھی تک تمہیں معاف نہیں کیا زری نے سہمے ہوئے لہجے کہا۔
جانتا ہوں لیکن تم مجھ سے اتنا ڈر کیوں رہی ہو اور تمھارا مجھ سے نظریں چرانا
ان سب کا میں کیا مطلب سمجھو؟
دبیر نے زری کے چہرے کے تاثرات دیکھتے مسکرا کر پوچھا۔
دبیر… زری کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو بے بسی سے اس کا نام پکارا۔
دبیر مسکرا کر زری سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔جاؤ ہادی جاگ گیا ہو گا اور کافی کی مجھے اب مجھے ضرورت نہیں ہے میں تھوڑی دیر آرام کروں گا۔ اور ایک بار اپنا چہرہ ضرور آئینے میں دیکھ لینا۔
دبیر نے اپنی آنکھوں پر بازو رکھتے کہا۔
زری نے گھور کر دبیر کی دیکھا تھا اور کافی لے کر باہر چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞 💞
