Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

رانی کی آنکھ کھلی تو اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
چاروں اور نظر دوڑائی اجنبی کمرہ دیکھ کر رانی کے چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا تھا۔
آہستہ آہستہ اس کا دماغ بیدار ہونے لگا اور نقاب پوش کا ان کی گاڑی کو روکنا سب یاد آگیا۔
رانی نے ڈر کر کمرے میں نظریں دوڑائیں لیکن وہاں کوئی نہیں تھا کمرا بہت خوبصورت تھا ۔بلیک کلر کے کمبینیشن سے مزید پیارا لگ رہا تھا ۔
رانی کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔
اس نے اپنا ڈوپٹہ جو گلے میں آچکا تھا سر پر اچھے سے سیٹ کیا۔
اس سے پہلے وہ بیڈ سے اتر کر باہر جانے کا سوچتی دروازہ کھلنے کی آواز پر وہی تھم گئی تھی۔
مصطفیٰ چہرے پر سنجیدگی لیے اندر داخل ہوا تھا۔
مصطفیٰ کو اپنے سامنے دیکھ کر رانی کا دل اندر سے مطمئن ہو گیا تھا۔
میں کہاں پر ہوں؟
رانی نے مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا۔
جہاں پر بھی ہو لیکن اب تم محفوظ ہو مصطفیٰ نے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے کہا۔ماتھے پر بکھرے بال چہرے پر چھائی تھکاوٹ لیے وہ سامنے سنجیدگی سے کھڑا تھا۔
وہ نقاب پوش تم تھے؟
تم نے مجھے اغوا کیا رانی کو جو سمجھ آیا اس کے مطابق بول پڑی۔
اوہ تو اب مجھے ساری بات سمجھ میں آگئی
میں نے تمھاری بات نہیں مانی اس لیے تم نے یہ چھچھوری حرکت کی ہے؟
رانی نے ماتھے پر تیوری لیے مصطفیٰ کے سامنے کھڑے ہوتے کہا ۔
جو پہلے ہی غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔
تمہیں میں اتنا بے غیرت اور گرا ہوا انسان لگتا ہوں تمھارے بے شرم شوہر نے بھیجے تھے وہ نقاب پوش
جانتی بھی ہو اگر وقت پر میں نا پہنچتا تو کیا ہو جاتا۔
مصطفیٰ نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائے اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا ورنہ رانی کی بات نے تو اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔
تم جھوٹ بول رہے ہو
شاہ میر کیوں ایسی اوچھی حرکت کریں گے؟
رانی نے بے یقینی سے کہا۔
وہ انسان کچھ بھی کر سکتا ہے جو اُس کا دوست آیا تھا پاشا اُس کے پاس وہ تمہیں بھیجنا چاہتا تھا اور وہ نقاب پوش اُس کے آدمی تھے۔
تمہیں میری بات پر یقین تو آئے گا نہیں لیکن پھر بھی تمہیں بتا دوں تمھارے نیک شوہر کی بات میں سن چکا تھا جو فون پر اپنے گھٹیا دوست سے بات رہا تھا۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو رانی آج سے تم یہی رہو گی تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو میں کچھ نہیں کرسکتا
تمہیں لگتا ہے میں نے تمہیں اغوا کیا تو ٹھیک ہے یہی سہی لیکن دوبارہ تم حویلی نہیں جاؤ گی اور جب تک تمھارے سر پر شاہ میر کا کے نیک ہونے کا بھوت نہیں اتر جاتا تم اسی کمرے میں بند رہو گی۔
مصطفیٰ نے انگلی اٹھا کر رانی کی حیرت سے پھٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور غصے سے تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا اور دروازہ جاتے ہوئے زور سے بند کر دیا۔
رانی اپنے منہ پر ہاتھ رکھے زمین پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی اسے ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا کہ شاہ اس کے ساتھ ایسا کچھ کر سکتا ہے ۔
پاشا کے آدمی جب رانی ک ولے کر جا رہے تھے تو آدھے راستے میں ہی مصطفیٰ نے اپنے آدمیوں کے ساتھ مل کر پاشا کے آدمی کی گاڑیوں کو رکوا کر لیا تھا ۔
دبیر مصطفیٰ کو شاہ میر کے پلان کے بارے میں بتا چکا تھا ۔
مصطفیٰ اور پاشا کے آدمی آپس میں لڑنے لگے اور اُسی دوران مصطفیٰ رانی کو بلیک پیلس لے آیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
نغمہ بیگم کو آدھے راستے میں ہی ہوش آگیا تھا انہوں نے گھر میں آکر سب سے پہلے فضیل کو رانی کے بارے میں بتایا وہ رانی کے لیے بہت پریشان تھی ۔
فضیل نے بھی سب معلوم کر لیا تھا لیکن اُن نقاب پوش کا معلوم نہیں ہو سکا ۔
ویسے تو شاہ میر بھی رانی کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
لیکن اندر سے خوش بھی تھا۔
یہ خبر گاؤں میں آگ کی طرح پھیلی تھی۔ سارے لوگ حویلی میں جمع ہو گئے تھے ۔
دبیر نے اسی موقع سے فائدہ اٹھایا ۔
دبیر نے اپنے موبائل پر نمبر ڈائل کیا اور فاز کو اُس لڑکے کو بھیجنے کا کہا ۔
اور خود فضیل کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
نغمہ بیگم کی طبعیت خراب ہو گئی تھی انہوں نے رانی کو اپنی بیٹی کی طرح پالا تھا۔
زری بھی بہت پریشان تھی۔
گاؤں والے بھی حویلی میں جمع تھے۔
کرن اپنے بھائی کے پاس بیٹھی تھی جو پریشان تو بلکل بھی نہیں تھا پولیس سٹیشن میں بھی رپورٹ درج کروا دی تھی۔
لیکن وہاں سے بھی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔
کرن نے اچانک سامنے سے آتے لڑکے کو دیکھا تو اسے اسے اپنے قدموں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی جس نے کرن کے پاس آتے ہی اسے زور سے سب کے سامنے گلے لگا لیا۔
سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ سب حیرانگی سے کرن اور اس کے ساتھ کھڑے اجنبی لڑکے کو دیکھنے لگے۔
شاہ میر غصے میں بھرا اُس لڑکے کے پاس گیا اور اس کا رخ اپنی جانب کرتے ایک زور دار گھونسا اس کے جبڑے پر دے مارا
ایک دم ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی۔ اگر کوئی انسان مطمئن تھا تو وہ دبیر تھا ۔
کمینمے انسان تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو چھونے کی شاہ میر نے اُس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے کہا جس نے شاہ میر کو پیچھے دھکا دیا تھا۔
تیری بہن بیوی ہے میری
اُس لڑکے نے چلاتے ہوئے کہا گاؤں والے بے یقینی سے کرن کو دیکھ رہے تھے۔
تمھاری بہن کو بھی شرم نہیں آتی پہلے مجھ سے محبت کے دعوے کرتی تھی اور اب طلاق مانگ رہی ہے ۔
اور گاؤں آکر پتہ چلا کہ کرن بی بی کی شادی ہونے والی ہے اس لیے روز فون کرکے مجھ سے طلاق مانگتی تھی۔
اُس لڑکے نے اپنا کالر ٹھیک کرتے کہا ۔
کرن کی تو ایسی حالت تھی جیسے ابھی گر جائے گی کرن کی کیا فضیل، نغمہ اور زری کی بھی یہی حالت تھی ۔
اپنی بکواس بند کر ورنہ تیرا منہ توڑ دوں گا ۔
شاہ میر نے دھاڑتے ہوئے کہا ۔
اگر میری بکواس پر یقین نہیں ہے تو اپنی بہن سے پوچھ لو اُس لڑکے نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اور ہاں یہ رہا ہمارا نکاح نامہ ایک سال پہلے ہم دونوں نکاح کر چکے ہیں ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اس لیے ہم نے نکاح کر لیا۔اُس لڑکے نے تمسخرانہ انداز میں ہنس کر کہا ۔
شاہ میر کا رخ کرن کی طرف تھا جو بت بنی کھڑی تھی اسنے سوچا تھا منیب سے طلاق لے کر دبیر سے نکاح کر لے گی اور نکاح میں تاخیر کروانا بھی اسکے لیے زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔
لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ منیب یہاں گاؤں آجائے گا ۔
منیب اور کرن یونی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔فضیل اور شاہ میر سے ضد کرنے کے بعد کرن شہر پڑھنے گئی تھی اور وہاں ہوسٹل میں رہتی تھی۔
کرن جانتی تھی اس کے گھر والے منیب کے ساتھ شادی کے لیے کبھی نہیں مانے گے اس لیے اس نے منیب سے نکاح کر لیا۔
لیکن دبیر کو دیکھتے ہی اس نے منیب کو کہا کہ اسے طلاق چاہیے وہ جو اپنے گھر والوں کو کرن کے گاؤں بھیجنے کے بارے میں سوچ رہا تھا کرن کی بات پر تب پڑا۔
کرن روز اسے فون کرکے طلاق کا کہتی اور منیب اسی فضول سی ضد سے تنگ آگیا تھا ۔
اور نا کرن وجہ بتاتی تھی ۔
آگے کا کام دبیر کا تھا جس نے سب کچھ معلوم کروایا اور کرن کی شادی کا بھی منیب کو بتا دیا جس کی وجہ سے وہ یہاں موجود تھا۔
کیا یہ لڑکا سچ بول رہا ہے؟ کیا یہ نکاح نامہ اصلی ہے؟
شاہ میر نے کرخت لہجے میں کرن کے سامنے نکاح نامہ لہراتے ہوئے پوچھا ۔
کرن خاموش رہی تھی یا بولنے کی سکت نہیں تھی
جواب دو؟
شاہ میر نے دھاڑتے ہوئے کہا جس پر کرن نے ڈر کر جلدی سے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
فضیل اعوان آگے بڑھا اور اپنے وزنی ہاتھ کا نشان کرن کے گال پر چھوڑ دیا۔
پورے ہال میں فضیل کے تھپڑ کی آواز گونجی تھی ۔
دفع ہو جاؤ میری نظروں سے ورنہ تمھاری جان لے لوں گا۔
فضیل نے غصے میں کرن کو کہا جو وہاں سے بھاگتے ہوئے چلی گئی ۔
گاؤں والوں کی آنکھوں میں جو سوال ابھرے ہوئے تھے ان کے جواب شاہ میر اور فضیل دونوں کے پاس نہیں تھے ۔
ابھی آپ لوگ گھر جاہیے جیسے ہی رانی ملی آپ کو بتا دیا جائے گا فضیل نے کمزور سے لہجے میں کہا ۔
گاؤں والے آہستہ آہستہ وہاں سے چلے گے دبیر بھی اپنے کمرے میں آگیا تھا ۔
منیب جاتے وقت کہہ کر گیا تھا وہ بہت جلد اپنی بیوی کو لینے آئے گا۔
فضیل اپنی کرسی پر ڈھہ سا گیا۔
نغمہ بیگم کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
شاہ میر غصے میں وہاں سے چلا گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
زری مجھے آپ سے بات کرنی ہے
دبیر نے کچن میں چائے بناتی زری کو دیکھتے کہا ۔
جی؟
زری نے دبیر کی طرف دیکھتے پوچھا
شاہ. میر اچھا انسان نہیں ہے۔
اُسی نے رانی کو غائب کروایا ہے ۔
دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ ایسا کیوں کرے گے؟ اور میں مانتی ہوں شاہ میر بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جو ان کو نہیں کرنے چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی بیوی کو غائب کروا دیں گے۔
اور کیوں کروایا ہے انہوں نے رانی کو غائب؟ زری نے تھوڑا سرد لہجے میں پوچھا۔
جب آپ میری اس بات پر یقین نہیں کر رہی تو وجہ بتانی بھی بے کار ہے
میں بس آپ کو اتنا کہنا چاہتا ہوں آپ اچھی ہیں لیکن شاہ میر اچھا نہیں ہے جو اُس نے رانی کے ساتھ کیا آپ کے ساتھ بھی کر سکتا ہے دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
اس بار آپ شاہ میر کے بارے میں غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں بہتر ہو گا آپ بھی اُن کے بارے میں اپنا خیال تبدل کر لیں
زری نے سنجیدگی سے کہا اور کچن سے باہر چلی گئی ۔
ایک تو پتہ نہیں کیوں لڑکیاں اپنے دماغ کا استعمال کیوں نہیں کرتی ۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
آگے دن پوری حویلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا کرن اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔شاہ میر بھی اپنے کمرے میں تھا۔
رانی کا کچھ پتہ چلا؟ زری نے سگریٹ پیتے شاہ میر کو دیکھتے پوچھا وہ پوری رات سوئی نہیں تھی ۔
رانی سے زیادہ ٹیشن اس گھر میں چل رہی ہے مجھے اُس کے بارے میں سوچنا ہے
شاہ میر نے روکھے لہجے میں کہا ۔
کیا مطلب؟ کیا رانی آپ کے لیے اہم نہیں ہے آپ کی بہن آپ کے لیے زیادہ اہم ہے؟ زری نے شاہ میر کے سامنے آتے غصے میں پوچھا ۔
میری بہن میرے لیے زیادہ اہم ہے شاہ میر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
آپ کی بہن نے کوئی نیک کام نہیں کیا بلکہ چوری چھپے نکاح کیا ہے اور ابھی بھی آپ کو کرن کی پرواہ….
اس سے پہلے زری اپنی بات مکمل کرتی چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اسے خاموش کروا دیا تھا۔
تھپڑ اتنی زور سے لگا تھا کہ زری کا ہونٹ پھٹ گیا اور اُس میں سے خون نکلنے لگا۔
اگر ایک بھی لفظ میری بہن کے بارے میں کچھ فضول کہا تو تمھاری زبان کاٹ کر رکھ دوں گا۔شاہ میر نے تنبیہ کرنے والے انداز میں کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔
زری ابھی بھی بے یقینی کے عالم میں کھڑی تھی ۔
💞💞💞💞💞
کیسے ہو اسلم میاں فاز نے اسلم کے منہ پر ٹھنڈا پانی ڈالتے ہوئے کہا جو ایک دم ہوش میں آیا تھا اس کی چار انگلیاں کٹ چکی تھیں۔
جن پر فاز نے پٹی باندھ دی تھی۔
مجھے معاف کر دو پلیز مجھے چھوڑ دو
اسلم نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
تمہیں یاد آگیا کہ تم نے کیا کیا تھا؟
فاز نے ڈرامائی انداز میں پوچھا ۔
ہاں مجھے یاد آگیا ہے مجھے معاف کر دو میں یہاں سے بہت دور چلا جاؤں گا۔
اسلم نے سسکتے ہوئے کہا
ہممممم ٹھیک ہے تم پر اتنا احسان کر سکتا ہوں کہ میں تمہیں چھوڑنے کے بارے میں ضرو سوچوں گا۔
ٹھیک ہے فاز نے کہا جیسے اسلم ہر بہت بڑا احسان کر رہا ہو ۔
ابھی میں. چلتا ہوں بس دیکھنے آیا تھا تم مر گئے ہو یا ابھی تک زندہ ہو
فاز نے تمسخرانہ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے اسلم بےبسی سے رونے لگا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
دبیر نے سوچ لیا تھا کہ جو وہ اصل میں ہے وہی اب سب کو بھی نظر آئے گا اور اب اس کا ارادہ حویلی سے جانے کا تھا۔
لیکن اُس سے پہلے سب کو اپنا تعارف بھی کروانا تھا اور ان سب کو یہ بھی بتانا تھا کہ کہ ان کے برے دن آنے والے ہیں ۔
شروعات زری سے کرنی تھی اس لیے زری کے کمرے کی طرف گیا ۔
وہ چاہتا تھا آرام سے سب کچھ زری کو بتا دے اور کہی نا کہی دبیر کو امید بھی تھی کہ وہ سمجھ بھی جائے گی لیکن یہ صرف دبیر کی سوچ ہی تھی۔
دبیر نے دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہوا لیکن زری کے پھٹے ہوئے پوٹ کو دیکھ کر دبیر ایک سیکنڈ میں ساری بات سمجھ گیا تھا اس کا دل کیا ابھی جا کر شاہ میر کو شوٹ کر دے ۔
زری جو ابھی تک بے یقینی کے عالم میں کھڑی تھی دبیر کو دیکھ کر اس نے نظریں جھکا لیں
اب آپ مجھے یہ مت کہیے گا یہ شاہ میر کا کام نہیں ہے دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔
آپ میرے معاملے سے دور رہیں
زری نے اپنا رخ موڑ تے ہوئے کہا
” آخر اپ کس مٹی کی بنی ہیں ؟ کیا چاہتی ہیں ؟ یہ لوگ آپ کو جان سے مار دے پھر خود کے لیے آواز اٹھانی ہے آپ نے؟“
دبیر نے دانت پیستے زر کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے دبی آواز میں پوچھا۔
زر نے پہلے اپنی سرخ آنکھوں سے دبیر کے چہرے کی طرف دیکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ دے مارا۔ شاہ میر کا غصہ اس نے دبیر پر نکال دیا تھا جو اس کو بہت مہنگا پڑنے والا تھا ۔
بند کمرے میں زر کے تھپڑ کی آواز گونجی۔ دبیر نے دائیں جانب اپنا چہرہ لے جا کر گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔
” فضیل اعوان کی بہو ہوں میں تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔“
ذری نے ایک سیکنڈ میں آپ سے تم تک کا سفر طے کیا تھا۔
” آئندہ اگر مجھے ہاتھ لگایا تو ہاتھ کاٹ کر رکھ دوں گی۔“ ذری نے انگلی اٹھاتے ہوئے سامنے کھڑے دبیر کو تنبیہ کرتے کہا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اچانک اس میں اتنی ہمت کیسے آگئی۔
دبیر نے زری کی طرف دیکھا اور کافی حد تک اپنے غصے پر قابو پا چکا تھا۔
دبیر نے زری کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ کی قید میں لیا اور اسے پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ زر کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا
یہ کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے زر نے روندی آواز میں کہا ناچاہتے ہوئے بھی اسے اپنی بےبسی پر رونا آرہا تھا۔
” تم جانتی ہو میں کون ہوں“؟
مقابل نے گھمبیر لہجے میں زری کی بات کو اگنور کرتے ایک آبرو اچکاتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا ۔
ذری نے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں وہ جانتی تھی بے شک سامنے کھڑے انسان کا لہجہ عام ہے لیکن جو حرکت وہ کر چکی ہے اب نظریں ملانا ناممکن تھا۔اور اپنی غلطی کا احساس اسے پل بھر میں ہوا تھا۔
محترمہ آپ سے بات کر رہا ہوں آپ کی ہمت کی داد دینی پڑے گی تھپڑ مارتے وقت خوف نہیں آیا اور اب ڈر رہی ہو؟ دبیر نے زری کے چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ لہراتے ہوئےکہا ۔جو ابھی بھی نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔
” اگر میں چاہوں تو ابھی اور اسی وقت تمہیں اس جگہ سے غائب کر سکتا ہوں
کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ تمہیں تلاش کر سکے۔“
دبیر نے ٹھوڑی سے پکڑ کر زر کا چہرہ اوپر کرتے مزید کہا ۔
”جانتی ہو تمہیں میں اپنے پالتو کتوں کے سامنے پھینکنے پر زرا سا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا ڈارلنگ کیونکہ ابھی تم لاعلم ہو کہ جس انسان پر تم نے ہاتھ اٹھایا ہے وہ کون ہے۔
اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں تم پر ترس کھا کر تمھاری مدد کر رہا ہوں تو یہ سراسر غلط ہے۔
تمھاری مدد میں خود کے لیے کررہا ہوں ۔بہت خود غرض ہوں میں
صرف اپنا فائدہ سوچتا ہوں۔“
مقابل نے تمسخرانہ انداز میں زر کی خوف سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
زری کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔اس وقت اسے وہ دبیر لگ ہی نہیں رہا تھا جس سے زر پہلی بار ملی تھی ۔
” اگر تم چاہو تو اس زخم پر اسی وقت میں اپنے پیار کا مرہم لگا سکتا ہوں۔“
دبیر نے زر کے پھٹے ہوئے ہونٹ کو دیکھ کر زخم کو ہلکا سا اپنے انگوٹھے سے چھو کر دباتے ہوئے بے باکی سے کہا۔
لیکن زری کو لگا مقابل نے جان بوجھ کر زور سے دبایا جس پر اس کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکلی ۔
زری کی آنکھوں میں بےبسی سے آنسو جمع ہو گئے تھے جسے باہر نکلنے کی شاید اجازت نہیں تھی ۔
دبیر نے گہری نظروں سے سامنے کھڑی زر کی آنکھوں میں جھانکا جہاں بےبسی کے ساتھ تکلیف بھی شامل تھی ۔
” تمھاری یہ خوبصورت آنکھیں مجھے ہمیشہ بھٹکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔“ دبیر نے بےخودی کے عالم میں زر کی آنکھوں میں دیکھتے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
وہ زری کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ اس کی گرم سانسوں کے تھپڑ اسے اپنے چہرے پر پڑتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔اس میں اب اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ خود کو آذاد کروانے کی کوشش بھی کر سکے
تم پاگل ہو ۔
زر نے سامنے کھڑے سر پھرے انسان کی گرفت میں پھڑپڑاتے ہوئے کہا ۔
” ہاں ہو گیا ہوں جب سے تمہیں دیکھا ہے اُسی دن سے پاگل ہو گیا تھا۔تمھاری ان خوبصورت آنکھوں کا دیوانہ ہو گیا ہوں ۔اور جب ان میں ہلکی سی نمی آتی ہے واللہ اُس وقت تو تمھاری قاتل آنکھیں مجھ سمیت کسی کی بھی جان لے سکتی ہیں۔“ دبیر نے ایک آنکھ دباتے ہوئے مسکرا کر کہتے ہی اپنی انگلی کی پور سے زر کی نم آنکھ کو چھوا ۔زر دبیر کے لمس سے ایک دم. کانپ سی گئی تھی ۔
اس کو سامنے کھڑا شخص اب کہی سے بھی مہذب نہیں لگ رہا تھا جو رائے اس نے پہلی بار اسے دیکھ کر قائم کی تھی وہ اب غلط ثابت ہو رہی تھی۔
” اور ہاں اب میں مزید اچھا بننے کی ایکٹنگ نہیں کر سکتا
بہت ہو گیا چوہے بلی کا کھیل میں نے سوچ لیا ہے کہ میں تمھارے شوہر سے بات کروں گا
اگر اُس نے عزت سے تمہیں طلاق دے دی تو ٹھیک ہے ورنہ…… “
دبیر نے سینے پر ہاتھ باندھتے بات کو ادھورا چھوڑتے سنجیدگی سے کہا ۔
ورنہ؟ زر نے دھڑکتے دل کے ساتھ ہکلاتے پوچھا۔
” ورنہ آج کل بہت سے حادثات ہو رہے ہیں اُن میں سے تمھارا شوہر بھی کسی ایک حادثے کا شکار ہو سکتا ہے ویسے بھی تمھارے گھٹیا شوہر کی طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں۔“
دبیر نے لاپروائی سے کہا۔
زر آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑے خود غرض انسان کو دیکھ رہی تھی۔
تم. کون ہو ؟اور کیوں میرے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہو؟ زری نے پوچھا۔
جو تمھارے گھٹیا شوہر نے میری بیوی کے ساتھ کیا وہ میں تمھارے ساتھ نہیں کر سکتا۔اس لیے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے ۔
”اور اب مجھے چلنا چاہیے ایک دو ضروری کام نپٹانے ہیں اور ہاں اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے کہ میں کتنا کمینہ انسان ہوں تو اب میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔“
دبیر نے اپنا چہرے زری کے ہونٹوں کے قریب لاتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہا ۔
اس کی گھٹیا گفتگو سن کر زر کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا سا چھایا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی دبیر نے اس کا نازک وجود اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
کیا فضول بکواس کی ہے تم نے دبیر اور یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے تم نے مجھے غصہ دلایا دبیر نے زری کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے گہرے لہجے میں کہا ۔
اس کا ارادہ آرام سے اپنی اصلیت زری کو بتانے کا تھا لیکن زری نے دبیر کو تھپڑ مار کر سوئے ہوئے شیرو کو جگا دیا ۔