Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
💞💞💞💞💞💞☠️☠️☠️☠️
آج میں بہت خوش ہوں آفندی نے اپنے پہلو میں لیٹی عاشی کو دیکھتے کہا۔جو کسی سوچ میں غرق تھی۔
آفندی اگر پاشا کو پتہ چل گیا کہ میں اُسے دھوکا دے رہی تھی تو وہ مجھے جان سے مار دے گا۔
میں نے یہ ڈرامہ صرف تمھاری وجہ سے کیا ہے عائشہ نے پریشانی سے آفندی کو دیکھتے کہا۔
میں ہوں نا جان پھر کیوں تم گھبرا رہی ہو؟
آفندی نے عاشی کو اپنے سینے پر گراتے ہوئے کہا۔
عائشہ آفندی کی گرل فرینڈ تھی اور اس کے کہنے پر اس نے سارا ڈرامہ کیا اور پاشا کو اپنی محبت کا احساس دلایا۔
وہاں پر ہوتی ہر ایک بات عائشہ آفندی کو بتاتی تھی عائشہ نے پاشا پر اُس کے پاس رہ کر نظر رکھی ہوئی تھی۔
یہ تو ہے عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا عجیب انسان تھا جو اپنی گرل فرینڈ کو دوسرے مرد کے پاس بھیجتا تھا صرف اس لیے کہ وہ پاشا پر نظر رکھ سکے۔
تم خوش کیوں ہو آج؟ ایسا کیا ہوا؟ عاشی نے یاد آنے پر پوچھا۔
عمر کا میں نے ایکسیڈنٹ کروا دیا اُس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں
آہ کاش میں شیرو کا چہرہ دیکھ سکتا اسے تکلیف میں دیکھ سکتا۔
آفندی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن آفندی کی بات پر عاشی کے مسکراتے ہونٹ سمٹے تھے۔
آفندی میرے خال سے تمہیں شیرو سے دور رہنا چاہے اور جو تم نے کیا وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔شیرو اور پاشا میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
عاشی نے پریشانی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
تمہیں شیرو مجھ سے زیادہ طاقتور لگتا ہے؟ کیا وہ مجھ سے زیادہ خطرناک ہے؟
آفندی نے عاشی کو بالوں سے پکڑ کر سختی سے پوچھا۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا عاشی نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا۔
کبھی غلطی سے بھی اپنی زبان سے شیرو کی تعریف مت کرنا ورنہ میں تمھاری زبان کانٹے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔
آفندی نے کہتے ہی عاشی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
عاشی آفندی کی لمس پر تڑپ سی گئی تھی۔
آفندی پیچھے ہٹا تو عاشی نے گھور کر اسے دیکھا جو مسکرا پڑا تھا اور سگریٹ کو لبوں میں رکھ کر سلگانے لگا۔
عیاشی سوچ میں پڑ گئی تھی اب دبیر کیا کرے گا۔
💞💞💞💞💞💞
ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟ کبیر نے دبیر کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
مصطفیٰ کو ابھی ہوش نہیں آیا فاز کے سر پر زیادہ چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلا گیا ہے۔
دبیر نے بنا سر اٹھائے کبیر کو جواب دیا۔
جو خاموش ہو گیا تھا۔
اسد بھی سنجیدگی سے پاس کھڑا تھا۔
جانتے ہو کبیر مصطفیٰ بہت چھوٹا تھا جب میں نے اُسے دیکھا تھا کچھ لوگ اُسے زبردستی اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے میں نے اُس کی مدد کی تھی اور اُس دن سے وہ میرے ساتھ ہے اور مجھے بہت عزیز بھی ہے بلکل میرے چھوٹے بھائی کی طرح فاز اور مصطفیٰ میرے دل کے بہت قریب ہیں اگر اُن کو کچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گا۔
اور دیکھو ابھی بھی میں اپنا سوچ رہا ہوں کتنا خود غرض ہوں میں ابھی بھی مجھے اپنا خیال ہے کیونکہ اُن دونوں کے بغیر میں نہیں رہ سکتا ۔
دبیر نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
تم خود غرض نہیں ہو دبیر یہ تمھارا پیار ہے ناکہ تمھاری خود غرضی اور انشاءاللہ بہت جلد دونوں ٹھیک ہو جائیں گے
کبیر نے حوصلہ دیتے کہا۔
فاز کوما میں چلا گیا ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مشکل ہے کہ وہ ہوش میں آئے اور مصطفیٰ اگر اسے چوبیس گھنٹوں تک ہوش نا آیا تو کچھ کہہ نہیں سکتے ۔
میں کیا کروں گا کتنا بے بس محسوس کر رہا ہوں خود کو میں کچھ نہیں کر سکتا
نا میرا پیسہ اُن کو بچا سکتا ہے دبیر اپنے بھائیوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔
دبیر نے بے بسی سے اپنے ہاتھوں میں چہرہ گراتے کہا۔
دبیر تم دعا کر سکتے ہو یار اور تمہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے مایوسی اللہ کو پسند نہیں ہے۔
کبیر نے دبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
کیا میری دعا قبول ہو گی؟ میں تو بہت برا انسان ہوں دبیر نے کبیر کو دیکھتے کہا۔
تم برے نہیں بلکہ بہت اچھے انسان ہو ایسا مت سوچو اور کیوں نہیں تمھاری دعا قبول ہو گی؟ ضرور ہو گی
تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
ان شاء اللہ دبیر نے دل میں کہا تھا اسے کبیر کی باتوں سے کافی حوصلہ مل گیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
اماں نے ہادی کو پکڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ارحم اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا لیکن بچے کو دیکھ کر رک گیا اور اماں کے پاس چلا آیا۔
اماں نے زری کو بھی کمرے سے نکلنے کا کہا تھا کہ باہر نکلا کرو لیکن اُس نے باہر نکلنے سے منع کر دیا۔
اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس گھر کے مالک نے عدت تک اسے اپنے گھر میں رکنے کی اجازت دی ہے۔
اور زری کو یہاں پر کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا۔
ارحم اماں کے سامنے بیٹھ گیا اس کی نظریں ہادی پر ٹکی ہوئی تھیں۔
جو کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔
بیٹا نماز کا وقت ہو گیا ہے میں تھوڑی دیر تک واپس آتی ہوں تم اس کا خیال رکھنا
اماں نے ہادی کو ارحم کے حوالے کرتے کہا۔
اماں اس کا نام کیا ہے؟ ارحم نے ہادی کو گود میں لیتے پوچھا
ہادی اماں نے مسکرا کر جواب دیا اور وہاں سے چلی گئیں۔
ہادی… ارحم نے منہ میں بڑبڑایا
ہادی اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ارحم کو دیکھ رہا تھا۔
کیا بھئی لگتا ہے تمہیں میں پسند آگیا ہوں۔
ارحم نے مسکرا کر کہا۔
ہادی تھوڑی دیر ارحم کو دیکھتا رہا اُس کے بعد اُس کی رونے کی آواز پورے گھر میں گونجی تھیں۔
کیا ہوا یار میں نے تو کچھ نہیں کہا
ارحم نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
اسے کہاں بچے سنبھالنے آتے تھے۔
زری جو اپنے کمرے میں تھی ہادی کے رونے کی آواز سن کر باہر آئی سامنے ہی ارحم کھڑا ہادی کو خاموش کروانے کی کوشش کر رہا تھا زری اس کے پیچھے کھڑی تھی اس نے اچھی طرح اپنے ڈوپٹے کو سیٹ کیا اور ایک ہاتھ سے نقاب کرکے ڈوپٹے کے کونے کو پکڑ لیا اب اس کی آنکھیں صرف نظر آرہی تھیں ۔
زری ارحم کے سامنے گئی ۔
جس نے حیرانگی سے زری کو. دیکھا۔
وہی آنکھیں ارحم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
مجھے پکڑا دیں زری نے دھیمے لہجے میں نظریں جھکا کر کہا۔
ارحم نے ہادی کو زری کے سامنے کیا جس نے ہادی کو پکڑا اور وہاں سے لے گئی۔
زری کے جاتے ہی ارحم نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
جس کی آنکھیں اتنی خوبصورت اور دلکش ہیں وہ خود کیسی ہو گی ۔
اُف یہ کیا سوچ رہا ہوں میں ارحم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اپنے سر کو جھٹکتے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
کرن تمھاری امی چاہتی ہیں میں تمہیں یہاں سے لے جاؤ منیب نے کرن کو دیکھتے کہا جو بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی رو رو کر اس کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔
مجھے کہی نہیں جانا کرن نے بھاری لہجے میں کہا۔
اس کا گلہ بھی خراب ہو چکا تھا۔
کرن ضد نا کرو جاؤ اپنے شوہر کے ساتھ نغمہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
امی میں آپ کو چھوڑ کر کہی نہیں جاؤں گی۔
کرن نے ضدی لہجے میں کہا۔
میرے پاس رضیہ ہے اور اب میں بلکل ٹھیک ہوں میری فکر مت کرو
نغمہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا ۔
آج ہی ان کی طبعیت کچھ بہتر ہوئی تھی ۔
امی میں کل واپس چلی جاؤں گی آج نہیں کرن نے گہرا سانس لیتے کہا ۔کیونکہ وہ جانتی تھی اگر ا سنے منع کیا تو رضیہ بیگم زبردستی منیب کے ساتھ اسے بھیج دے گی۔
نغمہ بیگم بنا کچھ کہے کمرے سے باہر چلی گئی ۔
مجھے آرام کرنا ہے میرا سر درد کر رہا ہے کرن نے بنا منیب کو دیکھے کہا۔
جو خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
ہسپتال میں کبیر اور اسد موجود تھے دبیر بلیک پیلس آیا تھا ویسے تو یہاں پر رانی اور مریم کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا تھا کیونکہ فاز نے گھر سے باہر گارڈز کھڑے کر دیے تھے اور تین ملازموں کا بھی بندوبست کر دیا تھا۔
دبیر گھر میں داخل ہوا لیکن اسے کہی بھی رانی یا مریم نظر نہیں آئی ملازمہ کچن میں تھی جہاں سے برتنوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
مریم اور رانی کہاں ہیں؟
دبیر نے ملازمہ کو دیکھتے پوچھا۔
صاحب وہ رانی بی بی کے کمرے میں ہیں ملازمہ نے کہا۔
دبیر رانی کے کمرے کی طرف چلا گیا، دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوا ۔
مریم رانی کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔
بھائی آپ… آئیں بیٹھیے مریم نے خوشدلی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
نہیں میں ٹھیک ہوں مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی۔ دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
جی؟ مریم نے کہا۔
آپ دونوں زری کی ٹینشن مت لیجیے گا وہ ٹھیک ہے دبیر نے بات کا آغاز کرتے کہا۔
دبیر نہیں جانتا تھا کہ زری کیسی ہے لیکن رانی اور مریم کو حوصلہ دینا بھی ضروری تھا۔
رانی اور مریم نے شکر ادا کیا۔
اور فاز کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑ گیا تھا مصطفیٰ بھی اُس کے ساتھ ہے تو اُن کی واپسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے اور زیادہ ٹائم بھی لگ سکتا ہے۔
تو میں یہی پر ہوں
ملازم بھی گھر پر ہیں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا۔
دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
اُن کی واپسی کب تک ہو گی؟ مریم نے بےتابی سے پوچھا۔
جیسے ہی کام ختم ہو گا وہ دونوں واپس آجائیں گے ۔
اور ہاں جس جگہ وہ گئے ہیں وہاں پر سگنل کا ایشو ہے تو ہو سکتا ہے کال وغیرہ نا ملے۔
دبیر نے کہا۔
جی ٹھیک ہے مریم نے کہا رانی تو خاموش کھڑی تھی۔
میں چلتا ہوں دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے نکل گیا۔
دبیر اپنے کمرے میں آگیا تھا۔
اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو اس کی نظر اپنی ٹھوڑی کے نشان پر پڑی جو زری نے اسے دیا تھا۔
تمہیں کیا لگا مجھ سے دور چلی جاؤ گی
لیکن افسوس جس سے دور بھاگ رہی تھی اُسی کے پاس چلی گئی۔
دبیر نے اپنے نشان پر ہاتھ پھیرتے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اور آفندی تم نے شیرو سے پنگا لے کر بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا پچھتاوا تمہیں بہت جلد ہونے والا ہے۔
دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔جس لڑکے نے آفندی سے پیسے لے کر گاڑی کی بریک فیل کی تھی اُسے دبیر نے اتنا مارا کہ اب وہ ہسپتال میں پڑا تھا لیکن اُس نے اُس آدمی کا نام بتا دیا جس کے کہنے پر یہ سب کچھ اس نے کیا تھا۔
تم نے غلطی کر دی آفندی تم نے بہت بڑی غلطی کر دی..
بیسٹ سے پہلے میں تمھاری جان لے لوں گا تمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں گا میرے اپنوں پر حملہ کرکے تم نے اچھا نہیں کیا بزدل انسان
دبیر نے غصے سے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
