Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

ضیل نے جب ٹریگر دبایا تھا تو پیچھے سے آتے فاز نے گن کا رخ آسمان کی طرف کر دیا تھا۔
نغمہ بیگم دبیر کو کال کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی تھی اور دبیر نے کہا تھا کہ فاز ان کو لینے آئے گا فاز ہسپتال سے سیدھا گاؤں آیا تھا لیکن جب اس نے فضیل کو نغمہ بیگم پر گرن تانے دیکھا تو جلدی سے فضیل کے پاس آیا تھا۔
آپ ٹھیک ہیں رضیہ نے نغمہ بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا جنہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
آپ دونوں گاڑی میں جا کر بیٹھیں میں آتا ہوں فاز نے فضیل کے ہاتھ سے گن لیتے کہا۔
نغمہ بیگم نے ایک نفرت بھری نظر فضیل پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی تھی جو ان کے جان لینا چاہتا تھا۔
انکل کیسے ہیں آپ؟ کافی دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔
فاز نے گن کو دیکھتے فضیل کو کہا۔
جو فاز کے یہاں آنے پر اسے گھور کر دیکھ رہا تھا۔
فاز نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا نغمہ بیگم اور رضیہ وہاں پر نہیں تھیں
اس نے گن کا رخ فضیل کے ٹانگوں کی طرف کیا۔اس سے پہلے فضیل کچھ سمجھتا
فضا میں گولی کی آواز گونجی تھی۔
فضیل کراہ کر وہی اپنا پاؤں کو پکڑے بیٹھ گیا۔
میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے پوری رات نہیں سویا اور واپس جاکر مجھے سونا ہے ورنہ آپ کے پاس کچھ وقت ضرور ٹھہر جاتا۔
فاز نے گن کو اپنی پاکٹ میں رکھتے کہا۔
اور اپنے گلاسز لگاتے وہاں سے چلا گیا۔
فضیل وہی اپنی ٹانگ پکڑے بیٹھا کراہ رہا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
میں نے تمہیں کہا تھا آفندی شیرو سے دور رہو لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اب جو نقصان ہوا ہے اسے بھگتو
ارحم نے آفندی کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا
جسے آتے ہی خبر ملی تھی کہ اس کے گودام میں آگ لگ گئی ہے اور اس کا کروڑوں کا مال جل کر راکھ ہو گیا تھا۔
اور اب آفندی کو پتہ چلا کہ شیرو کون سی نیوز کی بات کر رہا تھا۔
میرے اس گودام کے بارے میں سوائے تمھارے یا میرے اور کسی کو معلوم نہیں تھا پھر اُسے کیسے پتہ چلا؟
اُسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں آفندی نے غصے سے دھاڑتے کہا۔
پوچھ کر بتا سکتا ہوں ارحم نے کندھے اچکاتے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے کہا۔
کیا؟ آفندی نے ناسمجھی سے ارحم کو دیکھتے پوچھا۔
کہ شیرو کو سب کیسے پتہ چل جاتا ہے ارحم نے کہا.
مجھے حیرت ہوتی ہے خود پر کہ ابھی تک میں ٹھیک کیسے ہوں ورنہ تم کسی کو بھی پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو۔
آفندی نے غصے سے گھورتے ہوئے ارحم کو کہا
پاگل انسان کو مزید پاگل نہیں کیا جا سکتا
ارحم نے الٹا آفندی کو جواب دیتے کہا۔
جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ارحم کا سر پھاڑ دے وہ ہمیشہ آفندی کا بلڈ پریشر زیادہ کرکے جاتا تھا۔
تم نے بیسٹ کے ساتھ کون سا پنگا لیا تھا جو وہ بھی تمھاری جان کا دشمن بنا ہوا ہے لیکن حیرت ہے ابھی تک وہ خاموش ہے ورنہ تم تک پہنچنا اُس کے لیے مشکل نہیں ہے۔
ارحم نے آفندی کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
میں نے بیسٹ پر نظر رکھی تھی پل پل کی خبریں بیسٹ کی مجھے ملتی تھیں۔میں اُسے مارنا چاہتا تھا۔کیونکہ سب لوگ اُس سے ڈرتے ہیں جب میں نے اس دنیا میں قدم رکھا تو میرے سامنے صرف ایک نام آیا تھا اور وہ بیسٹ کا تھا کہ اُسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔
اور پھر میں نے سوچا تھا میں بیسٹ کو مار کر اُس کی جگہ لوں گا۔
اور ایک دن میں نے اپنے آدمیوں کو کہہ کر اس کی گاڑی کی بریک فیل کروا دی تھیں کیونکہ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
اُس کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔
مجھے خبر ملی تھی کہ وہ مر گیا ہے
لیکن بعد میں وہ پتہ نہیں کیسے ٹھیک ہو گیا۔
آفندی نے حیرانگی سے کہا۔
ارحم جو غور سے آفندی کی بات سن رہا تھا ہنس پڑا ۔
کس دنیا میں رہتے ہو تم؟
تمہیں کیا لگتا ہے تم آسانی سے بیسٹ پر نظر رکھ سکتے ہو اور اتنے دنوں سے تمھارے آدمیوں نے بیسٹ پر نظر رکھی ہوئی تھی لیکن اُسے معلوم نہیں ہوا؟
ارحم نے طنزیہ لہجے میں ہنستے ہوئے کہا۔
کیا کہنا چاہتے ہو صاف صاف کہو آفندی نے کہا۔
جس آدمی پر تمھارے آدمیوں نے نظر رکھی ہوئی تھی جسے وہ بیسٹ کہہ رہے تھے اگر وہ سچ میں بیسٹ ہوتا تو تمہیں اُسی دن اپنے آدمیوں کی لاشیں مل جاتی جنہوں نے بیسٹ پر نظر رکھی ہوئی تھی۔
تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ وہ بیسٹ نہیں تھا۔
ارحم کہتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔
تو پھر وہ کون تھا؟ آفندی نے حیرانگی سے پوچھا۔یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔ارحم نے آفندی کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔جو کسی گہری سوچ میں غرق ہو گیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کہاں تھے آپ پوری رات؟ فاز نغمہ بیگم اور رضیہ کو گھر لے آیا تھا وہ لوگ نیچے بیٹھے تھے رانی ان کے پاس ہی بیٹھی تھی تو فاز اوپر آگیا۔
آتے ہی مریم نے ماتھے پر تیوری لیے پوچھا۔
میں پوری رات ایک حسین لڑکی کے پاس تھا۔فاز نے شرارتی لہجے میں کہا۔
تو اب بھی اسی کے پاس رہتے یہاں کیا لینے آئے ہیں آپ بلکہ آپ جائیں اُسے کے پاس
مریم جو پہلے ہی غصے میں بھری بیٹھی تھی فاز کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔
فاز دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔
مریم نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے باہر کی طرف دھکا دیا۔
فاز کمرے سے باہر جا کھڑا ہوا تھا۔
یار میری پوری بات تو سن لو فاز نے احتجاج کرتے کہا لیکن مریم اس کے منہ پر زور سے دروازہ بند کر چکی تھی۔
فاز نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
فاز نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔
اس نے اپنا موبائل نکالا اور اسد کو کال کی
یار کوئی ایکسٹرا کمرا ہے میری بیوی نے مجھے کمرے سے نکال دیا ہے اور اس وقت مجھے آرام کرنے کے لیے ایک کمرا چاہیے
فاز نے معصومیت سے کہا۔
اسد فاز کی بات سن کر ہنسنے لگا تھا۔
بھائی صاحب ایسے کام ہی نا کیا کرو کہ بھابھی تمہیں کمرے سے نکالے
اسد نے ہنستے ہوئے کہا اور کمرے کے بارے میں بتانے لگا کیونکہ ابھی صرف فاز نے اپنا کمرہ ہی دیکھا تھا ابھی تو ٹھیک طرح اس نے پورا گھر بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس وقت اسے سب سے زیادہ چیز جو اہم لگ رہی تھی وہ اس کہ نیند تھی۔
مریم کو بعد میں منانے کا سوچ کر وہاں سے چلا گیا لیکن وہ نہیں جانتا تھا یہاں سے جا کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے مریم بے شک اب فاز کو نہیں چھوڑے گی کیونکہ وہ اندر بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ اب وہ دروازہ کھول دے گی۔
لیکن دوبارہ اسے فاز کی آواز نہیں آئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
کرن کیا تمھارے بھائی کا نام شاہ میر تھا؟ آفندی نے کرن کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ کرن نے حیرانگی سے پوچھا
آفندی کچھ پل سوچتا رہا پھر بولا
تمھارے بھائی کے قاتل کا پتہ چل گیا ہے۔
کون ہے وہ؟
کرن نے بےتابی سے پوچھا
جسے تم آج ملی تھی
آفندی نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا مطلب؟ دبیر نے میرے بھائی کی جان لی لیکن کیوں؟
کرن کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔
پاشا کا بھائی شیرو ہے جسے تم دبیر کہہ کر بلا رہی ہو تو خود ہی سوچ لو شیرو کیسا ہو گا۔
آفندی کہتے ہی کرن کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
دبیر… مجھے اُس سے اپنے بھائی کا بدلہ لینا ہے کرن نے دبیر کا نام منہ میں بڑبڑایا اور سامنے آفندی کو دیکھتے کہا۔
حساب تو میرے بھی اُسکی طرف بہت نکلتے ہیں۔
لیکن بس تھوڑا سا صبر کر لو آفندی نے زری کے بارے میں سوچتے ہوئے کہا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے لیکن سب سے پہلے اسے معلوم کرنا تھا کہ کون ہے وہ جو اس کی ساری معلومات شیرو کو دیتا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
نغمہ بیگم کمرے میں چلی گئی تھیں اور رانی نے سامنے ٹیبل پر پڑے برتن اٹھائے اور کچن کی طرف چلی گئی۔
سنک میں برتن رکھتے ہی رانی جب مڑی تو اپنے بے حد قریب کھڑے مصطفیٰ کو دیکھ کر اس کی چیخ نکلتی رہ گئی۔
تمھاری وجہ سے کسی دن مجھے ہارٹ اٹیک آجائے گا۔
رانی نے مصطفیٰ کو گھورتے ہوئے کہا۔
میرے ساتھ چلو مصطفیٰ نے رانی کی بات کو اگنور کرتے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی طرف لے گیا۔
کیا ہو گیا ہے؟ مجھے کچن میں کام ہے رانی نے کہا۔
مجھے بھی تم سے بہت ضروری کام ہے اور میں آپ کا ہی شوہر ہوں کبھی تو مجھ پر بھی اپنی نظر ڈال لیا کرو۔
مصطفیٰ نے کمرے میں آتے رانی کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا۔
کیا کام تھا؟ رانی نے نظریں چراتے پوچھا۔
کام تو بہت سارے ہیں بس کبھی تم مجھے موقع دینا اچھے سے بتا دوں گا۔
مصطفیٰ نے شرارتی لہجے میں رانی کو دیکھتے کہا۔
مصطفیٰ فضول گوئی سے پرہیز کریں رانی نے گھورتے ہوئے کہا۔
میں نے کیا کہا؟ مصطفیٰ نے معصومیت سے پوچھا۔
میں جا رہی ہوں رانی نے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی۔
روکو یار مصطفیٰ نے جلدی سے کہتے رانی کا ہاتھ پکڑا
میں یہ تمھارے لیے لایا تھا مصطفیٰ نے ایک خوبصورت سی پازیب رانی کے سامنے کرتے کہا۔وہ جانتا تھا کہ رانی کو پازیب بہت پسند ہیں۔
رانی کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مصطفیٰ کو خوشی ہوئی تھی رانی نے پازیب لینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا لیکن مصطفیٰ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
میں خود پہنانا چاہتا ہوں۔مصطفیٰ نے کہا اور رانی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جو خاموشی سے بیڈ کے کونے میں بیٹھ گئی تھی۔
مصطفیٰ نے گھنٹوں کے بل بیٹھتے جھک کر رانی کے پاؤں میں پازیب پہنائی تھی۔
پرفیکٹ مصطفیٰ نے پازیب کو دیکھتے کہا۔لگتا ہے یہ تمھارے پاؤں کے لیے ہی بنی تھی مصطفیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
رانی کو بھی پازیب پسند آئی تھی اس لیے ہلکا سا مسکرا پڑی ۔
واللہ لڑکی ہنس پڑی اس مطلب ہنسی تو پھنسی مصطفیٰ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ڈرامائی انداز میں کہا۔
رانی مصطفیٰ کی اوور ایکٹنگ دیکھ کر اپنی ہنسی روک نہیں سکی تھی اور کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
ایسے ہی ہنستی رہا کرو اچھی لگی ہو مصطفیٰ نے رانی کے قریب آتے سرگوشی کرتے کہا۔
جس کی ہنسی ایک پل میں غائب ہوئی تھی۔
مصطفیٰ رانی نے آہستگی سے نام پکارا جو رانی کے اس قدر پیار سے پکارنے پر دل و جان سے فدا ہوا تھا۔
بولو میں سن رہا ہوں مصطفیٰ نے رانی کی گردن کو بائیں جانب اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا۔
رانی کی جھکی ہوئی لمبی پلکیں اس وقت مصطفیٰ کو بہت پیاری لگ رہی تھیں۔
اس سے پہلے مصطفیٰ کچھ اور کہتا اس کا موبائل رنگ ہوا تھا
اس نے بھی ابھی رنگ ہونا تھا مصطفیٰ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور موبائل کان سے لگائے کمرے سے باہر چلا گیا۔
رانی مصطفیٰ کی حالت پر ہنس پڑی تھی۔
💞💞💞💞💞
ابھی میں ہسپتال میں ہوں لڑکی نے مقابل کو کہا۔
کسی بھی طرح فاز کا اعتماد جیتو
اور جیسا میں نے کہا تھا ویسا ہی کرنا
مجھے کسی بھی حال میں اُس کی بیوی چاہیے اور دبیر کی موت مقابل نے سرد لہجے میں کہتے فون کاٹ دیا۔
مریم نے چھوٹے سے موبائل کو آف کر کے دوبارہ اپنے پاس چھپا لیا تھا۔
اور آنکھیں موندے لیٹ گئی۔
💞 💞 💞 💞
زری نغمہ بیگم اور اپنی ماں سے ملنے کے بعد مریم کے سامنے بیٹھی باتیں کر ہی تھی۔
جو منہ پھلائے بیٹھی تھی۔
کیا ہوا؟ زری نے مریم کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں
مریم نے سنجیدگی سے کہا۔
کچھ تو ضرور ہوا ہے لیکن تم بتا نہیں رہی زری نے مریم کے تاثرات دیکھتے کہا۔
کچھ نہیں زری میں ٹھیک ہوں
تم کیا کل میرے ساتھ مارکیٹ چلو گی؟
مریم نے پوچھا
مارکیٹ؟ کیا لینا ہے تم نے؟
زری نے حیرانگی سے پوچھا۔
مجھے خود کے لیے شاپنگ کرنی ہے اور میں گھر میں بیٹھی بور ہو رہی ہوں۔
مریم نے ناک سکڑے کہا۔
تو بہن اپنے شوہر کے ساتھ جاؤ زری نے مشورہ دیتے کہا۔
نہیں مجھے تمھارے ساتھ جانا ہے۔اُن کے ساتھ میں پھر کبھی چلی جاؤں گی۔
مریم نے کہا۔
زری کچھ پل سوچتی رہی پھر اس نے مریم کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔
فاز کو ضروری کام تھا اس لیے وہ بنا مریم سے ملے اگلی صبح گھر سے نکل گیا تھا۔
اور دبیر تو گھر نہیں آیا تھا۔
اگلے دن زری نے دبیر کو میسج کر دیا تھا کہ وہ مریم کے ساتھ مارکیٹ جا رہی ہے اگر دبیر میسج پڑھ لیتا تو کبھی بھی دونوں کو اکیلے گھر سے نکلنے کی اجازت نا دیتا۔
مریم اور زری گھر سے نکل آئی تھیں۔ڈرائیور ان کے ساتھ ہی تھا اور وہ دونوں زیادہ دور بھی نہیں گئی تھیں پاس والی مارکیٹ میں گئی تھیں۔
دونوں نے بہت ساری شاپنگ کی تھی۔
اور اب کچھ کھانے کے لیے کسی ریسٹورنٹ کی تلاش میں ارد گرد نظریں دوڑا رہی تھیں۔
ارحم جو آفندی کے ساتھ ایک میٹنگ کے سلسلے میں یہاں آیا تھا۔
ریسٹورنٹ سے دونوں باہر نکلے تو دونوں کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑی زری اور مریم پر پڑی۔
واہ آج شکار چل کر خود شکاری کے پاس آیا ہے
آفندی نے سامنے کھڑی زری کا ایکسرے کرتے کہا۔
ارحم نے بھی زری کو دیکھا تھا۔
کون ہے وہ؟ ارحم نے اپنے لہجے میں لاپرواہی لاتے پوچھا۔
جن کی جس طوطے میں جان پھنسی ہوتی ہے ویسا ہی کچھ سمجھ لو اور میرے ہاتھ خزانہ لگ گیا ہے۔آجاؤ میں بھی مزے کروں گا اور تمہیں بھی کرواؤں گا۔
آفندی نے اپنے قدم زری کی طرف بڑھاتے کمینگی سے کہا۔
ارحم کے چہرے کے تاثرات اگر آفندی دیکھ لیتا تو ضرور حیران ہوتا۔
مریم جو زری کا ہاتھ پکڑے اُسے دائیں جانب بنے ریسٹورنٹ کی طرف جانے لگی تھی
سامنے سے آتے آفندی اور ارحم کو دیکھ کر رک گئیں۔
زری تو آفندی سے زیادہ ارحم کو دیکھ کر ڈری تھی۔پل بھر میں زری کے چہرے کا رنگ پیلا ہوا تھا۔جو ارحم نے بھی محسوس کیا تھا۔
کیسی ہو جانِ من؟ آفندی نے چہرے پر خباثت لیے زری کو دیکھتے پوچھا۔
💞💞💞💞