Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

اماں مجھے تیرے سے اک ضروری بات کرنی ہے مریم نے اپنی ماں کو دیکھتے اپنی ہاتھ کی انگلیاں مروڑتے پریشانی کہا ۔
ہاں بول کیا کہنا ہے رضیہ نے مریم کو دیکھتے پوچھا۔
اماں میں شہر جاکر نوکری کرنا چاہتی ہوں تو جانتی ہے شہر جاکر نوکری کرنا میرا شوق تھا اور میں نے بارہ جماعتیں اسی لیے پڑھی تھی ۔
مریم نے سنجیدگی سے اپنی ماں کو دیکھتے کہا ۔
تیرا دماغ تو ٹھیک ہے اور تو نے سوچ کیسے لیا میں تجھے اکیلی کو شہر بھیج دوں گی؟ رضیہ نے غصے سے کہا۔
اماں میں خالہ جان کے پاس رہو گی اور وہ بھی تو زری کے بعد اکیلی رہ گئی ہیں اور اسلم بھی تو شہر میں جاب کرتا ہے لیکن وہ خالہ کے پاس رک نہیں سکتا اُس کی جاب ہی ایسی ہے ۔
مریم نے تفصیل سے بتایا ۔
لیکن مریم تو وہاں کون سی نوکری کرے گی؟رضیہ نے حیرانگی سے پوچھا ۔
اماں کوشش کرنے سے سب کچھ مل جاتا ہے تو پریشان نا ہو مریم نے سنجیدگی سے کہا
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہے تو کلثوم اکیلی ہو گئی ہے ٹھیک ہے تم شہر چلی جانا لیکن اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔اور کب جانا ہے؟ رضیہ نے پوچھا
مریم خوشی سے اپنی ماں کے گلے لگ گئی تھی ۔
اماں آج ہی جانا ہے اور تو مجھے چھوڑ کے آئے گئ مریم نے کہا ۔
میں کیسے جا سکتی ہوں زری یہاں اکیلی ہو گی رضیہ نے پریشانی سے کہا۔
اماں کچھ گھنٹوں کی تو بات ہے اور تو ہی مجھے شہر خالہ کے پاس چھوڑ کر آئے گی مریم نے ضدی لہجے میں کہا۔
چل ٹھیک ہے تو ایک بار مریم سے مل لے جا کر پھر چلتے ہیں رضیہ نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
مریم کا دل بوجھل ہو گیا تھا اسے شہر جانے کا بلکل بھی شوق نہیں تھا اور جاب کا شوق تو ختم ہو چکا تھا ۔لیکن فاز کی وجہ سے اسے اپنا گاؤں چھوڑنا پڑ رہا تھا ۔
کلثوم کچھ ماہ پہلے ہی شہر چلی گئی تھی اور وہاں اُس نے ایک بنگلے میں کھانا پکانے کی نوکری ملی تھی ۔
💞💞💞💞💞
زری سے ملنے کے بعد رضیہ مریم کو لے کر گاؤں سے نکل گئی تھی ۔اس نے مریم کو اپنی بہن کے پاس چھوڑا اور واپس آگئی ۔
مریم تو یہاں کیوں آئی ہے یہ گاؤں نہیں ہے یہ شہر ہے اور یہاں کے لوگ کیسے ہیں تو نہیں جانتی اور یہاں پر جاب ملنا بہت مشکل ہے کلثوم نے مریم کو دیکھتے کہا۔
خالہ میرا یہاں آنا بہت ضروری تھا اور جہاں تک بات ہے جاب کی تو وہ بھی کوئی نا کوئی مل جائے گی ۔
مریم نے افسردگی سے کہا۔
خالہ آپ کہاں جاب کرتی ہیں؟ مریم نے یاد آنے پر پوچھا؟
بیٹا میں بلیک پیلس بہت بڑا بنگلہ ہے وہاں کھانا پکاتی ہوں تین بھائی ہیں اور تینوں بہت اچھے ہیں ۔
اور بیٹا بڑے صاحب نے مجھے کہا میں وہی بلیک پیلس آجاؤ اور میں اپنا یہ کمرہ بیچ کے وہی جا رہی ہوں
کلثوم نے کہا
لیکن خالہ میرا کیا ہو گا میں کہاں جاؤں گی مریم نے پریشانی سے پوچھا ارے بیٹا تم فکر مت کرو تم بھی وہی میرے ساتھ رہو گی آج میں بات کرتی ہوں اور مجھے پوری امید ہے اُن کو تمھارے وہاں رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
کلثوم نے مسکرتے ہوئے کہا ۔
جی ٹھیک مریم نے بھی مایوسی سے کہا
زری کیسی ہے؟ کیا وہ اس نکاح سے خوش ہے؟ کلثوم نے اپنے لہجے میں پیار سموئے پوچھا ۔
خالہ جان وہ ٹھیک ہے بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ میری بہن کی مشکلات آسان کرے
مریم نے گہرا سانس لیتے کہا ۔
آمین چل میں تیرے لیے کھانا لگا دیتی ہوں پھر مجھے جانا بھی ہے کلثوم نے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی۔
مریم نے بھی چارپائی سے اتر کر جوتی پہنی اور کچن کی طرف چلی گئی ۔
💞💞💞💞💞
فاز میں تین دنوں کے لیے ملک سے باہر جارہا ہوں تم آفس کا سنبھال لینا
دبیر نے فاز کو کہا ۔
ٹھیک ہے میں سنبھال لوں گا اور ویسے بھی میں آج گھر جا رہا ہوں
اور ہاں شاہ میر گھر کے بارے میں پوچھ رہا تھا میں نے کہا ابھی کچھ ٹائم. لگے گا
فاز نے موبائل پر ٹائپنگ کرتے کہا۔
اچھا کیا اور اُسے اپنے گھر کے بارے میں اُس وقت تک معلوم نہیں ہونا چاہیے جب تک میں وہ حاصل ناکر لوں جس کے لیے میں یہاں آیا ہوں دبیر نے بےحد سنجیدگی سے کہا ۔
دبیر تم زری میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی نہیں لے رہے؟
فاز نے یاد آنے پر موبائل اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈالتے ہوئے پوچھا ۔
وہ ہے ہی ایسی انسان کا ناچاہتے ہوئے بھی دلچسپی لینے لگتا ہے ۔
دبیر نے مسکراتے ہوئے فاز کو. دیکھ کر کہا ۔
لیکن یہ مت بھولو کہ وہ کون ہے فاز نے سرد لہجے میں کہا۔
بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے؟ دبیر نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔اس نے فضیل اعوان کو بھی بتا دیا تھا کہ وہ تین دنوں کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہے ۔
دبیر جانے سے پہلے ایک بار زری سے ملنا چاہتا تھا اس سے پہلے دبیر حویلی کی پیچھلی سائیڈ کی طرف جاتا راستے میں اسے کرن مل گئی تھی۔
کہاں جا رہے ہیں آپ ؟ کرن نے تھوڑا سرد لہجے میں پوچھا اور دبیر کو اس کا لہجہ زرا بھی پسند نہیں آیا تھا ۔
میں آپ کو کیوں بتاؤں کہ میں کہاں جا رہا ہوں مس کرن؟
دبیر نے سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے پوچھا ۔
کیونکہ یہ میرا گھر ہے اور اگر میں کچھ پوچھوں تو جواب دینا آپ پر لازم ہے کرن نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ابھی تک ایسا کوئی انسان پیدا نہیں ہوا جسکا میں جوابدہ ہوں اور آئندہ اس طرح کے لہجے میں مجھ سے بات کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ورنہ بعد میں پچھتانے کا. موقع بھی نہیں ملے گا دبیر نے کرخت لہجے میں کہا اور حیران پریشان کھڑی کرن کو وہی چھوڑ کر حویلی کی پیچھلی سائیڈ کی طرف چلا گیا ۔
رضیہ واپس آگئی تھی
دبیر نے دروازہ نوک کیا تو رضیہ دبیر کو باہر کھڑے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
صاحب آپ؟ رضیہ نے بے یقینی سے پوچھا
جی میں آپ کی بیٹی کی خیریت معلوم کرنے آیا تھا ۔جس دن وہ بےہوش ہوئی تو میں بھی وہی پر تھا اور مصطفیٰ سے پتہ چلا وہ اس گھر کی بہو ہے تو میں نے سوچا خیریت معلوم کر لوں ۔
دبیر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا
صاحب یہ تو آپ کی رحم دلی ہے یہ کمرہ آپ کے مطابق تو نہیں ہے لیکن اگر آپ اندر آنا چاہے تو اسکتے ہیں رضیہ نے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے کہا۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ اور میرا نام دبیر ہے آپ مجھے میرے نام سے بلا سکتی ہیں۔
دبیر نے کمرے میں داخل ہوتے کہا کمرہ چھوٹا لیکن خوبصورت تھا ۔
دبیر نے اپنے کوٹ کا بٹن کھولا اور چارپائی کے ایک کونے میں بیٹھ گیا میں زری کو بلا کر لاتی ہوں رضیہ کہتے ہی کچن کی طرف چلی گئی۔
زری دبیر صاحب تیری خیریت معلوم کرنے آئے ہیں وہ شاہ میر کے مہمان ہیں اور بہت اچھے ہے رضیہ نے نے زری کو کہا۔
کون اماں؟ زری نے حیرانگی سے پوچھا پھر اچانک اسے یاد آیا کہ جس دن وہ بے ہوش ہوئی اُس دن کسی نے اسے زمین پر گرنے سے پہلے تھام لیا تھا اسے دھندلا سا چہرہ یاد تھا۔
ٹھیک ہے میں دیکھتی ہوں زری نے کہا اور اچھے سے اپنے سر پر سے ڈوپٹہ ٹھیک کرتی باہر آئی۔
السلام عليكم
زری نے آتے ہی سلام کیا۔
دبیر نے گہری نظروں سے زری کا معائنہ کیا جو بلیک کلر کی شلوار قمیض میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔معصوم سی گڑیا
وعليكم السلام! اب کسی ہے آپ کی طبیعت؟
دراصل جب آپ بےہوش ہوئی تو میں وہی پر تھا اور میں ہی آپ کو روم تک لے کر گیا تھا لیکن حویلی میں کسی کو میں نے نہیں بتایا کیونکہ یہ گاؤں ہے تو مجھے لگا آپ کا شوہر کچھ غلط نا سوچے
دبیر نے زری کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا جو اب کافی بہتر لگ رہی تھی ۔مصطفیٰ یا فاز اسے اس لہجے میں بات کرتے دیکھ پکا غش کھا کر گرجاتے۔
جی اب میں بہتر ہوں اور آپ کا بہت بہت شکریہ زری نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اس نے دبیر کو غور سے دیکھا تھا کہی یہ وہی انسان تو نہیں جو اسے چھت پر ملا تھا۔
زری نے اُس کا چہرہ تو نہیں دیکھا تھا لیکن آواز اچھے سے پہچانتی تھی ۔لیکن سامنے بیٹھے انسان کی آواز تبدیل تھی اور اس کی آنکھوں اور لہجے میں زری کے لیے عزت تھی تو یہ وہ انسان نہیں تھا ۔
چلیں اب مجھے چلنا چاہیے دبیر نے کھڑے ہوتے کہا ۔زری نے سر سے پاؤں تک دبیر کو دیکھا جو بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا اور اس کی شخصیت ایسی تھی کہ زری پہلی ملاقات میں ہی اس سے متاثر ہو گی تھی زری کے لیے تو یہ پہلی ملاقات ہی تھی ۔
دبیر نے زری کو خود کا معائنہ کرتے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔
کیا میں جاؤں؟
دبیر نے زری کو دیکھتے پوچھا
ج جی بلکل زری نے ہڑبڑا کر جواب دیا اور نظریں جھکا کر کھڑی ہو گئی دبیر نے ایک آخری نظر زری پر ڈالی اور کمر سے نکل گیا۔
رضیہ چائے لے کرآئی تو دبیر جا چکا تھا
اماں وہ چلے گئے ہیں تو یہ چائے میں پی لیتی ہوں زری نے دبیر کے جانے کے بعد اپنا سر جھٹکا اور اپنی ماں کو. دیکھتے کہا جو زری کو چائے پکڑا کر کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
💞💞💞💞💞
آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں؟ جو شاہد کچھ کہنا چاہ رہی تھی.
فاز نے کلثوم سے پوچھا
ہاں بیٹا وہ دبیر بیٹا نے کہا تھا میں یہی آجاؤ تو میری بھانجی گاؤں سے آئی ہے وہ یہاں جاب کرنا چاہتی ہے اسے میں اکیلی نہیں چھوڑ سکتی
کلثوم نے اپنی پریشانی بتائی
آپ اپنی بھانجی کو بھی اپنے ساتھ لے آئے میں دبیر کو بتا دوں گا فاز نے مسئلہ حل کرتے ہوئے کہا۔
آپ کا بہت بہت شکریہ بیٹا کلثوم نے خوشی سے کہا
پلیز ایک کب چائے لا دیں فاز نے اپنی کنپٹی دباتے کہا
جی میں ابھی لاتی ہوں ۔
کلثوم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
فاز وہی صوفے پر ترچھا سا لیٹ گیا تھا اس نے اپنی آنکھیں بند کی تو سامنے جسکا چہرہ آیا وہ مریم کا تھا فاز نے جلدی سے اپنی آنکھیں کھول لیں۔
یہ لڑکی تو اب میرے خیالات پر بھی قابض ہو رہی ہے فاز نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
کچھ کرنا پڑے گا تمھارا بھی
فاز نے خود سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
💞💞💞💞💞
کلثوم مریم کو بھی بلیک پیلس لے آئی تھی اُس نے مریم کو کہا تھا جب تک اسے جاب نہیں مل جاتی وہ کلثوم کی تھوڑی مدد کر دے
مریم کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔
رات کے کھانے کے بعد فاز کو کافی پینے کی عادت تھی کلثوم کو کافی بنانا بھی فاز نے سکھائی تھی ۔اور اب وہ بہت اچھی کافی بناتی تھی ۔
مریم یہ اوپر فاز بیٹا کے کمرے میں کافی دے آؤ میں باقی کا کچن سمیٹ لیتی ہوں۔
کلثوم نے کافی کا کپ مریم کو پکڑاتے ہوئے کہا جس نے کافی کو دیکھ کرمنہ بسوڑا ۔
اگر اسے معلوم ہوتا کہ جس انسان سے بھاگ کر وہ یہاں شہر آئی ہے اُس کا نام فاز ہے تو مریم اُس کے کمرے میں جانے سے پہلے سو بار سوچتی لیکن اُسے نام معلوم نہیں تھا ۔
مریم فاز کے کمرے میں. داخل ہوئی تو کمرے کو دلچسپ نظروں سے دیکھنے لگی جس میں دو رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا ہر ایک چیز کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
مریم نے کافی کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور واپس جانے کے لیے مڑنے لگی فاز جو ٹیرس پر تھا واپس کمرے میں آیا تو اس نے مریم کو. دیکھتے سرد لہجے میں پوچھا۔کیونکہ اس کے دماغ سے نکل گیا تھا کہ کلثوم نے اپنی بھانجی کو لانے کی بات کی تھی ۔
کون ہو تم؟مقابل کی آواز سن کر مریم کے قدم وہی جم گئے تھے اس آواز کو وہ کیسے بھول سکتی تھی مریم نے شدت سے دعا کی کاش جیسا وہ سوچ رہی ہے ویسا نا ہو ۔
محترمہ آپ سے بات کر رہا ہوں فاز نے مریم کی طرف بڑھتے ہوئے کہا لیکن مریم وہی بت بنی کھڑی رہی تھی ۔
اب تو فاز کو بھی سامنے کھڑی لڑکی کچھ مشکوک لگنے لگی ۔ فاز نے چار قدم کا فاصلہ طے کیا اور مریم کے سامنے جا کھڑا ہوا اور سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ اس کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ۔
💞💞💞💞
ایسی بھی کیا مصیبت آگئی تھی کہ تم نے مجھے ارجنٹ بلایا؟
شاہ میر نے غصے سے پاشا کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
تمھاری دوستی مجھے کتنی مہنگی پڑی یے تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔
اور آج تمھاری دوستی کی وجہ سے مجھے کروڑوں کا نقصان ہوا ہے پاشا جو پہلے ہی غصے سے بھرا بیٹھا تھا پھٹ پڑا تھا ۔
کس کی اتنی ہمت کہ اُس نے پاشا کے ساتھ دشمنی مول لی ہے؟
شاہ میر نے حیرانگی سے پوچھا ۔
تم اچھے سے جانتے ہو یہ کس کا کام ہے ۔
پاشا کی بات پر شاہ میر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
تم خود ہی تو چاہتے تھے شیرو واپس آجائے تو دیکھو وہ آگیا
شاہ میر نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔
ہاں میں چاہتا تھا وہ واپس آئے لیکن مجھے لگ رہا ہے کچھ تو گڑ بڑ ہے کچھ تو ایسا ہے جو مجھے نظر نہیں آرہا شیرو نے میری فیکٹری میں آگ کیوں لگائی مجھے کچھ بھی ابھی سمجھ نہیں آرہا ۔
پاشا نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا ۔
تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہو پاشا
شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا۔
تم شیرو کو ابھی نہیں جانتے شاہ میر وہ غصے میں مجھ سے بھی چار قدم آگے ہیں۔ میری تمھارے ساتھ پانچ ماہ پہلے دوستی ہوئی اور اُس وقت میں نے تمہیں صرف اتنا بتایا کہ میرا بھائی شادی کرنے والا ہے اور اُسی لڑکی کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑ چکا ہے بس اتنا ہی میں نے تمہیں اُس کے بارے میں بتایا ۔اور نا ہی تم نے اسے دیکھا ہے کیونکہ یہاں سے جانے سے پہلے وہ یہاں لگی اپنی ساری تصاویر جلا چکا تھا۔
میں اپنے بھائی کی رگ رگ سے واقف ہوں وہ کچھ بھی بنا مطلب کے نہیں کرتا
پاشا نے سنجیدگی سے کہا ۔
وقت آنے پر میں تمھارے بھائی سے مل بھی لوں گا اور اُسے دیکھ بھی لوں گا جو ہونا تھا ہو گیا اب اپنا موڈ ٹھیک کروں
شاہ میر نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا ۔لیکن پاشا کی باتیں سن کر اسے اب وہ ایک بات شیرو بسے ملنا ضرور چاہتا تھا ۔
پاشا نے گہرا سانس لے کر خود نارمل کیا۔
تم. اچھے سے جانتے ہو میرا موڈ کیسے ٹھیک ہوتا ہے پاشا نے ایک آنکھ دباتے کہا۔
ویسے تم تو دوسرا نکاح کر چکے ہو تو اپنی پہلی بیوی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
پاشا نے کمینگی سے شاہ. میر کو دیکھتے پوچھا
بیوی….. جس دن میں نے اُسے اپنے کمرے سے نکالا تھا اُس کے اگلے دن ہی میں نے اُسے طلاق دے دی تھی اور یہ بات صرف میری امی جان کو معلوم ہے اس لیے تو مجھ سے ناراض رہتی ہے جس چیز سے میرا ایک بار دل بھر جائے دوبارہ میں اُس کی طرف دیکھنا گوارہ نہیں کرتا۔
شاہ میر نے گردن اکڑا کر اپنا کارنامہ پاشا کو بتاتے کہا ۔
لیکن وہ تو تمھاری مرحوم خالہ کی بیٹی ہے نا اگر حویلی میں کسی کو پتہ چل گیا تو کیا کرو گئے؟
پاشا نے بھی وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا
مجھے اتنا تو یقین ہے رانی کبھی بھی یہ بات کسی کو نہیں بتائے گی اور امی جان بھی جانتی ہیں اگر یہ بات کسی کو پتہ چلی تو لوگوں نے رانی کو ہی غلط کہنا ہے اس لیے وہ بھی خاموش ہیں ۔تو مجھے کسی کی کوئی ٹینشن نہیں ہے ۔
شاہ میر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ٹو ٹھیک ہے رانی کو کچھ دنوں کے لیے میرے پاس بھیج دو اچھے سے اُس کی دیکھ بھال کروں گا۔
پاشا نے بےباکی سے قہقہہ لگاتے کہا۔
کیوں نہیں یار کچھ نا کچھ کرتا ہوں میں شاہ میر نے بے شرمی سے کہا۔
پھر دونوں دوسری باتیں ڈسکس کرنے لگے تھے۔ اور رانی معصوم نہیں جانتی تھی کہ اُس ہر کونسی قیامت گزرنے والی ہے ۔
💞💞💞💞💞💞
فاز نے اپنے سامنے مریم کو دیکھا تو اس کی آنکھیں پوری کھل گئی اسے لگا یہ سب خواب ہے بھلا مریم یہاں کیسے ہو سکتی ہے ۔
مریم جو وہاں بت بنی کھڑی تھی فاز کو دیکھتے ہی اسے لگا کسی نے آسمان سے کھینچ کر اسے زمین پر پھینک دیا ہے ۔خود میں ہمت پیدا کرتی وہاں سے جانے لگی
فاز بھی ہوش میں آیا تو اس نے مریم کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
فاز پل بھر میں سنجیدہ ہوا تھا اور اب اسے ساری بات سمجھ میں آرہی تھی۔مریم اس سے بھاگ کر یہاں شہر آئی تھی لیکن اس کی بدقسمتی کے اسی کے گھر آگئی ۔
میں صبح ہوتے ہی یہاں سے چلی جاؤں گی
مریم نے اپنا ہاتھ جھٹکے ہوئے سرد لہجے میں کہا ۔
اب تم خود چل کر آئی ہو تو اتنی آسانی سے تو میں تمہیں جانے نہیں دوں گا ۔
فاز نے کمرے کے دروازے کو لاک لگاتے ہوئے کہا کیوں؟ کیا کر رہے ہو؟ میں چلی جاؤں گی مجھے نہیں پتہ تھا یہ تمھارا گھر ہے
مریم نے بھاری لہجے میں کہتے اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھائے ۔
چلو اب تو پتہ چل گیا ہے نا اور تم خود ہی اپنے گھر آگئی ہو ۔
فاز نے اپنے قدم مریم کی طرف بڑھاتے کہا
یہ میرا گھر نہیں ہے۔
مریم نے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا ۔
شادی کے بعد شوہر کی ہر چیز ہر اُد کی بیوی کا بھی حق ہوتا ہے
فاز نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا اسے دیکھتے ہی فاز کو اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔
کیا مطلب؟ مریم نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب یہ کہ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔
فاز نے ایک سیکنڈ میں فیصلہ کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اُس نے کیوں مریم کو نکاح کا کہا ۔
مریم نے آنکھوں میں نے یقینی لیے فاز کو دیکھا جو اب کافی حد تک مطمئن کھڑا تھا ۔
میں تمھارے ساتھ نکاح نہیں کر سکتی میں تمہیں پسند نہیں کرتی اور نا ہی تم سے نکاح کروں گی
مریم نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
تو پھر ٹھیک ہے اگر تم نے مجھ سے نکاح نہیں کیا تو مجبوراً مجھے تمھاری خالہ کے ساتھ کچھ برا کرنا پڑے گا
تم بتاؤ کیا کرنا چاہیے؟ فاز نے سوچنے والے انداز میں کہا
تم ایسا کچھ نہیں کرو گئے مریم خوفزدہ لہجے میں کہا ۔
بےبی میں اس سے بھی زیادہ کر سکتا ہوں تم مجھے تھوڑا بہت تو جان ہی گئی ہو گی۔
سیدھی سی بات ہے پہلی نظر میں ہی تم یہاں آبسی تھی ہر کسی لڑکی کو دل میں نہیں بیٹھا لیتا لیکن تم خاص ہو اور تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں اگر تم پیار سے مان گئی تو ٹھیک ورنہ تمھاری خالہ کے ساتھ کیا ہو گا اُس کی کوئی گارنٹی میں نہیں دے سکتا۔
فاز نے مریم کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
میری منگنی ہو چکی ہے تمہیں میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی میں محبت کرتی ہوں اپنے منگیتر سے مریم نے اس بار چلاتے ہوئے کہا ۔
منگیتر منگیتر سب سے پہلے تو میں تمھارے منگیتر کی جان لوں گا جب وہ رہے گا ہی نہیں تو کیسے پھر اُس سے محبت کرو گی۔
فاز نے زور سے ہاتھ دیوار پر مارتے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے کہا جس نے خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
ہونٹ ہولے ہولے کانپ رہے تھے فاز کی نظریں مریم کے ہونٹوں پر جم گئی تھیں۔اس نے ہاتھ بڑھا کر ہونٹوں کو چھونا چاہا لیکن پھر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔
اب تمہیں نکاح کے بعد ہی ہاتھ لگاؤں گا فاز نے مریم کے کان کے پاس جھکتے سرگوشی نما انداز میں کہا فاز کی گرم سانسیں مریم کو اپنے کان پر پڑتی محسوس ہو رہی تھی ۔
میں مولوی صاحب کا انتظام کرکے آتا ہوں اور ہاں اگر کوئی ہوشیاری کی تو…. فاز نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے پسٹل نکالتے ہوئے بات کو ادھورا چھوڑا..
پسٹل کو. دیکھ کر مریم کی سیٹی گم ہو گئی تھی اس کا مطلب جو فاز کہہ رہا ہے وہ کر بھی سکتا ہے اور مریم خود کی وجہ سے اپنی خالہ اور اسلم کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی ۔یا اللہ میں کن لوگوں میں پھنس گئی ہوں ۔
میں تیار ہوں لیکن اس نکاح کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے اور تم میری خالہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گئے ۔
مریم نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے بھیگے لہجے میں کہا ۔
یہ ہوئی نا اچھے بچوں والی بات چلو جاؤ اور اپنی خالہ کو راضی کرو ۔
فاز نے مریم کی کمر کے پاس ہاتھ لے جاتے دروازہ کھولتے کہا جو تھوڑا دائیں جانب ہو گئی تھی ۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر مریم باہر بھاگ گئی تھی ۔
فاز نے دبیر کو کال کی جس نے دوسری بیل پر فون اٹھا لیا۔
میں نکاح کر رہا ہوں
فاز نے سیدھے مدعے کی بات کہی۔
جب ایک بچہ پیدا ہو جائے اُس وقت مجھے بتا دینا تھا ابھی تو کافی ٹائم ہے دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
فاز کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
بہت جلد تمھاری یہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی فاز نے خوشگوار لہجے میں کہا ۔
کاش میں تمھارے نکاح میں شامل ہو سکتا خوش رہو اگر لڑکی نہیں مانتی تو ایک دن کے لیے اُسے تہہ خانے میں ڈال دینا خود ہی مان جائے گی ۔دبیر نے دعا دینے کے بعد مشورہ دیتے کہا۔
آپ اپنے مفید مشورے اپنے پاس رکھیے فاز نے مسکراتے ہوئے کہا
چلو ٹھیک ہے اس وقت میں ایک میٹنگ میں جا رہا ہوں بعد میں بات ہوتی ہے دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا ۔
گھڑی پر ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے ۔
فاز کمرے سے باہر نکلا تو کلثوم گھبرائی ہوئی فاز کے پاس ہی آرہی تھی
کیا ہوا آپا خیریت؟
فاز نے پوچھا
بیٹا وہ میری بھانجی پتہ نہیں کیا ہوا اُسے کہتی وہ گاؤں جا رہی ہے میں نے بہت روکا لیکن اُس نے میری بات نہیں سنی اور چلی گئی ۔
کلثوم نے پریشانی سے کہا فاز نے اپنے غصے کو کنٹرول کیا ۔اور کہا
آپا آپ پریشان نا ہو میں دیکھتا ہوں وہ زیادہ دور نہیں گئی ہو گی ۔
اور خود بھی وہاں سے چلا گیا ۔
مریم نے اپنے ڈوپٹے کو ہی اپنے سر پر اچھے سے سیٹ کیا اور بلیک پیلس سے نکل گئی تھی ۔
اسے بس یہاں سے دور جانا تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی ایک مصیبت سے نکل کر دوسری مصیبت کی طرف جا رہی ہے۔
یہ علاقہ کافی سنسان تھا سڑک کے ایک طرف کچھ اوباش لڑکے کھڑے باتیں کرتے قہقہے لگا رہے تھے۔
ایک لڑکے کی نظر مریم پر پڑی اس نے باقی کے تین لڑکوں کو بھی مریم کی جانب متوجہ کیا۔
حسینہ کہاں جا رہی ہو اکیلی اکیلی؟ ایک کمزور سے لڑکے نے آگے بڑھتے ہوئے لوفرانہ انداز میں پوچھا
مریم کا دل زورو شور سے دھڑک رہا تھا ۔اس نے اُن لڑکوں کو نظر انداز کرکے آگے جانا چاہا کہ دوسرے لڑکے نے اس کے ڈوپٹے کو پکڑ کر کھینچا ڈوپٹہ سر سے اتر کر کندھوں تک آگیا تھا باقی کے دو لڑکے بھی آگے آگئے اور چاروں نے مریم کو گھیر لیا تھا ۔
مریم کا دل کیا خود کو ختم کر لے ۔تیسرے لڑکے مریم کے ڈوپٹے کو کھینچا جو اس کے ہاتھ میں آگیا ۔
آج تو بہت اچھا مال ہاتھ لگا ہے پہلے لڑکے نے مریم کا ہاتھ پکڑتے کہا
مریم نے اپنا ہاتھ چھڑوا کر لڑکے کو دھکا دیا اور وہاں بسے بھاگنے لگی کہ لڑکے نے مریم کی شرٹ کو پیچھے سے پکڑا جو جو گلے سے لے کر کمر تک پھٹ گئی۔
پیچھے کھڑے تین لڑکے قہقہہ لگائے ہنسنے لگے تھے مریم کا دل کیا زمین پھٹے اور اُس میں سما جائے ٹانگوں سے جان نکلتی بوئی محسوس ہوئی تھی۔
اس سے پہلے وہ لڑکا دوبارہ مریم کا ہاتھ پکڑتا اُس لڑکے کے ہاتھ پر ہوا کو چیرتی ایک گولی آلگی تھی وہ کراہ کر وہی اپنے ہاتھ کو لے کر بیٹھ گیا جس میں سے خون ابل ابل کر باہر کو آرہا تھا۔
تینوں لڑکوں نے سامنے سے آتے فاز کو دیکھا اور وہاں سے بھاگ گئے لیکن جس کے ہاتھ ہر گولی لگی تھی وہ وہی بیٹھا کراہ رہا تھا ۔فاز نے آتے ہی اُسے اتنا مارا کہ وہ وہی بےہوش ہو کر گر گیا۔
فاز نے سرخ آنکھیں مریم کے چہرے پر گاڑی جو خوف کے مارے کانپ رہی تھی ۔اس کی حالت دیکھ فاز اس کے پاس آیا اور ایک کھینچ کر تھپڑ مریم کو دے مارا جو زمین ہر اوندھے منہ جا گری تھی۔
پیچھے سے تقریباً اس کی شرٹ پھٹ چکی تھی ۔مریم کے ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا۔
کیا لینے آئی تھی باہر؟ فاز نے مریم کو بالوں سے پکڑتے اس کا چہرہ اوپر کرتے غصے سے پوچھا۔
یہ سوچ ہی اس کی جان نکال رہی تھی اگر تھوڑی دیر وہ لیٹ ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
جواب دو فاز نے دھاڑے ہوئے پوچھا ۔
مریم بے آواز رونے لگی تھی ۔فاز نے اس کے بالوں کو چھوڑا اور ڈوپٹہ اس کی طرف پھینکا جس کے ہاتھ ابھی بھی کانپ رہے تھے ۔
بڑی مشکل سے اس نے ڈوپٹہ لیا ۔فاز گاڑی مریم کے پاس لے آیا تھا ۔ مریم خاموشی سے اندر بیٹھ گئی۔
صبح تک مجھے چاروں لڑکے تہہ خانے میں چاہیے ورنہ تمھاری خیر نہیں
فاز نے کہتے ہی فون بند کر دیا ۔
مریم چہرہ نیچے کیے بیٹھی تھی آنسو ٹپ ٹپ اس کی گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔
۔بلیک پیلس کے پاس فاز نے گاڑی روکی مریم خاموشی سے اتر کر اندر چلی گئی تھی۔
کلثوم نے مریم کو دیکھا تو فوراً سے پہلے اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔
فاز نے وہی سٹیرنگ پر سر رکھے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگا ۔
تھوڑی دیر بعد خود بھی گاڑی سے نکل کر بنگلے کے اندر چلا گیا ۔
💞💞💞💞💞
آج حویلی میں کوئی نہیں تھا سب لوگ شادی میں گئے تھے جو گاؤں میں ہی تھی ۔
شاہ میر جب گھر آیا تو یہ سن کر بہت خوش ہوا تھا ۔
زری کچن میں اپنے لیے کھانا نکال رہی تھی جب اس اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔
شاہ میر چلتا ہوا زری کے پاس آیا اور اس کے پیچھے کھڑے ہوتے کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کے قریب تر کیا شکر ہے مجھے تم یہی. مل گئی ۔
شاہ میر نے زری کے کان کے پاس سرگوشی نما کرتے اس کے کان کی لو کو اپنے دانتوں سے ہلکا سا دبایا ۔
زری نے بوکھلاہٹ میں شاہ میر کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی ۔
تم کتنی خوبصورت ہو شاہ میر نے بہکے انداز میں ایک. جھٹکے سے زری کا رخ خود کی طرف کرتے کہا اور اپنے ہونٹوں کا لمس زری کے چہرے کے ایک ایک نقوش پر چھوڑنے لگا۔
چھوڑو مجھے یہ کیا کر رہے ہو زری نے اپنا پورا زور لگاتے شاہ میر کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے کہا ۔جس نے مسکرا کر زری کی طرف دیکھا۔
بیوی ہو تم میری اپنا حق وصول کر رہا ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا آج کروں یا پندرہ دنوں بعد
شاہ میر نے کہتے ہی زری کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا اور اس کی گردن سے ڈوپٹہ پیچھے کرتے وہاں جھک گیا۔
شاہ میر کی گرم سانسیں زری کی گردن کو جھلسا رہی تھیں ۔
شاہ میر زری کی گردن پر جا بجا اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑنے لگا تھا ۔زری مسلسل شاہ کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد شامیر خود ہی زری سے پیچھے ہٹ گیا تھا زری کو اپنی گردن پر جلن کا احساس ہو رہا تھا۔
اس سے پہلے وہ مزید شاہ میر سے دور ہوتی اس نے زری کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسے کچن سے باہر لے آیا ۔
زری شاہ میر کے سینے پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مکے مار نے لگی اور خود کوآذاد کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی لیکن شاہ میر جیسے ہٹے کٹے انسان کے سامنے زری کیا چیز تھی ۔
شاہ میر نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے کمرے کا دروازہ اپنے پیر سے بند کیا اور زری کو بیڈ پر لا کر پھینکا۔
زری بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی طرف جانے لگی تو شاہ میر نے اسے بالوں سے پکڑ کر دوبارہ بیڈ پر پھینکا تھا زیادہ نخرے دکھائے تو بہت برا پیش آؤں گا ۔
شاہ میر نے غصے سے زری کو دیکھتے کہا جو تھوڑا سہم گئی تھی ۔
نکاح کے بغیر تو میں تمہیں ہاتھ نہیں لگا رہا اگر نکاح کے بغیر کر رہا ہوتا تو پھر مجھے تمھارے ان آنسو کی سمجھ بھی آتی لیکن اب ان موتیوں کو ضائع کرنے کا فائدہ؟
شاہ میر نےزری کے قریب بیٹھتے اپنے لبوں سے اس کے آنسو کو چنتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا۔
زری اس وقت خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی وہ جانتی تھی کہ شاہ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی اس لیے اس نے خود کو شاہ میر کے حوالے کر دیا ۔
شاہ میر نے سائیڈ. لیمپ بند کیا اور زری پر جھکتا چلا گیا زری نے خود کو شاہ میر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔جو پوری رات اسے نوچتا رہا تھا ۔کیسی محبت تھی جس میں اسے سامنے والے کی تکلیف نظر نہیں آرہی تھی۔
پوری رات زری بےآواز روتی رہی تھی ۔