No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
زری؟
رانی نے چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے زری کو آواز دی جو چارپائی پر اپنے گھنٹوں پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔
رانی اسکے پاس آکر بیٹھی اور اس کو دوبارہ مخاطب کیا۔
جس نے اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر رانی کی طرف دیکھا رانی تو زری کا چہرہ دیکھ کر تڑپ گئی تھی ۔
دونوں کی کچھ ہی دنوں میں بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔زری جب گاؤں آئی تھی تو اکثر حویلی کے کچن میں اپنی ماں کے ساتھ کام کرتی تھی زری کو رانی وہی ملی تھی اور جب اسے معلوم ہوا کہ رانی اس حویلی کی بڑی بہو یے تو یہ جان کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی اور پھر ان کی گہری دوستی ہو گئی۔
زری کی نظر رانی کے سرخ ہاتھ پر پڑی جس نے جلدی سے اپنا ہاتھ چادر کے نیچے کر لیا ۔
” یہ کیا ہوا؟“ زری نے بے تاثر لہجے میں رانی سے پوچھا ۔
وہ کھانا بناتے وقت میرا ہاتھ جل گیا تھا رانی نے جلدی سے کہا۔اب تم مجھ سے جھوٹ بھی بولو گی؟ زری نے رانی کے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اگر تمہیں پتہ ہے تو کیوں مجھ سے بار بار پوچھتی ہو؟
رانی نے گہرا سانس لیتے بےبسی سے کہا ۔
کب تک ایسے خاموش رہو گی؟ کب تک ظلم سہتی رہو گی؟
زری نے رانی کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو ہلکا سا مسکرا پڑی تھی اس کی مسکراہٹ بھی کھوکھلی تھی ۔
میرے آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہو گا زری تم خود کو دیکھ لو کیا گاؤں والوں نے تمھاری بات مانی؟ کیا تم پر یقین کیا؟ شاہ میر اعوان کو غلط ہوتے ہوئے بھی اسے کچھ نہیں کہا گیا ۔کیوں؟ کیونکہ وہ مرد ہے اور ہمارے گاؤں میں تو مرد کو سات خون بھی معاف ہیں
رانی نے تلخ لہجے میں کہا ۔
میں ہوں نا میں آواز اٹھاؤں گی لیکن سب سے پہلے مجھے اپنی نند کو ٹھیک کرنا ہے جتنا میں نے رونا تھا رو لیا یہاں بیٹھ کر سوگ منانے سے کچھ نہیں ہو گا میں دوسری رانی نہیں بن سکتی ۔زری نے دوٹوک انداز میں کہا ۔
زری دیکھ تو ایسا ویسا کچھ نہیں کرے گی یہ لوگ بہت ظالم ہے انسان کو مار کر ناجانے کون سی جگہ پھینکتے ہیں کہ دوبارہ اُس کا پتہ نہیں چلتا ۔
تجھے میں کھونا نہیں چاہتی تو ایسا کچھ نہیں کرے گی
رانی نے زری کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا۔ جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
رانی شاہ میر بھی ہماری طرح انسان ہی ہے اور میں صرف اللہ کی سے ڈرتی ہوں تو بھی ڈرنا چھوڑ دے۔
ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کروں گی تو پریشان نا ہو ۔لیکن تھوڑا بہت تو سبق ہم دونوں حویلی والوں کو سکھا سکتے ہیں نا؟ زری نے بات کو بدلتے ہوئے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی رانی اس کے معاملے میں بہت حساس تھی۔
لیکن زری نے سوچ لیا تھا کہ کس طرح حویلی والوں کو سیدھا کرنا ہے۔شاہ میر سے نکاح ہونا اس کی قسمت میں لکھا تھا۔وہ دوسری رانی نہیں بننا چاہتی تھی ۔
میرے ساتھ آ تیرے ہاتھ پر کریم لگا دیتی ہوں زری نے رانی کو کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چل پڑی ۔
💞💞💞💞💞
اگلی صبح پاشا کے آدمی اقرا کی لاش کو عباس کے گھر چھوڑ گئے تھے ۔عمر نے جب عباس کو بتایا تو اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ چادر پیچھے کرکے اپنی بیوی کے چہرے کو. دیکھ لے۔لیکن دل میں ایک چھوٹی سی امید بھی تھی کہ ہو سکتا ہے یہ اقرا نا ہو یہی سوچتے ہوئے عباس نے اپنا ہاتھ چادر کی طرف بڑھایا اور تھوڑی سی چادر کو نیچے کیا ۔
لیکن سامنے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ عباس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا تھا ۔اس نے وہی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیا۔عباس وہی زمین پر بیٹھ گیا تھا
آنسو گال سے ہوتے ہوئے سفید چادر پر گر رہے تھے۔
جس انسان نے آج تک ایک آنسو بھی نہیں بہایا تھا آج رو رہا تھا۔جس لڑکی نے اسے ہنسنا سکھایا اُس کے جانے پر آج عباس رو رہا تھا ۔
عمر وہی پیچھے کھڑا اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا کاش وہ اس کا دکھ کم کر سکتا ۔
عمر جاؤ یہاں سے میں کچھ وقت اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ۔
عباس کی وزنی آواز ہال میں گونجی عمر بنا کچھ بولے وہاں سے چلا گیا تھا ۔اس کے جاتے ہی عباس پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا اگر اسے کوئی اس حالت میں دیکھ لیتا تو کبھی یقین نا کرتا ۔
تم نے تو کہا تھا کبھی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤ گی؟ تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔پھر اپنا وعدہ تم کیسے تھوڑ سکتی ہو؟
عباس نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
آج وہ خاموش تھی اسے نہیں یاد تھا کہ اقرا کبھی خاموش بھی ہوئی تھی ہاں ایک بار عباس لیپ ٹاپ پر ایک ضروری کام کر رہا تھا اور اقرا اپنی عادت سے مجبور سامنے صوفے پر بیٹھی بولتی جا رہی تھی اور آخر کا چڑ کر عباس نے کہا تھا کہ تم کچھ دیر کے لیے خاموش نہیں ہو سکتی ۔اقرا ایک دم خاموش ہو گئی تھی عباس کو جب احساس ہوا تو اس نے فوراً اقرا سے معافی مانگی تھی ۔
اور آج اسے اقرا کی خاموشی بہت بری لگ رہی تھی اب تو وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھی اور اپنے ساتھ عباس کا سکون لے کر بھی جا رہی تھی ۔
تم ہمیشہ میرے پاس رہو گی اقرا میرے دل میں اور میں وعدہ کرتا ہوں جس نے بھی تمہیں مجھ سے دور کیا ہے اُس کی جان میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا اور آج میں تمھاری دی ہوئی قسم بھی توڑ رہا ہوں ۔
اب میں دوسروں کے ہاتھوں کی طرف نہیں دیکھوں گا اپنا دشمن خود تلاش کروں گا میں نے تمہیں کہا تھا نا یہ دنیا بہت ظالم ہے ہمیشہ کمزور کو نشانہ بناتی ہے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اور دیکھو آج تک مجھ سے دور جا رہی ہو پھر سے مجھے اکیلا چھوڑ کر جا رہی ہو۔
لیکن میں جانتا ہوں تم میرے دل میں بستی ہو مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑو گی ۔عباس نے کہتے ہی اقرا کے ماتھے پر جھک کر بوسہ دیا ۔اس کے آنسو گر کر اقرا کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے ۔
عباس کافی وقت تک وہی بیٹھا اقرا سے باتیں کرتا رہا تھا ۔عمر نے بےبسی سے اسے دیکھا اور دوبارہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔
💞💞💞💞
نغمہ بیگم کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے آپ کا؟
فضیل اعوان نے اپنی زوجہ محترمہ سے پوچھا۔کرن بھی ان سے ساتھ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی ۔رانی کچن میں تھی وہ بہت کم ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی تھی کیونکہ جب بھی بیٹھتی کوئی نا کوئی اسے کام کا کہہ کر کچن میں بھیج دیتا۔
السلام عليكم اس سے پہلے نغمہ بیگم کوئی جواب دیتی ایک مردانہ بھاری آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔
وعليكم السلام آگئی تمہیں گھر کی یاد؟ فضیل اعوان نے مسکراتے ہوئے اپنے چھوٹے لاڈلے سے پوچھا ۔جو کرن کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہو گیا تھا ۔
نغمہ بیگم نے بھی مسکرا کر سلام کا جواب دیا تھا۔
چاچو جان آپ کو بتایا تو تھا دوست کی شادی تھی اس لیے وہی رک گیا تھا ۔
مصطفیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں بیٹا جی جانتا ہوں اچھا کیا وہی رک گئے۔فضیل اعوان نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا
چچا جان باقی سب کہاں ہیں؟ ۔مصطفیٰ نے سرسری سا پوچھا ۔
بیٹا شاہ میر کام کے سلسلے میں شہر گیا ہے اور تمہیں ایک خوشخبری بھی دینی ہے ۔فضیل اعوان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
خوشخبری کیسی خوشخبری؟
مصطفیٰ نے نوالہ اپنے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
شاہ میر نے زرتشہ سے نکاح کر لیا ہے ۔فضیل نے فخریہ انداز میں بتایا لیکن مصطفیٰ کا منہ کی طرف جاتا ہاتھ وہی رک گیا تھا ۔کرن اور نغمہ بیگم سر جھکائے کھانا کھا رہی تھیں ۔
کیا مطلب؟ رانی کا کیا ہو گا؟ مصطفیٰ کے گلے سے بمشکل آواز نکلی تھی ۔
اُس کا کیا ہونا ہے وہ بھی اسی گھر میں رہے گی اور اسلام میں مرد کو تو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔شاہ میر نے تو صرف دوسری شادی کی ہے ۔فضیل اعوان نے کہا اور اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
اسلام نے تو عورت پر ظلم کرنے سے بھی منع کیا یے لیکن یہ ان کو نظر نہیں آتا ۔دوسری شادی یعنی دوسری لڑکی کی بھی زندگی خراب مصطفیٰ نے دل میں سوچا بھوک تو اب اس کی کہی غائب ہو گئی تھی اور بھلا ہو اس کے موبائل کا جو اسی وقت رنگ ہوا تھا ۔مصطفیٰ نے شکر ادا کیا اور کال اٹینڈ کرتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔
کال سنتے ہی اس کی نظر دائیں جانب باغ کی طرف گئی جہاں رانی گھاس پر بیٹھی اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔
مصطفیٰ نے اپنا موبائل پینٹ کی پاکٹ میں رکھا اور باغ کی طرف بڑھ گیا ۔ایک بار پھر اس کے کانوں میں مدہم سی آواز گونجی تھی
” لیکن پسند تو میں آپ کو کرتی ہوں تو کیسے شاہ میر سے شادی کر سکتی ہوں۔“
مصطفیٰ نے وہی اپنے قدموں کو روکا تھا آگے جانے کی ہمت اب اس میں نہیں تھی ۔
الٹے قدم لیتا وہی سے مڑ گیا ۔رانی نے آہٹ پر اپنی نظریں ارد گرد گھمائی جب کوئی نظر نہیں آیا تو گہرا سانس لیتے دوبارہ دور پودوں کو دیکھنے لگی ۔جن کو مالی پانی دے رہا تھا ۔
مصطفیٰ فضیل اعوان کے چھوٹے بھائی کا بیٹا تھا مصطفیٰ جب چھوٹا تھا تو اس کے ماں باپ کو کسی نے قتل کر دیا اُس کے بعد فضیل اعوان نے اسے بھی اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا ۔فضیل نے کبھی شاہ میر اور مصطفیٰ میں فرق نہیں کیا اسے دونوں بہت عزیز تھے ۔
💞💞💞💞💞
شیرو کی طرف سے کوئی خبر؟ پاشا نے سگار کا کش لیتے ہوئے پاس کھڑے آدمی سے پوچھا۔
سر وہ اپنی بیوی کی نماز جنازہ کے بعد نظر نہیں آیا اور عمر کا بھی کچھ آتا پتہ نہیں ۔آدمی نے تفصیل سے بتایا۔
ہمم ایک ماہ بس ایک ماہ بعد دیکھنا شیرو واپس آئے گا ۔پوری تیاری کے ساتھ
جہاں تک میں اسے جانتا ہوں وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
پاشا نے عام سے لہجے میں مسکرا کر کہا ۔
سر اگر اس بار شیرو واپس آیا تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گیا آدمی نے نظریں جھکا کر کہا ۔
جانتا ہوں زخمی شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اور اسی میں تو مزا ہے۔پاشا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔
لیکن سر آپ نے شیرو کی بیوی کی جان کیوں لی؟ آدمی نے ڈرتے ہوئے ایک اور سوال پوچھا۔
۔پاشا نے غصے سے اُس آدمی کی گردن کو پکڑا اور اسکے کان کے پاس غرایا ۔
کیا کہا تھا شیرو نے پاشا ہر کام پیسوں کے لیے کرتا ہے اگر مجھے کوئی شیرو کو مارنے کے بھی پیسے. دیتا تو میں اسے بھی مار دیتا ۔میرے اندر جذبات نام کی کوئی چیز نہیں ہے اگر پاشا اپنے باپ کی جان لے سکتا ہے تو شیرو کی بیوی کیا چیز ہے؟
پاشا نے آدمی کا گلہ چھوڑتے ہوئے دھاڑ کر کہا جو کھانسنے کے ساتھ گہرے سانس لینے لگا تھا۔
آئندہ کچھ بھی بولنے سے پہلے سو بار سوچ لینا ورنہ….. پاشا نے بات کو ادھورا چھوڑتے ہوئے تنبیہ کرنے والے انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
اگر آپ پاشا ہیں تو جس کی بیوی کا آپ نے قتل کیا وہ بھی شیرو ہے اور آپ نے سوئے ہوئے شیر کو جگا کر بہت بڑی غلطی کی ہے ۔اُس آدمی نے دل میں سوچا کیونکہ یہاں جتنے بھی آدمی تھے وہ اچھے سے جانتے تھے کہ شیرو کیا چیز ہے ۔
💞💞💞💞💞
کچھ دنوں بعد شاہ میر حویلی واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک خوبصورت سا لڑکا بھی تھا۔
بیٹا یہ کون ہے؟ فضیل اعوان نے شاہ میر سے ملنے کے بعد اس کے ساتھ کھڑے خوبرو نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ جس نے بلیک پنٹ اور ساتھ بلیک ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی شرٹ کے بازو فولڈ کیے تھے آنکھوں پر نظر کی گلاسز لگائے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
ابا جان یہ دبیر ہے اس نے میری جان بچائی اور میں شہر میں ان دونوں کے پاس ہی رکا تھا کچھ لوگوں نے میری گاڑی کو گھیر لیا تھا تو دبیر اور اس کے بھائی نے میری مدد کی اور میں ان دونوں کو اپنے ساتھ لے آیا کیونکہ دونوں بھائی امریکہ سے یہاں بزنس کے سلسلے میں آئے ہیں ۔اور اپنا گھر اس کا ابھی بن رہا ہے تو یہ دونوں ہوٹل میں رہ رہے تھے میں نے سوچا جب تک ان کا گھر نہیں بن جاتا یہ ہمارے ساتھ رہ لے گئے اس طرح میں دونوں کا شکریہ بھی ادا کر دوں گا ۔
شاہ میر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا
یہ تو تم نے بہت اچھا کیا اگر تم ان دونوں کے کو گھر نا لاتے تو پھر میں نے تم. سے ناراض ہو جانا تھا ۔فضیل اعوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارے انکل اگر آپ کو کوئی مسئلہ بے تو ہم لوگ یہاں سے چلے جاتے ہیں میں نے شاہ میر کو بہت منع کیا لیکن اُس نے میری بات نہیں سنی ۔دبیر نے جلدی سے کہا اسے فضیل کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی اس لیے اسے لگا وہ ناراض ہو رہے ہیں۔شاید اس نے فضیل اعوان کی بات کو غور سے نہیں سنا تھا
نہیں بیٹا میرے کہنے کا مطلب ہے تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی اور ہم تمھاری اور تمھارے بھائی کے شکر گزار ہے تم جتنے دن یہاں رہنا چاہو رہ سکتے ہو تمہیں بھی پتہ چل جائے گا کہ گاؤں کے لوگ کتنے مہمان نواز ہوتے ہیں
فضیل نے ہنستے ہوئے کہا اور ملازم کو آواز دی تاکہ وہ دبیر اور کے بھائی کا سامان کمرے میں رکھ دے ۔
بیٹا تمھارا بھائی کہاں ہے؟ فضیل نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
جی وہ آگیا دبیر نے مسکرا کر کہا جہاں سے ایک خوش شکل نوجوان داخل ہوا ۔السلام عليكم میرا نام فاز ہے
فاز نے اپنے کندھے پر ڈالے بیگ کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
وعليكم السلام بیٹا آپ لوگ تھک گئے ہو گئے ابھی آرام کرو رات کو بات ہوتی ہے شاہ میر بیٹا انکو کمرا دیکھا دو فضیل اعوان نے کہا اور خود وہاں سے چلا گیا ۔
شاہ میر دونوں کو کمرے کی طرف لے گیا تھا۔
💞💞💞💞💞
رات سب نے مل کر کھانا کھایا تھا کرن نے جب دبیر کو دیکھا تو وہی ساکت ہو گئی تھی ۔دبیر اچھے سے جانتا تھا کہ کرن اسے دیکھ رہی ہے اس نے صرف ایک بار اسے دیکھا تھا اور ہلکا سا مسکرا کر دوبارہ اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
مصطفیٰ کو ایک ضروری کا تھا وہ یہاں موجود نہیں تھا کھانے کے بعد اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ۔
دبیر اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے کھڑا تھا کہ اسے باہر اندھیرے میں کسی کا سایا نظر آیا ۔
دبیر کو لگا شاید اس کا وہم ہے لیکن جب اسے دوبارہ وہی سایا نظر آیا تو اس نے کب وہی رکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا اسکے ساتھ والا کمرا فاز کا تھا دبیر نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو فاز سو چکا تھا دبیر وہی سے واپس مڑ گیا ۔
رات کے دو بج ریے تھے اور پوری حویلی اندھیرے میں ڈوبی بوئی تھی ۔
دبیر نے اپنے موبائل کی ٹارچ اون کی اور ارد گرد نظر دوڑائی جب اس کوئی نظر نا آیا تو واپس اپنے کمرے کی طرف جانے کے لیے مڑ گیا ۔
کہ اچانک کوئی نازک وجود اس کے ساتھ ٹکرایا تھا۔
زری جو اپنے پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچن کی طرف جارہی تھی تاکہ کچھ کھا سکے سیدھی دبیر کے ساتھ آ ٹکرائی تھی دبیر کے ہاتھ سے موبائل نیچے زمین پر گر گیا اور ایک بار پھر سے اندھیرا چھا گیا ۔
زری جو پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی اندھیرے میں کسی وجود کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے کانپ گئی تھی اسے پہلے وہ چیخ مارتی دبیر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اس کی چیخ کا گلا گھونٹا اور اسے پیچھے دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔
جہاں چاند کی مدھم روشنی پڑ رہی تھی زری کے سامنے دبیر کھڑا تھا اندھیرے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی لیکن دبیر زری کی خوفزدہ خوبصورت آنکھیں دیکھ کر ایک پل بھر کو حیران رہ گیا تھا ۔
زری نے اپنے ہاتھوں کا استعمال کر کے دبیر کو پیچھے دھکا دینا چاہا لیکن دبیر نے اس کے دونوں ہاتھوں کر اپنے ہاتھ میں لیتے پیچھے کمر کے ساتھ لگا دیا تھا۔
زری کی آنکھیں خوف سے مزید پھیل گئی تھیں وہ تو جانتی بھی نہیں تھی سامنے کون ہے ۔لیکن اتنا اسے ضرور پتہ تھا سامنے شاہ میر ہرگز نہیں ہے مقابل کے پرفیوم کی خوشبو کچھ الگ سی تھی ۔
دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے ۔زری دبیر کی گرفت میں پھڑپڑا رہی تھی۔جس کا ایک ہاتھ زری کے منہ ہر اور دوسرے ہاتھ سے اس نے زری کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیا ہوا تھا ۔
اب تو زری کو اپنی بےبسی پر رونا آنے لگا تھا اور اس کی آنکھوں کے کونے نمکین پانی سے بھر گئے تھے اور دبیر کو اس وقت ماننا پڑا تھا جو منظر اس وقت وہ دیکھ رہا ہے شاید ہی ایسا کوئی منظر جو جو اس کا مقابلہ کر سکے
۔بےساختہ دبیر نے زری کے ہونٹوں سے ہاتھ پیچھے کرکے اس کی آنکھ کے کونے سے نکلتے آنسو کو اپنی انگلی کی پور سے چنا تھا۔
مجھے جانے دو زری کا تکلیف دہ لہجہ مقابل کو ہوش کی دنیا میں لایا تھا وہ ایک سیکنڈ سے پہلے زری سے دور ہٹا۔جیسے اسے کرنٹ لگا ہو ۔
اور زری نے پھر ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا اور باہر کو بھاگ گئی ۔
زری کے جاتے ہی دبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔
یہ مجھے کیا ہو گیا تھا؟ اور یہ لڑکی کون تھی؟ دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور جھک کر اپنا موبائل اٹھایا جس کی سکرین ٹوٹ چکی تھی ۔
حویلی کے تمام افراد سے میں مل. چکا ہوں تو یہ کون ہو سکتی ہے؟ کہی کوئی چڑیل تو نہیں؟ دبیر اپنی ہی بات پر خود ہی مسکرا پڑا تھا اگر چڑیل ہوتی تو مجھ سے یوں نا ڈر رہی ہوتی۔جو بھی ہے دوبارہ ملاقات ضرور ہو گی۔دبیر نے دل میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
💞💞💞💞
صبح چھ بچے ہی فاز جاگ گیا تھا آج اسے ایک ضروری کا کے سلسلے میں گاؤں سے باہر جانا تھا۔اس نے دبیر کو. بتایا اور حویلی سے باہر نکل گیا ۔
ان کی گاڑی حویلی سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی فاز نے بلیو جینز کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنی تھی جس میں اس کے مسلز دکھائی دے رہے تھے آنکھوں پر گلاسز لگائے اپنے دھیان چل رہا تھا ۔
کہ کچھ فاصلے پر کھڑی مریم پر اس کی نظر پڑی جو ایک بڑے سائز کے پانی کے مٹکے کو اٹھانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی پانی سے کافی حد تک اس کے کپڑے بھی بھیگ گئے تھے۔ہر آتا جاتا شخص گہری نظروں سے مریم کو دیکھ رہا تھا لیکن اسے پرواہ کہاں تھی۔
اسے ایک ہی چیز کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ پانی نے مٹکے کو کیسے گھر لے کر جائے۔
فاز چلا ہوا مریم کے پاس گیا اور اسے دیکھنے لگا۔مریم اپنے پاس کھڑے ایک خوبصورت لڑکے کو دیکھ کر چونکی ضرور تھی جو اسے شکل بسے ہی شہری لگا تھا ۔
جی آپ کون؟ مریم نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا
جو نظارہ آپ اپنے گیلے کپڑوں کے ساتھ پیش کر رہی ہے اور آتے جاتے لوگو کی آنکھیں ٹھنڈی کر رہی ہیں میں نے سوچا زرا قریب سے میں بھی یہ نظارہ دیکھ لوں ۔
فاز نے اپنی آنکھوں سے گلاسز اتارتے ہوئے مریم کے گیلے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔جس نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جو پانی کی وجہ سے اس کے جسم کے ساتھ چپک رہے تھے مریم نے جلدی سے اپنے ڈوپٹے کو کھول کر لیا اور غصے سے فاز کی طرف دیکھا جو ابھی بھی سنجیدگی سے کھڑا مریم کو دیکھ برہا تھا۔
تم تو اپنی نظرے نیچے کرکے جا سکتے تھے نا؟ مریم نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
فاز ایک قدم چل. کر مزید مریم کے قریب آیا۔غلطی تمھاری ہے محترمہ اور میں انکار نہیں کر رہا میری نظر پڑی اور میں نے بہت غور سے تمہیں دیکھا بھی..
فاز نے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں کہا ۔
ایک اور بات فاز نے دوبارہ گلاسز لگاتے ہوئے کہا اگر شیر کے سامنے گوشت رکھ دیا جائے اور اسے کہا جائے اسے کھانا نہیں ہے تو کیا وہ ہماری بات مانے گا؟ فاز نے پوچھا
جبکہ مریم کو اس کی بات بلکل بھی سمجھ میں نہیں آئی تھی اس کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا کہ اسے بات سمجھ میں نہیں آئی ۔
وہ گوشت ضرور کھائے گا محترمہ اور گھر جاکر کسی بڑے سے اس بات کا مطلب ضرور پوچھنا۔فاز نے سخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
مجھے کیا لگے شیر گوشت کھائے یا نا کھائے بے شرم آدمی مریم نے فاز کے جانے کے بعد منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔اور مٹکے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کرنے لگی۔
