Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
فاز مریم کو واپس لے آیا تھا اور مریم نے سوچ لیا تھا اب وہ واپس بلیک پیلس فاز کے ساتھ کبھی نہیں جائے گی۔
مجھے تو ایک بات صاف صاف بتا پہلے تجھے خالہ کے پاس جانے کی جلدی تھی ۔شہر جا کر نوکری کرنے کا بھوت سوار تھا تیرے سر پر اور اب تو واپس آگئی ہے۔
کرنا کیا چاہتی ہے تو؟ رضیہ نے کمر پر ہاتھ رکھتے چہرے پر سخت تیور لیے مریم سے پوچھا۔
اس نے یہی بتایا تھا کہ خالہ اسے گاؤں چھوڑ کر گئی ہیں ۔
اماں شہر میں نوکری کرنا آسان کام نہیں ہے میں نے کوشش کی لیکن مجھے نوکری نہیں ملی اور اب میں یہی رہو گی ۔
مریم نے عام سے لہجے میں کہا ۔
تیرا کچھ نہیں ہو سکتا رضیہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی لیکن پھر یاد آنے پر مریم کو دیکھتے کہا کہ اسلم آیا ہے تمھارا پوچھ رہا تھا۔
کہاں ہے وہ؟ مریم نے خوشی سے چارپائی سے اترتے پوچھا ۔
باہر گیا ہے آتا ہو گا ۔
رضیہ نے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی ۔
مریم بھی کمرے سے باہر نکلی تو دور سے اسے اسلم آتا ہوا نظر آیا جو ایک خوش شکل کا پچیس سال کا لڑکا تھا ۔
مریم کیسی ہو تم؟ اسلم نے مریم کو دیکھتے مسکرا کر پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟
اور شہر میں سب ٹھیک ہے تمہیں وہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ مریم نے بھی مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں سب ٹھیک ہے اور تم شہر آئی تھی مجھے بتایا کیوں نہیں
اسلم نے پوچھا تو مریم اپنی نوکری کے بارے میں بتانے لگی کہ اُس نے کافی کوشش کی لیکن اسے نوکری نہیں ملی ۔
دونوں باتوں میں مشغول ہو گئے تھے۔
فاز جو اپنے دھیان چل رہا تھا اچانک اس کی نظر مریم پر پڑی اُس کے ساتھ وہی لڑکا تھا جیسے وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا ۔
دونوں کو ساتھ ہنستے اور باتیں کرتے دیکھ فاز کو بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔
مریم جس نے فاز کو دیکھ لیا تھا اور اسلم کو بھی اندر آنے کا کہہ کر کمرے میں جانے لگی تو اس کا پاؤں پاس پڑے بڑے سے پتھر کے ساتھ زور سے ٹکرایا ۔
مریم گرنے لگی تھی کہ اس نے اسلم کو کندھے سے پکڑا اور خود کو گرنے سے بچایا تھا اسلم نے بھی مریم کو کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا اور یہ منظر فاز کے لیے ناقابل برداشت تھا اس نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچی اور اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔
گھبرا تو مریم بھی گئی تھی ۔پتھر اس کے ناخن پر لگا تھا جہاں سے خون نکلنے لگا تھا۔لیکن اس وقت مریم کے درد سے زیادہ فاز سے خوف محسوس ہو رہا تھا اس لیے اسلم سے کچھ فاصلے پر. کھڑی ہو گئی ۔
اس نے دوبارہ اُسی جگہ دیکھا تو اب وہاں فاز نہیں کھڑا تھا ۔
تم. ٹھیک ہو؟اسلم نے مریم کو دیکھتے پوچھا
ہا ہاں میں ٹھیک ہوں مریم کہتے ہی اندر چلی گئی تھی ۔اسلم بھی اس کے پیچھے چلا گیا ۔
💞💞💞💞
شیرو نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا کہ اچانک نیہا نے دروازے پر ہاتھ رکھ دیا شیرو نے ناگواری سے نیہا کو. دیکھا ۔
جو بےشک بہت خوبصورت تھی لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوتی تھیں ۔اگر کوئی نہیں ہوا تھا تو وہ شیرو تھا۔
اور اس وقت ریڈ ٹاپ کے ساتھ چست پینٹ اور ڈیپ گلے کے ساتھ کھڑی کسی کے بھی ہوش ٹھکانے لگا سکتی تھی۔
تمہیں زرا سا بھی مجھ پر ترس نہیں آتا نیہا نے شیرو کا ہاتھ پکڑتے بے بسی سے پوچھا۔آج پورے پانچ ماہ بعد وہ شیرو کو اپنے روبرو دیکھ رہی تھی۔
شیرو نے نیہا کا ہاتھ زور سے جھٹکا۔میرے راستے سے ہٹ جاؤ نیہا
عباس نے سرد لہجے میں کہا پہلے میری بات کا جواب سنے دو نیہا نے ضدی لہجے میں کہا ۔
میں تم سے محبت نہیں کرتا
میں نے صرف ایک لڑکی سے محبت کی ہے اور وہ میری بیوی اقرا تھی ۔
عباس نے ایک ایک لفظ چبا کر سرد لہجے میں کہا ۔
اب تو وہ مر گئی ہے پھر کیوں اُس کے پیچھے پڑے ہو تم؟ اور ایسا بھی اُس میں کیا تھا جو مجھ میں نہیں ہے؟ نیہا نے چیختے ہوئے کہا ۔
زبان سنبھال کر بات کرو نیہا ورنہ کاٹ کے رکھ دوں گا۔
وہ میرے لیے کیا تھی اور کیا ہے یہ تمہیں بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا۔
عباس نے ماتھے پر بل ڈالے کہا اور نیہا کو بازو سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔
عباس تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے نیہا نے شیرو کے سامنے آتے پختہ لہجے میں کہا ۔
شیرو نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے سامنے کھڑی نیہا کو دیکھا ۔
بس ایک رات اپنی ایک رات میرے نام کر دو۔میں کچھ حسین پل تمھارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔
نیہا نے شیرو کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا جس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔شیرو نے نیہا کا وہی ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھنچا جو سیدھی شیرو کے چوڑے سینے سے آ لگی تھی ۔
کیا تمھاری محبت ایک رات میں ختم ہو جائیں گی؟ عباس نے نیہا کے کان کے پاس سرگوشی کرتے پوچھا دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب کھڑے تھے کہ ایک دوسرے کی دھڑکن آسانی سے سن سکتے تھے۔
تم ایک رات تو میرے پاس آؤ پھر پوری زندگی دور نہیں جا سکو گئے نیہا نے اپنا دوسرا ہاتھ عباس کے گلے میں ڈالتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
عباس کے پرفیوم کی خوشبو کی تو نیہا دیوانی تھی۔
اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں بھی اُن مردوں میں سے ہوں جس کے ساتھ تم رات گزارتی ہو اور وہ تمھارے دیوانے ہو جاتے ہیں تو میں اُن میں سے نہیں ہوں نیہا میڈم
میرا ٹیسٹ کچھ الگ ہے تم میرے ٹائپ کی نہیں ہو۔
عباس نے نیہا کو دیکھتے ایک آنکھ دباتے طنزیہ لہجے میں کہا اور اس کا بازو چھوڑ کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
نیہا نے بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکا تھا ۔
تم بہت برا کر رہے ہو عباس بہت برا نیہا نے گیٹ سے نکلتی گاڑی کو دیکھتے کہا ۔
💞💞💞💞💞
ماضی💗💗
عمر دانیال کے دور کے کزن کا بیٹا تھا جو دانیال کے پاس رہتا تھا۔عباس کی عمر کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی ۔
عمر کی ایک بہن بھی تھی جس کا نام اقرا تھا اور اقرا اپنی دادی کے پاس رہتی تھی ۔
عمر کے ماں باپ فوت ہو چکے تھے۔
عباس نے اقرار کو پہلی بار گارڈن میں کھیلتے دیکھا تھا اُس وقت اقرا دس سال کی تھی جو کچھ دنوں کے لیے عمر کے پاس رہنے آئی تھی ۔
عباس کو اقرا معصوم سی گڑیا لگی تھی دو پونیاں کیے خود میں مگن سی کھیلنے میں مصروف تھی۔
عباس نے اقرا سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اقرا نے اسے اگنور کیا وہ زیادہ تر خاموش ہی رہتی تھی۔
اگلے دو دنوں تک اقرا واپس اپنی دادی کے پاس چلی گئی ۔
عمر نہیں چاہتا تھا کہ وہ زیادہ وقت یہاں رکے وہ اسے ان سب چیزوں سے دور رکھنا چاہتا تھا ۔
💞💞💞💞💞
حال💗💗💗
تمھارے ہاتھ پر کیا ہوا ہے رانی؟ مصطفیٰ نے رانی کا ہاتھ دیکھتے بےچینی سے پوچھا جو سرخ ہو رہا تھا۔
کچھ نہیں رانی نے کہا اور رخ موڑے کھڑی ہو گئی۔
اس نے فضیل اعوان کو جواب دیا تھا کچھ نا کچھ تو اُس نے کرنا تھا ۔
رانی کا پورا ہاتھ سرخ ہو گیا تھا یہ وہی ہاتھ تھا جو کرن بھی جلا چکی تھی اور ابھی تک وہ ٹھیک بھی نہیں ہوا تھا۔
فضیل نے دوسری ملازم سے کہہ کر رانی کا ہاتھ جلایا تھا اور رانی کو یہی لگا کہ گرم پانی غلطی سے اس کے ہاتھ پر گر گیا ہے۔
یار تم پاگل ہو
مصطفیٰ نے رانی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے غصے سے کہا۔
چھوڑو میرا ہاتھ رانی نے ارد گرد دیکھتے ہوئے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا ۔
شکر ہے کوئی بھی پاس موجود نہیں تھا۔
چلو میرے ساتھ مصطفیٰ نے رانی کی بات کو نظر انداز کرتے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے گیا۔
رانی کو تو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کوئی دیکھ نا لے
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ اگر کوئی دیکھ لیتا تو جانتے ہیں کیا ہوتا رانی نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
مجھے اب پرواہ نہیں ہے تم یہاں بیٹھو
مصطفیٰ نے رانی کو بیڈ پر بیٹھایا جو کھڑی ہو کر دروازے کی طرف جانے
مصطفیٰ نے اسے بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔جو آنکھیں پھاڑے مصطفیٰ کو دیکھنے لگی تھی ۔
میں کیا بکواس کر رہا ہوں تمہیں سمجھ نہیں آرہی؟ مصطفیٰ نے رانی کے سہمے ہوئے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے کہا اسے رانی پر بے تحاشا غصہ آرہا تھا جو ہر دوسری دن خود کو زخمی کر لیتی تھی۔
میں کہی نہیں جاؤں گی رانی نے مصطفیٰ کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا اور وہ جو غصے سے کھول رہا تھا رانی کی بات پر ہلکا سا مسکرا پڑا۔اور اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا ۔
بیٹھو جاکر
مصطفیٰ نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
رانی خاموشی سے بیڈ پر جاکر بیٹھ گئی تھی مصطفیٰ نے سائیڈ ڈرا سے کریم نکالی اور رانی کے سامنے بیٹھے اس کا سرخ ہاتھ تھاما اور بہت احتیاط سے اس پر کریم لگانے لگا۔رانی کا تو سارا دھیان مصطفیٰ کی طرف تھا ۔
یہ وہ انسان تھا جسے رانی دل و جاں سے چاہتی تھی شاید ابھی بھی دل کا یہی حال تھا لیکن اب مانتی نہیں تھی ۔
جانتے ہو مصطفیٰ آج تک میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے اُن سب چیزوں کے ذمہ دار تم خود ہو ۔اگر آج میں اس حالت میں ہوں تو صرف ایک انسان کی وجہ سے اور وہ تم ہو ۔
مجھے خود پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ میں نے تم جیسے انسان سے محبت کی
آخری بات کہتے رانی کے آنسو ناچاہتے ہوئے بھی چہرے کو بھگو گئے تھے ۔
مصطفیٰ کا ہاتھ وہی رک گیا اس نے رانی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تڑپ گیا تھا۔
میں جانتا ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے ۔لیکن پلیز تم رویا مت کرو
کیا مجھے معاف نہیں کر سکتی؟ مصطفیٰ نے بے بسی سے پوچھا ۔
کبھی نہیں رانی نے اپنا ہاتھ چھڑواتے سرد لہجے میں کہا اور بیڈ سے اُٹھ گئی ۔
مصطفیٰ نے گہرا سانس لیا وہ جانتا تھا سب کچھ اتنا آسان نہیں ہو گا لیکن اب اس نے ہمت نہیں ہارنی تھی ۔
رانی اُس کے بعد وہاں نہیں رکی تھی اور کمرے سے نکل گئی۔
پیچھے مصطفیٰ نے عہد کیا تھا رانی کو شاہ میر سے طلاق لینے پر راضی کر لے گا۔
💞💞💞💞💞
اسلم تمہیں پوری رقم وقت پر ادا کر دی گئی ہے لیکن ابھی تک لڑکی نہیں آئی؟ کہاں ہے لڑکی؟
رانا کے بڑے بیٹے نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے کرخت لہجے میں پوچھا۔
صاحب مجھے کچھ دنوں کا اور وقت دے دیں میں وعدہ کرتا ہوں اُسے آپ کے پاس لے آؤں گا اور اب ویسے بھی وہ ہمیشہ کے لیے آپ کے پاس ہی رہے گئ اسلم نے نظریں جھکائے جواب دیا ۔
پورے دس لاکھ میں نے اُس پری کے تمہیں دیے ہیں اگر کچھ دنوں تک تم اُسے میرے پاس نہیں لائے تو دوگنی رقم واپس لوں گا۔
رانا کے بیٹے نے اسلم کو گریبان سے پکڑتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ۔
نہیں صاحب آپ فکر مت کریں میں اسے لے آؤں گا اسلم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اور اپنا کالر ٹھیک کیا۔
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے رانا کے بیٹے نے غصے سے کہا۔
اسلم ایک سیکنڈ میں وہاں سے غائب ہوا تھا ۔اسلم یہی پر کام کرتا تھا اس نے مریم کو رانا کے بڑے بیٹے سے دس لاکھ لے کر اسے بیچ دیا تھا۔
پیسہ تو بڑے بڑے لوگوں کے ایمان کو ڈگمگا دیتا ہے یہاں پر تو پھر اسلم تھا جس کے لیے دس لاکھ بہت بڑی رقم تھی۔
💞💞💞💞
مریم چارپائی پر بیٹھی ٹینشن میں اپنے ہاتھ کے ناخن چبا رہی تھی یہ حرکت اُسی وقت کرتی تھی جب غصے میں یا ٹینشن میں ہوتی تھی ۔
مریم کیا ہوا؟ رضیہ نے حیرانگی سے پوچھا کچھ نہیں اماں مجھے نا بہت نیند آرہی ہے تو میں سونے لگی ہوں مریم نے کہا اور چارپائی پر لیٹ گئی ۔
رضیہ نے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ کر رہی ہو اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
میں حویلی جا رہی ہوں زری بھی وہی رانی کے پاس رکی ہے اب ہم دونوں رات واپس آئے گئے اگر تجھے بھوک لگے تو وہی آجائی رضیہ نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
مریم منہ پر چادر لیے لیٹی تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ حویلی نہیں جائے گی اور جب حویلی نہیں جائے گی تو فاز سے اس کا سامنا بھی نہیں ہو گا لیکن وہ یہاں بھی تو آ سکتا ہے اس بارے میں مریم نے نہیں سوچا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد اسے دروازہ کھلنے اور بند کرنے کی آواز آئی اسے لگا کہ رضیہ واپس آئی ہے ۔
فاز جو رضیہ کے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا اس نے جب اُسے نکلتے دیکھا تو پھر خود کمرے میں داخل ہوا۔اور دروازے کو لاک کیا ۔
فاز نے ایک نظر پورے کمرے میں ڈالی مریم میڈم چارپائی پر منہ تک چادر اوڑھے لیتی ہوئی تھی۔
فاز چارپائی کی طرف بڑھا اور چادر کو مریم کے اوپر سے اتار کر بائیں جانب پھینک دیا ۔
مریم نے ہڑبڑا کر سامنے کھڑے فاز کو دیکھا جسکا چہرہ بے حد سنجیدہ تھا۔
مریم نے تھوک نگلتے ہوئے فاز کو دیکھا۔
اور اُٹھنے کی کوشش کی۔
لیکن فاز نے اس کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھ کر اسے اٹھنے نہیں دیا۔
مریم آنکھیں پھاڑے فاز کو اپنے اوپر جھکے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
جانتی ہو مجھے کتنی تکلیف ہوئی؟
تم نے اُس لڑکے کے سینے ہر ہاتھ کیوں رکھا بےشک تم گر جاتی لیکن تمہیں اُس کے سینے پر ہاتھ نہیں رکھنا چاہیے تھا ۔
فاز نے مریم کے غلابی ہونٹوں پر نظریں گاڑھے مزید کہا۔
اور دوسرے ہاتھ سے مریم کی پیشانی سے لے کر اس کے ہونٹوں تک لائن کھینچی مریم کی تو جان حلق میں آگئی تھی۔
اگر تم مجھے دوبار اُس شخص کے ساتھ بات کرتے نظر آئی تو میں کیا کر سکتا ہوں تم بھی اچھے سے جانتی ہو مسز فاز
فاز نے مریم کے کان میں سرگوشی نما کہا مریم کو لگا فاز کی گرم سانسیں اس کے کان کو جھلسا دیں گئیں۔
جان تو اس کی اُس وقت نکلی جب فاز نے اپنے لب مریم کی شفاف گردن پر رکھ دیے ۔
میں اُس سے بات نہیں کروں گی مریم نے جلدی سے کہا۔
فاز نے مریم کے گھبرائے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا اور ہنس تو ہنس پڑا۔
یہی تمھارے لیے اچھا بے مسز….
فاز نے مریم کے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے ذومعنی الفاظ میں کہا ۔
اس سے پہلے فاز مریم کے ہونٹوں کی طرف جھکتا اس کا موبائل رنگ ہوا ۔اور فاز بھی ہوش کی دنیا میں واپس آیا ۔اس نے مریم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔
امید کرتا ہوں تم میری بات کو اچھے سے سمجھ گئی ہو گی۔
فاز نے مریم کو. دیکھتے کہا جس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔فاز نے کال اٹینڈ کی اور موبائل کان سے لگائے وہاں سے چلا گیا ۔
مریم نے اُٹھ کر سب سے پہلے دروازہ لوک کیا کہی واپس ہی نا آجائے
بے ہودہ انسان فاز کے جاتے ہی مریم اپنی ٹون میں واپس آئی تھی۔
میں تو ملو گی اسلم سے بھاڑ میں جائیں باقی سب مریم نے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی اب ڈر کم ہوا تو بھوک کا بھی احساس ہوا تھا۔
💞💞💞💞
رات زری پھر سے چھت پر آئی تھی جہاں پر صرف خاموشی ہی ہوتی تھی۔اور یہ خاموشی اسے اچھی لگتی تھی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ خود اپنی ماں سے اب رخصتی کی بات کرے گی ۔
ایک بار شاہ میر کو سدھارنے کی کوشش کرے گی ۔زری کے دماغ میں بار بار یہی خیال آرہا تھا ہو سکتا ہے شامیر سچ میں اس سے محبت کرتا ہو۔
ہو سکتا ہے وہ بدل جائے ۔
یہ سب چیزیں سوچتے ہوئے اس کے سر میں درد ہو گیا تھا ۔
کچھ فاصلے پر کھڑے انسان نے زری کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا۔
لڑکی تو خوبصورت ہے
عباس جو شامیر کی حویلی میں آیا تھا تاکہ معلوم کر سکے گھر میں کون کون ہے اور یہاں آنے کا مقصد کچھ اور بھی تھا کسی کی یاد کھینچ لائی تھی اسے
عباس چھوٹے چھوٹے قدم لیتا زری کی طرف بڑھا جو اس سے پشت کیے اپنے خیالوں میں گم کھڑی تھی ۔
عباس نے اسے کمر سے پکڑ کر اس کا چہرہ خود کی طرف کیا زری ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
سامنے کھڑے شخص سے اس کی نظریں ملی جس کی صرف کالی آنکھیں ہی نظر آرہی تھی چہرے کو رومال سے چھپایا ہوا تھا۔
کو کون ہو تم؟ زری نے اپنی کمر سے عباس کا. ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کرتے پوچھا جس نے مزید پکڑ سخت کرتے زری کو اپنے قریب کیا اور اس کے کان کے پاس غرایا ۔
شیرو……..
