Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
ہ کون ہے زری؟
مریم نے آنکھوں میں خوف لیے زری کے بازو پر اپنی طرفت مضبوط کرتے پوچھا۔
جو خود حیرت کا پتلا بنے کھڑی تھی۔ناجانے کیوں اسے زیادہ خوف ارحم کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آرہا تھا جیسے وہ زری کو کچا چبا جائے گا۔
تمھارے شوہر نے میرا بہت زیادہ نقصان کیا ہے جان من اب اُس کا حساب تمہیں دینا ہو گا۔اور میں یہ موقع کسی بھی طور پر کھونا نہیں چاہتا
آفندی نے زری کی طرف تھوڑا جھکتے ہوئے رازداری سے کہا۔
اس نے اپنا ہاتھ زری کی طرف بڑھایا۔لیکن پیچھے سے آتی آواز سن کر وہی اپنا ہاتھ روک لیا۔
آفندی اسے ہاتھ مت لگانا
ارحم کی آواز پر آفندی نے مڑ کر حیرانگی سے پیچھے دیکھا۔
اور میں ایسا کیوں نا کرو ارحم؟
آفندی نے ارحم کو دیکھتے پوچھا۔
یہ لڑکی مجھے چاہیے ارحم نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔
تو میں نے کب منع کیا آفندی نے قہقہہ لگائے ہنستے ہوئے کہا۔
نہیں تم سمجھے نہیں میں نے کہا پہلے یہ لڑکی مجھے چاہیے جب میرا دل بھر جائے پھر تم اسے لے سکتے ہو
ارحم نے سرد لہجے میں زری کو دیکھتے کہا۔
اس کی آنکھیں لہو رنگ کی ہو رہی تھیں جیسے ابھی خون نکل آئے گا۔
ٹھیک ہے یار اتنا تو میں تیرے لیے کر ہی سکتا ہوں۔آفندی نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔
اور اپنی نظریں مریم پر گاڑھ دی۔
ارحم کے خیالات سن کر زری کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔اسے یقین نہیں آرہا تھا یہ وہی ارحم ہے جس کے گھر میں وہ رکی تھی۔
آفندی تم گھر جاؤ دوسری لڑکی تمھارے کمرے میں پہنچ جائے گی
ارحم نے اپنے گلاسز لگاتے کہا۔
ٹھیک ہے شہرذادے میں جا رہا ہوں تم تو میرے کہنے سے پہلے ہی میری بات سمجھ جاتے ہو آفندی نے خوشی سے کہا
اور وہاں سے چلا گیا۔
ارحم چلتا ہوا زری کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔
اگر تم چاہتی ہو کہ اس کی جان میں بخش دوں تو اسے کہو یہاں سے بنا کچھ کہے چلی جائے۔
ارحم نے زری کی طرف جھکتے ہوئے مریم کی طرف اشارہ کرتے کہا۔جو سہمی ہوئی نظروں سے ارحم کو. دیکھ رہی تھی۔
مریم جاؤ یہاں سے زری نے مریم کو دیکھتے کہا۔
میں تمہیں چھوڑ کر کہی نہیں جاؤں گی مریم نے پختہ لہجے میں کہا۔
تمہیں میری قسم ہے مریم جاؤ یہاں سے مجھے کچھ نہیں ہو گا زری نے مریم کے ہاتھوں کر دباتے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔
لیکن زری….. مریم نے کچھ کہنا چاہا لیکن زری کا چہرہ دیکھ کر کہہ نہیں پائی
ٹھیک ہے میں جارہی ہوں مریم نے پریشانی سے ارحم کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
زری نے اپنے خشک ہوتے لبوں کو تر کرتے ارحم کی طرف دیکھا جو زری کو ایسے گھور رہا تھا جیسے سالم نگل جائے گا۔
ارحم نے زری کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔
جو ارحم کے ساتھ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح کھینچتی چلی جا رہی تھی۔
تم کیا چاہتے ہو مجھ سے
جب گاڑی میں کافی دیر خاموشی چھائی رہی تو زری نے ارحم کو دیکھتے پوچھا۔
اندر جا کر تمہیں پتہ چل جائے گا۔
ارحم نے گاڑی روکتے کہا۔اور خود گاڑی سے باہر نکل کر زری کی سائیڈ والا دروازہ کھولا اور اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا۔
چھوڑو میرا ہاتھ زری نے ارحم کے ہاتھ سے اپنا بازو الگ کرواتے چیختے کہا۔
جو زری کی بات کو اگنور کرتے اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔زری نے نوٹ نہیں کیا ورنہ ارحم اسے اُسی گھر میں لے کر آیا تھا جہاں وہ پہلے روکی تھی۔
کمرے میں آتے ہی اس نے زری کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ جو اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پائی اور دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔
کس کی اجازت سے تم. نے گھر سے باہر قدم نکالا تھا ارحم نے ماتھے پر سخت تیور لیے زری کی طرف اپنے قدم بڑھاتے پوچھا۔
تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے
میں کہی بھی جاؤں تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟ زری نے خود میں ہمت پیدا کرتے چلا کر کہا۔
تھوڑی دیر تک تمہیں اچھے سے پتہ چل جائے گا کہ میں کون ہوں اور میں اپنے گھر کی بات کر رہا ہوں تم مجھے بنا بتائے میرے گھر سے کیوں گئی یہ بھی چھوڑو
پہلے مجھے ایک بات بتاؤ مجھ سے نکاح کا کہہ کر کہاں غائب ہو گئی تھی تم؟ اور تم نے دبیر سے نکاح بھی کر لیا؟ کیوں؟
ارحم نے زری کے چہرے پر جھکتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا۔
جو ارحم کے اس قدر قریب آنے پر بوکھلا گئی تھی۔
مجھے معاف کر دو میں جانتی ہوں کہ میں نے تمھارے ساتھ غلط کیا لیکن اب میں دبیر کی بیوی ہوں
تو مجھ سے پیچھے ہٹ کر بات کرو
زری نے بنا ارحم کے چہرے کی طرف دیکھے کہا ۔
جس کے ہونٹوں کو ہلکی سی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
تم جانتی ہو اس وقت تم. میرے کمرے میں میرے بیڈروم میں موجود ہو اور میں تمہیں یہاں کس لیے لایا ہوں؟
نکاح نا سہی تو نکاح کے بغیر ہی میں تمھارے ساتھ رہ سکتا ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ارحم نے مزید زری کے قریب آتے اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔
ارحم کی گرم سانسوں کی تپش سے زری کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
آج رات یہی رک جاؤ مجھے خوش کر دو کل صبح اپنے شوہر کے پاس چلی جانا۔
ارحم نے مسکراتے زری کی پھٹی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے کہا اور اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا جو سیدھی اس کے چوڑے سینے کے ساتھ جا لگی تھی۔
چھوڑو مجھے زری نے ارحم کی گرفت میں کسمساتے کہا۔
ارحم نے زری کو پیچھے دیوار کی طرف دھکیلتے اس کے دونوں ہاتھ اوپر دیوار کے ساتھ لگا دیے تھے۔
زری نے بے بسی سے ارحم کو دیکھا۔اس کا ہی دماغ خراب تھا جو آج مریم کے ساتھ مارکیٹ کے لیے نکل آئی۔
تمھاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں زری ارحم نے زری کے چہرے پر جھکتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا۔
زری نے حیرت سے ارحم کی طرف دیکھا اچانک ارحم کی آواز تبدیل ہوئی تھی اور اس آواز کو وہ کیسے بھول سکتی تھی۔
دبیر…
زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے ہوئے کہا۔
لیکن ارحم نے اسے مزید کچھ بولنے نہیں دیا اور زری کے ہونٹوں پر جھکتا چلا گیا وہ ایسا کرنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن زری کے کپکپاتے ہونٹوں کو دیکھ کر بہک گیا تھا۔
زری نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
اس کو جب اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تو اس نے کسمسانا شروع کر دیا۔
ارحم جو پوری طرح زری میں گم تھا۔اچانک ہوش میں آیا۔
اور زری کے ہونٹوں کو آرام سے آذاد کیا۔جو ارحم کی قربت پر پوری سرخ ہو گئی تھی۔اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔
اس نے مسکرا کر زری کے سرخ چہرے کو دیکھا اس کی نظریں ابھی بھی زری کے ہونٹوں پر جمی تھیں جو سرخ ہو رہے تھے۔
تم…
زری جب تھوڑی سنبھلی تو اپنے ہاتھ ارحم کی گرفت سے آزاد کرواتے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا۔
میرے ہوتے کس کی اتنی ہمت ہے جو تمھارے قریب اسکے مسز دبیر عباس
د
ارحم نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے چہرے سے ماسک اتارتے کہا ۔
زری کو لگا کہ ابھی وہ گر جائے گی۔
اس نے دیوار کا سہارا لے کو لے کر خود کو گرنے سے بچایا تھا۔
دبیر نے مڑ کر زری کو دیکھا جو آنکھیں پھاڑے دبیر کو دیکھ رہا تھی جو چلتا ہوا زری کے پاس گیا اور اس کا ہاتھ پکڑتے اور بیڈ کے پاس لاتے اپنے سامنے بیٹھا دیا۔
میرا نام دبیر عباس ہے لوگ مجھے شیرو کے نام سے بھی جانتے ہیں۔
تم نے حویلی میں پاشا کو دیکھا ہو گا جو شاہ میر کا دوست تھا دبیر نے رخصتی کا ذکر نہیں کیا۔
وہ میرا بھائی تھا۔
اور اب میری بات غور سے سنو
میں نے اور پاشا نے بہت برے کام کیے ہیں۔
ہمارا باپ نشہ کرتا تھا۔ایک دن اُس نے میری ماں کی جان لے لی پاشا نے غصے میں اپنے باپ کو مار دیا اور ہم دونوں گھر سے بھاگ گئے۔
اور پھر ہمیں ایک شخص ملا ہمارا مسیحا دانیال جو ہمیں اپنے ساتھ لے گیا اور ہم دونوں کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا ۔
میں اُن کو ڈیڈ کہتا تھا وہ مجھے بہت عزیز بھی تھے پھر ایک دن مجھے خبر ملی کہ ڈیڈ کی دیٹھ ہو گئی ہے میرے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔
دبیر کہتے ہی سانس لینے کے لیے رکا۔زری سانس روکے دبیر کو سن رہی تھی۔
اور بعد میں مجھے پتہ چلا اُن کو پاشا نے پیسوں کی خاطر مار دیا تھا۔
لیکن اس خبر کے معلوم ہونے سے پہلے میرا دل ایک خوبصورت پری پر آچکا تھا وہ فاز کی بہن تھی۔
اقرا اُس پری کا نام اقرا تھا
اقرا کا ذکر کرتے دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اقرا سے میں بہت محبت کرتا تھا اور اُسی کی خاطر میں نے سب کچھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اور اپنی زندگی ایک نارمل انسان کی طرح گزارنی چاہی لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
نکاح کے کچھ ماہ بعد ہی میری سالگرہ والے دن جب وہ مجھے ایک بہت بڑی خوشخبری دینے والی تھی کہ میں باپ بننے والا ہوں۔لیکن اُس سے پہلے ہی وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔
اور جانتی ہو کیا تحفہ ملا مجھے؟
دبیر نے زری کے چہرے کی طرف دیکھتے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
میری بیوی مارکیٹ گئی اور اگلے دن اُس کی لاش میرے گھر پہنچی
شاہ میر اور پاشا نے زیادتی کے بعد اقرا کو جان سے مار دیا۔
دیکھو شاہ میر کو کیا کہتا وہ تو پھر بھی غیر تھا لیکن پاشا وہ تو میرا بھائی تھا ۔اور وہی میری خوشیوں کا دشمن نکلا
دبیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی تھیں ہنسی میں بھی اس کے تکلیف اور درد شامل تھا۔
اُس کے بعد عباس کہی گم ہو گیا اور جب وہ واپس آیا تو شیرو بن کر لوٹا تھا۔
پھر شیرو نے کبھی کسی پر رحم نہیں کیا اور ان سب میں ایک معصوم لڑکی بھی پستی چلی گئی۔
میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا مجھے اُسے ان سب چیزوں میں نہیں لگانا چاہیے تھا۔
لیکن جب مجھے احساس ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔
زری میں بہت برا انسان ہوں مجھ سے اچھے کی امید مت رکھنا۔جو آج میرے ساتھ تھا وہ بھی دبیر کا دشمن ہے۔
ارحم بھی دبیر کا ہی ایک روپ ہے۔جب تم دبیر کے گھر سے بھاگی اور ارحم کی گاڑی سے ٹکرائی تو مجھے تمہیں دیکھ کر غصہ تو بہت آیا اور پہلے میں نے سوچا تمھاری اچھے سے کلاس لوں لیکن پھر میں نے سوچا جیسا چل رہا ہے
ویسا ہی چلنے دیتا ہوں لیکن تمھیں لگتا ہے بھاگنے کی عادت ہے اس لیے ارحم. کے گھر سے بھی بھاگ گئی ۔
دبیر نے گھورتے ہوئے کہا۔
زری کو خود بھی پتہ نہیں چلا اور آنسو اسے کی آنکھوں سے نکل کر گال پر بہنے لگے تھے۔
وہ ابھی بھی شوکڈ تھیں اسے ابھی بھی لگ رہا تھا دبیر نے جو بھی ابھی کہا وہ جھوٹ ہے سچ نہیں ہے۔
اس کا. مطلب میں تمھارے ہاتھ کی کٹ پتلی بنی ہوئی تھی کبھی ارحم. کے پاس تو کبھی دبیر کے پاس زری نے ساری باتوں میں اپنا مطابق ہی مطلب نکالا تھا۔
تم لڑکیاں سچ میں عقل سے پیدل ہوتی ہو تمہیں جو بھی سمجھنا ہے سمجھو مجھے فرق نہیں پڑتا اماں اسی گھر میں ہیں اگر موڈ بنے تو اُن سے باتیں کر لینا اور اگر گھر سے ایک بھی قدم باہر نکالا تو تمھاری ٹانگیں توڑنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا دبیر نے زری کو تنبیہ کرتے کہا اور غصے میں تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا۔اسے اب آفندی کو بھی ہینڈل کرنا تھا۔
اتنے مجھ سے جھوٹ بولے اور غصہ مجھے کرنا چاہے خود ناراض ہو کر چلا گیا ہے اور پتہ نہیں کون تھی وہ معصوم لڑکی جو میرے ساتھ کیا وہ احساس نہیں پتہ نہیں کتنے روپ ہیں اس شخص کے زری نے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
لیکن اسے اقرا کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا تھا۔
دبیر نے اماں کو زری کے بارے میں بتایا اور گھر سے نکل گیا۔
اماں وہ عورت تھیں جو دبیر کا بہت خیال رکھتی تھی۔دانیال نے ایک عورت کی جان بچائی تھی اس بارے میں پاشا کو بھی معلوم نہیں تھا۔
دبیر اماں کا بہت خیال رکھتا تھا جب اقرا کا دبیر کے ساتھ نکاح ہوا تو اماں کو دبیر نے الگ گھر میں رکھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی وجہ سے اماں کو کوئی مسئلہ ہو۔اور جب بھی دبیر ارحم بتنا تو اسی گھر میں اماں کے پاس آکر رہتا تھا فاز بھی اکثر یہاں آتا رہتا تھا۔
دبیر نے گاڑی میں بیٹھتے فاز کو کال کی ۔
تمھاری بیوی کہاں ہے تمہیں معلوم ہے؟ دبیر کی سنجیدگی سے بھرپور آواز سن کر فاز ٹھٹھکا تھا۔
گھر پر ہو گی اُس نے کہاں جانا ہے ۔
کیا ہوا؟ سب خیریت؟ فاز نے پوچھا۔
آفندی کی نظر تمھاری بیوی پر پڑ چکی ہے زری بھی اُس کے ساتھ تھی اب اُسے گھر سے باہر مت نکلنے دینا
دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
فاز جو گاڑی میں بیٹھا تھا تیز ڈرائیونگ کرتے گھر پہنچا۔لیکن اسے کہی بھی مریم نظر نہیں آئی تھی۔
فاز گھر سے باہر نکلا سامنے ہی اسے گاڑی رکتے ہوئی نظر آئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
ارے واہ دیکھ کالیا کون آیا ہے اپنے پاس ٹائیگر نے آفندی کو دیکھتے اپنے چہرے پر حیرانگی لاتے کہا۔
آفندی سیدھا ٹائیگر کے پاس آیا تھا اس نے ٹائیگر کے بارے میں بہت سنا تھا اور اب اس سے ملنے آیا تھا اگر ایسا کہا جائے کہ معلوم کرنے آیا تھا کہ ٹائیگر اس کی مدد کر سکتا ہے یا نہیں تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
آفندی نے اپنے کوٹ کا بٹن کھولا اور ایلکس کو گھور کر دیکھنے لگا
کیا یہ اصلی ہے؟ آفندی نے ٹائیگر کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں چابی سے چلتا ہے ٹائیگر نے اس قدر سنجیدگی سے جواب دیا کہ کچھ پل تو آفندی بھی سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا سچ میں ایلکس چابی سے چلتا ہے۔
لیکن جب اس نے ٹائیگر کی طرف دیکھا تو حیرانگی کے مارے اس کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔اس کی نظر کمرے میں داخل ہوتے ہی ایلکس پر پڑی تھی اس نے ٹائیگر اور کالیا کو نہیں دیکھا تھا لیکن اب سامنے کھڑے دو لوگ کو دیکھ کر اسے لگا کہ اپنی پوری زندگی میں اس نے سامنے کھڑے دو لوگوں سے زیادہ گندے حلیے والے لوگ کہی نہیں دیکھے
ایک تو میرے کو سمجھ نہیں آتی لوگ ہمیں دیکھ کر حیران کیوں ہو جاتے ہیں او بھائی صاحب اپنا یہاں آنے کا مقصد بتاؤ میرے کو بہت کام ہے ویلا نہیں ہوں میں ٹائیگر نے گھورتے ہوئے آفندی کو کہا جو ہوش میں آیا تھا۔
تمھارا کافی نام سنا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ تمھارے پاس شیمپو اور صابن تک کے پیسے نہیں ہونگے
آفندی نے اپنی جیب سے سگریٹ نکالتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
کوئی نہیں کل تیرے گھر آکر شیمپو اور صابن لے لوں گا کیونکہ تجھے دیکھ کر لگتا ہے تو بہت زیادہ ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے
خیر یہاں آنے کا مقصد بتا مجھے
ٹائیگر نے کھڑے ہوتے کہا۔
کیا تم بیسٹ کو مارنے میں میری مدد کرو گے؟
آفندی نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا۔
ٹائیگر آفندی کی بات سن کر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
اور چلتا ہوا آفندی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر خود گہرے کش لینے لگا۔
ٹائیگر کے اوپر بیسٹ کا بہت بڑا احسان ہے وہ کبھی مر کر بھی بیسٹ کو نقصان پہنچانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔
تو جو چاہتا ہے ٹائیگر وہ نہیں کر سکتا۔
ٹائیگر نے اپنی سرمے سے بھری آنکھوں میں سنجیدگی لاتے کہا۔
آفندی ٹائیگر کی بات سن کر ہنس پڑا تھا
ٹھیک سنا تھا تمھارے بارے میں
اب میں چلتا ہوں اور یہ رہا میرا کارڈ اگر تمھارا ارادہ تبدیل ہو جائے تو مجھے کال کر لینا۔آفندی نے کارڈ میز پر رکھتے کہا اور ایک نظر ایلکس پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
کمینہ مجھے اپنے سسر کو مارنے کی آفر کر رہا تجھے تو میں دیکھ لوں گا۔
ٹائیگر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞
مجھے بنا بتائے تم. کہاں گئی تھی؟ فاز نے سختی سے مریم کا بازو دبوچتے غصے سے پوچھا
جو پہلے ہی اپنے آنسو کو روکے گاڑی سے باہر نکلی تھی اور سامنے ہی اس نے فاز کو چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا دیکھا
جو شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
اس سے پہلے فاز مزید کچھ کہتا مریم اس کے سینے سے لگے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
فاز وہ پتہ نہیں کون تھا وہ زری کو اپنے ساتھ لے گیا۔
مریم نے نے سسکتے ہوئے کہا۔اور اپنی جان سے پیاری بیوی کو روتا دیکھ فاز کا سارا غصہ کہی غائب ہو گیا تھا۔
مریم میری طرف دیکھو وہ محفوظ ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ ہے ابھی مجھے دبیر کی کال آئی تھی وہ کہہ رہا تھا زری اُس کے ساتھ ہے اور بلکل ٹھیک ہے
فاز نے مریم کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے پیار سے کہا۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں؟
مریم نے بے یقینی سے فاز کو دیکھتے پوچھا
بلکل اور میں تم. سے کیوں جھوٹ بولوں گا؟ فاز نے ہلکا سے مسکرا کر کہااور اپنے انگوٹھے سے مریم کے ہونٹ کے پاس تک کو چھوا
جس نے زور سے فاز کے ہاتھ کو جھٹک دیا تھا۔
فاز نے حیرانگی سے مریم کو دیکھا کہ اسے اچانک کیا ہو گیا۔
میں ابھی بھی آپ سے ناراض ہوں اور خبردار اگر میرے کمرے میں آنے کی کوشش کی مریم نے اپنے گال پر بہتے آنسو کو رگڑتے فاز کو تنبیہ کرتے کہا اور اندر کی طرف بھاگ گئی۔
عجیب لڑکی ہے فاز نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا اسے ہسپتال جانا تھ اس لیے وہی سے اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا۔
تمہیں آکر اچھی طرح منا لوں گا فاز نے دل میں سوچا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
اب کیسی طبعیت ہے آپ کی؟ فاز نے لڑکی کو دیکھتے پوچھا جو اب کافی حد تک ٹھیک لگ رہی تھی۔
میں اب ٹھیک ہوں آپ کا بہت بہت شکریہ لڑکی نے نظریں جھکا کر کہا۔
اب آپ کہاں جائیں گی میرا مطلب ہے اگر آپ نے کسی اپنے جاننے والے کی طرف جانا ہے تو میں آپ کو وہاں چھوڑ دوں گا۔
فاز نے لڑکی کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
آپ نے میری بہت مدد کی آگے میں خود چلی جاؤں گی آپ کا بہت بہت شکریہ لڑکی نے سنجیدگی سے کہا۔
فاز نے کچھ پل سوچا اور پھر کہا۔
میں آپ کو اپنے گھر لے جاتا ہوں جب تک آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہو جاتی آپ وہاں رہ سکتی ہیں۔
فاز نے کہا۔
لڑکی کے چہرے پر ایک پل کے لیے مسکراہٹ آکر غائب ہوئی تھی۔
میں ڈاکٹر سے بات کر لوں فاز نے کھڑے ہوتے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
ایک کام تو ہوا آگے میں سنبھال لوں گی ویسے لڑکا تو بہت خوبصورت ہے دلکش ہے
کھے ایسے مرد پسند ہیں ۔
لڑکی نے مسکراتے ہوئے خود سے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞
رانی ایک کپ چائے تو لا دو سر پھٹ رہا میرا مصطفیٰ نے رانی کو دیکھتے کہا
جو اثبات میں سر. ہلاتے وہاں سے چلی گئی۔
جب تھوڑی دیر بعد آئی تو اس کے ہاتھ میں میڈیسن بھی موجود تھی۔
تم نے چینی نہیں ڈالی
مصطفیٰ نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے حیرانگی سے رانی کی طرف دیکھتے پوچھا۔
ڈالی ہے اور آپ تو زیادہ میٹھا نہیں کھاتے نا
رانی نے مصطفیٰ لے پاس بیٹھتے کہا۔
لیکن یہ چائے تو میٹھی نہیں ہے
مصطفیٰ نے سنجیدگی سے کہا۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے رانی نے کہا اور مصطفیٰ کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر لبوں سے لگایا۔
لیکن چائے تو میٹھی تھی۔رانی نے گھور کر مصطفیٰ کی طرف دیکھا۔
جس نے دوبارہ رانی کے ہاتھ سے چائے لے کر لبوں سے لگائی تھی۔
ہممم اب میٹھی ہو گئی ہے مصطفیٰ نے شرارتی لہجے میں کہا۔
رانی کو جب بات سمجھ میں آگئی تو بنا کچھ کہے وہاں سے اٹھ گئی۔
مصطفیٰ نے جلدی سے رانی کا ہاتھ پکڑا اور اسے دوبارہ بیڈ پر بیٹھا دیا۔
کیا ہے؟ رانی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
کچھ نہیں بس میرے سامنے بیٹھی رہو مجھے اچھا لگتا ہے۔
مصطفیٰ نے گہری نظروں سے رانی کو دیکھتے کہا۔جس نے بوکھلا کر ارد گرد دیکھنا شروع کر دیا تھا۔مصطفیٰ کی نظریں اسے کچھ اور پیغام دے رہی تھیں
مجھے کچن میں کام ہے رانی نے اٹھتے کہا۔
مجھے بھی تم سے کام ہی ہے مصطفیٰ نے دانت پیستے کہا۔
تم. مجھ سے ایسے دور بھاگتی ہو جیسے میں تمہیں کچا چبا جاؤں گا۔مصطفیٰ نے ماتھے پر تیوری چڑھاتے کہا۔
مصطفیٰ اگر آپ کو کوئی کام ہے تو بتا دیں ورنہ میرا وقت ضائع مت کریں
رانی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
ٹھیک ہے تم جاؤ مصطفیٰ نے لیٹتے ہوئے سرد لہجے میں کہا اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔
رانی کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ کتنے پیار سے بات کررہا تھا لیکن اس نے کیا کیا۔
رانی مری ہوئے قدموں کے ساتھ چلتی وہاں سے چلی گئی اسے لگا کہ مصطفیٰ اسے روکے گا لیکن ایسا نہیں تھا۔وہ شاید ناراض ہو گیا تھا۔
💞💞💞💞💞
