Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 46
No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
م نے میرے ساتھ ہاتھ ملا کر بہت اچھا کیا ذیشان ورنہ تم بھی جانتے تھے کہ اکیلے تم کچھ نہیں کر سکتے۔
آفندی نے وائن کے گلاس کی طرف اشارہ کرتے کہا جسے ذیشان نے اٹھا لیا تھا۔
اب مجھے بتاؤ تم نے کیا سوچا ہے؟
آفندی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ذیشان نے اب تک جو کچھ بھی کیا تھا سب کچھ آفندی کو بتانے لگا۔
جیسے جیسے آفندی ذیشان کی بات سنتا جا رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہوتے جا رہے تھے۔
تمہیں کیا لگتا ہے ذیشان؟
بازی تمھارے ہاتھ میں ہے؟
کیا دبیر تک یا اُس کی فیملی تک پہنچنا اتنا آسان ہے؟ تم اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کر سکتے ہو؟
اگر آج تمھاری گرل فرینڈ دبیر کے گھر میں ہے تو اس میں بھی دبیر کا کوئی نا کوئی مطلب چھپا ہو گا۔
اُسے میں بہت اچھی طرح جان گیا ہوں اور میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔
اب تمھاری گرل فرینڈ کو کوئی نہیں بچا سکتا اور جس دن وہ فاز کی گاڑی سے ٹکرائی ہو گی اُسی دن دبیر کو پتہ چل گیا ہو گا کہ وہ لڑکی کسی سازش کے تحت بھیجی گئی ہے۔
آفندی نے سرد لہجے میں کہا۔
ہوائیاں تو ذیشان کے چہرے کی بھی اڑ گئی تھیں۔
اُسے نہیں معلوم تھا کہ دبیر اس سے چار قدم آگے ہو گا۔
اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ ذیشان نے پریشانی سے منہ پر ہاتھ پھیرتے پوچھا۔
جیسا میں کہتا ہوں ویسا کرتے جاؤ اب تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
آفندی نے چہرے مسکراہٹ لاتے کہا۔
جو شاید دبیر کا بڑا نقصان کرنے والی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
دبیر نے جیسا کہا تھا ویسا ہی ہوا ابھی وہ گاڑی میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ اس کا موبائل رنگ ہوا۔
نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
کال اٹینڈ کرنے کے بعد اس نے تحمل سے فاز کی ساری بات سننے کے بعد کہا کہ وہ گھر آکر بات کرتا ہے۔
زری کو اماں کے پاس چھوڑ کر خود دبیر میر کے گھر چلا گیا تھا۔
فاز کو پریشان دیکھ کر دبیر کو ہنسی آرہی تھی جو انسان کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا آج اپنی بیوی کے خفا ہونے پر بے چینی سے چکر لگا رہا تھا۔
کہا تھا میں نے کہ اُس لڑکی کو گھر مت لے کر آنا لیکن تم میری بات کہاں سننے ہو اپنی مرضی کرنی ہوتی ہے۔
اب جاؤ اور مناؤ اپنی بیوی کو دبیر نے چہرے پر سنجیدگی لاتے غصے سے فاز کو دیکھتے کہا۔
جان نا نکال لے وہ میری فاز نے سنجیدگی سے دبیر کے سامنے بیٹھتے کہا۔
اس وقت اُس کے پاس جانا مطلب بھوکے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے فاز دبیر کو دیکھتے کہا۔
خیال رکھنا اُس کا کہی باہر نا چلی جائے ورنہ مصیبت میں پھنس سکتی ہے دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ہاں میں خیال رکھوں گا لیکن ابھی وہ میری شکل نہیں دیکھنا چاہتی
فاز نے معصومیت سے کہا۔
تم مریم سے ڈر رہے ہو؟ دبیر نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا۔
ڈرتا نہیں ہوں میں فاز بھلا کسی سے ڈر سکتا ہے۔
فاز نے اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پاتے سیدھا ہوتے کہا۔
شکل دیکھ کر تو تمھاری مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
بھائی صاحب کیا سننا چاہتے ہو تم؟ صاف صاف کہہ دو
فاز نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
جو نا چاہتے ہوئے بھی فاز کی بات سن کر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
ان سب باتوں کو چھوڑوں فاز اور میری بات غور سے سنو۔
دبیر نے چہرے کے تاثرات سخت کرتے کہا۔
فاز بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
اُس لڑکی کو صبح ہوتے ہی یہاں سے لے جاؤ اُس لڑکی کو ابھی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں سب کچھ پتہ چل گیا ہے ۔
وہ ہمارے گھر والوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے اور میں نہیں چاہتا اُس لڑکی کی وجہ سے میری فیملی کو کچھ بھی ہو۔
ذیشان اور آفندی کو میں دیکھ لوں گا۔اور تمہیں معلوم ہے نا اُس لڑکی کو کہاں رکھنا ہے؟ دبیر نے فاز کو دیکھتے پوچھا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اور کسی کو بھی گھر سے مت نکلنے دینا مصطفیٰ کو بھی بتا دینا اور اب میں چلتا ہوں
دبیر نے کھڑے ہوتے کہا۔
اچھا سنو
فاز نے کچھ یاد آنے پر دبیر کو پیچھے سے آواز دیتےکہا۔
تمھاری بیوی کی کل سالگرہ ہے مریم نے مجھے کہا تھا کہ آج واپسی پر زری کے لیے کوئی گفٹ لے لیں گے لیکن کافی رات ہو چکی تھی۔
تو لے نہیں پائے۔
تمہیں تو یاد ہی ہو گا آفٹرال تمھاری بیوی جو ہے۔
فاز نے آخری بات طنزیہ لہجے میں کہی۔اس کا مقصد دبیر کو زری کی سالگرہ یاد کروانا تھا وہ جانتا تھا کہ دبیر کو معلوم نہیں ہے۔اس لیے اس نے بات کی۔
دبیر ہلکا سا مسکرا پڑا اور چلتا ہوا فاز کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
پہلی بات بھابھی کہو
اور دوسری بات جا کر اپنی بیوی کو مناؤ کیونکہ جتنا تم. آسان سمجھ رہے ہو اتنا آسان بلکل بھی نہیں ہے۔
دبیر نے میٹھے لہجے میں فاز کو گھورتے ہوئے کہا۔
جس نے آنکھیں سکڑ کر دبیر کو دیکھا تھا۔
میں اُسے سارا سچ بتا دوں گا کہ یہ ہمارا ہی پلان تھا پھر تو وہ میری بات پر یقین کر ہی لے گی اگر نا بھی کیا تو تم اُسے سچ بتا دینا اپنے بھائی پر مجھ سے زیادہ یقین جو کرتی ہے۔
فاز نے تیکھے لہجے میں کہا۔
جس پر دبیر ہنس پڑا تھا۔
جتنا جلدی ہو سکے اُسے حقیقت سے آگاہ کر دو۔تمہیں میں نے کہا تھا کہ اُس لڑکی سے احتیاط کرنا لیکن فاز تو اپنے دل کی کرتا ہے۔
اب بھی اپنے دل کی سنو اور جاؤ آج پھر دوسرے کمرے میں تمہیں سونا پڑے گا کیونکہ میرا نہیں خیال مریم دروازہ کھولے گی۔
دبیر نے فاز کے کندھے پر نظر نا آنے والی دھول کو صاف کرتے کہا۔
تمہیں کس نے بتایا؟ فاز نے دانت پیستے پوچھا۔
میں سب جانتا ہوں ہر چیز پر. میری نظر ہوتی ہے۔
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
کمینہ انسان فاز نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ویسے ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اگر اس کی بات سن لیتا تو آج یہ سب نا ہوتا بس یہی معلوم کرنا تھا نا کہ لڑکی کو کس نے بھجیا ہے اس کے لیے سارا ڈرامہ کرنا پڑا
اُسے یہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔
اور اُس لڑکی کو تو میں چھوڑوں گا نہیں
فاز نے پریشانی سے سوچتے خود سے کہا۔
جس دن ایما اس کی گاڑی کے ساتھ ٹکرائی تھی فاز اُسی دن سمجھ گیا تھا کہ کوئی نا کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔
کیونکہ اسے لڑکی کی باتوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
اور اس نے جب ایما کی سٹوری سنی اور اس کے بارے میں سب معلوم کروایا تو پتہ چلا وہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے پھر اس نے دبیر سے بات کی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر کمرے میں داخل ہوا تو زری سو چکی تھی ساتھ ہی اس کے ہادی لیٹا ہوا تھا۔
دبیر ہادی کو دیکھ کر مسکرا پڑا۔زری ہادی سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی۔اور یہ چیز دبیر کو بہت پسند آئی تھی۔
دبیر نے چینج کیا اور آرام سے آکر زری کے دائیں جانب لیٹ گیا۔
ہادی کو دیکھتے ہوئے دبیر نے اپنے دماغ میں صبح کے پلان کو ترتیب دیا۔
اس نے آگے بڑھ کر ہادی کے گال کو پیار سے چھوا اور ایک نظر سوئی ہوئی زری پر ڈال کر اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
💞 💞 💞 💞 💞
صبح ہوتے ہی دبیر بنا زری کو کچھ بتائے گھر سے نکل گیا تھا۔
زری کی جب آنکھ کھلی تو اس کی نظر دائیں جانب گئی۔
وہاں دبیر تو نہیں تھا لیکن اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ رات آیا ضرور تھا۔
کیونکہ دبیر کب آتا ہے اور کب جاتا ہے اسے معلوم نہیں ہوتا تھا۔
زری نے ہادی کو دیکھا اور مسکرا پڑی جس نے سوتے ہوئے بھی ماتھے پر دبیر کی طرح گھوری ڈالی ہوئی تھی۔
زری نے جھک کر ہادی کے ماتھے پر بوسہ دیا اور فریش ہونے چلی گئی۔
واپس آئی تو ہادی ابھی بھی سو رہا تھا۔زری نے پرپل کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی۔اور اب آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو سلجھا رہی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر زری نے مڑ کر دیکھا تو دبیر کمرے میں داخل ہوا تھا۔
جسکا موڈ آج زری کو کافی خوشگوار لگا تھا۔
تیار ہو جاؤ ہمیں کہی جانا ہے۔
دبیر نے زری کے لمبے بالوں کو دیکھتے کہا۔
جس نے حیرانگی سے مڑ کر دبیر کو دیکھا تھا۔
دبیر صاحب… زری نے اپنے ہیر برش کا رخ سامنے کھڑے دبیر کی طرف کرتے کہا۔
میں کہی نہیں جا رہی تمہیں جہاں جانا ہے جاؤ زری نے سنجیدگی سے کہا۔
دبیر بنا کچھ کہے چلتا ہوا زری کے قریب آیا اتنا قریب آیا کہ زری نے اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھا لیے تھے اور پیچھے آئینے کے ساتھ جا لگی۔
دبیر نے اس کے دائیں اور بائیں جانب اپنی بانہوں کا گھیرا بنایا۔
زری آنکھیں پھاڑے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
دبیر کا چہرہ زری کے چہرے کے اس قدر قریب تھا کہ اسے دبیر کی گرم سانسوں کی تھپڑ اپنے چہرے پر پڑتے محسوس ہو رہے تھے۔
جب تمہیں معلوم ہے کہ تمھاری مرضی نہیں چلے گی اور آخر میں تمہیں میری بات ہی ماننی پڑے گی تو پھر کیوں فضول میں بحث کرتی ہو۔
دبیر کے گہرے لہجے میں کہتے زری کے ناک میں پہنی چھوٹی سی بالی کو چھیڑتے کہا۔
زری سانس روکے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا اب ڈر کیوں رہی ہو؟ تھوڑی سے میری قربت تم برداشت نہیں کر سکتی تو میرے سامنے زبان چلانے سے بھی گریز کیا کرو۔
دبیر نے زری کے چہرے پر پھونک مارتے کہا جس نے آنکھیں بند کر کے اپنے خشک ہوتے لب کو تر کیا تھا۔
آہ میرے سامنے یہ حرکت مت کیا کرو مسز بندہ بشر بھٹک بھی سکتا ہے۔
دبیر نے اپنے انگوٹھے سے زری کے ہونٹ کو سہلاتے ذومعنی لہجے میں کہا۔
تم.. زری تم کہتے خاموش ہو گئی تھی۔
کیا تم؟
دبیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
بہت بدتمیز ہو۔زری نے ہمت کرتے دبیر کو پیچھے دھکا دیتے کہا۔
ہاں جانتا ہوں اب چلو میرے ساتھ ہادی کو میں امان کے پاس چھوڑ دیتا ہوں دبیر نے ہادی کو گود میں اٹھاتے کہا۔
دبیر وہ اُٹھ جائے گا۔
زری نے جلدی سے کہا۔
نہیں اٹھے گا اس کی نیند بھی تمھارے جیسی ہے۔
دبیر نے کہا اور زری کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے گیا۔
ہادی کو اماں کے پاس چھوڑنے کے بعد اب دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے۔
ہم ناشتہ تو گھر میں کر سکتے تھے نا زری نے منہ پھلائے باہر دیکھتے کہا۔
دبیر زری کی بات سن کر خاموش رہا تھا۔ اس نے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکی
اور دوسری جانب آکر زری کی سائیڈ کا دروازے کھولا جو دبیر کو گھورتے ہوئے باہر نکل آئی تھی۔
دونوں ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے وہاں زیادہ رش نہیں تھا۔
دونوں نے وہاں بیٹھ کر ناشتہ کیا۔دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔
زری کا پیٹ بھرا تو اس کا دماغ میں چلنے لگا تھا۔
اب ہم نے کہاں جانا ہے؟ زری نے گاڑی میں بیٹھتے پوچھا۔
یاد آگیا آپ کو؟
مجھے تو لگا آپ کے منہ سے زبان اچانک کہی غائب ہو گئی ہے۔
دبیر نے گاڑی ڈرائیور کرتے اس کی خاموشی پر چوٹ کرتے کہا۔
نہیں بتانا تو نا بتاؤ زری نے بھی کندھے اچکاتے کہا اور باہر دیکھنے لگی۔
دبیر نے ایک نظر زری کو دیکھا۔
تمہیں یاد ہے کل میں نے کیا کہا تھا؟ دبیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ہاں یاد ہے زری نے عام سے لہجے میں کہا۔
لیکن جیسے ہی اسے کل کی ساری باتیں یاد آئی تو اس نے حیرانگی سے دبیر کی طرف دیکھا تھا۔
اس نے کہا تھا کہ وہ زری کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے کچھ اچھی یادیں بنانا چاہتا ہے۔زری کو پھر سے یاد آگیا کہ دبیر نے اسے کہا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر جا سکتی ہے۔اس کا دل پھر سے اداس ہو گیا تھا۔
لیکن اسے میری سالگرہ تو یاد نہیں ہے۔
زری نے آخری بات سوچتے افسردگی سے دل میں کہا۔وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا۔
میرے ساتھ تو بدلہ لینے کے چکر میں نکاح کیا تھا میری سالگرہ کیسے یاد یو سکتی ہے۔
زری خود ہی اسے سوالوں کے جواب دیتی جا رہی تھی۔
کیا ہوا بیگم صاحبہ نظر لگانا چاہتی ہو؟
دبیر نے زری کو خود پر نظریں جمائے دیکھا تو شرارتی لہجے میں کہا۔
لگ ہی نا جائے نظر زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
دبیر نے ایک بڑے سے مال کے آگے گاڑی روکی تھی۔
زری اب خود ہی دروازہ کھول کر باہر آگئی تھی اس نے اب یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے کیونکہ دبیر نء کون سا اسے بتا دینا تھا۔
دبیر نے زری کا ہاتھ پکڑا اور اسے مال کے اندر لے گیا۔زری حیرانگی سے کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھتے تو کبھی دبیر کو آجکل کچھ زیادہ ہی دبیر اس کا ہاتھ پکڑ رہا تھا۔
دبیر اسے ایک شاپ میں لے گیا تھا۔
زری حیرانگی سے سامنے لگے فراک کو دیکھ رہی تھی۔
دبیر نے ایک وائٹ کلر کا فراک پسند کیا جس کے ساتھ وائٹ ہی ڈوپٹہ تھا۔
اسے لینے کے بعد دبیر نے زری کی جوتی اور ایک دو اور چیزیں لیں۔
زری تو خاموشی سے دبیر کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔
دبیر مال سے نکلنے کے بعد زری کو اپنے فارم ہاؤس میں لے آیا تھا۔
جاؤ تیار ہو جاؤ دبیر نے شاپنگ بیگ زری کے سامنے کرتے کہا۔
جس نے خاموشی سے بیگ پکڑے اور چینج کرنے چلی گئی۔
دبیر بھی چینج کرنے چلا گیا تھا۔جب وہ چینج کرکے کے آیا تو باہر زری کا انتظار کرنے لگا تھا۔
اس نے خود وائیٹ شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہنی تھی آگے کے تین بٹن کھلے تھے جس سے اس کا چوڑا سینہ نمایا ہو رہا تھا۔
شرٹ کے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔
ماتھے پر بال بکھرے تھے۔
اسکا حلیہ رف سا تھا لیکن پھر بھی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہنر دبیر میں موجود تھا۔
تھوڑی دیر بعد زری باہر آئی تو دبیر کی اٹھتی نظریں وہی جم گئیں۔
زری نے دبیر کو دیکھا جو اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اس نے لانگ فراک پہنا تھا ایک کندھے پر. ڈوپٹے کو رکھے اور بالوں کو کھولا چھوڑا ہوا تھا۔گلہ اس کا کافی گہرا تھا۔
سرخ لپ سٹ لگائے سیدھی دبیر کے دل میں اتر رہی تھی۔
زری نے ایک نظر دبیر کے حلیے پر ڈالی اور آج پھر اس کے دل نے کہا تھا کہ سفید رنگ اس پر بہت جچتا ہے اور یہ اس نے اُس وقت بھی سوچا تھا جب دبیر نے بلیک کر کی شرٹ پہنی تھی۔سارے رنگ دبیر پر زری کو بہت پیارے لگتے تھے۔
دبیر مجھے یہ نہیں پہننا اس کا گلہ بہت بڑا ہے زری نے دبیر سے نظریں چراتے کہا۔
تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے
ایک منٹ میں آتا ہوں دبیر نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں. سوئی دھاگا تھا۔
اس نے زری کے دائیں جانب کھڑے ہوتے اس کے بال دوسری طرف کیے۔
زری تو دبیر کے ہاتھ میں سوئی دھاگا دیکھ کر حیران تھی۔
دبیر نے ایک چھوٹا سا ٹانکہ اس کی فراک کے گلے کے دائیں اور بائیں جانب لگا دیا اور اس طرح سے لگائے کہ زری کی شرٹ کا گہرا گلہ اب ٹھیک ہو گیا تھا۔
دبیر کی انگلیوں کے لمس اپنے کندھے پر محسوس کرتے زری خود میں سمٹ سی گئی تھی۔
اب ٹھیک ہے؟ دبیر نے زری کا رخ خود کی طرف کرتے پوچھا۔
یہ تم نے کیسے کیا؟
زری نے حیرانگی سے پوچھا۔
یہ ایک ٹیکنیک ہے جو تمہیں سمجھ نہیں آئے گی۔
دبیر نے فخریہ انداز میں کہتے زری کے بال پیچھے کمر پر ڈالتے کہا۔
چلیں؟ دبیر نے اپنا ہاتھ زری کے آگے پھیلاتے کہا۔
زری نے ایک نظر دبیر کے ہاتھ کو دیکھا اور گہرا سانس لیتے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
دبیر نے زری کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی اور اسے وہاں سے باہر لے گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
دبیر نے ایک خوبصورت گھر کے سامنے گاڑی روکی جو نا تو زیادہ بڑا تھا اور نا ہی زیادہ چھوٹا تھا۔
پورا گھر روشنی میں جگمگا رہا تھا۔شام کا وقت تھا اندھیرا چھا رہا تھا۔
زری نے آنکھوں میں چمک لیے گھر کو بغور دیکھا جو شاید اسے پسند آیا تھا۔
دبیر نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔
زری جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئی اس پر سفید گلاب کی بارش ہوئی ہونے لگی تھی پہلے تو زری ڈر گئی لیکن بعد میں جب اس کی نظر پھولوں پر پڑی تو خوشی سے اس نے جھک کر زمین سے پھولوں کی کچھ پتیاں اپنے ہاتھوں میں پکڑی اور اُن کی خوشبو کو سونگھنے لگی۔
یہ کس کا گھر ہے دبیر؟
زری نے آگے قدم بڑھاتے اشتیاق سے پوچھا۔
تمھارا دبیر نے کہا
اور زری کو کندھے سے پکڑتے اندر لے گیا۔جس کے ناسمجھی سے دبیر کو دیکھا تھا۔
یہ گھر میں نے بہت پہلے تمھارے لیے بنوایا تھا میں چاہتا تھا کہ جب شاہ میر تمہیں چھوڑ دے تو تم یہاں آکر اپنی زندگی سکون سے گزار سکو لیکن شاید ابھی تمھاری زندگی میں سکون نہیں لکھا تھا اس لیے میں نے تم سے نکاح کر لیا۔اور میں تمھاری زندگی میں آگیا۔
لیکن اب تم یہاں رہ سکتی ہو اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
دبیر نے ایک ہال نما کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
دبیر کی بات سنتے زری کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں۔
یار آج پلیز اپنی ان خوبصورت آنکھوں پر ظلم مت کرو۔
دبیر نے زری کے آنسو صاف کرتے کہا اور جھک کر باری باری دونوں آنکھوں پر بوسہ دیا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ آنسو دبیر کے دور جانے کا سن کر آئے ہیں۔
اگر دوبارہ تمھاری آنکھوں میں آنسو آئے تو پھر جو میں کروں گا وہ تمہیں پسند نہیں آئے گا اس لیے اب میں تمھاری آنکھوں میں آنسو نا دیکھوں دبیر نے زری کو تنبیہ کرتے مزید کہا۔
جس نے سرخ چہرہ جلدی سے اثبات میں ہلایا تھا۔
وہ دیکھو دبیر نے سامنے کیک کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
زری نے مڑ کر سامنے دیکھا تو اُس سائیڈ کی لائٹ اچانک اون ہوئی تھیں۔
زری نے حیرانگی سے کیک کی طرف دیکھا جو کافی بڑا تھا۔
آنکھیں تو اس کی پیچھے دیوار پر بڑی سی اپنی اور دبیر کی تصویر کو دیکھ کر کھلی تھیں۔
یہ تصویر فاز کے ولیمے پر لی گئ تھی جس میں دونوں نے اچانک ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا اور مصطفیٰ نے اپنے کمرے میں اس لمحے کو سیو کر لیا تھا۔
دبیر زری کو کیک کے پاس لے کر گیا اور اس کے ہاتھ میں چھری پکڑا دی اور خود کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے اسے کیک کاٹنے کا کہا۔
اچانک ساری لائٹس بند ہو گئی تھیں
صرف ٹیبل پر پڑی موم بتیاں جل رہی تھیں۔
زری نے دبیر کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر خود کے قریب کیا دبیر کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
اپنے ہاتھ کے اوپر اس نے دبیر کا ہاتھ رکھا تھا اور پھر دونوں کے کیک کاٹا۔
زری نے کیک کا ٹکرا دبیر کے طرف کیا جس نے زری کا ہاتھ پکڑتے کیک کھا لیا اور کھاتے وقت دبیر کے ہونٹ زری کی انگلیوں کی پوروں سے ٹچ ہوئے تھے۔
زری نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔
دبیر نے چھوٹا سا پیس پکڑا اور زری کو کھلایا اور اپنے ہاتھ پر لگی کریم کو زری کی ناک پر لگا دیا۔
زری نے پہلے دبیر کو گھور کر دیکھا پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
دبیر نے زری کو ہنستے ہوئے دیکھا تو جلدی سے زری کے چہرے سے اپنی نظریں چرائی تھیں۔
آؤ تمہیں گھر دکھا دوں دبیر نے کہا اور بنا زری کا جواب سنے اسے وہاں سے لے گیا۔
دبیر باقی کا سارا کیک کیا ضائع جائے گا؟
زری دبیر کے ساتھ چلتے معصومیت سے پوچھا۔
اور اس کی بات سن کر دبیر ہنس پڑا تھا۔
تم فکر مت کرو ضائع نہیں ہو گا۔
دبیر نے مسکراتے کہا اور زری کو گھر دکھانے لگا ۔
پورا گھر دیکھنے کے بعد دونوں چھوٹے سے گارڈن میں داخل بوئے۔
جہاں پر ٹیبل پر ڈنر لگ چکا تھا درمیان میں کینڈل جل رہی تھیں۔
بھوک لگی ہے؟ دبیر نے زری کو دیکھتے پوچھا لیکن اس کے ناک پر لگی کریم کو دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
دبیر نے زری کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا جو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی اور سیدھا دبیر کے چوڑے سینے سے جا لگی۔
بے ساختہ اس کے ہونٹ دبیر کے سینے سے ٹکرائے تھے اور وہاں لپ سٹک کا نشان چھوڑ گئے۔
زری نے بوکھلا کر دبیر کو دیکھا تھا۔
جس نے جھک کر ٹشو اٹھایا اور زری کے ناک پر لگی کریم کو صاف کرنے لگا۔
زری دبیر کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اس طرح مت دیکھو زری کہ مجھے اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑے۔
دبیر نے زری کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔اور اس کے کان کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔
زری ایک دم ہوش میں آئی تھی اور اس نے دبیر کو پیچھے کیا۔جو اپنے سینے پر لپ سٹک کے نشان کو دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
اس سے پہلے دبیر کچھ کہتا اس کا موبائل رنگ ہوا۔
فاز کا نام دیکھ کر اس نے کال اٹینڈ کی اور زری کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
لیکن فاز کی جگہ آفندی کی آواز سن کر دبیر کے پاؤں وہی منجمد ہو گئے تھے۔
💞 💞 💞 💞
