Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
سر جہاں تک میرا اندازہ ہے پاشا کاجو فرینڈ ہے شاہ میر اُس کی والدہ دبیر کی خالہ ہے۔
کیونکہ ہمارے آدمی نے جس عورت کی دبیر کے ساتھ تصویر لی تھی وہ شاہ. میر کی ماں ہے ۔
آدمی نے ذیشان کو دیکھتے کہا۔
تو ٹھیک ہے اٹھا لو اُس عورت کو ذیشان نے سنجیدگی سے کہا۔
سر کنفرم نہیں ہے اگر وہ عورت دبیر کی خالہ نا ہوئی تو شاہ میر سے دشمنی کا مطلب پاشا سے دشمنی مول لینا ہے
آدمی نے کہا۔
جو میں نے کہا ہے وہ کرو مجھے پورا یقین ہے وہی اس کی خالہ ہو گی اور دبیر کی یہی کمزوری ہمارے پاس ہے میں نہیں چاہتا وہ بھی ہمارا ہاتھ سے نکل جائے ۔
ذیشان نے کہا جس پر آدمی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
💞💞💞💞💞💞
نغمہ بیگم پاس والی. مارکیٹ میں کچھ سامان خریدنے کے لیے گئی تھیں۔
میڈم ہمیں. دبیر سر نے بھیجا ہے وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں
آپ پلیز ہمارے ساتھ چلیں
نغمہ کے پاس آکر کھڑے آدمی نے کہا۔
دبیر کا نام سن کر نغمہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی اور بنا کچھ سوچے سمجھے اس آدمی کے ساتھ چل دی جو دراصل رانا کے آدمی تھے۔
جو اسے ایک پرانی فیکٹری میں لے گئے تھے۔
نغمہ بیگم نے فیکٹری کو دیکھا تو ان کو لگا کہ ان آدمیوں کے ساتھ انہیں نہیں آنا چاہیے تھا ۔
دبیر یہاں پر ہے؟ نغمہ بیگم نے پوچھا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے آدمی نے اثبات میں سر ہلا دیا
نغمہ بیگم اندر گئی تو وہاں پر ذیشان اور حسیب موجود تھے
آئیے خالہ جان کیسی ہیں آپ؟
ذیشان نے مسکراتے ہوئے پوچھا حسیب اب قدر بہتر تھا۔
دبیر کہاں ہے؟ نغمہ بیگم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
دبیر بھی آجائے گا لیکن میری ایک بات یاد رکھیے گا
بڑے ہمیشہ بچوں کو بھی سمجھاتے ہیں اگر کوئی اُن کو یہ کہے کہ تمھاری ماما یا پاپا بلا رہے ہیں تو اُس بچے کو نہیں جانا چاہیے ۔
اور آپ کو بھی میرے آدمی کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے تھا۔
لیکن افسوس آپ بنا سوچے سمجھے یہاں آگئی بہت تنگ کیا ہوا ہے شیرو نے اور کمبخت کا نام دبیر بھی ہے مجھے کل پتہ چلا
اور آج مجھے موقع مل گیا جس سے میں پورا پورا فائدہ اُٹھاؤ گا ۔اور میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں اگر آج آپ یہاں ہر موجود ہیں تو صرف دبیر کی وجہ سے
ذیشان نے چھوٹے چھوٹے قدم لیتے نغمہ بیگم کے سامنے کھڑے ہوتے کہا۔
نغمہ بیگم کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا تھا۔لیکن اب کچھ نہیں کر سکتا تھیں۔
💞💞💞💞💞
صاحب میری زری کہاں پر ہے؟ رضیہ نے شاہ میر سے پوچھا جو سگریٹ پر سگریٹ پیے جا رہا تھا۔
بھاگ گئی اپنے عاشق کے ساتھ شاہ میر کھڑے ہوتے دھاڑ کر کہا۔
رضیہ ڈر کر کچھ قدم پیچھے کھڑی ہو گئی تھی۔
صاحب میری بیٹی ایسی نہیں ہے رضیہ نے بے یقینی سے کہا۔
تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں جس دن تمھاری بدچلن بیٹی مجھے مل گئ وہ دن اُس کی زندگی کا آخری دن ہو گا ۔
شاہ میر نے ماتھے پر سخت تیور لیے رضیہ کو کہا۔
رضیہ کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا ۔رضیہ شہر گئی تھی جب واپس آئی تو ملازمہ سے اسے سب پتہ چلا اور سیدھی شاہ میر کے پاس آئی تھی نغمہ بیگم بھی گھر پر نہیں تھیں۔
💞💞💞💞💞💞
کیا ہوا؟ فاز نے دبیر کو دیکھتے پوچھا جو غصے سے موبائل کو دیکھ رہا تھا۔
اس کمینمے کو میری خالہ کا کیسے پتہ چلا؟
دبیر نے موبائل کی سکرین فاز کے سامنے کرتے پوچھا جہاں پر نغمہ بیگم کو باندھا ہوا تھا۔
یہ لو…… فاز کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ٹائیگر وہاں آیا اور رانا کے آدمی کو دبیر کے قدموں میں پھینکا جس نے نغمہ بیگم کی دبیر کے ساتھ تصاویر لی تھیں۔
میرے کو معلوم تھا جتنا نقصان میں رانا کا کر چکا ہوں وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا، اس چھوکرے نے تیری اور تیری خالہ کی تصاویر لی تھیں اور ذیشان کو بھیج دی ۔
ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔ دبیر نے اُس آدمی کو بالوں سے پکڑا
تیری کھال تو میں بعد میں اتاروں گا دبیر نے دانت پیستے کہا ۔
اور اسے فاز کی طرف پھینک دیا۔
ذیشان نے میسج میں ایڈریس لکھا تھا کہ ٹائیگر کو لے کر دبیر وہاں پہنچ جائے ۔
شیٹ دبیر نے دیوار پر اپنے ہاتھ کا. مکا مارتے کہا۔
ضرور اُس نے ٹائیگر کو مانگا ہو گا ۔
ٹائیگر نے سنجیدگی سے کہا۔
میں یہ معاملہ خود سنبھال لوں گا تم اس میں مت پڑو ٹائیگر
دبیر نے ٹائیگر کو تنبیہ کرتے کہا اور فاز کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور دونوں وہاں سے چلے گئے۔
بول کر تو ایسے گیا یے جیسے میں تیری بات مان لوں گا ٹائیگر نے طنزیہ لہجے میں کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
زری کو مریم سے پتہ چل گیا تھا کہ وہ بچہ یتیم ہے زری اُس کا بہت خیال رکھ رہی تھی ۔
زری نے سوچ لیا تھا کہ وہ یہاں سے کہی دور چلی جائے گی غصے میں وہ یہ بات بھی فراموش کر بیٹھی تھی کہ وہ عدت میں ہے
دبیر نے بلیک پیلس کی سیکورٹی زیادہ نہیں رکھی تھی کیونکہ اس گھر کا کسی کو معلوم نہیں تھا اور ابھی یہ گھر نیا بنا تھا تو دبیر کو زیادہ سیکورٹی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
اور زری بھی آرام سے نکل سکتی تھی مریم اور رانی اپنے کمرے میں تھیں ۔
زری نے بچے کو گود میں لیا اور اچھی طرح اپنی چادر کو سیٹ کیا۔
پورا پیلس خالی پڑا تھا زری بہت غور سے دیکھ رہی تھی جو بے شک خوبصورتی میں اپنی مثال خود تھا۔
پندرہ سے بیس منٹ تو زری پیلس میں گھومتی رہی تھی پھر کہی جا کر اسے باہر کا گیٹ نظر آیا تھا۔
زری نے دیکھا تو ایک گارڈ اپنے چھوٹے سے بنے کوارٹر میں بیٹھ کر موبائل پر کوئی مووی دیکھ رہا تھا اس کا دھیان باہر کی طرف نہیں تھا۔
زری دبے قدموں سے چلتی ہوئی وہاں سے نکل گئی ۔گارڈ مووی دیکھنے میں اس قدر بزی تھا اسے زری کے باہر جانے کا پتہ نہیں چلا
زری نے چادر سے اپنا چہرہ بھی ڈھانپ لیا تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ کہاں جانا ہے بس وہ دبیر سے دور جانا چاہتی تھی اب اسے دبیر سے ڈر لگنے لگا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ گھر سے نکل کرباُس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔
💞💞💞💞💞💞
دبیر فاز کے ساتھ اُسی جگہ ہر پہنچ گیا تھا جہاں پر نغمہ بیگم کو رکھا گیا تھا۔
تم یہی انتظار کرو خالہ کو لے کر چلے جانا میری فکر مت کرنا۔
دبیر نے گاڑی سے نکلتے کہا۔اور فیکٹری کے اندر چلا گیا۔
فاز گاڑی سے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا تھا، اور اپنی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔پیچھے ہی اسے ٹائیگر کی گاڑی بھی نظر آگئی فاز نے نفی میں سر ہلایا ۔
کیا ہوا شہزادے ٹائیگر چلتا ہوا فاز کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر ایک گہرا کش لیا پھر فاز کو واپس کر دیا۔
کچھ نہیں بس یہی سوچ رہا ہوں تمھارا اور دبیر کا کچھ نہیں ہو سکتا دونوں ضدی ہو فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں یہ بات تو ہے ٹائیگر نے ایک آنکھ دباتے مسکرا کر کہا اور خود بھی اندر چلا گیا۔
دبیر کسی کی نظر میں آئے بغیر باکسز کے پچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ٹائیگر بھی اس کے ساتھ آکر کھڑا ہو گیا تھا۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ دبیر نے ٹائیگر کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
لڈو کھیلنے آیا تھا۔
ٹائیگر نے بھی بھر پور سنجیدگی سے جواب دیا۔
دبیر ٹائیگر سے کچھ پوچھے اور وہ سیدھا جواب دے یہ تو ناممکن سی بات تھی۔
دبیر تو اپنے کام سے کام رکھ میں یہاں تیری مدد کرنے نہیں آیا ٹائیگر یہاں اپنے مطلب کے لیے آیا ہے۔
ٹائیگر نے دبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
تمہیں کیا شوق ہے میرے ہر کام میں دخل اندازی کرنے کا؟
دبیر نے دانت پیستے پوچھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی وجہ سے ٹائیگر کو کچھ ہو۔
ذیشان نے ٹائیگر کو مانگا تھا اور تو بنا مجھے لیے یہاں آگیا بہت برا کیا بہت برا دبیر
ٹائیگر نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
تمہیں ایکٹنگ نہیں چھوڑنی چاہیے تھی دبیر نے ٹائیگر کو دیکھتے افسوس کرتے کہا۔
اوو بھائی یہ ایکٹنگ نہیں ہے ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا ۔
اس سے پہلے دبیر اس کے سوال کا جواب دیتا۔
کسی نے دونوں کے سر پیچھے گم رکھ کر دی تھی۔
کوئی ہوشیاری نہیں ورنہ گولی چلا دوں گا۔
حسیب نے کہا۔
یہ ایک پرانی فیکٹری تھی۔
جہاں پر نغمہ بیگم کو رکھا گیا تھا۔
مجھے امید تو نہیں تھی کہ شیرو کے ساتھ ٹائیگر بھی آجائے گا۔
ویسے دبیر نام بھی تم. پر سوٹ کرتا ہے۔اور دیکھو آج شیر اور ٹائیگر میرے پنجرے میں قید ہیں ۔تم نے جو میرے ساتھ دھوکا کیا اُسے میں کبھی نہیں بھول سکتا
ذیشان نے غصے سے ٹائیگر کو دیکھتے کہا۔
چاروں طرف رانا کے آدمی پھیلے ہوئے تھے ۔
تو بھائی نا بھول یہ تیرا مسئلہ ہے میں کیا کر سکتا ہوں ٹائیگر نے الٹا جواب دیتے گھور کر کہا ۔دبیر کے ہونٹوں کو بے ساختہ مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
تجھے لگتا ہے شیرو اتنی آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے؟
دبیر نے طنزیہ انداز میں کہا ایک پل کے لیے ذیشان بھی پریشان ہو گیا تھا۔
اس وقت تمھاری کمزوری میرے پاس ہے شیرو اس لیے تم کچھ نہیں کر سکتے ۔
ذیشان نے سنبھلتے کہا ۔
شیرو کی کمزوری تیرے پاس ہے میری نہیں ٹائیگر نے کہتے ہی اپنی گن کا رخ ذیشان کی طرف کر دیا ۔
دبیر نے اپنے پیچھے کھڑے حسیب کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور اس کی ہاتھ میں پکڑی گن کو اسی کی کنپٹی پر رکھ دیا ۔
تیرے بھائی کا بھیجا اڑانے میں مجھے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا ۔لگتا ہے پیچھلی سزا بھول گیا ہے
شیرو نے ذیشان کو دیکھتے کہا جو پل بھر میں پریشان ہوا تھا۔
بازی کبھی بھی پلٹ سکتی ہے ذیشان میاں
اور ابھی کے ابھی خالہ کو عمر کے حوالے کر دو ورنہ… دبیر نے ٹریگر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
نہیں تم کچھ نہیں کروں گے چھوڑ دو اُسے
ذیشان نے اپنے آدمی کو اشارہ کرتے کہا۔
جس نے کچھ فاصلے پر بندھی ہوئی نغمہ بیگم کو کھول دیا۔
جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔عمر باہر ہی کھڑا تھا ذیشان کا آدمی نغمہ بیگم کو باہر لے گیا۔
عمر نے نغمہ بیگم کر گاڑی میں بیٹھایا اور وہاں سے چلا گیا۔
سب کچھ ٹھیک تھا اگر وہاں پر رانا نا آتا
رانا نے آتے ہی اپنی گم کارخ ٹائیگر کی طرف کرتے اس ہر گولی چلا دی۔
فیکٹری میں گولی کی آواز گونجی۔
یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔
دبیر نے ٹائیگر کی طرف دیکھا جس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جہاں سے خون نکل رہا تھا ۔
ٹائیگر وہی گھٹنوں کے پل بیٹھ گیا۔
دبیر کی گرفت حسیب پر ہلکی ہوئی جو جلدی سے ذیشان کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔
دبیر نے جھک کر ٹائیگر کو دیکھا جس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات تھے۔
دبیر نے سرخ آنکھیں لیے ذیشان کی طرف دیکھا جو خود حیران تھا۔
تم لوگ خون خرابہ چاہتے تھے تو ٹھیک ہے۔
دبیر نے کہتے ہی اپنی ہاتھ میں پکڑی گن کا رخ ذیشان کے پیچھے کھڑے حسیب کی طرف کیا اور ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر حسیب کے ماتھے کے بیچو بیج گولی مار دی
ایک سیکنڈ میں سب کچھ ہوا تھا دبیر کا نشانہ ایک دم پرفیکٹ تھا۔رانا اور ذیشان نے آنکھیں پھاڑے حسیب کی طرف دیکھا۔
دبیر کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں اس نے ٹائیگر کو اٹھایا اور وہاں سے باہر لے گیا سب لوگ حسیب کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
جو شاید مر چکا تھا۔
💞💞💞💞
زری گھر سے کافی دور آگئی تھی ۔بچہ بھی رونے لگا تھا۔اس کے پاس پیسے بھی نہیں تھے زری نے اپنے کان میں پہنی سونے کی بالیاں اتاری اور دکان دار کو دے کر بچے کے لیے دودھ لیا۔ دکان دار لالچی قسم کا تھا اس لیے اس نے زری سے بالیاں لے لی ۔
زری سڑک پار کرنے لگی کہ اس کہ اسے زبردست چکر آیا اور سڑک کے درمیان میں رک گئی سامنے سے آتے گاڑی نے بمشکل بریک لگائی زری وہی گر گئی تھی۔
گاڑی میں موجود شخص پریشانی سے باہر آیا کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔اُس آدمی لو دیکھتے باقی کے لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے۔
اس نے زری کو اپنی گاڑی میں لیٹایا اور بچے کو اپنی گود میں لیا۔بچے اور زری دونوں کو کچھ نہیں ہوا تھا ۔
زری اپنے چکراتے سر کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی۔
ارحم نے بیک مرر سے پیچھے زری پر نظر ڈالی اور لیکن جلدی سے اپنی نظروں کا رخ تبدیل کر لیا تھا۔زری کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔
ارحم زری کو اپنے گھر لے آیا تھا۔
اماں کہاں ہیں آپ؟ ارحم نے گھر میں داخل ہوتے اماں کو آواز دیتے کہا۔
اماں نے ارحم کے ماں باپ کی وفات کے بعد اپنے بچے کی طرح اسے پالا تھا۔
کیا ہوا ارحم بیٹا؟ اماں نے ارحم کو دیکھتے پوچھا۔اماں اس بچے کی ماں میری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی میں دونوں کو گھر لے آیا لیکن مجھے لگتا ہے بچے کو بھوک لگی ہے۔
ارحم نے بچے کو اماں کے حوالے کرتے کہا۔
لڑکی اندر روم میں ہے آپ پلیز اُس کا خیال رکھیے گا۔اُسے جیسے ہی ہوش آئے گا میں اُسے گھر چھوڑ آؤں گا ارحم نے اپنی کنپٹی دباتے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا تم پریشان نا ہو اور میں تمھارے لیے کافی لاتی ہوں ۔
اماں نے پیار سے کہا۔
جی ارحم نے ہلکا سا مسکرا
کر کہا۔
اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھکن اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
ارحم ایک کامیاب بزنس مین تھا۔ارحم کا ایک چھوٹا بھائی تھا ماں باپ کا انتقال ہو چکا تھا۔اور سنجیدگی ارحم کی طبیعت کا خاص حصہ تھی۔
ارحم اپنے کمرے میں داخل ہوا تو نجانے کیوں اسے تجسس ہو رہا تھا کہ وہ اُس لڑکی کا چہرہ دیکھے ۔
اپنی عجیب سے خیال پر ارحم نے خود کو ڈپٹا اور فریش ہونے چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
رانی جتنا جلدی ہو سکے خود کو نکاح کے لیے تیار کر لو ورنہ انجام کی. ذمہ دار تم خود ہو گی۔
مصطفیٰ نے سنجیدگی سے رانی کو دیکھتے کہا۔
آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے مصطفیٰ لیکن اللہ کا شکر ہے میرا ابھی ٹھیک ہے کسی اور سے نکاح کر لوں گی لیکن آپ سے ہرگز نہیں کروں گی۔
رانی نے کرخت لہجے میں کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی ۔
مصطفیٰ نے رانی کو بازو سے پکڑا اور اس کا چہرہ دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔
رانی کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر کے ساتھ بندھے تھے جسے مصطفیٰ نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا تھا۔
رانی کو مصطفیٰ سے اس قسم کے ردعمل کی توقع نہیں تھی۔
کیا کہا تم نے کسی سے بھی نکاح کر لو گی لیکن مجھ سے نہیں کرو گی؟
تو ٹھیک ہے تم پیار کی زبان نہیں سمجھتی تو مجھے زبردستی ہی کرنی پڑے گی۔بعد میں مجھ سے گلے شکوے ہرگز مت کرنا
مصطفیٰ نے رانی کے کان کے پاس غراتے ہوئے کہا۔
مصطفیٰ کی گرم سانسیں رانی کی گردن کو جھلسا رہی تھیں۔
مصطفیٰ چھوڑو مجھے رانی نے بھاری آواز میں کہا ۔
مصطفیٰ نے رانی کا رخ اپنی طرف کیا۔جس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر چکی تھیں۔
لیکن اس بار فاز نے کمزور نہیں پڑنا تھا ۔
اس بار تمھارے آنسو بھی میرا ارادہ نہیں بدل سکتے رانی تو بہتر ہے اس کو ضائع نا کرو
مصطفیٰ نے رانی کی آنکھوں میں دیکھتے گہرے لہجے میں کہا۔
آج رانی کو مصطفیٰ کچھ الگ ہی لگ رہا تھا۔مجھے جواب ہاں میں چاہیے امید کرتا ہوں تم مجھے مایوس نہیں کرو گی مصطفیٰ نے رانی کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔رانی ابھی بھی حیران کھڑی تھی۔
