Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

بیر پاپا اور ماما چلے گئے ہیں آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے؟
نور نے کمرے میں داخل ہوتے غصے سے کہا۔
تیار تو میں کب کا ہو گیا تھا تم. مجھے بلانے نہیں آئی اس لیے گیم کھیل رہا تھا۔
کبیر نے موبائل کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
تو آپ باہر آجاتے ضروری تو نہیں تھا میرے بلانے پر ہی آپ باہر آتے ؟
نور نے اپنا چشمہ درست کرتے کہا ۔
ہممم. اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں کبیر نے سوچنے والے انداز میں نور کو دیکھتے کہا۔
جس کا غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
بےبی کول اتنا غصہ نہیں کرتے چلو پہلے ہی تمھاری وجہ سے ہم لیٹ ہو گئے ہیں۔
کبیر نے کہا اور اُٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
میری وجہ سے…
عجیب انسان ہے اپنی غلطی کبھی نہیں مانتے
نور نے غصے سے اپنا چشمہ درست کرتے کہا اور خود بھی کمرے سے باہر چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر نے وائٹ پیلس کے گارڈن میں ہی سارا انتظام کیا تھا گارڈن کو اچھی طرح سے سجایا گیا تھا۔
زری نے ہادی کو تیار کر دیا تھاجو اس وقت رانی کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
زری نغمہ بیگم کے ساتھ اچھے طریقے سے ملی تھی۔ اُن کو بھی زری پسند آئی تھی۔
زری نے گرے کلر کا سوٹ پہنا تھا۔
اس کا ڈوپٹہ کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔جو زری سے سنبھل نہیں رہا تھا۔
دبیر جو موبائل کان سے لگائے باہر کی طرف جا رہا تھا۔زری کو دیکھ کر وہی رک گیا۔
جو چہرہ جھکائے اپنے ڈوپٹے کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
دبیر وہی کھڑا رہا اور زری اس کے سینے سے الگی تھی۔
زری نے ہڑبڑا کر اوپر دیکھا تو دبیر دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پہلی بار کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھا ہے کیا؟
زری نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے گھورتے ہوئے پوچھا۔
کہہ سکتی ہو۔
دبیر نے زری کے چہرے پر جھکتے ہوئے کہا۔
زری اچانک دبیر کے قریب آنے پر پیچھے ہٹی تھی۔لیکن دبیر نے اسے کمر سے پکڑ کر خود کر قریب کیا تھا۔
ڈر کیوں رہی ہو یار میں کون سا تمہیں کھا جاؤں گا
دبیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
تمھارا کیا بھروسہ کچھ بھی کر سکتے ہو زری نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
کتنا جان گئی ہو تم مجھے دبیر نے زری کے بالوں میں لگے کیچر کو اتارتے ہوئے کہا۔
آج بالوں کو کھلا رکھنا
دبیر نے سرگوشی کرتے کہا۔
زری نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا تھا لیکن آس پاس کوئی نہیں تھا۔
اگر کوئی دیکھ بھی لیتا ہے تو بھی کچھ نہیں ہو گا بیوی ہو میری
دبیر نے ہاتھ سے زری کے جھمکے کو چھوتے کہا۔
بیوی ہوں تو کیا کسی بھی جگہ شروع ہو جاؤ گے؟ زری نے دانت پیستے پوچھا ۔
بلکل مائی ڈارلنگ دبیر نے زری کے ناک میں پہنی بالی کو ہلکا سا اپنے ہونٹوں سے چھوتے کہا۔
اور مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔
ٹھرکی انسان زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور دبیر کی پشت کو گھورنے لگی ۔
جس نے بلیک پینٹ کے ساتھ بلیو شرٹ اور ساتھ بلیک کلر کی واسکٹ پہنی ہوئی تھی بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے زری کو کافی پرکشش لگا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
میر بلیک پیلس کو دیکھ کر کافی متاثر ہوا تھا۔خان یہ پیلس تع بہت خوبصورت ہے ویسے دبیر کی چوائس کافی اچھی ہے حیا نے بھی دل کھول کر تعریف کی تھی۔
میر بھی حیا کی بات سے متفق تھا۔
میر اور حیا کو دیکھ کر دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی وہ جلدی سے دونوں کے پاس گیا۔
السلام علیکم بڑے پاپا کیسے ہیں آپ؟
دبیر نے میر کے گلے لگتے پوچھا۔
میں ٹھیک تم کیسے ہو برخوردار میر نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔
میں بلکل ٹھیک آپ کیسی ہیں آنٹی میر نے حیا کو دیکھتے پوچھا۔
یہ کیا بات ہوئی اگر یہ تمھارے بڑے پاپا ہیں تو میں بھی تمھاری بڑی ماما ہوئی نا حیا کے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی جی دبیر نے ہنس کر کہا
اتنے میں نور اور کبیر بھی آگئے تھے۔
کبیر دبیر کے گلے لگا نور نے بھی سلام کیا۔
زری بھی یہی آگئی تھی۔
وہ حیا اور نور سے ملی اور تینوں اندر چلی گئی تھیں۔
دبیر اور کبیر وہی گارڈن میں میر کے ساتھ بیٹھے باتیں کرنے لگے تھے۔ کبیر نے بھی سیم دبیر جیسی ڈریسنگ کی تھی۔
میر نے تھری پیس سوٹ پہنا تھا۔
سب لوگ گارڈن میں جمع ہو گئے تھے فاز میر سے ملنے کے بعد سٹیج پر جا کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بیوی کا انتظار کرنے لگا۔
جس نے بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا تھا۔
واؤ آپ تو بہت خوبصورت لگ رہی ہو
نور نے مریم کو دیکھتے کہا زری اسے مریم کے پاس لے آئی تھی۔
مریم نور کو دیکھ کر مسکرا پڑی۔
آپ بھی بہت کیوٹ اور پیاری لگ رہی ہیں مریم نے نور کا گال کھنچتے ہوئے کہا۔
جو اپنا چشمہ ٹھیک کرتے مسکرا پڑی تھی۔
چلیں سب باہر انتظار کر رہیں ہیں رانی کہا جس پر مریم نے اثبات میں سر ہلایا۔
اور پھر تھوڑی دیر بعد رانی اور نور کے ساتھ چلتی ہوئی مریم سٹیج کی طرف جا رہی تھی۔
سب کی نظروں کا مرکز اس وقت مریم بنی ہوئی تھی۔
مریم کنفیوز بھی ہو رہی تھی۔اس کا دھیان زمین پر گرتے پھولوں کی پتیوں نے اپنی طرف مرکوز کیا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورا گارڈن مختلف قسم کے پھولوں سے بھر گیا تھا۔
نور کی خوشی بھی دیکھنے لائق تھی کبیر تو اپنی بیوی کے معصوم سے چہرے میں کہی کھو سا گیا تھا۔
سٹیج کے پاس جاتے فاز نے مریم کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا جس نے فاز کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اپنا ہاتھ فاز کے ہاتھ میں تھما دیا
مصطفیٰ اور کبیر دونوں نے مل کر ہوٹنگ کی تھی۔
فاز مسکرا پڑا ۔
میر اور حیا سٹیج پر گئے اور دونوں کے پاس بیٹھے تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے
حیا نے ایک فیملی فوٹو کا کہا تھا
سب لوگ سٹیج پر جمع ہو گئے کیمرا مین نے ایک خوبصورت منظر کو کیمرے قید کر لیا تھا۔
سب لوگ بہت خوش تھے نور کی رانی سے اچھی دوستی ہو گئی تھی۔
میر کے چہرے سے مسکراہٹ جانے کا نام نہیں لے رہی تھی دبیر نے پرانی یادیں تازہ کر دی تھیں۔
سب کچھ ٹھیک تھا کمی تھی تو صرف احد کی جو ابھی تک ہوش میں نہیں آیا تھا۔
لیڈیز اینڈ جنٹلمین….
مصطفیٰ نے سٹیج پر کھڑے ہوتے سب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے کہا سب نے مصطفیٰ کی طرف دیکھا تھا۔
رانی جو نور کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔اس نے بھی حیرانگی سے مصطفیٰ کی طرف دیکھا۔
پیچھے فاز اور مریم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
مصطفیٰ نے رانی کو دیکھ کر بات کا آغاز کیا جسے کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہوا تھا۔
رانی
مصطفیٰ نے رانی کی طرف اشارہ کرتے کہا۔سب کی نظریں رانی کی طرف گئی تھیں۔
رانی میری بہت اچھی دوست اور میری کزن بھی ہے ۔اور میں اسے پسند بھی کرتا ہوں
اور اُس سے شادی بھی کرنا چاہتا ہوں لیکن رانی نے ایک شرط رکھ دی اگر میں نے اس کی بات نا مانی تو وہ مجھ سے شادی نہیں کرے گی
تو وہ چاہتی تھی آج کے دن سب لوگوں کے سامنے میں اُسے پروپوز کروں کیونکہ اُسے لگتا ہے مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے
اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر آج سب کے سامنے میں نے اسے پروپوز کر دیا تو اُسی وقت مجھ سے نکاح کر لے گی۔
تو میں دبیر بھائی سے کہنا چاہتا ہوں اگر لڑکی ہاں کر دے تو آج ہی میرا نکاح بھی پڑھوا دیں غریب کا بھلا ہو جائے گا
بعد میں ہو سکتا ہے وہ اپنی بات سے مکر جائے مصطفیٰ نے دبیر کی طرف دیکھتے معصومیت سے کہا۔
میر مصطفیٰ کی باتوں پر ہنس پڑا تھا۔مصطفیٰ بھی میر کو عادل جیسا لگا تھا۔
رانی تو شوکڈ سی وہی پھتر کی بن گئی تھی اس نے مصطفیٰ سے ایسی ویسی کوئی بات نہیں کی تھی۔
مصطفیٰ چلتا ہوا رانی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور ایک گھٹنا زمین پر رکھ کر رانی کی طرف دیکھا۔
سب سے پہلے تو رانی میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔جو بھی میں نے تمھارے ساتھ کیا مجھے پچھتاوا ہے لیکن میں تمھاری ضد میں تمہیں دوبارہ نہیں کھونا چاہتا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔
وِل یُو میری می؟
مصطفیٰ نے ایک امید بھرے لہجے میں رانی کے سامنے ایک گولڈن کلر کا چھلا کرتے ہوئے پوچھا۔
سب لوگوں کی نظر دونوں کی طرف تھی۔نور نے مسکرا کر رانی کو دیکھا جو خود کنفیوز سی لگ رہی تھی۔
ہاں کر دو لڑکی کس بات کا انتظار کر رہی ہو
نور نے رانی کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں کہا۔
ہاں رانی نے ہوش میں آتے نور کو جواب دیا لیکن مصطفیٰ کو لگا اس نے ہاں کر دی ہے
اس نے جلدی سے رانی کے ہاتھ میں رنگ پہنا دی ۔
ہر طرف تالیوں کی آوازیں گونجنے لگی تھی۔
دبیر کو بھی رانی کے جواب کا انتظار تھا اسے لگا تھا کہ رانی منع کر دے گی۔
کیونکہ مصطفیٰ کو وہ اچھے سے جانتا تھا کہ جو کچھ اس نے ابھی سٹیج پر کہا وہ سراسر جھوٹ تھا
لیکن حیرت تو اسے رانی کا جواب سن کر ہوئی تھی۔
برخوردار کیا سوچ رہے ہو؟
میر نے دبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا
بڑے پاپا مجھے سمجھ نہیں آرہی رانی مان کیسے گئی پتہ نہیں مصطفیٰ نے ایسا کیا جادو کیا
دبیر ابھی بھی حیران تھا۔
بیٹا جی وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور جو بھی مسئلہ دونوں کے درمیان ہوا ہو گا دونوں نے آپس میں سلجھا لیا ہو گا۔
تم نکاح کی تیاری کرو نکاح کے چھوارے بھی میں کھا کر ہی جاؤں گا
میر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی بڑے پاپا دبیر نے بھی ہنس کر کہا
اسے بھی میر کی بات ٹھیک لگی تھی
ہوسکتا تھا رانی نے مصطفیٰ کو معاف کر دیا ہو۔
دبیر وہاں سے فاز کے پاس چلا گیا جو اسی کی طرف آرہا تھا۔
زری تو حیران تھی لیکن خوش بھی تھی۔
مریم جلدی سے رانی کے گلے آ لگی تھی اس کے بعد نور اور زری نے بھی اسے مبارک باد تھی۔
رانی نے ارد گرد دیکھا سب لوگ خوش تھے۔مصطفیٰ کبیر کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اور اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر رانی وہی رک گئی۔
ورنہ وہ دبیر کے پاس جا رہی تھی۔
رانی بھی مصطفیٰ سے محبت کرتی تھی جتنا بھی اُس سے دور بھاگتی لیکن مصطفیٰ اس کی محبت تھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی رانی کا دل مصطفیٰ کے لیے نرم ہو گیا تھا۔
لیکن جو اس نے غلط بیانی کی تھی اُس کی سزا تو رانی کے اسے ضرور دینے کا سوچا تھا۔
بھائی میرا آج ولیمہ ہے اور صبح سے میں ہی کام کر رہا ہوں میں کہی نہیں جا رہا خود مولوی صاحب کو لے آ
فاز نے دبیر کو دیکھتے جلدی سے کہا۔
دبیر نے گھور کر فاز کو دیکھا ابھی تو دبیر نے کچھ کہا بھی نہیں تھا اور فاز پہلے ہی بول پڑا تھا۔
بھائی تجھے کہی نہیں بھیج رہا مجھے اُس مولوی صاحب کا نمبر دے جس نے میرا نکاح کروایا تھا دبیر نے گھورتے ہوئے کہا۔
اچھا پھر ٹھیک ہے
فاز نے مسکرا کر کہا اور دبیر کو نمبر دیا۔
تمہیں کیا لگتا ہے مصطفیٰ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کچھ کہا کیا وہ سچ تھا؟
دبیر نے نمبر ڈائل کرتے پوچھا۔
بلکل بھی نہیں لیکن اگر رانی کو کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ تم سے آکر ضرور بات کرتی یا زری بھابھی سے فاز نے بھابھی پر زور دیتے کہا۔
فاز کی بات پر دبیر کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
دبیر نے موبائل کان سے لگایا اور وہاں سے چلا گیا۔
حیرت تو خود مصطفیٰ کو بھی ہوئی تھی اسے بھی امید نہیں تھی کہ رانی ہاں بول دے گی۔
💞 💞 💞 💞 💞
تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب آگئے تھے گواہ میں میر بھی شامل تھا تھوڑی دیر بعد ہی رانی مصطفیٰ کے نام لکھ دی گئی تھی اس نے بہت پہلے مصطفیٰ سے نکاح کا خواب دیکھا تھا لیکن اُسے نہیں معلوم تھا کہ وہ خواب اتنی مشکلات کے بعد اب پورا ہو گا۔
انسان جس سے محبت کرتا ہو اُس سے کبھی چاہ کر بھی نفرت نہیں کر سکتا اور یہاں تو خود رانی کا دل بھی بغاوت پر اتر آیا تھا۔
مصطفیٰ اس سے بہت بار معافی مانگ چکا تھا۔
اور رانی کا دل فاز کی باتیں سننے کے بعد نرم ہوا تھا جب اس نے بتایا کہ مصطفیٰ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور اسی لیے وہ کچھ ماہ غائب رہا تھا۔
پھر رانی کو یاد آیا کہ اس نے جب کہا کہ اسے فرق نہیں پڑتا کہ مصطفیٰ جیے یا میرے اور اس بات نے مصطفیٰ کو کتنی تکلیف پہنچائی تھی۔
رانی انہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب زری اس کے گلے الگی تھی سب نے اسے مبارک باد دی ۔
دوسری طرف مصطفیٰ کی خوشی دیکھنے لائق تھی جو نکاح ہونے کے بعد خود سب میں میٹھائی بانٹ رہا تھا۔
اوو بھائی بریک پر پیر رکھ
کیا ہو گیا ہے تجھے؟ کہی پاگل نا ہو جائی نکاح کی خوشی میں فاز نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے پاس کھڑا کرتے کہا۔
فاز آج میں بہت خوش ہو تم بھی کھاؤ مصطفیٰ نے کہتے ہاتھ میں پکڑا ہوا لٹو پورا فاز کے منہ میں ڈال دیا ۔
اوئے کمینے بس کر جا ورنہ اب میں تیرا منہ توڑ دوں گا
فاز نے بڑی مشکل سے لٹو کو نگلتے ہوئے کہا۔
جو بتیسی دیکھا کر ہنس پڑا تھا۔
دبیر بیٹا اب ہم چلتے ہیں کبیر اور نور یہی ہیں لیکن مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے
میر نے دبیر کو دیکھتے کہا۔
اتنی جلدی بڑے پاپا تھوڑی دیر تو آپ مزید رک جاتے
دبیر نے کہا۔
نہیں بیٹا ان کا کام زیادہ ضروری ہے کوئی فائدہ نہیں کرنی انہوں نے اپنی مرضی ہے
حیا نے دبیر کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
جس نے بمشکل میر کے تاثرات دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی.
اور دبیر کو ماننا پڑ گیا تھا بیوی بیوی ہوتی ہے پھر چاہے وہ شیر کی ہی کیوں نا ہو ۔
بیوٹی آپ ہمیں روک لیں ہم رک جائیں گے میر نے گہرے لہجے میں حیا کو دیکھتے کہا۔
میں نے تو ویسے ہی بات کی ہے۔
حیا نے ہڑابڑا کر جواب دیا۔
دبیر دلچسپی سے دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔
بیٹا میرا جانا ضروری ہے ورنہ ضرور رک جاتا
میر نے پیار سے دبیر کو دیکھتے کہا۔
جی بڑے پاپا
دبیر نے کہا اور میر کے گلے لگ گیا۔
بیٹا جی آپ کی بیوی بہت اچھی ہے اس کی قدر کرنا۔
پچھلی باتوں کو بھول کر اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنا۔اللہ سب بہتر کرے گا۔
حیا نے دبیر کے سر پر پیار دیتے وقت کہا۔
جی دبیر نے بس اتنا ہی کہا تھا۔
میر اور حیا باقی سے سے ملنے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
آج مجھے ایک بات کی شدید حیرت ہوئی
دبیر نے سامنے سٹیج پر دیکھتے ہوئے کہا۔
سب لوگ وہی ہر موجود تھے۔
نغمہ بیگم، رضیہ اور کلثوم سائیڈ ٹیبل پر بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔
رضیہ نے جب یہاں آکر اپنی دونوں بیٹیوں کو خوش دیکھا تو ان کا. دل بھی پرسکون ہو گیا تھا۔
ان دونوں کا نکاح کیسے ہوا یہ ساری کہانی کلثوم نے رضیہ کو بتائی تھی جس نے یقین بھی کر لیا تھا۔
دونوں معصوم تھیں کہ دبیر کی بنائی ہوئی کہانی پر یقین کر لیا۔
کبیر نے ناسمجھی سے دبیر کی طرف دیکھا تھا۔
بڑے پاپا نے اپنی بیٹی تم جیسے انسان کو دے کیسے دی؟
دبیر نے گلاس کو لبوں سے لگاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
کیوں مجھ میں کیا کمی ہے جو بڑے پاپا مجھے اپنی بیٹی نا دیتے کبیر نے دانت پیستے پوچھا۔
دبیر نے کبیر کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
اس کا جواب تو تمہیں بہتر پتہ ہو گا۔
دبیر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
بھائی صاحب اگر آپ کو زرتشہ بھابھی جیسی بیوی مل سکتی ہے تو مجھے بھی نور مل سکتی ہے ۔
کبیر نے گھور کر کہا۔
پوائنٹ دبیر نے کبیر کی ہاں میں ہاں ملاتے کہا۔
اتنے میں دبیر کا موبائل رنگ ہوا۔
جس نے کال اٹینڈ کرکے موبائل کان سے لگایا تھا۔
سر پیلس کے پیچھلے حصے میں آگ لگ گئی ہے جو تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے آپ سب لوگ پیلس سے باہر آجائے گارڈ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
کیا لیکن کیسے؟
دبیر نے اونچی آواز میں کہا۔
کبیر نے دبیر کی طرف دیکھا تھا جو کافی پریشان لگ رہا تھا۔
یہ پیلس بھی سنسان جگہ پر تھا جس کی پیچھلی سائیڈ پر کچھ درخت تھے جو پیلس کی طرف جھکے ہوئے تھے۔
اُن درختوں کو آگ لگی اور ساتھ ہی پیلس تھا تو آگ نے پیلس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
کیا ہوا؟ کبیر نے پوچھا
پیلس کی پیچھلی طرف آگ لگ گئی ہے دبیر نے پریشانی سے کہا اسے سٹیج سے کے اوپر سے دھواں نظر آیا۔
کبیر سب کو باہر نکالو کبیر نے اونچی آواز میں کہا اور سٹیج کہ طرف بھاگا۔
جہاں فاز اور مصطفیٰ اپنی مسز کے ساتھ موجود گپے لگا رہے تھے۔
پیلس میں آگ لگی ہے جاؤں یہاں سے
فاز اور مصطفیٰ سب کو لے کر جاؤں یہاں سے دبیر نے چلاتے ہوئے کہا آگ کا سن کر مریم اور رانی گھبرا گئی تھیں۔
بھائی زری اوپر کمرے میں گئی ہے ہادی بھی اُس کے پاس تھا۔ رانی نے گھبرا کر کہا۔
میں اُسے لے کر آتا ہوں. آپ لوگ جاؤ دبیر نے کہا۔
حیا، نغمہ بیگم، رضیہ اور کلثوم کو کبیر باہر لے گیا تھا۔
کبیر جب واپس آیا تو گارڈن خالی تھا۔تم یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو؟
چلو یہاں سے کبیر نے دبیر کو بازو سے پکڑتے کہا۔
دھواں آہستہ آہستہ پھیلتا جا. رہا تھا میری بیوی اور بیٹا اوپر ہیں۔
کبیر تم. میری فیملی کو کسی سیف جگہ لے جاؤ اُ کو کچھ ہونا نہیں چاہیے میں تم سے بعد میں ملتا ہوں دبیر نے کبیر کو دیکھتے کہا تم فکر مت کرو کبیر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا دبیر جلدی سے پیلس کے اندر گیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞