Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17


تو آخر کار دبیر کرن سے نکاح کرنے کے لیے راضی ہو ہی گیا؟
کرن نے دبیر کے قریب ہوتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر پوچھا۔
جس نے زور سے کرن کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
نکاح ابھی ہوا نہیں ہے اس لیے مجھ سے دور رہو
دبیر نے سرد لہجے میں کہا ۔
تم سمجھتے کیا ہو خود کو کرن نے غصے میں دبیر کو دیکھتے کہا۔
میں کیا چیز ہوں وہ تمھارے چھوٹے سے دماغ میں کبھی نہیں آئے گا۔
اس لیے زیادہ مت سوچو
اور ہاں میں اپنی ہونے والی بیوی کو ایک سرپرائز دینے والا ہوں تیار رہنا
دبیر نے آخری بات کرن کی طرف جھکتے ہوئے کہی اور ایک مسکراہٹ کرن کی طرف اچھال کر وہاں سے چلا گیا۔
کرن کو دبیر کی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی اس لیے کندھے اچکاتے وہاں سے چلی گئی۔
دبیر سے اس کا نکاح ہونے والا تھا اس سے بڑی خوشی اس کے لیے کیا ہو سکتی ہے
لیکن کرن نہیں جانتی تھی دبیر کا سرپرائز اس کے لیے طوفان لانے والا ہے۔
💞💞💞💞💞
تم واپس کب آئی؟ پاشا نے عائشہ کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے پوچھا۔
ریڈ کلر کے گھٹنوں تک آتے ٹاپ پہنے وہ پاشا کو کافی اچھی لگی تھی۔
کل واپس آگئی تھی اور تم تو مزید ہینڈسم ہو گئے ہو لیکن عباس سے کم
عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔
اور یہ سنتے ہی پاشا کی گرفت عائشہ کی کمر پر مضبوط ہو گی تھی۔
کوشش کرنا کہ میرے سامنے عباس کا ذکر مت کرو ورنہ تمھارا یہ خوبصورت چہرہ بگاڑا کر رکھ دوں گا۔
پاشا نے سرد لہجے میں عائشہ کے لیپ سٹ سے سجے سرخ ہونٹوں پر نظریں گاڑھتے کہا جو اب پاشا کی وحشت کا نشانہ بننے والے تھے۔
تمہیں عباس سے مسئلہ کیا ہے وہ تمھارا بھائی ہے عائشہ نے بھی غصے میں پاشا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اس نے پہلے کون سی پاشا کے غصے کی پرواہ کی تھی جو اب کرتی ۔
تمہیں میری ایک بار کی کی گئی بکواس سمجھ میں. نہیں آتی
پاشا نے عائشہ کو بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی جانب کرتے کہا ایک پل میں پاشا کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
اب وہ میرا دشمن ہے اور میں نہیں چاہتا تم اس کا نام بھی اپنی زبان سے ادا کرو۔
پاشا نے عائشہ کے ہونٹوں کی طرف جھکتے ہوئے خمار الود لہجے میں کہا ۔
اس سے پہلے عائشہ کچھ بولتی پاشا اس کی بولتی بند کر چکا تھا۔
عائشہ پاشا کے پارٹنر کی بیٹی تھی ۔جسے پاشا نے ایک پارٹی میں دیکھا تھا۔
عائشہ کو بھی پاشا پہلی نظر میں اچھا لگا تھا آہستہ آہستہ دونوں میں نزدیکیاں بھرتی گئی ۔
عائشہ کی فاز کے ساتھ دوستی ہو گئی تھی۔وہ ان کے کام کو بھی اچھے سے جان گئی تھی لیکن اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا کیونکہ پاشا کی محبت کا نشہ اس کے سر پر چڑھ چکا تھا۔
اور اب عائشہ دو سال بعد واپس لندن سے آئی تھی۔
💞💞💞💞💞
بڑے پاپا مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے کبیر نے سنجیدگی سے میر کو دیکھتے کہا۔
کیا بات کرنی ہے؟ میر نے پوری توجہ سے کبیر کو دیکھتے کہا ۔
پاشا اور رانا دبیر کے شکار ہیں تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں مجھے دبیر کی قابلیت پر پورا یقین ہے وہ سب سنبھال لے گا لیکن مجھے بس ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟
کبیر نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
ویسے تم بھی سمجھدار ہو مجھے امید نہیں تھی کہ تم مجھ سے یہ سوال پوچھو گے میر نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا۔ جس سے اس کے ڈمپل نمایا ہوئے تھے،
آپ کو ہمیشہ میری صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں کبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا جس پر میر نے گھور کر اسے دیکھا ۔
تم دانیال کو جانتے ہو؟
میر نے کبیر کو دیکھتے پوچھا ۔
جی بلکل
اُس کو میں کیسے بھول سکتا ہوں لڑکیاں سپلائی کرتا تھا۔
کبیر نے غصے سے کہا ۔
وہ ایک دن میرے پاس آیا تھا پاشا اور دبیر دونوں اُس کے بیٹے ہیں سگے نہیں ہے لیکن دانیال نے اُسے اپنے بیٹوں کی طرح پالا تھا۔
وہ اپنی ساری جائیداد غریبوں میں بانٹنا چاہتا تھا۔اور اپنا آفس دبیر اور پاشا کو دینا چاہتا تھا ۔تاکہ وہ برے چھوڑ کر اچھی زندگی گزاریں۔
وہ دبیر اور پاشا دونوں سے پہلے ہی بات کر چکا تھا کہ وہ برے کام چھوڑ دے گا ۔
دبیر کو بھی اس نے یہی کہا تھا ۔
لیکن پاشا دانیال کی بات سے متفق نہیں تھا وہ سب برے کام چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
جس دن دانیال میرے پاس آیا وہ ساری صورتحال مجھے بتا چکا تھا ۔اُس نے مجھے یہ بھی کہا کہ پاشا کو بے شک اُس نے باپ بن کر پالا ہے لیکن وہ کچھ ایسا ضرور کرے گا جس سے اُسے یہ سب کام چھوڑنا نا پڑے ۔
وہ مجھ سے ایک فیور چاہتا تھا کہ اگر اُسے کچھ ہو جاتا ہے تو پیچھے ان کے دونوں بیٹوں کا خیال رکھے۔
میر نے گہرا سانس لیا اور اپنی بات جاری رکھی۔
دانیال برے کام چھوڑ رہا تھا اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے اور وہ ایک امید لے کر میرے پاس آیا تھا اگر میں اُس کی مدد نا کرتا تو مجھے پچھتاوا ضرور رہتا۔
اور میں نے اُس کی مدد کرنے کی حامی بھر لی تھی ۔دانیال جب مجھ سے مل کر واپس جا رہا تھا تو اس کی گاڑی میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی ۔
اور جب مجھے پتہ چلا تو مجھے لگا کہ یہ ایک حادثہ تو بلکل بھی نہیں ہے۔
میں نے جب معلوم کروایا تو پھر جانتے ہو کیا پتہ چلا؟
میر نے کبیر کو دیکھتے پوچھا جو چہرے پر سنجیدگی لیے میر کو سن رہا تھا۔
پاشا نے اپنے باپ کو مروا دیا ۔مجھے یہ سن کر حیرت بلکل بھی نہیں ہوئی کیونکہ لوگ پیسوں کے پیچھے اپنے سگے رشتے داروں کی کی جان لینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاتے یہاں تو پھر پاشا تھا۔
دانیال کے مرنے کے بعد اُس کی ساری جائیداد کے مالک صرف دو لوگ تھے ایک دبیر اور دوسرا پاشا
دبیر نے دانیال کی. موت کے بعد اپنی بیوی کے کہنے پر برائی کی دنیا سے دور جانے کا فیصلہ کیا۔
اُس کے بعد پاشا اور شامیر دونوں دبیر کی زندگی میں آگے اور جو حادثہ پیش آیا اُس کے بعد دبیر پھر سے شیرو بن کے لوٹا ۔
جب تک میں نے دبیر کا ٹھکانہ ڈھونڈہ اُس وقت تک اُس کی بیوی مر چکی تھی ۔
میں ساری صورتحال سے اسے آگاہ کر چکا ہوں
پاشا کی سچائی بھی میں نے اُسے بتا دی تھی۔کہ دانیال کی جان بھی اُسی نے لی ۔
میر نے ساری بات کبیر کو بتا دی
ویسے آپ سے یہ سوال آپ سے پوچھنا کہ یہ سب آپ کو کیسے معلوم ہے تو بے کار ہے۔
لیکن وہ کس بارے میں بات کر رہا تھا کہ وہ آپ کا شکرگزار ہے؟
کبیر نے پوچھا ۔
ایک دو بار میں عمر کی جان بچا چکا ہوں اور یہ بات دبیر کو معلوم ہے اور عمر نے ہی مجھے شاہ میر اور پاشا کا بتایا تھا۔اور پھر میں نے ساری سچائی دبیر کو بتا دی
اگر نا بتاتا تو دبیر نے پاشا کے پاس ہی جانا تھا ۔کیونکہ وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا اور آنکھ بند کر کے اُس کی پر بات پر یقین کرتا تھا۔لیکن پاشا نے دبیر کی پیٹھ پر وار کیا۔
میر نے سنجیدگی سے کہا ۔
تو ہمیں صرف اپنے دشمن کی تلاش ہے وہ کب یہاں آئے گا؟
کبیر نے پوچھا
کچھ دنوں بعد وہ واپس آرہا ہے اور تمھارا فوکس وہ شخص ہونا چاہیے جس کی ہمیں تلاش ہے دبیر کے معاملے میں تم دخل اندازی نہیں کرو گے ۔جہاں بھی اُسے ہماری مدد کی ضرورت ہوئی ہم اُس کی مدد کریں گے۔
میر نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا ۔
مجھے کیا ضرورت ہے اُس کے معاملے میں پڑنے کی کبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا ۔
لیکن وہ آگے آنے والے حالات سے واقف نہیں تھا۔
💞💞💞💞💞💞
یہ میں کیا سوچنے لگا تھا شاہ میر جیسے درندے کو میں ایک موقع دینے کا کہہ رہا تھا۔
دبیر تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو ۔
دبیر اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے خود سے کہہ رہا تھا۔
فاز نے بے شک غصے میں سب کہا تھا لیکن اُس نے سب کچھ سچ کہا تھا اور کل رات سے دبیر اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
میں اُس انسان کو موقع نہیں دے سکتا میں اپنا مقصد کیسے بھول سکتا ہوں۔
دبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
بہت ہوا آج سے اب سے دبیر وہی کرے گا جو ٹھیک ہو گا اپنے دل کی نہیں سنے گا۔
یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا زری تم نے اپنی آنکھوں کا جادو چلا کر مجھے بے بس کیا تھا لیکن اب دبیر کمزور نہیں پڑے گا ۔
حویلی والوں نے ابھی صرف دبیر کو دیکھا ہے لیکن آج سے وہ شیرو کو دیکھے گے
دبیر نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا اس کے چہرے کی مسکراہٹ کسی بڑے طوفان کے آنے کا پیغام دے رہی تھی۔
بہت شوق ہے نا تم دونوں باپ بیٹے کو دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھیلنے کا تو اب میں دیکھتا ہوں جب اپنی بیٹی پر بھی وہی سب کچھ گزرے گا تو کیسا محسوس ہو گا
۔کیا عزت رہ جائے گی پورے گاؤں کے سامنے
دبیر نے کرخت لہجے میں کھڑکی سے باہر کھڑے شاہ میر اور فضیل کو دیکھتے کہا ۔
💞💞💞💞
نغمہ بیگم اور رانی نے ساری شاپنگ کر لی تھی اور اب وہ گاؤں کی طرف واپس جا رہی تھیں جب ان کی گاڑی ایک سنسان جگہ پر رک گئی ۔
کیا ہوا؟
نغمہ بیگم نے پوچھا۔
بیگم صاحبہ سامنے کچھ لوگ کھڑے ہیں ڈرائیور نے جواب دیا ۔
شام کا وقت تھا۔
رانی تو اُن نقاب پوش کو دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کچھ غلط ہونے والا ہے ۔
ایک آدمی نے ڈرائیور کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے باہر نکلتے ہی گاڑی میں سپرے کر دے جس سے نغمہ بیگم اور رانی کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا محسوس ہوا۔
اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ دونوں بے ہوش ہو گئیں ۔
کون ہو تم لوگ؟
ڈرائیور نے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔
میر بات سن اگر تجھے اپنی جان عزیز ہے تو اپنی بڑی بیگم صاحبہ کو آرام سے گھر لے جا
اُس آدمی نے ڈرائیور کے خوفزدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
جس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔
ڈرائیور نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اُسی آدمی نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر رانی کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اپنی گاڑی تک لے گیا ۔
رانی بی بی کو کہاں لے کر جارہے ہو تم لوگ؟
ڈرائیور نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
تجھے جو کہا ہے وہ کر ورنہ یہاں سے تیری لاش واپس جائے گی۔دوسری نقاب پوش کے سرد لہجے میں کہا ۔
ڈرائیور نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چلا گیا۔
💞💞💞💞💞
اسلم تہہ خانے میں ہی بند تھا۔مریم نے پورا پیلس دیکھ لیا تھا جو کہ بہت خوبصورت تھا۔
اس نے اپنے قدم تہہ خانے کی طرف بڑھائے
یہ جگہ تھوڑی عجیب تھی، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سامنے بنے کمرے میں کوئی ہے۔
اور ناجانے کیوں مریم کو ڈر بھی لگ رہا تھا وہ فاز کو کافی بار اس طرف سے آتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
اس سے پہلے وہ تہہ خانے کا بنا چھوٹا سا دروازہ کھولتی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کی طرف گھمایا تھا ۔
مریم نے فاز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خود کو گرنے سے بچایا جو مریم کو گھور رہا تھا۔
یہاں کیا کر رہی ہو؟
فاز نے سرد لہجے میں پوچھا ۔
یہاں کوئی ہے مریم نے فاز کو دیکھتے کہا ۔
یہاں پر جو ہے اُس کی حالت دیکھ کر کہی تمھاری روح پرواز نا کر جائے اس لیے سنبھل کر
فاز نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
کون ہے یہاں پر؟ مریم نے الٹا سوال کیا۔
جاننا چاہتی ہو؟ فاز نے مریم کے چہرے پر جھکتے ہوئے پوچھا جو گھبرا کر پیچھے ہو گئی تھی ۔
لیکن فاز نے اسے دوبارہ اپنے قریب کر لیا۔
کیا ہوا تمہیں جاننا نہیں ہے کہ اندر کون ہے؟
فاز نے مریم کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
تم مجھ سے دور رہ کر بھی بتا سکتے ہو۔
مریم نے گھورتے ہوئے کہا ۔
پھر مزہ نہیں آئے گا مسز
فاز نے نرمی سے مریم کی ناک کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے کہا جو کرنٹ کھا کر فاز سے پیچھے ہوئی تھی ۔
نہیں مجھے نہیں جاننا مریم نے لڑکھڑاتی زبان میں کہا اور وہاں سے بھاگ گئ ۔
پیچھے فاز کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔
💞💞💞💞💞
کیسی ہیں آپ؟ دبیر نے زری کو سر سے پاؤں تک دیکھتے پوچھا۔
زری نے مسکرا کر دبیر کو دیکھا لیکن آج ناجانے کیوں اسے دبیر کی نظریں کچھ عجیب لگی تھیں۔
جی میں ٹھیک ہوں زری نے جواب دیا،
اب تو ہم رشتے دار بنے والی ہے دبیر نے گہری نظروں سے زری کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔
جو سمجھی شاید دبیر اپنے اور کرن کے رشتے کی بات کر رہا ہے لیکن اُس کا اشارہ دوسری طرف تھا ۔
جی اور آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا کرن بہت اچھی لڑکی ہے زری نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
میں نہیں جانتا وہ اچھی ہے یا نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے جو خود اچھا ہوتا ہے اسے سب اچھے ہی لگتے ہیں ۔
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔
زری نے ناسمجھی سے دبیر کو دیکھا ۔
جو مسکرا پڑا تھا ۔
آپ سے مجھے ایک بات پوچھنی تھی دبیر نے زری کو دیکھتے کہا۔
کیا؟
زری نے پوچھا۔
اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلتا ہے تو کیا اُسے معاف کر دینا چاہیے؟
دبیر نے تھوڑا سرد لہجے میں پوچھا۔
آجکل بہت سے ایسے حادثات ہو رہے ہیں تو میں آپ کے خیالات جاننا چاہتا ہوں دبیر نے ساتھ تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
اُس انسان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے
زری نے بھی سرد لہجے میں کہا۔جس پر دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔
مجھے آپ کا جواب پسند آیا ہے۔
دبیر نے کہا جس پر زری مسکرا پڑی ۔
آپ نے جو سوال کیا۔اگر وہ سب میرے سگے بھائی نے بھی کیا ہوتا تو اُسے بھی میں پولیس کے حوالے کر دیتی ایسے لوگوں کو اگر سزا نا دی جائے تو مزید لڑکیوں کی زندگی خراب کر دیتے ہیں اور میرے نزدیک وہ مرد انسان کہلوانے کے بھی لائق نہیں ہے کیونکہ پھر وہ جانور بن جاتا ہے۔
زری نے اپنے خیالات سے دبیر کو آگاہ کرتے کہا۔
متفق ہوں میں آپ کی بات سے دبیر نے بھر پور سنجیدگی سے کہا ۔
میں چلتی ہوں مجھے اماں کے پاس جانا ہے زری نے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔
دبیر نے کرن کو وہاں آتے دیکھ لیا تھا اس لیے زری کے آگے اپنا پاؤں اس انداز سے رکھا کہ زری کو نظر نہیں آیا۔
اور وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی کہ دبیر نے فوراً اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے بچایا لیکن کرن اسے زری کے آگے پاؤں رکھتا دیکھ چکی تھی۔
اس لیے غصے سے بھری وہاں آئی ۔
زری نے جلدی سے سیدھی ہو کر دبیر اور کرن کو دیکھا جو دبیر کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
زری کو. وہاں رکنا ٹھیک نہیں لگا اس لیے وہاں سے چلی گئی۔
ویسے تمھاری بھابھی زیادہ پیارا ہے یہ بات تو ماننی پڑے گی۔
دبیر نے کرن کو دیکھتے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر تم کرنا کیا چاہتے ہو؟ کرن نے غصے سے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
ہممم کچھ دنوں تک پتہ چل جائے گا فکر مت کرو ۔
ابھی تو میں اپنی ہونے والی مسز کو دینے کے لیے سرپرائز پلین کر رہا ہوں ۔
دبیر نے کرن کو دیکھتے کہا۔
بھاڑ میں گیا تمھارا سرپرائز
اور میری بھابھی اور بھائی کی زندگی سے دور رہو تمہیں اپنے بھائی کی زندگی خراب نہیں کرنے دوں گی ۔
کرن نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
تمھارا بھائی اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی خراب کر چکا ہے ۔
اور اگر میں تمھارے بھائی کی زندگی خراب کرتا بھی ہوں تو کیا کر لو گی تم؟ دبیر نے آخری سوال سنجیدگی سے پوچھا جس کا جواب کرن کے پاس نہیں تھا۔
تم صرف بتاتیں کر سکتی ہو لیکن میں اپنی کہی باتوں ہر عمل کرنے میں دیر نہیں لگاتا اس لیے میرے سامنے زبان نا چلایا کرو ۔
دبیر نے کرخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا کرن کو اس انسان کی سمجھ نہیں آتی تھی جو دھوپ چھاؤں کی طرح تھا۔
کب اس کا موڈ بدل جائے کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔