Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

میرا کروڑوں کا مال کہاں گیا پاشا؟ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے جھوٹ بولنے کی؟
آفندی نے پاشا کا کالر پڑتے پڑتے دھاڑ کر کہا جس فیکٹری میں دبیر نے آگ لگائی تھی وہاں پڑا سارا مال آفندی کا تھا لیکن کسی کو بھی یہ بات نہیں معلوم تھی ۔
پاشا نے ابھی آفندی کو مال کی قیمت ادا نہیں کی تھی اور جب مال جل گیا تو پاشا نے قیمت ادا کرنے سے منع کر دیا۔
اس میں بھی تمھارا ہی مطلب چھپا ہو گا تم نے مجھے اس لیے نہیں بتایا اگر مجھے پتہ چل جاتا تو ساری رقم تم. سے ادا کرتا ۔
اور تم نے سوچا ہو گا کہ اگر تم شیرو کا نام نہیں لو گے تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔
تم پہلے زیادہ لالچی ہو گئے ہو پاشا
اپنی ساری رقم میں تم سے وصول کروں گا اور اب مجھے ایک گناہ زیادہ رقم چاہیے۔
آفندی نے پاشا کے گریبان کو چھوڑتے ہوئے کہا جس کا چہرہ ذلت اور توہین سے سرخ ہوا پڑا تھا۔
اور تمھارے بھائی کو تھوڑا سا جھٹکا تو میں ضرور دوں گا لیکن اُس کے لیے وہ چھوٹا نہیں بلکہ بڑا جھٹکا ہو گا۔
آفندی نے تمسخرانہ انداز میں پاشا کو دیکھتے کہا ۔
میں چلتا ہوں پاشا نے دانت پیستے کہا
یہاں آنے سے پہلے وہ دبیر کی بھیجی ہوئی ویڈیو دیکھ چکا تھا اور ویڈیو دیکھ کر تو پاشا جیسے انسان کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں،
دبیر نے شاہ میر کو موت تو دی تھی لیکن بہت دردناک اور بھیانک تھی کہ پاشا بھی ڈر گیا تھا۔
پاشا جانتا تھا اگلی باری اس کی ہے اگر شاہ میر کی موت ایسی تھی تو پاشا کی کیسی ہو گی۔اور آفندی دبیر کی ٹکر کا تھا اس وقت اسے آفندی کی ضرورت تھی۔
رانا تو خود اس وقت بے بس تھا پاشا کی کہاں مدد کرتا۔
💞 💞 💞 💞 💞
میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں رات تک واپس آجاؤ گا
فاز نے مریم کو دیکھتے کہا۔
زری کا کچھ معلوم ہوا؟
مریم نے پریشانی سے پوچھا
تم فکر مت کرو دبیر اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا اتنا مجھے یقین ہے اور تم بھی اُس پر یقین رکھو
فاز نے پیار سے مریم کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گیا۔مریم نے فاز کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔
فاز نے مڑ کر حیرانگی سے مریم کو دیکھا۔
جو شاید کچھ کہنا چاہتی تھی۔
کیا ہوا؟
فاز نے مریم کے پاس آتے پوچھا
آپ کہاں جا رہے ہیں؟
مریم نے نظریں جھکا کر پوچھا۔
فاز نے ٹھوڑی سے پکڑ کر مریم کا چہرہ اوپر کیا جس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو باہر آنے کو بے تاب تھے ۔
مریم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر فاز تڑپ گیا تھا۔
کیا ہوا؟یار رو کیوں رہی ہو؟
فاز نے بے چینی سے پوچھا
آپ مت جائیں مریم نے کمزور سے لہجے میں کہا۔
کیوں؟ مجھے وجہ بتاؤ
فاز نے اس بار سنجیدگی سے پوچھا۔
میرا دل گھبرا رہا ہے بس آپ نا جاؤ
مریم نے بے بسی سے کہا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کیوں اس کا دل گھبرا رہا ہے ۔
میرا جانا ضروری ہے مریم اور مصطفیٰ بھی میرے ساتھ ہے آج کی میٹنگ بہت ضروری ہے۔
فاز نے پیار سے مریم کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
آپ دونوں مت جائیں کل چلے جایے گا پلیز
مریم نے فاز کا ہاتھ پکڑتے ضدی لہجے میں کہا۔
مسز اگر میں رک گیا تو تمھارے لیے مشکل پیدا ہو جائے گی
فاز نے ماحول کو تھوڑا خوشگوار کرنے کے لیے مریم کے کان کے پاس جھکتے ہوئے ذومعنی الفاظ میں کہا۔
فاز کی بات سمجھ کر مریم نے سٹپٹا کر فاز کو دیکھا تھا جو آنکھوں میں شوخی لیے مریم کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
مریم نے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن فاز اسے کمر سے پکڑ کر خود کر قریب کت چکا تھا۔
مریم فاز کے سینے سے آلگی تھی
فاز چھوڑیں مجھے مریم نے اپنی کمر سے فاز کے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا لیکن فاز کی گرفت سخت تھی۔
کیا ہوا مسز؟
فاز نے مریم کے چہرے پر پھونک. مارتے پوچھا۔مریم کے گال سرخ ہو گے تھے۔اور یہ منظر فاز کو. مسکرانے پر مجبور ہو گیا تھا۔
فاز نے جھک کر مریم کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اپنا خیال رکھنا میں رات کو لیٹ آؤں گا۔اور مجھے کچھ نہیں ہو گا ۔تم فضول میں زیادہ سوچ رہی ہو۔
فاز نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔اور مریم کو خود سے الگ کیا۔
اور کمرے سے نکل گیا۔
پیچھے مریم نے گہرا سانس لیا تھا ۔
اور رانی کے کمرے کی طرف چلی گئی اکیلے میں اس کا دل گھبرا رہا تھا۔
💞💞💞💞💞
فاز کی ایک بہت اہم میٹنگ تھی اور اس کے ساتھ مصطفیٰ بھی جا ریا تھا فاز کی گاڑی آج ہی ریپیر ہو کر واپس آئی تھی۔
فاز بنا گاڑی کو چیک کیے اس میں بیٹھ گیا.تھوڑی دیر بعد مصطفیٰ بھی آگیا تھا اور اس کے آتے ہی فاز نے گاڑی سٹارٹ کر دی
دبیر کو فاز میٹنگ کے بارے میں بتا چکا تھا۔
دبیر اس وقت اپنے فلیٹ پر موجود تھا اس نے اقرا کے ایک دشمن کو تو ٹھکانے لگا دیا تھا
اور اب اپنے موبائل میں اقرا کی تصویر دیکھ رہا تھا۔
مجھے نہیں معلوم تھا تم مجھے اتنی جلدی چھوڑ کر چلی جاؤ گی۔
دبیر نے اقرا کی تصویر کو دیکھتے کہا۔
آج تمھارے مجرم کو میں اُس کے انجام تک پہنچا چکا ہوں اب پاشا کی باری ہے اس کی موت شاہ میر کی موت سے زیادہ بھیانک ہو گی۔
دبیر نے کہتے ہی موبائل اپنے سینے پر گرا لیا۔ اور کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹ گیا۔جس دن اقرا کی لاش گھر آئی تھی اُس کے اسی رات ہی دبیر کو. پتہ چل گیا تھا اس کا بھائی اور اُس کا دوست اقرا کے قاتل ہیں۔اوت آگے دن ہی دبیر فاز کے ساتھ وہ اپنا گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔اسے سنبھلنے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔اور پھر جب لوٹا تو وہ دبیر نہیں شیرو بن کر لوٹا تھا۔
دبیر نےآنکھیں بند کی تو سامنے ہی زری کا چہرہ لہرایا تھا
دبیر نے فوراً آنکھیں کھول لیں۔
مصطفیٰ نے جب دبیر کو زری کی غیر موجودگی کے بارے میں بتایا تو اس نے اُسی وقت کمرے میں آکر زری کی لوکیشن معلوم کی تھی۔
اس نے زری کو جو بالیاں پہنائی تھیں اُس میں ٹریسر موجود تھا۔
جو لوکیشن موبائل پر آرہی تھی دبیر اُس جگہ پر پہنچا اور جس دکان دار کے پاس زری کی بالیاں تھیں اس نے دبیر کو ساری صورتحال بتا دی۔
دبیر نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا لیکن اچانک اس کے دماغ میں وہ بریسلٹ گھوما تھا وہ بھی تو زری نے پہنا ہوا تھا۔
دبیر نے اُس میں بھی ٹریسر لگایا ہوا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر کام کرتا تھا۔
دل کہہ رہا تھا کہ زری نے وہ بریسلٹ اتار نا دیا ہو دبیر نے جلدی سے لوکیشن چیک کی ۔
لیکن موبائل پر آتی لوکیشن کو. دیکھ کر دبیر کا دل کیا جا کر زری کا سر پھاڑ دے۔
دبیر کو پتہ چل گیا تھا کہ زری کہاں ہے لیکن اُس کے پیچھے نہیں گیا۔
زری تمہیں اُس گھر میں نہیں جانا چاہیے تھا ۔
دبیر نے موبائل کو سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
عجیب مصبیت میں ڈالا ہوا ہے اس لڑکی نے مجھے نا خود سکون سے بیٹھتی ہے نا مجھے بیٹھنے دیتی ہے ۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
دبیر نے دوبارہ کرسی سے ٹیک لگائی تھی کہ اس کا موبائل رنگ ہوا دبیر نے کال اٹینڈ کی تو مقابل کی بات پہلے تو اسے مزاح لگی لیکن پیچھے سے آتی آوازوں سے اسے یقین ہو گیا کہ مقابل جو بھی بول رہا ہے وہ سچ ہے۔
تم سچ بول رہے ہو؟ اور کون ہو تم؟
دبیر نے دھیمے لہجے میں پوچھا دعا تو یہی تھی کاش اس مرتبہ بھی فاز کا مزاح ہی ہو۔
سر ابھی ایک گاڑی کا زبردست ایکسیڈنٹ ہوا ہے گاڑی میں دو لڑکے موجود تھے۔اور اُن دونوں کی حالت بہت نازک ہے
اَن کے موبائل پر پہلا نمبر آپ کا ہی تھا میں ہسپتال میں ہوں آپ جلدی سے یہاں آجائیں
مقابل نے کہا۔
ہسپتال کا نام معلوم کرتے دبیر اندھا دھند وہاں سے نکلا تھا۔
آج فاز کی میٹنگ تھی اور وہ مصطفیٰ کو ساتھ لے کر گیا تھا۔ ابھی بیس منٹ پہلے ہی تو فاز کا میسج ادے آیا تھا۔
دبیر تیز ڈرائیونگ کرتا ہسپتال میں پہنچا۔
ریسیپشن سے معلوم کرتے مڑا تو سامنے ہی اسے وہ آدمی مل گیا جس نے کال کی تھی۔
سر آپ ڈاکٹر سے بات کر لیں آدمی نے کہا اور فاز کا موبائل دبیر کو پکڑا دیا جس پر خون لگا تھا۔
آفندی نے فاز کی گاڑی کی بریک فیل کروا دی تھی۔ فاز نے جب بریک لگانی چاہی تو اس سے بریک نہیں لگی۔
کیا ہوا مصطفیٰ نے پوچھا۔
پتہ نہیں بریک نہیں لگ رہی فاز نے پریشانی سے کہا۔
دونوں کے چہرے ایک دوسرے کی طرف تھے کہ سامنے سے آتا ہوا ٹرک نہیں دیکھ سکے مصطفیٰ کی اچانک سامنے نظر پڑی سامنے سے آتا تیز رفتار ٹرک فاز کی گاڑی میں آلگا تھا۔
دبیر فوراً ڈاکٹر کے پاس گیا۔
شکر ہیں آپ آگئے آپ یہاں کچھ سائن کر دیں پھر ہم پیشنٹ کو دیکھے گے ڈاکٹر نے عام سے لہجے میں دبیر کے سامنے پیپر رکھتے کہا۔
دبیر نے غصے میں ڈاکٹر کا گریبان پکڑا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
کمینمے انسان اگر پیشنٹ کے گھر سے کوئی نا آئے تو تم لوگ اُس کا علاج نہیں کرتے
اگر میرے بھائیوں کو کچھ ہوا تو تجھے بھی اوپر پہنچا دوں گا
دبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا اس کا دل کر رہا تھا ڈاکٹر کو جان سے مار دے۔
جی سر آپ فکر مت کریں ہم پوری کوشش کریں گے ڈاکٹر نے ڈرتے ہوئے کہا۔
کوشش نہیں کرنی مجھے میرے بھائی صحیح سلامت چاہیے دبیر نے ڈاکٹر کا کالر چھوڑتے کہا جو جلدی سے کمرے سے نکل گیا تھا۔
دبیر نے بے بسی سے دیوار پر مکا مارا اس وقت اسے اگر کسی کی فکر تھی تو وہ فاز اور مصطفیٰ تھے۔
دبیر کا موبائل رنگ ہوا جس پر کبیر کالنگ لکھا آرہا تھا۔ دبیر نے کال اٹینڈ کی
کہاں پر ہو تم ابھی کے ابھی فلیٹ پر پہنچو مجھے بات کرنی ہے کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
فاز اور مصطفیٰ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے میں ہسپتال میں ہوں ابھی نہیں آسکتا۔
دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
کبیر تو ایکسیڈنٹ کا سن کر ہی پریشان ہو گیا تھا کبیر بھاگتا ہوا باہر گیا اور دبیر کو دوبارہ کال کی تاکہ ہسپتال کا معلوم کر سکے۔
کیا ہوا؟
اسد نے حیرانگی بسے کبیر کو دیکھتے پوچھا
گاڑی میں بیٹھو بتاتا ہوں کبیر نے کہا اور دونوں گاڑی میں بیٹھ گے