Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
کون تھا وہ کمینہ؟ کہاں مرے ہوئے تھے تم سب لوگ؟ رانا نے دھاڑتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے آدمیوں کو کہا۔
سر ہم دونوں گیٹ پر ہی موجود تھے وہاں سے کوئی نہیں آیا ۔
ایک آدمی نے مودبانہ انداز میں کہا۔
تو کیا آسمان سے ٹپک پڑا تھا؟ سارے کے سارے کام چور ہو تم لوگ رانا نے غصے سے کہا
اتنے میں اس کا موبائل رنگ ہوا نمبر انجان تھا ۔
رانا نے کال اٹینڈ کی اور موبائل کان سے لگایا۔
رانا صاحب بیٹا بچ گیا؟ مرنا تو نہیں چاہیے کیونکہ اتنی آسان موت میں اُسے نہیں دوں گا دبیر نے قہقہہ لگاتے کہا ۔
رانا کے ماتھے پر بل ہڑ گئے تھے
کتے کی موت دوں گا تجھے سالے
رانا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون میں گھس کر دبیر کی جان لے لیں۔
رانا صاحب غصہ کم کرو کہی ہارٹ اٹیک نا ہو جائے
دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا۔
اور ہاں سوچ سمجھ کر مجھ سے بات کرو اگر میں تیرے گھر گھس سکتا ہوں تو سوچ کچھ بھی کر سکتا ہوں اور جو تیرے بیٹے نے کیا اُس کی سزا کے لیے اُسے تیار کر دے ۔
دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
ڈیڈ آپ فکر مت کریں اس دبیر کو تو میں اچھا سبق سکھاؤ گا
ذیشان نے سرد لہجے میں کہا ۔
وہ کمینہ مجھے دھمکی دے رہا ہے اگر حسیب کو کچھ بھی ہوا ذیشان میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔
رانا نے ذیشان کو تنبیہ کرتے کہا۔
اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
💞 💞 💞 💞
آفندی کے ساتھ دھوکے بازی؟
تیری کھال اتار کر میں کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔اور تجھے دیکھ کر باقی کے آدمی بھی سبق حاصل کریں گے اور مجھے دھوکا دینے سے پہلے سو بار سوچے گے۔
آفندی نے زمین پر گرے آدمی کی گردن پر اپنے وزنی جوتے رکھتے سرد لہجے میں کہا۔
آدمی کے منہ سے خون نکل رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اس آدمی کو آفندی کے کہنے پر الٹا لٹکا کر بیلٹوں سے مارا گیا تھا۔
باقی کے آدمی سر جھکائے کھڑے تھے۔آج ہی آفندی پاکستان واپس آیا تھا۔
زمین پر گرا آدمی جب مزید تکلیف برداشت نہیں کر سکا تو وہی پر بے ہوش ہو گیا۔
لے جاؤ اسے ایک گھونٹ بھی پانی کااسے نہیں ملنا چاہیے ورنہ تم لوگوں کی خیر نہیں
آفندی نے کرخت لہجے میں کہا۔
اور تم پاشا کو کال کرو اور اُسے کہو آفندی ملنا چاہتا ہے اسی وقت یہاں پر آئے آفندی نے اپنے آدمی کو دیکھتے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
آفندی پینتیس سال کا خوبصورت نوجوان تھا۔جس کی آنکھیں گرے تھیں۔
دائیں گال میں پڑتا ڈمپل اسے مزید خوبصورت بناتا تھا۔
لیکن آفندی جتنا خوبصورت تھا اتنا ہی اندر سے بھیانک بھی تھا۔
💞💞💞💞💞
جس کی تمہیں تلاش تھی وہ واپس آچکا ہے ۔دبیر نے کبیر کو دیکھتے کہا ۔
جانتا ہوں کل ہی وہ واپس آیا ہے ۔
کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
اُسے لگتا ہے کہ اُس نے بیسٹ کو مار دیا لیکن یہ اس کی بھول ہے ۔میرا کام اُس کمینمے کو بیسٹ تک لے کر جانا ہے اگے گا کام میرا نہیں ہے۔
کبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا۔
پاشا اُسے بتا دے گا کہ بیسٹ زندہ ہے تو وہ دوبارہ کوشش کرے گا۔کیونکہ وہ بیسٹ کی جگہ لینا چاہتا ہے جس طرح بیسٹ کے نام سے سارے ڈرتے ہیں ویسے ہیں وہ چاہتا ہے آفندی کے نام سے بھی سارے ڈرے اور جب تک بیسٹ زندہ ہے یہ اُس کے لیے ناممکن ہے ۔اس لیے لوگوں پر ظلم کرکے اپنی دہشت پیدا کرتا ہے ۔دبیر نے تفصیلاً کہا ۔
تمہیں کیا لگتا ہے آفندی سے ملاقات کرنی چاہیے؟
کبیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تم ٹائیگر بن کر مل سکتے ہو کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ میر اور ٹائیگر کا کوئی کنکشن ہے
اگر اسے پتہ چل گیا کہ بیسٹ تمھارے بڑے پاپا ہیں تو وہ تمھارے پیچھے پڑ جائے گا۔
ہمم…. کبیر نے گہرا سانس لیتے کہا۔
دبیر کا موبائل رنگ ہوا تو نمبر اُسی آدمی کا تھا جس کی بیٹی کو دبیر نے بچایا تھا۔
دبیر نے کال اٹینڈ کی لیکن مقابل کی بات سن کر اس کے جبڑے تن گے آپ فکر مت کریں میں آرہا ہوں
دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔
مجھے ایک ضروری کام ہے میں چلتا ہوں دبیر نے کبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے بھاگتے ہوئے گیا۔
دبیر نے اُس آدمی کو کہا تھا کہ اپنی بیٹی کو لے کر وہاں سے کہی دور چلا جائے لیکن وہ آدمی اپنے ہی گھر میں رہا اور رانا خود اپنے آدمیوں کے ساتھ اُس کے گھر گیا اور اس کی پوری فیملی کو مار دیا ۔
لڑکی کی بڑی بہن اور شوہر بھی وہی پر. موجود تھے ان کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا۔
دبیر اُس آدمی کے گھر پہنچا تو زمین پر وہی لڑکی خون میں لت پت پڑی تھی ۔
دبیر کے قدموں کو بریک لگی تھی۔
کچھ فاصلے پر لڑکی کی بڑی بہن اور اُس کے شوہر کی بھی یہی حالت تھی۔
دبیر نے تینوں کی نبض چیک کی لیکن کافی دیر ہو چکی تھی۔
دبیر نے اُس آدمی کی تلاش میں نظر ارد گرد گھمائی جس نے اسے کال کی تھی۔
کمرے سے بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی۔
دبیر اُس کمرے کی طرف گیا لڑکی کا باپ زمین پر پڑا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
دبیر بھاگتا ہوا اُس کے پاس گیا۔
بیٹا تم نے میری بہت مدد کی مجھے تمھارے بات مان لینی چاہیے تھی بس ایک اور مدد کر دو
اُس آدمی نے اٹکتے ہوئے کہا جسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔
ایک گولی اس کے پیٹ میں اور ایک کندھے پر لگی تھی۔
میرے نواسے کو…. اس سے آگے وہ آدمی بول نہیں سکا تھا۔ اور وہی دبیر کی بانہوں میں دم توڑ دیا۔
دبیر نے سختی سے اپنے ہونٹ پیوست کیے تاکہ اپنے اندر کے درد کو کم کر سکے۔
دبیر بچے کے پاس گیا جو ایک سال کا لگ رہا تھا ۔اس نے بچے کو اپنی گود میں لیا جو دبیر کی گود میں آتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔
اور اپنی گول. مٹول سی آنکھوں سے دبیر کو دیکھنے لگا جس نے پیار سے اُس بچے کے گال پر بوسہ دیا تھا۔
دبیر نے فاز کو کال کرکے یہاں بلایا تھا اور بچے کو لے کر خود بلیک پیلس چلا گیا وہاں جاتے دبیر نے بچے کو مریم کے حوالے کر دیا تھا۔اس سے پہلے مریم دبیر سے کچھ پوچھتی دبیر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
مریم بچے کو اپنے کمرے میں لے گئی تھی۔
جو مریم کے پاس جاتے ہی رونے لگا تھا مریم نے بہت کوشش کی کہ بچے کو چپ کروا سکے لیکن بچہ اس سے خاموش نہیں ہوا اور جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو بچے کو زری کے کمرے کی طرف لے گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
دبیر اپنے کمرے کے پاس بنے جم میں داخل ہوا اس نے شرٹ نہیں پہنی تھی۔
اس وقت اسے خود کو پرسکون کرنا تھا اور اس کا غصہ پنچنگ بیگ پر نکلنا تھا۔
تھوڑی دیر بعد فاز بھی وہی آگیا تھا۔وہ دبیر کی حالت سے اچھی طرح واقف تھا۔جو پسنے میں شرابور پنچنگ بیگ پر اپنا غصہ نکال رہا تھا ۔
دبیر اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں ہے فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
دبیر نے فاز کی طرف دیکھا اگر فاز کی جگہ کوئی اور ہوتا تو دبیر کی شکل دیکھ کر ضرور ڈر جاتا۔
میری ہی غلطی ہے مجھے اُس آدمی کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی اور اُس کی فیملی کو یہاں سے بھیج دینا چاہیے تھا۔
دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔
ہم. کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے دبیر تم. نے پوری کوشش کی تھی لیکن انہوں نے بات نہیں مانی
فاز نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
نہیں چھوڑوں گا میں رانا کو ایسا سبق سکھاؤ گا کہ وہ پوری زندگی یاد رکھے گا ۔
دبیر نے کرخت لہجے میں کہا۔اس کے بازو پر بنے ٹیٹو پر فاز کی نظر پڑی جو اسے کافی اچھا لگتا تھا لیکن یہ بات اس کے دبیر کو کبھی نہیں بتائی تھی۔
بچے کا کیا کرنا ہے؟ فاز نے دبیر کو دیکھتے پوچھا جو پانی پی رہا تھا ۔
کچھ دنوں کے لیے وہ یہی رہے گا پھر اُسے کسی سیف جگہ پر بھیج دوں گا۔
دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا جس پر فاز نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
💞💞💞💞💞
اپنے شوہر کو فون کرو کہ وہ تمہیں یہاں سے آکر عزت کے ساتھ لے جائے۔شادی کے بعد لڑکی کا زیادہ دیر میکے رہنا اچھا نہیں لگتا
نغمہ بیگم نے کرن کو دیکھتے کہا۔
امی میں کہی نہیں جاؤں گی میں یہی رہوں گی۔ مجھے اب اُس میں دلچسپی نہیں ہے کرن نے بدتمیزی سے جواب دیتے کہا۔
تمھارے لیے نکاح مزاح ہے؟ کیا چاہتی ہو؟ اور میری بات کان کھول کر سن لو اس بار تمھاری مرضی نہیں چلے گی۔ چاہے جو کچھ بھی ہو جائے
نغمہ بیگم نے سرد لہجے میں کہا۔
امی زری کہاں ہے؟
شاہ میر کے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا کیونکہ وہ ہسپتال گیا تھا لیکن وہاں پر زری نہیں تھی۔
مجھے معلوم نہیں ہے رانی کی طرح اسے بھی کوئی لے گیا تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ تو ہونا نہیں تھا۔
تم نے کون سا اُسے تلاش کر لینا تھا اس لیے خاموشی کے ساتھ میں گھر واپس آگئی۔
نغمہ بیگم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
امی کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟ کوئی اُسے ہسپتال سے لے گیا اور آپ کو پتہ نہیں چلا مصطفیٰ نے بھی مجھے نہیں بتایا ۔
شاہ میر نے دھیمے لہجے میں. غراتے ہوئے کہا۔
رانی کو بھی میرے سامنے سے کوئی لے گیا تھا بیٹا جی اُس وقت بھی میں کچھ نہیں کر سکتی تھی اور مصطفیٰ کو میں نے منع کیا تھا۔
ویسے بھی تمہیں اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے؟ طلاق دے چکے ہو تم اُسے اور اپنے ہاتھوں سے تم نے اپنے بچے کی جان لی ہے شاہ میر آج مجھے دکھ ہو رہا ہے تمھارے جیسا بیٹا ہونے سے بہتر تھا میرا کوئی بیٹا نا ہوتا ۔نغمہ بیگم نے بےبسی سے کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
کرن اور شاہ میر پیچھے کھڑے اپنے اپنے خیالوں میں گم تھے۔
اتنی آسان نہیں ہے دبیر اگر زری میری نہیں ہو سکتی تو تمھاری بھی نہیں ہونے دوں گا۔شاہ میر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا
💞💞💞💞💞
یہ کس کا بچہ ہے مریم؟ زری نے مریم کی گود سے بچے کو لیتے پوچھا۔
زری مجھے لگتا ہے یہ فاز کا بچہ ہے اُس نے مجھے دھوکہ دیا ہے مریم نے اپنی عقل کے مطابق اندازہ لگاتے کہا۔
کیا مطلب فاز؟ زری نے نا سمجھی سے پوچھا۔
یہ دبیر بھائی اور فاز کا گھر ہے
مریم نے کہا ۔
زری کے ہاتھ وہی پر تھمے تھے ۔
یہ دبیر کا گھر ہے وہ مجھے یہاں لایا ہے؟
زری نے سرد لہجے میں پوچھا مریم نے اثبات میں سر ہلایا۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ یہ دبیر کا گھر ہے زری نے غصے سے مریم کو دیکھتے کہا۔
تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟ میرا دکھ سنو مریم نے گھورتے ہوئے کہا۔
جاؤ یہاں سے ابھی زری نے رخ موڑے کہا۔
زری نے کہا مریم منہ لٹکائے کمرے سے باہر چلی گئی ۔
بچہ خاموش بہو گیا تھا ۔
دبیر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی اور نا تمھارے گھر رکو گی نہیں چاہیے مجھے تمھاری ہمدردی زری نے اپنے گال پر بہتے آنسو کو صاف کرتے کہا پھر سے اس کے زخم تازہ ہو گئے تھے۔
💞💞💞💞💞
کیا ہوا مسز؟ فاز نے مریم کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھتے پوچھا۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی آپ نے مجھے دھوکا دیا ہے ۔
مریم نے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
مسز کون سا دھوکا دے دیا میں نے آپ کو؟
فاز نے حیرانگی سے مریم کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑے کرتے پوچھا۔
وہ بچہ آپ کا ہے نا؟
مریم نے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاتے کہا۔
بچہ؟ فاز نے حیرانگی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
لیکن جیسے ہی فاز کو یاد آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
میں تمہیں بتانا چاہتا تھا لیکن موقع ہی نہیں ملا فاز نے سنجیدگی سے کہا جبکہ آنکھوں میں اس کے شرارت ناچ رہی تھی۔
مریم نے بسی سے فاز کو دیکھا جو آنسو آنکھوں میں تھے اب وہ باہر آگئے تھے۔
فاز ایک دم سنجیدہ ہوا مریم رونا بند کرو یار مزاح کر رہا تھا وہ بچہ میرا نہیں ہے تمہیں کس نے کہا وہ میرا بچہ ہے؟
فاز نے مریم کے آنسو صاف کرتے کہا۔
اُس کی شکل بھی توآپ سے مل رہی ہے مریم نے معصومیت سے جواب دیا۔
یا اللہ مجھ پر رحم کر فاز نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
فاز نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں مریم کا چہرہ بھرا
میری معصوم بیوی وہ بچہ میرا نہیں ہے تم میری زندگی میں آئی پہلی اور آخری لڑکی ہو فاز نے کہتے ہی مریم کی دونوں آنکھوں پر بوسہ دیا جو سانس روکے کھڑی تھی۔
میں تمہیں دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
فاز نے مریم کی دونوں گال پر لب رکھتے کہا جو سرخ ہو رہے تھے۔
آگیا یقین؟ یا….
فاز نے بات کو ادھورا چھوڑتے پوچھا
نہ نہیں مجھے یقین آگیا ہے مریم نے جلدی سے کہا۔
آج میرا دل کر رہا ہے تمھارے پیارے پیارے ہاتھوں کی بنی بریانی کھاؤ
بناؤ گی میرے لیے؟
فاز نے مریم کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے پوچھا جس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
تھینک یو فاز نے مریم کے ماتھے پر جھک کر بوسہ دیتے کہا۔
آج کے بعد اگر مجھے تمھاری آنکھوں میں آنسو نظر آئے تو بہت بڑی سزا ملے گی
فاز نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
جو خود بھی مسکرا پڑی تھی۔میں کھانا بنانے جا رہی ہوں مریم نے فاز سے الگ ہوتے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
فاز جانتا تھا کہ مریم اسلم کی بنائی ہوئی ویڈیو دیکھ چکی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ مریم اُس کی ویڈیو دیکھے اور وہ خود مریم کو دیکھانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ مریم اس کے سامنے شرمندہ ہو فاز کو کہا قبول تھا ۔
اور کچھ دن پہلے جب مریم نے فاز کا موبائل دیکھا تو اس نے سوچا کے اپنی امی کو کال کر لے لیکن سامنے ہی اسلم کی ویڈیو موجود تھی جس میں اسلم کا چہرہ نظر آرہا تھا۔اور مریم نے جب اسلم کی ویڈیو دیکھی تو اس کا دل کیا اپنے ہاتھوں سے اس کی جان لے لیں ۔
اس کے بعد اس کا رویہ مزید فاز کے ساتھ ٹھیک ہو گیا تھا۔
