Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
💞💞💞💞💞☠️☠️☠️☠️
رانا زبردستی نیہا اور ذیشان کو اپنے ساتھ ملک سے باہر لے گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر اس کے دونوں بچے یہاں رہے تو ان کا حال بھی وہی ہو گا جو حسیب کا ہوا تھا اور رانا اب اپنی کسی بچے کو کھونا نہیں چا ہتا تھا۔
ذیشان مان نہیں رہا تھا لیکن رانا نے اسے اپنی قسم دی تھی جانا تو نیہا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن رانا اسے زبردست یہاں سے لے گیا۔اور رانا نے اب پکا ارادہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ پاکستان نہیں آئے گا۔
💞 💞 💞 💞 💞
شیرو خاموش ہے؟ حیرت ہے کافی دن گزر گئے لیکن اُس نے کچھ نہیں کیا
آفندی نے وائن کے گلاس میں برف کے ٹکرے ڈالتے کہا۔
ابھی وہ خاموش رہے گا آفندی ابھی وہ کچھ نہیں کرے گا۔
لیکن جلد ہی وہ تمہیں بھی جھٹکا دے گا جو تمھارے لیے بھی چھوٹا ہرگز نہیں ہو گا
پاشا نے آفندی کی بات کو دوبارہ اُسے لوٹاتے ہوئے کہا۔
جس نے کھا جانے والی نظروں سے پاشا کو دیکھا تھا۔
فاز کی کوئی خبر
بچ گیا یا مر گیا؟ آفندی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
پتہ نہیں میرے آدمیوں نے بہت کوشش کی معلوم کرنے کی لیکن کچھ پتہ نہیں چلا
پاشا کہتے ہی خاموش ہو گیا۔
مرا تو نہیں ہو گا بہت ڈھیٹ ہے آفندی نے سرد لہجے میں کہا۔
شیرو کہاں ہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے اُس کے واپس آنے کا انتظار کرو
پاشا نے عام سے لہجے میں کہا۔
آفندی کسی سوچ میں پڑ گیا تھا ۔
💞 💞 💞 💞 💞
مریم نے دبیر کے کمرے کا دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہوئی دبیر بھی باہر ہی نکل رہا تھا مریم کو دیکھ کر رک گیا۔
کافی دنوں سے تو وہ مریم کو اگنور کر رہا تھا۔کیونکہ مریم اس سے فاز کے مطلق پوچھتی تھی اور جو حقیقت تھی وہ دبیر اسے بتانا نہیں چاہتا تھا۔
فاز ابھی بھی کوما میں تھا مصطفیٰ کو ہوش آگیا تھا لیکن ابھی وہ چل پھر نہیں سکتا تھا۔
بھائی فاز کہاں ہیں؟
مریم نے سنجیدگی سے پوچھا
بتایا تو تھا
دبیر نے کہا۔
ایسا بھی کون سا کام ہے جو فاز کو اتنی دیر لگ رہی ہے اُن کی نا کوئی کال آتی ہے نا میری کال اٹینڈ کرتے ہیں کہی آپ مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہے؟
مریم نے پوچھا۔
میں تم سے کچھ نہیں چھپا رہا مریم اور میری خود کی بات بھی اُس سے نہیں ہوئی جب وہ واپس آئے تو تم اچھے سے اُس کی کلاس لے لینا لیکن وہ ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو بہت جلد وہ واپس آجائے گا ان شاء اللہ
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اور جس یقین سے دبیر نے کہا تھا۔مریم کو بھی تھوڑا بہت حوصلہ ہو گیا تھا۔
جی ٹھیک ہے مریم نے کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
مریم کے جاتے ہی دبیر نے گہرا سانس لیا تھا
یار بہت ہو گیا اب تو واپس آجاؤ جب تک تم ٹھیک نہیں ہو گے میں کسی سے بدلہ نہیں لوں گا بلکہ تمھارے ساتھ مل کر لوں گا ابھی کرنے دو سب کو عیاشی جتنی خوشی منانا چاہتے ہیں منا لیں
دبیر غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
پانچ ماہ بعد💞💞💞
پانچ ماہ تک دبیر خاموش رہا تھا وہ چاہتا تھا فاز ٹھیک ہو جائے اور اپنا بدلہ خود لے اور پیلس بھی بہت کم جاتا تھا۔کیونکہ فاز کی اصل حقیقت کیا ہے وہ کون ہے؟ کیا کام کرتا ہے اگر فاز خود اپنی بیوی کو حقیقت سے آگاہ کرے گا تو زیادہ بہتر ہو گا۔
مصطفیٰ اب مکمل ٹھیک ہو چکا تھا اور آج اس نے دبیر کے ساتھ پیلس جانا تھا۔
کیسے ہو؟
دبیر نے مصطفیٰ کے بال بگاڑتے پوچھا
آپ کے سامنے ہوں اک دم فٹ مصطفیٰ نے مسکرا کر کہا۔
آج ہم پیلس جا رہے ہیں تم ٹھیک ہو گئے ہو لیکن فاز ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا پتہ نہیں اتنا نکما کیوں ہو گیا ہے کب سے لیٹا آرام کر رہا ہے دبیر نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
مصطفیٰ بھی دبیر کی بات پر خاموش ہو گیا تھا۔
مریم بھابھی کو کیا کہنا ہے اور اب مجھے تو لگتا ہے وہ بہت غصے میں ہو گی۔
میرے خیال سے اُسے حقیقت سے آگاہ کر دینا چاہیے مصطفیٰ نے اپنے اندازے کے مطابق کہا۔
ہمم مجھے بھی لگتا ہے کہ اسے بتا دینا چاہیے دبیر نے کھڑے ہوتے کہا۔
اور مصطفیٰ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
اسد فاز کے پاس رکا ہوا تھا۔
مصطفیٰ اور دبیر گھر سے باہر نکل گئے تھے۔
اسد اپنے موبائل میں بزی تھا۔
فاز بیڈ پر لیٹا تھا اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی فاز کافی کمزور ہو چکا تھا۔پہلے تو اس نے ارد گرد دیکھا لیکن ابھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں پر ہے؟
لیکن جیسے ہی اس کا دماغ بیدار ہوا تو اسے یاد آیا کہ وہ اور مصطفیٰ میٹنگ کے لیے جا رہے تھے بریک نا لگنے کی وجہ سے ان دونوں کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔
اسد نے ایک نظر سامنے لیٹے فاز پر ڈالی لیکن اُسے آنکھیں کھولے دیکھ کر بھاگ کر اُس کے پاس گیا۔
فاز شکر ہے تمہیں ہوش آگیا اسد نے خوشی سے فاز کے لیٹے ہی اس کے گلے لگتے کہا۔
میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اسد نے کہا اور وہاں سے جانے لگا لیکن فاز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا ۔
دبیر کہا ہے اور مصطفیٰ کیسا ہے؟
فاز کے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
وہ دونوں پیلس گئے ہیں تاکہ تمھارے ایکسیڈنٹ کا تمھاری بیوی کو بتا سکے اسد نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے کیا ہوا تھا؟
فاز نے اسد کی طرف دیکھتے پوچھا
تم پیچھلے پانچ ماہ سے کوما میں تھے اور آج تمہیں ہوش آیا ہے اسد نے تفصیل بتاتے کہا۔
اسد مجھے پیلس جانا ہے مجھے وہاں لے چلو فاز نے اٹھتے ہوئے کہا اسد نے اس کی اٹھنے میں مدد کی تھی۔
کیا کہہ رہے ہو؟ میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں پہلے وہ تمہیں چیک کر لے پھر چلے جانا اسد نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
پلیز فاز نے کہا
جس پر اسد نے گھور کر دیکھا اور ناچاہتے ہوئے بھی فاز کو وہاں سے لے گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
زری کی عدت پوری ہو چکی تھی اب اسے ایک ہی ٹینشن تھی کہ یہاں سے کہاں جائے۔
ارحم پیچھلے دو ماہ سے ایک ضروری کام کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا تھا۔
اور آج ہی اس نے واپس آنا تھا۔
ہادی اماں کے ساتھ کافی حد تک گھل مل گیا تھا۔
کیا ہوا بیٹا؟ اماں نے زری کو دیکھتے پوچھا۔
اماں ارحم واپس آگئے ہیں؟
زری نے نظریں جھکا کر پوچھا
اور ارحم جو سیڑھیوں سے اترتا نیچے آرہا تھا زری کی زبان سے اپنا نام سن کر حیران ہوا تھا۔
اماں کے جواب دینے سے پہلے ہی ارحم نے زری کے سامنے آتے جواب دیا
جی میں واپس آگیا…..
ارحم کے باقی کے الفاظ زری کو دیکھتے اس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔
زری نے ڈھلی ڈھالی چوٹیاں کی ہوئی تھی کچھ بالوں کی آوارہ لٹے اس کے چہرے پر بوسہ دے رہی تھیں بلیک کلر کی شلوار سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
زری نے جلدی سے سر پر ڈوپٹہ لیا۔
آپ کو کچھ کہنا تھا؟ ارحم نے سنبھلتے ہوئے پوچھا۔
جی میں وہ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے لیکن اب میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں
زری نے نظریں جھکا کر کہا۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ناجانے کیوں زری کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اس سے پہلے بھی مل چکی ہے۔
اور آپ یہاں سے جانا کیوں چاہتی ہیں؟ اب کی بار ارحم نے سینے پر ہاتھ باندھتے دلچسپی سے پوچھا۔
میں یہاں کس رشتے سے ٹھہرو؟ زری نے بھی سمجھداری سے پوچھا ۔
جس پر ارحم مسکرا پڑا
بے شک سامنے کھڑے انسان کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی اور یہ بات زری نے دل میں تسلیم کی تھی۔
تو آپ کو یہ مسئلہ ہے تو ٹھیک ہے میں آپ سے نکاح کر لیتا ہوں اس طرح آپ یہاں مالک بن کر رہ سکتی ہیں
ارحم نے زری کے تاثرات دیکھتے کہا۔
اس کی بات پر حیران تو اماں بھی ہوئی تھیں لیکن وہ خوش بھی تھیں۔
زری نے بے یقینی سے ارحم کی طرف دیکھا
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ تو مجھے جانتے بھی نہیں ہیں پھر کیسے مجھ سے نکاح کر سکتے ہیں
زری نے حیرانگی سے پوچھا۔
جاننے کے لیے تو ایک دن بھی کافی ہوتا ہے میڈم اور آپ تو پانچ ماہ یہاں رہی ہیں اور میرے خیال سے وہ کافی ہیں۔
اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو ابھی بتا دیں میں حل کر دوں گا
ارحم نے عام سے لہجے میں کہا وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اُس نے نکاح کا فیصلہ کیوں کیا۔
زری سوچ میں پڑ گئی تھی
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں
مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے زری نے جلدی سے کہا۔
ٹھیک ہے آپ جتنا وقت لینا چاہے لے سکتی ہیں میں آج باہر ڈنر کرنے کا سوچ رہا تھا اگر آپ اور ہادی بھی ہمارے ساتھ آجائے تو مجھے اچھا لگے گا
ارحم نے مسکرا کر کہا
اس سے پہلے زری کوئی جواب دیتی اماں بول پڑی تھیں
ہاں بیٹا ہم لوگ کافی وقت سے باہر نہیں گئے سب چلتے ہیں
اماں نے خوشی سے کہا۔
زری اماں کے چہرے پر آئی خوشی انکار کرکے ختم نہیں کر سکتی تھی اس لیے خاموش سے مان گئی۔
زری کو ارحم کی نظریں کچھ عجیب سی لگی تھی لیکن پھر اس نے اپنا سر جھٹکا کیونکہ دبیر کے بعد اسے سب لوگ ہی مشکوک لگتے تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
دبیر مصطفیٰ کے ساتھ پیلس میں داخل ہوا
مریم اور رانی کچن میں تھیں۔
دبیر نے ملازمہ کو کہا کہ دونوں کو بلا کر لائے
ملازمہ کے بتانے پر مریم اور رانی باہر آئیں
مریم اس امید سے باہر آئی تھی کہ ہو سکتا ہے فاز بھی آیا ہو
اور رانی کا دل بھی چاہ رہا تھا کہ مصطفیٰ کو دیکھے
کافی ٹائم گزر گیا تھا اس نے مصطفیٰ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔
فاز کو دبیر کے ساتھ نا پا کر مریم کا چہرہ. مرجھا گیا تھا جو دبیر اور مصطفیٰ دونوں نے محسوس کیا تھا۔
لیکن رانی مصطفیٰ کو کافی ٹائم بعد دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔
مجھے فاز کے بارے میں کچھ بتانا تھا دبیر نے بات کا آغاز کرتے کہا۔
مریم کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھر لیا ہو۔
جی مریم نے کمزور سے لہجے میں کہا۔
دبیر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی پیچھے سے آتی فاز کی آواز نے دونوں کو حیران کر دیا۔
مجھے تو ساتھ لانا تم دونوں بھول گئے فاز نے مسکراتے ہوئے کہا اس کے ساتھ ہی اسد کھڑا تھا جو تیز ڈرائیونگ کرتے اسے یہاں لایا تھا۔
فاز دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور بھاگ کر اُس کے پاس جاتے اُسے گلے لگالیا۔
تو نے مجھے ڈرا دیا تھا کمینمے
اور تو یہاں کیا کر رہا ہے؟
دبیر نے فکرمندی سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں دبیر
فاز دبیر کی فکر مندی پر ہنس پڑا تھا
مصطفیٰ بھی اس کے گلے ا لگا تھا ۔
دبیر میں چلتا ہوں مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے
مصطفیٰ تم میرے ساتھ آجاؤ
اسد نے پہلے دبیر اور بعد میں مصطفیٰ کو دیکھتے کہا جو اثبات میں سر ہلاتے اسد کے ساتھ چلا گیا۔
فاز نے پیچھے کھڑی مریم کو دیکھا جس کے چہرے پر غصہ صاف نظر آرہا تھا۔
اس نے فاز کو اگنور کیا اور رانی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی
لے بھائی خود سنبھالی اپنی بیوی کو اور جواب دی کہاں تھا تو پانچ مہینے
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا وہ فاز کو صحیح سلامت دیکھ کر بہت خوش تھا۔
میں اُس کو سنبھال لوں گا
یہ بتا زری کہاں ہے؟ فاز نے پاس پڑے صوفے پر بیٹھتے پوچھا
ارحم کے پاس ہے دبیر نے مسکرا کر کہا۔
ارحم؟ فاز نے حیرانگی سے پوچھا
ہاں اور مجھے لگتا ہے وہ زری کو پسند کرتا ہے دبیر نے عام سے لہجے میں کہا۔
تمہیں کیسے پتہ وہ اُسے پسند کرتا ہے؟ فاز نے مشکوک انداز میں پوچھا
دبیر نے ایک ابرو اچکاتے فاز کو دیکھا جو ہنس پڑا تھا۔
اُس کی جادوئی آنکھوں سے کوئی نہیں بچ سکتا پھر چاہے وہ ارحم ہی کیوں نا ہو
دبیر نے فاز کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا
جس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
دبیر اس بار کچھ غلط مت کرنا۔ورنہ بہت پچھتاؤ گے
اور اب میں اپنی بیوی کی ناراضگی دور کرنے جا رہا ہوں مجھے کمرے تک چھوڑ دو فاز نے کھڑے ہوتے کہا دبیر اسے کمرے تک چھوڑ آیا تھا اور خود پیلس سے باہر نکل گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
زری کو ارحم پسند آیا تھا اور ڈنر کے دوران ہی زری نے نکاح کے لیے ہاں کر دی تھی ارحم ہادی کا بھی اچھے سے خیال رکھ رہا تھا زری کو بھی کسی نا کسی کے سہارے کی ضرورت تھی۔اس لیے اس نے ہاں کر دی
اور اب زری لیٹی آرام کر رہی تھی…
دبیر پیلس سے باہر نکل آیا تھا۔ بار بار اس کے دماغ میں فاز کی بات گھوم رہی تھی۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
اور آخر تنگ آکر دبیر نے گاڑی روک دی
مجھے کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟
دبیر نے بے بسی سے سٹیرنگ پر ہاتھ مارتے کہا ۔جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو گاڑی ارحم کے گھر کی طرف موڑ لی دبیر پہلے بھی کافی بار اس کے گھر جا چکا تھا۔
دبیر سیدھا کھڑکی سے زری کے کمرے میں داخل ہوا۔جو بیڈ پر پرسکون سی لیٹی سو رہی تھی۔
دبیر نے دروازہ لاک کیا اور چھوٹے قدم لیتا زری کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
آج پورے پانچ ماہ بعد اس نے زری کی شکل دیکھی تھی وہ یہاں آتا ضرور تھا لیکن اس نے زری کو نہیں دیکھا تھا اور وہ خود بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ زری عدت میں تھی۔
دبیر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا اور جھک کر زری کے کان کے پاس اس کا نام پکارا
دبیر کی گرم سانسوں نے زری کو کسمکسانے پر مجبور کر دیا۔
دبیر نے زری کے ماتھے سے لے کر ٹھوڑی تک لیکر کھینچی
جس نے مندی مندی آنکھیں کھولی لیکن اپنے اوپر جھکے دبیر کو دیکھ کر ابھی اس نے ڈر کے مارے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ دبیر نے اس کے منہ پر. ہاتھ رکھ کر اس کی چیخ کا گلہ دبا دیا۔
زری آنکھیں پھاڑے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔اسے لگا تھا اب اس کی ملاقات کبھی بھی دبیر سے نہیں ہو گی۔
لیکن یہ اس کی بھول تھی۔اسی کے ڈر سے تو اس نے ارحم کے ساتھ نکاح کے لیے ہامی بھری تھی کہ وہ اسے دبیر سے بچا سکتا ہے۔
کیسی ہو ڈارلنگ؟ مجھے مس کیا؟
دبیر نے زری کی آنکھوں میں دیکھتے گہرے لہجے میں پوچھا۔
اس وقت زری پوری طرح دبیر کے رحم و کرم پر تھی۔زرا سا ہل بھی نہیں سکتی تھی۔
تم تو مزید پیاری ہو گئی ہو اور تمھاری یہ آنکھیں دبیر نے پیار سے زری کی آنکھوں کو چھوتے ہوئے مزید کہا ۔
قاتل آنکھیں ہے ارحم کا بھی ان آنکھوں پر دل آیا ہو گا ۔لیکن افسوس شیر کی نظر پہلے پڑ چکی تھی اور شیر تو جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے جو چیزیں چھین کر حاصل کرتا ہے ۔
دبیر نے واضح الفاظ میں زری کو بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔
لیکن زری دبیر کی بات سن کب رہی تھی۔وہ تو دبیر کو دیکھ کر خوفزدہ ہو چکی تھی۔
تم نے میرے گھر سے نکل کر اور ارحم کی نظر میں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے ڈارلنگ جس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی ۔
دبیر نے زری کے ہونٹ کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا ۔
زری کی آنکھوں میں بےبسی سے آنسو آگئے تھے اور ایک موتی ٹوٹ کر گال پر بہہ گیا جسے دبیر نے بے مول ہونے سے پہلے ہی اپنے ہونٹوں سے چن لیا تھا۔
زری کی ہمت یہاں تک ہی تھی اس کے بعد اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا اور وہی بےہوش ہو گئی۔
