Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
مسز کب تک آپ کو کوئی چیز پسند آئے گی؟ فاز نے مریم کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
جسے ایک گھنٹے سے کوئی چیز پسند نہیں آ رہی تھی۔
مریم نے مسکرا کر فاز کو دیکھا۔
تمھارے اس مسکراہٹ پر تو میں ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہوں
فاز نے دل میں مریم کو دیکھتے کہا۔
جو دوبارہ سوٹ دیکھنے میں بزی ہو گئی تھی۔
مسز میں اپنی مرضی سے تمھیں شاپنگ کرواؤں گا اور تم اب خاموش رہو گی ۔
آخر کار فاز نے اکتا کر کہا اور یہی تو مریم چاہتی تھی کہ فاز اُسے اپنی مرضی سے شاپنگ کروائے۔
مریم نے اچھے بچوں کی طرح فاز کی بات مانی اور جو چیز فاز لے کر دیتا مریم بنا کوئی سوال کیے لے لیتی۔
دونوں نے رات کا ڈنر کیا اور پھر گھر آگے۔
مریم ٹیرس پر کھڑی کسی سوچ میں گم تھی۔
کیا ہوا مسز فاز نے مریم کے کندھے پر ٹھوڑی رکھتے پوچھا۔
زری پتہ نہیں کس حالت میں ہو گی مجھے اُس کی فکر ہو رہی ہے مریم نے مدھم لہجے میں کہا۔
فاز نے مریم کا رخ خود کی طرف کیا چلو اندر میں بتاتا ہوں وہ کیسی ہے
فاز نے مریم کو دیکھتے کہا۔
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کر اندر لے گیا۔
پہلے تو مسز میری طرف سے چھوٹا سا تحفہ قبول کریں فاز نے اپنی پاکٹ سے ایک خوبصورت سا بریسلٹ نکالا اور مریم کے سامنے کیا جیسے بریسلٹ سچ میں پسند آیا تھا۔
مریم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ بریسلٹ لے سکے لیکن فاز نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔
مریم نے ناسمجھی سے فاز کو دیکھا جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔
فاز نے مریم کی کلائی پکڑی اور اُس میں بریسلٹ پہنانے لگا۔
بریسلٹ پہنانے کے بعد فاز نے مریم کی کلائی پر اپنے لب رکھ دیے۔
مریم نے گھبرا کر فاز کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
فاز نے مریم کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
فاز کیا کر رہے ہو؟
آپ مجھے زری کے بارے میں بتانے والے تھے۔مریم نے فاز کو دیکھتے پوچھا
بلکل مسز
آپ کی بہن یہی پر ہے اور شاہ میر اُسے طلاق دے چکا ہے۔
فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا؟ زری یہی پر ہے؟ مریم نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں یہی پر ہے شاہ میر نے اُسے سیڑھیوں سے دھکا دیاجس کی وجہ سے اُس نے اپنے بچے کو بھی کھو دیا۔
فاز نے کہتے ہی مریم کے تاثرات دیکھے۔
مجھے زری کے پاس جانا ہے۔
مریم نے جلدی سے کہا ۔
جاؤ رانی کے ساتھ والے کمرے میں ہے ۔
فاز نے مریم کو چھوڑتے کہا۔
جس نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
سر شیرو آیا ہے پاشا کے ملازم نے اسے اطلاع دیتے ہوئے کہا۔
شاہ میر بھی وہی موجود تھا۔
آج دبیر پاشا سے ملنا چاہتا تھا شیرو بن کر تاکہ پاشا کو بھی پتہ چل جائے کہ شیرو واپس آچکا ہے ۔
پاشا نے سنجیدگی سے داخلی دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے دبیر کے ساتھ فاز بھی چلتا ہوا آرہا تھا۔
شاہ میر کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ۔
پاشا میرے بھائی کیسے ہو؟ دبیر نے پاشا کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا
واہ تم بھی یہی موجود ہو؟
چلو میرا کام آسان ہو گیا۔تم سے ملنے بھی میں نے آنا تھا لیکن تم نے میرا کام آسان کر دیا۔دبیر نے پاشا کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
فاز اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
بہت سے حساب کتاب نکلتے ہیں تم دونوں کی طرف دبیر ایک دم. سنجیدہ ہوا تھا۔
شاہ میر جو غصے میں بھرا بیٹھا تھا اس نے ٹیبل سے وائن کی بوتل پکڑی اور دبیر کے سر پر. مارنے لگا یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔
دبیر نے اپنے دائیں ہاتھ سے شاہ میر کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور اُس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا شاہ میر اگر میں چاہوں تو ابھی اور اسی وقت تم دونوں کی جان لے سکتا ہوں لیکن اتنی آسان موت کے تم. دونوں حقدار نہیں ہو۔
دبیر نے کرخت لہجے میں شاہ میر کے بازو کو مڑوڑتے ہوئے کہا اور اسے زور سے پیچھے دھکا دیا جو صوفے پر جا گرا تھا۔
دبیر پاشا کی طرف مڑا
کاش کے تم. میرے بھائی نا ہوتے پاشا تمھارے جیسا انسان زندہ رہنے کے لائق نہیں ہے ۔
میری ایک بات یاد رکھنا پاشا آج سے تم دونوں کی بربادی کی شروعات ہو چکی ہے تم لوگوں نے سوئے ہوئے شیر کو جگا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔اور اب میرا پنجرے میں واپس جانے کا ارادہ نہیں ہے۔
اور تم دبیر نے پیچھے مڑتے شاہ میر کو دیکھتے کہا۔
میں نے جھوٹ بولا تھا زری میرے ساتھ نہیں تھی اور وہ ساری تصاویر بھی ایڈٹ تھیں۔
زری تمھارے جیسی گھٹیا نہیں ہے جو تمھاری پیٹھ پیچھے چکر چلاتی رہے وہ سب میرا پلان تھا جس میں میں کامیاب بھی رہا۔
دبیر نے تمسخرانہ انداز میں ہنس کر کہا اپنی الٹی گنتی شروع کر دو دبیر کہتے ہی وہاں سے چلا گیا ۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی فاز نے اس سے سوال کیا ۔تم نے شاہ میر کو صفائی کیوں دی کہ زری بے قصور ہے؟ فاز کے سوال پر دبیر کے سٹیرنگ پر ہاتھ تھمے تھے۔
میں نے شاہ میر کو کوئی صفائی نہیں دی بس میں نہیں چاہتا تھا کوئی بھی اُس کے بارے میں غلط سوچے پھر چاہے وہ شاہ میر ہی کیوں نا ہو اور اب سچ جاننے کے بعد اُسے اپنے فیصلے پر افسوس ہو گا ۔
دبیر نے دلیل دیتے کہا۔
کتنے پردے ڈالو گے دبیر عباس
اپنے جذبات کو تم چھپا نہیں سکتے فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔دبیر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
تو نا کرو بھائی میں کون سا زبردستی کر رہا ہوں فاز نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
دبیر فاز کی بات سن چکا تھا لیکن خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا۔
💞💞💞💞💞
زری ابھی بھی سو رہی تھی مصطفیٰ نے رانی کو زری کا بتا دیا تھا اور اس وقت رانی زری کے سرہانے بیٹھی تھی ۔
مریم بھی تھوڑی دیر بعد وہاں آگئی تھی۔فاز نے مریم کو یہی بتایا تھا کہ شاہ میر کی وجہ سے زری کی یہ حالت ہوئی ہے دبیر کے بارے میں اس نے نہیں بتایا اور اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھ کر مریم کو تکلیف پہنچی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
فاز اور دبیر کھڑکی سے حسیب کے کمرے میں داخل ہوئے رانا کے گھر میں داخل ہونا دونوں کے لیے مشکل نہیں تھا۔
سامنے ہی بیڈ پر وہی لڑکی بےہوش پڑی تھی۔
دبیر نے فاز کو. دیکھتے اشارہ کیا۔وہ بیڈ کی طرف گیا۔
فاز نے چادر سمیت لڑکی کو اٹھایا اور وہاں سے چلا گیا ۔
واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔
دبیر ماتھے پر سخت تیور لیے واشروم کی طرف بڑھا اور اس کے دائیں جانب کھڑا ہو گیا۔
اس کے ہاتھ میں ایک کالے رنگ کی پٹی موجود تھی۔
تھوڑی دیر بعد حسیب باہر آیا تو دبیر نے اسے پیچھے سے دبوچا اور اس کی آنکھوں پر پیٹھی باندھ دی۔
اور حسیب کی ہی ٹائی سے دبیر نے اس کے دونوں ہاتھ باندھ دیے
کون ہو تم حسیب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا
تیرا باپ…..
دبیر نے حسیب کے کان کے پاس غراتے ہوئے کہا اور اسے واشروم کی طرف لے گیا باتھ ٹپ میں گرم پانی کا کنکشن اون کر دیا۔
جس میں فل گرم. پانی جمع ہونے لگا تھا۔دبیر نے حسیب کو باٹھ ٹپ میں دھکا دیا جو ایک چیخ کے ساتھ اُس میں جا گرا تھا ۔
یہ صرف چھوٹی سی سزا ہے جو گناہ تو کر چکا ہے اُس کی سزا موت ہے ۔
دبیر نے نفرت بھرے لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
حسیب چیخنے اور چلانے لگا تھا اس کی چیخے پورے کمرے میں گونج رہی تھیں پانی بہت گرم تھا جس میں حسیب تڑپ رہا تھا۔
نیہا جو حسیب کے کمرے کے پاس سے گز رہی تھی اس نے کمرے سے آتی چیخوں کی آواز سنی تو کمرے میں داخل ہوئی آواز واشروم میں سے آرہی تھی۔
نیہا نے واشروم کا دروازہ کھولا تو حسیب گرم پانی میں تڑپ رہا تھا ۔
اُس کی حالت دیکھتے نیہا نے ذیشان اور رانا کو بلایا جس نے حسیب کو باہر نکالا تھا۔
حسیب کی سکن ساری سرخ ہو گئی تھی اور وہ بے ہوش ہو چکا تھا ۔
رانا نے جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا تھا۔
💞💞💞💞💞
زری کو ہوش آگیا تھا اپنے سامنے مریم اور رانی کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی شاید اس کسی اپنے کا سہارا چاہیے تھا۔
اور رانی کو صحیح صامت دیکھ کر اسے اچھا بھی لگا تھا۔
زری میری جان بس کرو رونا تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے رانی نے پیار سے زری کو کہا۔
تم کہا تھی؟
زری نے بھاری لہجے میں پوچھا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں تم میری فکر مت کرو ۔
رانی نے مسکرا کر کہا۔
میں کہاں پر ہوں یہ کون سی جگہ ہے؟زری کو جب تھوڑا ہوش آیا تو کمرے کو دیکھتے پوچھا۔
یہ مصطفیٰ بھائی کے دوست کا گھر ہے مریم نے جلدی سے کہا ۔
تم ابھی کسی بات کی ٹیشن مت لو آرام سے تمہیں سب کچھ بتا دوں گی لیکن یہاں تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی،
مریم نے زری کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا۔
تم دونوں باتیں کروں میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں مریم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
تمھیں الجھن نہیں ہوتی؟
دبیر نے کبیر کو دیکھتے پوچھا ۔جس نے ناسمجھی سے دبیر کو دیکھا۔
ٹائیگر کی بات کر رہا ہوں ۔دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
تمھارا دل آگیا ٹائیگر پر؟ کبیر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
دل تو خیر نہیں آیا سوچ رہا تھا اُسے سلون لے جاؤں بیچارہ پتہ نہیں کب آخری بار نہایا ہو گا۔
دبیر نے کافی کا کب لبو سے لگاتے ہوئے کہا۔
ٹائیگر کی شکل کو دیکھ کر لڑکیاں مرتی ہیں مطلب مر ہی جاتی ہیں
کبیر نے کہتے ہی اپنی بات پر قہقہہ لگایا
دبیر بھی ہنس پڑا تھا۔
تمھارے ڈیڈ کیسے ہیں؟ دبیر نے سنجیدگی سے احد نے بارے میں پوچھا۔
ویسی ہی حالت ہے ان کی کبیر نے مایوسی سے کہا۔
اللہ بہتر کرے گا دبیر نے کہا جس کبیر نے ان شاء اللہ کہا ۔
اس کے بعد دونوں اپنے کام کی باتیں کرنے لگے تھے ۔
