No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
مریم کہاں رہ گئی تھی تو میں کب سے تیری راہ دیکھ رہی ہوں رضیہ بیگم نے غصیلے لہجے میں اپنی چھوٹی لاڈلی سے پوچھا ۔
اماں ایک تو تو نے مجھے اتنا بڑا پانی کا مٹکا دے دیا جانتی ہے کتنی مشکل سے اٹھا کر لائی ہوں اور تو مجھے ہی بول رہی ہے مریم نے چارپائی پر زری کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو شاید اُٹھ گئی تھی لیکن پھر بھی آنکھیں موندے لیٹی تھی۔
دیکھ تو سارے اپنے کپڑے بھی گیلے کرکے آگئی ہے اگر کوئی تجھے اس حالت میں. دیکھ لیتا تو جانتی ہے کیا ہوتا؟ تجھے بھی گاؤں کا کوئی مرد پسند کرنے لگتا اور تیری بہن کی طرح زبردستی نکاح کر لیتا۔
ہم عربیوں کو اپنا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے اللہ کے سوا کوئی ہماری مدد نہیں کرتا ۔
اور اب سے تو بڑی چادر اوڑھ کر باہر جائے گی۔رضیہ بیگم نے اپنی گال پر بہتے آنسو کو صاف کرتے ہوئے کہا۔
اماں اچھا جیسا تو کہے گی میں ویسا ہی کروں گی تو رویا نا کر تو جانتی ہے نا تجھے تکلیف میں دیکھ کر تیری مریم کو بھی تکلیف ہوتی ہے ۔
ابا تو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے لیکن تجھے میں کھونا نہیں چاہتی تو فکر مت کر سب ٹھیک ہو جائے گا بس تو پریشان نا ہوا کر
مریم نے اپنی ماں کی گال پر پیار سے بوسہ دیتے کہا جو ہلکا سا مسکرا پڑی تھی ۔
اپنی بہن کا اب تجھے بہت خیال رکھنا ہے وہ اندر سے ٹوٹ گئی ہے باہر سے وہ چاہے کتنا بھی کہہ دے وہ ٹھیک ہے لیکن میں اُس کی ماں ہوں ایک نظر اُس کے چہرے کو دیکھ کر اُس کے دل کا حال جان لیتی ہوں ۔
جس طرح میرا تم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے ویسے ہی زری کا بھی تیرے اور میرے سوا کوئی نہیں ہے ۔
تو جانتی ہے نا چھوٹے صاحب کیسے ہیں جب اُن کی رانی سے شادی ہوئی تو کتنا پیار جتاتے تھے اور جب دل بھر گیا تو کمرے سے نکال دیا اور اب حویلی والوں کی نظر میں رانی بھی ایک ملازم کی حیثیت رکھتی ہے ۔
اور میں جانتی ہوں میری دھی رانی کے ساتھ بھی یہی ظلم ہو گا۔
بس اللہ سے یہی دعا ہے میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے
رضیہ نے بےبسی سے کہا۔
آمین اماں تو فکر مت کر سب ٹھیک ہو گا چل میں ناشتہ بنا دیتی ہوں تو آرام سے بیٹھ جا
مریم نے اپنی ماں کر چارپائی پر بیٹھاتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر بنے چھوٹے بسے کچن کی طرف چلی گئی۔
رضیہ نے اپنا رخ زری کی طرف کیا اور اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی جس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر تکیے کو بھگو رہے تھے ۔شاید وہ اپنی ماں کی ساری باتیں ان چکی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
ماضی………
شیرو چھوڑ دو اسے
پاشا نے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہا جو زمین پر بےسدھ پڑے آدمی کو ٹھوکر مار رہا تھا ۔
اس کمینمے نے میری بیوی کو ہاتھ کیسے لگایا میں اس کی جان لے لوں گا ۔
عمر چاقو دو مجھے شیرو نے پاس کھڑے عمر کو کہا جس نے تیز دھار والا چھوٹا سا چاقو شیرو کی طرف بڑھایا۔
اور یہ سب ایک سیکنڈ میں ہوا تھا شیرو نے عمر کے ہاتھ سے چاقو پکڑا اور زمین پر گرے آدمی کا وہ ہاتھ کاٹ دیا جس سے اس نے اقرا کا ہاتھ پکڑا تھا ۔سفید فرش پل بھر میں سرخ ہوا تھا اور زمین پر گرے آدمی کی چیخے پوری دکان میں گونجی تھیں ۔
اور زمین پر پڑا وہ تڑپنے لگا تھا ۔
شیرو میں نے کہا رک جاؤ پاشا نے غصے سے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہا جو اپنے ہوش میں نہیں تھا عمر روکو اپنے دوست کو پاشا نے دھاڑے ہوئے کہا ۔
پاشا تم اس آدمی کو بچانا کیوں. چاہیے ہو کہی اس لیے تو نہیں کہ تم نے ہی اسے ایسا کرنے کو کہا تھا؟
عمر نے طنزیہ لہجے میں پاشا کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔جس نے سختی سے اپنے جبڑے بھینچے تھے ۔
تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو عمر جانتے ہو میں کون ہوں؟ پاشا نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
مجھے تمہیں جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے پاشا اگر میں تمہیں برداشت کرتا ہوں تو صرف اپنے دوست کی وجہ سے اور ہاں بہتر یہی ہو گا کہ اب تم شیرو اور اُس کی بیوی سے دور رہو ۔کیونکہ میں اچھے سےطجان گیا ہوں تم کیا چیز ہو۔
عمر نے پاشا کو دیکھتے ہوئے بے خوفی سے کہا۔
اتنے میں شیرو اپنا کام کر چکا تھا وہ آدمی اب زمین پر خون میں لت پت بےجان پڑا تھا ۔
شیرو نے ایک نظر پاشا کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا ۔
عمر بھی اس کے پیچھے چلا گیا تھا ۔اب تم ایک لڑکی کی خاطر اپنے بھائی کو نظر انداز کروں گئے؟ نہیں شیرو ایسا میں کبھی نہیں ہونے دوں گا۔پاشا نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا جہاں سے شیرو باہر گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞
پاشا اور عباس بھائی ہونے کے ساتھ دونوں دوست بھی تھے۔پاشا کا اصل نام علی تھا۔
۔عباس کے باپ نے دو شادیاں کی تھیں دونوں بیویوں میں سے ایک ایک بیٹا تھا ۔عباس کی ماں کا انتقال چھت سے گرنے کی وجہ سے ہوا تھا۔لیکن اسے بعد میں پتہ چلا کہ اس کے باپ نے اس کی ماں کو چھت سے نیچے گرایا تھا۔
اُس وقت عباس چھوٹا تھا۔عباس کا باپ نشہ کرتا تھا اور جب اسے نشہ نا ملتا تو ہر چیز تہس نہس کر دیتا گھر کا سارا سامان بھی بیچ چکا تھا ۔یہاں تک کہ ایک دن نشے کی حالت میں اپنی دوسری بیوی علی کی ماں کو بھی بیچ آیا اور اُسی رات علی کی ماں کی لاش گھر آئی جس نے اپنی کلائی کاٹ کر جان دے دی تھی ۔
عباس اور علی بہت روئے تھے ایک یہی بس آخری سہارا تھا ان کے پاس
محلے سے کچھ عورتیں آئیں جنہوں نے دونوں کو کافی حوصلہ دیا اور رات کو اپنے اپنے گھر چلی گئیں۔
کفن دفن کا انتظام بھی محلے والوں نے کر دیا تھا ۔
رات کو عباس کا باپ نشے کی حالت میں گھر واپس آیا اور وہیں صحن پر گر کر لیٹ گیا۔
علی کی آنکھوں میں خون سوار تھا۔اس نے کچن سے ایک بڑی سی چھڑی پکڑی اور اپنے باپ کے سینے پر تین چار بار وار کیا اس وقت علی اور عباس کی عمر لگ بھگ بارہ سال تھی عباس آنکھیں پھاڑے علی کو دیکھ رہا تھا
تو نے بابا کو مار دیا؟
عباس نے بے یقینی سے اپنے باپ کی خون میں لت پت لاش کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں مار دیا اب چل میرے ساتھ علی نے کہا۔
ایک منٹ میں آتا ہوں عباس نے یاد آنے پر کہا اور اپنی ماں کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
الماری سے اپنی ماں کی تصویر نکالی اور ایک چین گولڈن کلر کی جو اس کی ماں نے عباس کے لیے سنبھال کے رکھی تھی عباس نے سکول میں ایک لڑکے کے گلے میں چین دیکھی تھی ۔اور گھر آکر اپنی ماں سے ضد کی کہ اسے بھی ویسی ہی چین چاہیے اور اس کی ماں نے کچھ ماہ تک کپڑے سلائی کرکے عباس کے لیے چین لی تھی لیکن عباس کی ماں نے کہا تھا یہ تحفہ وہ اسے اس کی سالگرہ پر دے گی سالگرہ آنے میں ابھی تھوڑا وقت تھا لیکن اس سے پہلے ہی اس کی ماں دنیا سے چلی گئی۔
عباس چین کو دیکھ رہا تھا جب اسے علی کی آواز آئی چلو علی نے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا۔
دونوں کے پاس کوئی ٹھکانا نہیں تھا اور دونوں ہی نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں ناجانے قسمت ان کو کہاں لے جانے والی تھی۔
💞💞💞💞💞
حال……
کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟ کرن نے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو لیپ ٹاپ کھولے کام کر رہا تھا ۔
جی بلکل آپ کا اپنا گھر ہے آپ کہیں بھی بیٹھ سکتی ہیں دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
کرن دبیر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی ۔
دبیر دوبارہ اپنے کام میں بزی ہو گیا۔
آپ مجھے گھورنا بند کریں گی دبیر نے تھوڑی دیر بعد لیپ ٹاپ بند کرتے کرن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
جو دبیر کی بات پر کھل کر مسکرا پڑی تھی ۔
میں آپ کو گھور نہیں رہی پیار سے دیکھ رہی ہوں کرن نے بے باکی سے کہا ۔
کرن کی بات سن کر دبیر کے ماتھے پر بل میں اضافہ ہوا تھا۔
لیکن جلد ہی اس نے اپنے غصے پر قابو پالیا اس سے پہلے دبیر کچھ کہتا فاز نے اسے خود کی طرف متوجہ کیا جو ابھی واپس آیا تھا ۔
بھائی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
اوکے میں آرہا ہوں دبیر نے کہا اور اپنا لیب ٹاپ پکڑے وہاں سے چلا گیا اس نے ایک نظر بھی کرن کو نہیں دیکھا تھا اور یہی بات کرن کو بہت بُری لگی تھی۔۔۔
دونوں بھائی ہی کھڑوس ہیں ۔
کرن نے غصے سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
بہو رانی
فضیل اعوان نے رانی کے کان کے پاس جھک کر اسے بلایا جو ایک دم ڈر گئی تھی اور جلدی سے فضیل سے تھوڑا پیچھے کھڑی ہو گئی ۔
اس وقت کچن میں بھی کوئی نہیں تھا ۔
ابا جی آپ کو کچھ چاہیے تھا؟ رانی نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے پوچھا ۔
بہو رانی جلدی سے ایک اچھی سی چائے بنا کر میرے کمرے میں لے کر آؤ اگر تم نہیں آئی تو فضیل نے رانی کا جلا ہوا ہاتھ پکڑتے مزید کہا۔دوسرا ہاتھ میں جلا دوں گا
فضیل نے کہتے ہی رانی کا ہاتھ چھوڑا جو اب ہولے ہولے سے کانپ رہی تھی ۔
میں انتظار کر رہا ہوں فضیل نے آنکھوں میں چمک لیے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
رانی وہیں زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔وہ جانتی تھی فضیل کے کمرے میں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے اپنے باتھ کی جلن تو وہ برداشت کر سکتی تھی لیکن اپنی عزت کو نہیں کھو سکتی تھی ۔
رانی بیٹا کیا ہوا ہے؟ تم ٹھیک ہو؟
نغمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا رانی نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اور کھڑی ہو گئی کچھ نہیں امی جان وہ میں ابا جی کے لیے چائے بنانے لگی تھی ۔رونی نے جلدی سے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا ۔
نغمہ بیگم کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی تو ایک سیکنڈ میں ان کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے نغمہ بیگم نے سرد لہجے میں رانی سے کہا ۔
تم جاؤ اپنے کمرے میں اور جب تک تمھارا ہاتھ ٹھیک نہیں ہو جاتا تم کوئی کام نہیں کرو گی جاؤ یہاں سے نغمہ بیگم نے دو ٹوک انداز میں کہا اور وہ اچھے سے جانتی تھی کہ یہ کس کا کام ہے۔
جی رانی نے نظریں جھکا کر کہا اور کچن سے باہر چلی گئی نغمہ بیگم نے ملازم کو چائے بنا کر فضیل کے کمرے میں دے کر آنے کا کہا ۔اور خود بھی کچن سے باہر چلی گئی ۔
ملازم جب فضیل کے کمرے میں چائے لے کر گیا تو رانی کی جگہ کسی اور کو دیکھ کر اسے غصہ تو بہت آیا تھا لیکن کچھ کہا نہیں کیونکہ پیچھے ہی نغمہ بیگم بھی کمرے میں داخل ہوئی تھی جسے دیکھ کر فضیل خاموش ہو گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞
بیٹا تمہیں یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ نغمہ بیگم نے پیار سے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں آنٹی ہمیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے دبیر نے اپنا سر نغمہ بیگم کے آگے کرتے ہوئے کہا جن کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی انہوں نے دبیر کے سر پر پیار دیا ۔
تمھارا بھائی کہاں ہے؟ نغمہ بیگم نے بیٹھتے ہوئے دبیر سے پوچھا اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
وہ کمرے میں ہے ۔آنٹی آپ کب سے اس گاؤں میں ہیں؟
دبیر نے عام سے لہجے میں پوچھا ۔
بیٹا فضیل کا تو یہ آبائی گاؤں ہے فضیل نے مجھے دیکھا اور پسند کرنے لگے اور پھر میں بھی بیاہ کر اسی گاؤں آگئی ۔
نغمہ بیگم نے افسردگی سے کہا۔دبیر نے نوٹ کیا تھا کہ نغمہ بیگم کسی سے زیادہ بات نہیں کرتیں تھیں۔خاموش اور پریشان سی رہتی تھیں۔
آنٹی آپ اتنی خاموش کیوں رہتی ہیں اگر میں سچ بتاؤں تو مجھے ایسا لگتا آپ زبردستی یہاں رکی ہوئی ہیں ۔دبیر نے نغمہ بیگم کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا ۔
جنہوں نے حیرانگی سے دبیر کو دیکھا یہ وہی سوال تھا جو ان کے بچوں نے تو کبھی نا کیا لیکن مصطفیٰ ہمیشہ کرتا تھا ۔
مجھے ایسا لگا کہ یہ سوال مصطفیٰ نے پوچھا تم مصطفیٰ سے نہیں ملے چلو میں تمہیں اُس سے ملا دیتی ہوں ۔
نغمہ بیگم نے دبیر کی بات کو اگنور کرتے کہا ۔جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا ۔
جی ضرور دبیر نے کہا اور نغمہ بیگم کے ساتھ چل پڑا تھا ۔
نغمہ بیگم نے مصطفیٰ کے کمرے کا دروازہ نوک کیا اور دونوں روم میں داخل ہوئے چچی جان آپ؟ مصطفیٰ کی آدھی بات دبیر کو دیکھ کر منہ میں ہی رہ گئی تھی ۔
بیٹا تم تو ان سے ملے نہیں ان کانام دبیر ہے ۔نغمہ بیگم نے دبیر کا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
دبیر بیٹا یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے مصطفیٰ
آپ سے مل کر خوشی ہوئی مصطفیٰ
دبیر نے اپنا ہاتھ مصطفیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا خشمگین نظریں مصطفیٰ کے گھبرائے ہوئے چہرے پر ڈالتے ہوئے کہا ۔
اور مصطفیٰ کو لگا اس کے ہاتھ کی ہڈیاں آج ٹوٹ جائیں گیں ۔مصطفیٰ کا چہرہ سرخ پٙر گیا تھا ۔دبیر نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو اس نے سکون کا سانس لیا۔
آنٹی اب میں چلتا ہوں مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے دبیر نے نغمہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ نغمہ بیگم نے پیار سے کہا اور دبیر ایک گھوری مصطفیٰ کے چہرے پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
💞💞💞💞💞
مریم حویلی کے اندر داخل ہوئی اسے زری کے لیے اُس سے میڈیسن لینی تھی۔
مریم اپنے دھیان چل رہی تھی جب سامنے سے آنے فاز سے اس کا زبردست تصادم ہوا۔
اس سے پہلے مریم زمین بوس ہوتی فاز نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے بچایا تھا ۔
مریم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے فاز کی شرٹ کو پکڑا اور آنکھیں بند کیے فاز کی بانہوں میں قید تھی ۔
فاز مریم کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا پڑا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے کیاخے ۔
مریم نے جلدی بسے اپنی آنکھیں کھولیں فاز کی پکڑ مریم کی کمر پر کافی مضبوط تھی ۔اس نے جلدی سے فاز کی شرٹ کو چھوڑا لیکن اُس سے الگ نہیں ہو سکی۔
چھوڑو مجھے چھچھوڑے انسان مریم نے دانت پیستے کہا۔
اوکے جیسی تمھاری مرضی فاز نے مریم کے کان کے پاس جھک کر کہا فاز کے ایک دم قریب آنے پر مریم ایک دم سٹپٹا گئی تھی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی یا سوچتی
فاز نے اسے چھوڑ دیا تو معیم سیدھی زمین پر جا گڑی تھی ۔
آہ مریم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی
تم پاگل بھی ہو مریم نے دانت پیستے کہا ۔
میں تو بہت کچھ ہوں محترمہ آہستہ آہستہ تمہیں پتہ چل جائے گا فاز نے تھوڑا مریم کی طرف جھکتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
پیچھے مریم اپنی کمر پکڑے بیٹھی تھی ۔
💞 💞 💞 💞 💞
زری تمہیں چھوٹے صاحب اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں ۔ملازمہ نے زری کو کہا جس کا چہرہ بخار کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا ۔
اپنے چھوٹے صاحب کو کہو میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے زری نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
انہوں نے کہا ہے اگر تم نا آئی تو وہ خود آجائیں گے ملازمہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
مرتی کیا نا کرتی مریم چادر لے کر اٹھی اور حویلی کی طرف چلی گئی ۔ٹانگیں اس کی کانپ رہی تھیں ۔
اور حویلی میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے کوئی وجود کھڑا نظر آیا تھا۔
پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہیں جھوم کر گر گئی ۔
