Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

سپتال سے نکلتے وقت لڑکی نے گرنے کی ایکٹنگ کی فاز جس نے لڑکی کو کچھ کہنے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔
لیکن لڑکی کو گرتے دیکھ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا۔
اور لڑکی نے فاز کو شرٹ سے پکڑا اور اس طرح ظاہر کیا کہ اس نے خود کو گرنے سے بچایا ہے۔
کچھ فاصلے پر کھڑے آدمی نے دونوں کی کچھ تصاویر کھنچ لی تھیں۔
آپ ٹھیک ہیں؟
فاز نے اپنی شرٹ سے لڑکی کا ہاتھ پیچھے کرتے تحمل سے پوچھا۔
جی وہ. سوری میں گرنے لگی تھی لڑکی نے بوکھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا.
کوئی بات نہیں چلیں فاز نے کہا اور دونوں گاڑی کی طرف چلے گئے۔
فاز لڑکی کو گھر لے آیا تھا۔مریم نغمہ بیگم کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔
اس نے حیرانگی سے فاز اور لڑکی کی طرف دیکھا۔
یہ کون ہے بیٹا؟ نغمہ بیگم نے لڑکی کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
اتنے میں رانی بھی وہاں آگئی تھی۔
میں آپ کو بتاتا ہوں پہلے مریم تم انہیں کمرے میں لے جاؤ فاز نے مریم کو دیکھتے کہا ۔
جس نے آبرو اچکاتے ہوئے فاز کی طرف دیکھا تھا۔
رانی تم انہیں کمرے تک لے جاؤ
فاز نے دانت پیستے کہا۔
نغمہ بیگم اور رانی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اور فاز کے ساتھ کھڑی تو حیرت میں مبتلا تھی کہ فاز کی بیوی نے اس کی بات نہیں مانی
اسے مریم پر رشک بھی آیا تھا لیکن یہاں وہ جس کام کے لیے آئی تھی اُسکے لیے اسے خود غرض ہونا تھا۔
رانی لڑکی کو وہاں سے لے گئی تھی۔
خالہ جان یہ لڑکی میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا گئی تھی۔
اور اس کا کوئی گھر بار بھی نہیں ہے اس لیے میں اسے یہاں لے آیا
فاز کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اُس لڑکی کے بارے میں کیا بولے۔
ایسے تو آپ بہت سے لوگوں کو اٹھا کر گھر لے آ سکتے ہیں ۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے ویسے بھی ہمیں لوگوں کی مدد کرنی چاہیے مریم نے مسکراتے ہوئے فاز کو دیکھتے کہا۔
لیکن فاز مریم کے طنزیہ لہجے کو اچھی طرح سمجھ گیا تھا۔
نغمہ بیگم تو خاموش ہی رہی تھیں۔
مریم نے ایک نظر فاز پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔
بیٹا تمہیں اس لڑکی کو یہاں نہیں لانا چاہیے تھا مریم کو اچھا نہیں لگا۔
نغمہ بیگم نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے مجھے لڑکی کو یہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔
فاز نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا۔
میں دبیر سے بات کرتا ہوں آپ پریشان مت ہوں۔
فاز نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر جانتا تھا کہ کچھ وقت بعد آفندی کو پتہ چل جائے گا کہ ارحم ہی دبیر ہے۔
اس لیے اس نے اپنے گھر کی سیکورٹی سخت کر دی تھی۔
دبیر نے معاملہ سنبھال لینا تھا لیکن اس کا بھروسے مند آدمی کو آفندی نے پکڑ لیا تھا جس نے بتا دیا کہ ارحم ہی دبیر ہے۔
اور اب دبیر اپنی گاڑی میں سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔
جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔
وہ جانتا تھا کس کی کال ہے اس لیے بنا دیکھے موبائل کان سے سے لگایا۔
آگے سے آفندی کی غصے سے بھری آواز نے اس کے کان کے پردے پھاڑ دیے تھے۔
جو دبیر کو دھمکی کے ساتھ گالیاں بھی دے رہا تھا کہ اس نے آفندی کو دھوکا دیا ہے اور وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔
ہو گیا تیرا؟ آفندی جب کافی دیر بولتا رہا تو دبیر نے اکتا کر کہا۔
تیری کب سے بکواس سن رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں تو کچھ بھی بولے اور اب میری بات کان کھول کر سن لے مجھے تیری چھوٹی سے لے کر بڑی تک ساری باتیں اور راز معلوم ہے اس لیے سوچ سمجھ کر بات کر
آیا بڑا مجھے دھمکی دینے والا دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا اور کال بند کر دی
دوسری طرف آفندی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ موبائل سے نکل کر دبیر کی جان لے لیں۔
دبیر نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی تھی۔اب جو ہونا. تھا وہ ہو گیا۔لیکن ابھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ ارحم کی سچائی کا آفندی کو پتہ چلے۔لیکن زری کی وجہ سے پتہ چل گیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
تمہیں ہو کیا گیا ہے مریم؟ فاز نے کمرے میں داخل ہوتے سنجیدگی سے مریم کع دیکھتے پوچھا۔
جس نے جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
تم. سے بات کر رہا ہوں
کیا ہوا ہے تمہیں؟ فاز نے مریم کو بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کرتے پوچھا۔
آپ نہیں جانتے کہ مجھے کیا ہوا ہے؟ مریم نے الٹا سوال کیا۔
جانتا ہوں میری مسز مجھ سے ناراض ہے اور اب مجھے اُسے منانا ہے۔
فاز نے مریم کے ناک کو کھنچتے ہوئے پیار سے کہا۔
مریم نے فاز کو گھور کر دیکھا تھا۔
ایم سوری مجھے اُسی دن تمہیں منانا چاہیے تھا مجھ سے غلطی ہو گئی اپنے معصوم سے شوہر کو معاف کر دو فاز نے سر کھجاتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
پہلے تو مریم کچھ پل فاز کو دیکھتی رہی پھر بولی ۔
اوکے کیا یاد کریں گے میں نے آپ کو معاف کیا
مریم نے اترا کر فاز کو دیکھتے کہا۔
جو مسکرا پڑا تھا۔
پورے دو دن تم مجھ سے دور رہی ہو مسز اور اب مجھ سے اچھے کی امید مت رکھنا۔
فاز نے مریم کو. کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کے بالوں میں سر دیے بھاری لہجے میں کہا۔
فاز میں آپ سے دور نہیں تھی بلکہ آپ خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے مجھ سے دور تھے۔
مریم نے دانت پیستے کہا اور فاز کو پیچھے کرنے کی کوشش کی جو کہ ناممکن ہی تھا۔
تم. لڑکیاں اپنی غلطی مانتی کب ہو، فاز نے کہتے ہی مریم کی گردن پر بوسہ دیا۔
مریم کی بولتی وہی بند ہو گئی تھی۔
فاز… مریم نے پھر سے فاز کو پکارا
ہمم فاز نے بس اتنا ہی کہا تھا۔
مجھے وہ لڑکی اچھی نہیں لگی۔
مریم کی بات سن کر فاز بھی ہوش میں آیا تھا۔
کیا مطلب؟ فاز نے پوچھا
پتہ نہیں کیوں لیکن مجھے اُس لڑکی کو دیکھ کر اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہاں آئی تو ہے لیکن کچھ بڑا کارنامہ کرکے واپس جائے گی مریم نے اپنے خیالات فاز کو بتاتے کہا۔
تم کچھ زیادہ سوچ رہی ہو وہ کچھ دن یہاں رہے گی پھر یہاں سے چلی جائے گی میں اُس کا بندوبست کرتا ہوں
فاز نے مسکرا کر کہا۔
اتنے میں اس کا موبائل رنگ ہوا جس پر دبیر کالنگ لکھا آرہا تھا۔
میں آتا ہوں اور تم میرے لیے ایک اچھی سی کافی بنا کر لے آؤ
فاز نے کہا اور ٹیرس کی طرف چلا گیا۔مریم کمرے طسے باہر چلی گئی تھی۔
فاز نے کال اٹینڈ کی وہ جانتا تھا دبیر کیا بولے گا۔
کبھی کبھار تم مجھے مصطفیٰ لگتے ہو
دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
یار مجھے نہیں معلوم تھا میری بیوی اتنا اوور ریکٹ کرے گی۔
فاز نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا۔
تمہیں لڑکی کو گھر نہیں لانا چاہیے تھا فاز اور اب تو مجھے بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے یہ لڑکی کچھ بڑا کرنا چاہتی ہے جس میں نقصان صرف تمھارا ہی ہو گا اس لیے اُس پر نظر رکھنا۔
اور ہاں میں بڑے پاپا سے ملنے جارہا ہوں تم ہادی کو زری کے پاس چھوڑ دینا اماں بھی تمھارا پوچھ رہی تھی یا ایسا کرنا مریم کو بھی اپنے ساتھ لے جانا
یہ ٹھیک رہے گا۔
دبیر نے مشورہ دیتے کہا۔
ہمم ٹھیک ہے تم دھیان سے جانا فاز نے کہا دبیر نے ایک دو اور باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا تھا۔
اس نے گاڑی بیسٹ کے فارم ہاؤس کی طرف موڑ لی۔پہلے اس کا ارادہ گھر جانے کا تھا۔ لیکن پھر تبدیل ہو گیا ۔
💞 💞 💞 💞 💞
بڑے پاپا میں آفندی کو مارنا چاہتا ہوں بہت ہو گیا اب اُس کا مزید زندہ رہنے مجھے برداشت نہیں ہے۔
دبیر نے سنجیدگی سے میر کو دیکھتے کہا۔
جو مسکرا پڑا تھا۔
تم. اُسے کیوں مارنا چاہتے ہو؟ میر نے پن کو اپنی ہاتھ کی انگلیوں میں گھوماتے ہوئے پوچھا۔
کیونکہ اُس نے آپ کو جان سے مارنے کی کوشش کی جس میں نقصان آپ کے بھائی کا ہوا۔
اور آفندی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اب تو اُس کی نظر میری بیوی پر بھی پڑ چکی ہے تو میں نہیں چاہتا آفندی کی وجہ سے میں زری کو بھی کھو دوں۔
دبیر نے گہرا سانس لیتے میر کو دیکھتے کہا۔
جو غور سے دبیر کی بات سن رہا تھا۔
کچھ فاصلے پر کبیر بھی کھڑا تھا۔
میر اپنی جگہ سے اٹھا اور دبیر کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔
آفندی نے جو کیا اسے میں کبھی معاف نہیں کر سکتا اور میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں چاہتا ہوں تم آفندی کو مار دو اگر تم اُسے مارنے میں ناکام رہے تو تمھارے بڑے پاپا ہیں نا
تم. میری ٹیشن مت لو میر نے دبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
اور ہاں میں چاہتا ہوں جب تک آفندی والا معاملہ حل نہیں ہو جاتا تم اپنی فیملی کو میرے گھر ہی رکھو اور وہ تمھارا اپنا بھی گھر ہے جتنے دن تم وہاں رہنا چاہو رہ سکتے ہو
میر نے مسکرا کر کہا۔
جی بڑے پاپا اور میں چاہتا ہوں جب سب ٹھیک ہو جائے تو آپ کی پوری فیملی ہمارے گھر آئے
دبیر نے اپنی خواہش ظاہر کرتے کہا۔
ان شاء اللہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے میر نے ہنستے ہوئے کہا جس سے اس کے ڈمپل نمایا ہوئے تھے۔
آج کا ڈنر ہمارے ساتھ ہی کر کے جانا
میر نے اپنے موبائل بپر ٹائپنگ کرتے کہا۔
سوری بڑے پاپا اگر میں یہاں رک گیا تو میری بیوی نے پھر پورا ایک ہفتہ مجھے کمرے میں داخل ہونے نہیں دینا۔
دبیر نے معصومیت سے کہا۔
اور یہ سنتے ہی کبیر کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا تھا۔
ویسے بڑے پاپا یہ بات تو اس نے بلکل ٹھیک کہی ہے بیویاں ایک دم چڑیل بن جاتی ہیں اب میرے والی دیکھ…. کبیر نے بات کرتے میر کی طرف دیکھا جو اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے کچا چبا جائے گا۔کبیر کی زبان کو وہی بریک لگی تھی۔
تمھاری بیوی میری بیٹی ہے کبیر خان میر نے سرد لہجے میں کہا۔
دبیر مزے سے کھڑا کبیر کو دیکھ رہا تھا۔
جی میں جانتا ہوں بڑے پاپا کبیر نے نظریں جھکا کر کہا۔میر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
بڑے پاپا میں چلتا ہوں بہت جلد ملاقات ہو گی
دبیر نے میر کو دیکھتے کہا۔
میر نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
دبیر کبیر کے پاس گیا۔جو اسے گھور رہا تھا۔
بھائی صاحب سوچ سمجھ کر بولا کرو۔
کیوں؟ تم بولتے ہونا سوچ سمجھ کر وہی کافی ہے۔اور میں ٹائیگر ہوں جو میرے دل میں آتا میں بول دیتا ہوں کبیر نے سینہ چوڑا کرتے کہا۔
ہمم اسی لیے ٹائیگر میں عقل کی کمی ہے۔بنا سوچے سمجھ کچھ بھی کر گزرتا ہے۔دبیر نے مسکرا کر کہا۔
ٹائیگر شیرو سے تو زیادہ ہی سمجھدار ہے کبیر نے گھورتے ہوئے کہا۔
میر حیرانگی سے دونوں کی عظیم گفتگو سن رہا ہے اسے دونوں چھوٹے بچے لگ رہے تھے جو خود کو زیادہ اچھا ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
میر نے نفی میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔
کبیر اور دبیر ابھی بھی دونوں بحث کر رہے تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کیا ہوا تم. اتنے غصے میں کیوں ہو؟ کرن نے آفندی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔جو کافی شراب پی چکا تھا۔
ارحم کمینے نے مجھے دھوکا دیا
مجھے؟ آفندی کو
وہ جانتا نہیں ہے کہ میں کیا چیز ہوں میں پاشا ہرگز نہیں ہوں۔
جسے وہ آسانی سے مار دے میں آفندی ہوں اس کی پوری فیملی کو ختم کر دوں گا۔
آفندی نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے کہا اس کی زبان بھی اب بات کرتے لڑکھڑا رہی تھی۔لیکن آنکھیں ابھی بھی سرخ تھیں۔
دھوکا مطلب؟ کرن نے ناسمجھی سے آفندی کو دیکھتے پوچھا۔
وہ کمینہ ارحم ہی دبیر ہے اتنے عرصے سے وہ میرے ساتھ تھا میرے ہر کام کو وہ جانتا ہے اور وہی آستین کا سانپ نکلا۔
آفندی کے اس انکشاف پر کرن کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔اب اسے یقین ہو گیا تھا کہ دبیر سچ میں بہت طاقتور انسان ہے اگر وہ اپنے دشمن کے ساتھ اپنا حلیہ تبدیل کرکے رہ سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
تم اب کیا کرو گے؟ کرن نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں اب وہ کروں گا جس کے بارے میں اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا۔
لیکن ابھی مجھے سکون چاہیے جو صرف تم ہی مجھے دے سکتی ہو۔
آفندی نے لڑکھڑاتی زبان میں کرن کی گردن میں ہاتھ ڈالتے اسے خود کے قریب کرتے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے کہا۔
کرن نے آفندی کو روکا نہیں تھا بلکہ اُس کا ساتھ دینے لگی۔
💞 💞 💞 💞 💞
آپ نے کھانا نہیں کھایا لا دوں؟
رانی نے کمرے میں داخل ہوتے مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا
جو صبح سے اسے اگنور کر رہا تھا۔
ضرورت نہیں ہے مجھے بھوک لگی تو میں. خود کھا لوں گا۔تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مصطفیٰ نے روکھے لہجے میں جواب دیا۔
رانی کو مصطفیٰ کا اگنور کرنا تکلیف دے رہا تھا خود بےشک وہ جتنی مرضی بار کرتی لیکن مصطفیٰ کا کچھ گھنٹے رانی کو اگنور کرنا برداشت نہیں ہو رہا تھا اور اب اسے سمجھ آرہی تھی کہ جب وہ مصطفیٰ کو اگنور کرتی تھی تو اُسے کیسا محسوس ہوتا ہو گا۔
رانی کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹب بہنے لگے تھے۔
مصطفیٰ جو موبائل پر نظریں گاڑھے بیٹھا تھا اور لاپرواہی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جب اسے محسوس ہوا کہ رانی ابھی بھی وہی کھڑی ہے اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا اور کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے لیکن رانی کو روتا دیکھ کچھ بول نہیں پایا۔
مصطفیٰ نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ رانی اس کی وجہ سے روئے
مصطفیٰ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور رانی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو؟ مصطفیٰ نے بےتاب سے رانی کے آنسو صاف کرتے پوچھا۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں ۔
رانی نے ہچکی لیتے کہا۔
مصطفیٰ کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا یعنی اسے مصطفیٰ کی پرواہ تھی۔
تمہیں میرے ناراض ہونے سے فرق پڑتا ہے؟
مصطفیٰ نے الٹا سوال کیا۔
کیوں نہیں پڑے گا آپ میرے شوہر ہیں محبت کرتی ہوں میں آپ سے آپ کی بےروخی برداشت نہیں کر سکتی۔
رانی کے آنسوؤں میں مزید روانگی آگئی تھی۔
واللہ یہ کیا میں سن رہا ہوں کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا مصطفیٰ نے خود کو چٹکی کاٹتے کہا۔
نہیں یہ تو سچ ہے مصطفیٰ نے خوشی سے کہا۔
یار اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم اس طرح مان جاؤ گی تو یہ حربہ میں کب کا استعمال کر لیتا۔مصطفیٰ نے شرارتی لہجے میں کہا۔
رانی مصطفیٰ کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
یار مزاح کر رہا ہوں تم رونا بند کرو۔
مصطفیٰ نے رانی کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
آپ مجھ سے وعدہ کریں کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہونگے رانی نے مصطفیٰ کی طرف دیکھتے کہا ۔
میں وعدہ کر لوں اور تم جتنی مرضی بار مجھ سے ناراض ہو جاؤ مصطفیٰ نے گھورتے ہوئے کہا۔
رانی کی آنکھوں میں پھر بسے آنسو جمع ہو گئے تھے۔
اچھا ٹھیک ہے وعدہ کرتا ہوں مصطفیٰ نے جلدی سے کہا۔ایک تو لڑکیوں کے پاس آنسوؤں کا بہت اچھا ہتھیار ہے کہی بھی استعمال کر لیتی ہیں۔مصطفیٰ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
میں وعدہ کرتا ہوں رانی ہمیشہ تمہیں خوش رکھوں گا
جو غلطی میں نے پہلے کی اس سے پہلے مصطفیٰ اپنی بات مکمل کرتا رانی نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر خاموش کروایا تھا جو کچھ پیچھے ہوا وہ میرا ماضی تھا اور اُسے میں بھولنا چاہتی ہوں۔
میں نہیں چاہتی کہ آپ بھی اُس بارے میں کوئی بات کریں۔
اگر ہمیں اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنی ہے تو پچھلی باتوں کو بھولنا ہو گا۔رانی نے مصطفیٰ کی طرف دیکھتے کہا۔
جو چہرے پر خوشگوار حیرت لیے رانی کو دیکھ رہا تھا۔
تھینک یو سو مچ رانی مصطفیٰ نے پہلے اپنے ہونٹوں پر رکھے رانی کے ہاتھ اور پھر ماتھے پر پیار سے بوسہ دیتے کہا۔
جس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور مصطفیٰ کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔
ایک بات تو اس کی سمجھ میں آگئی تھی کہ وہ مصطفیٰ کے بغیر نہیں رہ سکتی اس کا کچھ گھنٹے اگنور کرنا رانی کو تکلیف میں مبتلا کر گیا تھا۔اگر زیادہ وقت مصطفیٰ اسے اگنور کرتا تو تو پتہ نہیں اس کا کیا ہوتا۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر گھر آیا تو زری کے ساتھ ہی مریم اور اماں کو بیٹھے باتیں کرتے دیکھا۔
ہادی زری کی گود میں بیٹھا کھیل رہا تھا۔
زری نے اماں سے بھی معافی مانگی تھی۔اور زیادہ اس نے پیچھلی باتیں نہیں دہرائی
اماں نے بھی کہا تھا کہ جو تمہیں ٹھیک لگا تم نے وہی کیا اس میں معافی مانگنے والی کوئی بات نہیں ہے۔
دبیر نے وہاں بیٹھے سب لوگوں کو سلام کیا اور زری کو کمرے میں آنے کا کہا۔
جس نے منہ بسوڑتے دبیر کو دیکھا تھا۔
مریم نے ہادی کو زری سے لیا اور اسے کمرے میں بھیجا جس کا ارادہ تو نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کمرے میں جائے گی۔
زری اُٹھ کر کمرے کی طرف چلی گئی تھوڑی دیر بعد فاز بھی اماں کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔
اماں نے اس کی بھی اچھے سے کلاس لی تھی کہ وہ یہاں کیوں نہیں آتا لیکن فاز نے اماں کو منا لیا تھا۔
کیا ہے؟
زری نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
تمیز سے بات کرو شوہر ہوں میں تمھارا دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
جی شوہر صاحب کیا کام ہے آپ کو مجھ سے؟ زری نے دانت پیستے دبیر کو. دیکھتے کہا جو اب اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر رکھ چکا تھا۔
گڈ اب اچھی لگ رہی ہو۔ایسے ہی میری ساری باتیں مانا کرو۔
اور میرے لیے ایک اچھی سی شرٹ نکالو
دبیر نے بیڈ پر بیٹھتے کہا۔
زری نے جلدی سے اپنی نظریں دوسری جانب پھیر لیں تھیں۔
خود نکال لو
زری نے کہتے ہی وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن دبیر نے پھرتی سے اسے بازو سے دبوچتے خود کے قریب کیا۔
دبیر نے زری کو خود کے قریب کیا اور اسے الماری کی طرف لے گیا
اس کے کندھے پر تھوڑی رکھے زری کو شرٹ نکالنے کا کہا۔
جو دبیر کے قریب آنے پر بوکھلا گئی تھی دبیر کے پرفیوم کی خوشبو سے اسے اپنا دماغ ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
بھلا اتنی تیز خوشبو کون لگاتا ہے زری نے دل میں سوچا۔
تم ایک نمبر کے لوفر انسان ہو زری نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
ایک نمبر نہیں بلکہ دو نمبر کہو دبیر نے زری کے کان پر اپنے لب رکھتے کہا۔
زری جلدی جلدی اپنے ہاتھ چلانے لگی تھی کیونکہ وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ اگر اس نے شرٹ نہیں نکالی تو دبیر اسے نہیں چھوڑے گا۔
اس نے ایک بلیو کلر کی شرٹ نکالی۔
یہ لو اور مجھ سے دور رہ کر بات کیا کرو
زری نے دبیر کو شرٹ پکڑاتے نظریں چراتے کہا۔
جو شرٹ پہنے لگا تھا۔
کیوں. میرے قریب آنے پر تمہیں پیار ہو جائے گا؟ دبیر نے ایک آنکھ دباتے بے باکی سے پوچھا۔
کبھی نہیں زری نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
پیار تو تمہیں کب کا ہو چکا ہے زری میڈم بس تم بتانا نہیں چاہتی لیکن ایک دن تم خود اپنے ان خوبصورت لبوں سے اظہار کرو گی۔
دبیر نے زری کے پاس آتے اس کے ہونٹ کو سہلاتے گہرے لہجے میں کہا۔
آج میرا ارادہ باہر جاکر اپنی بیوی کے ساتھ ڈنر کرنے کا ہے تیار ہو جاؤ
دبیر نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر جانے لگا۔
یہ میرا حکم ہے دبیر نے مڑ کر کہا اور پھر کمرے سے نکل گیا۔
یہ میرا حکم ہے زری نے دبیر کی نقل اتارتے کہا۔پتہ نہیں کیا کچھ سوچتا رہتا ہے۔
زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور تیار ہونے چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞