No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ابتہاج کیا کرنا چاہتے ہو تم؟ سکینہ بیگم نے ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
کیا موم؟ ابتہاج نے حیرانگی سے پوچھا جبکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ سکینہ بیگم کس بارے میں بات کر رہی ہیں۔
تم رباب کو لندن کیوں لے کر جانا چاہتے ہو؟سکینہ بیگم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
آپ کو کیا لگتا ہے میں کیوں اُسے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں؟ ابتہاج نے الٹا سوال کیا۔
تم میرے بیٹے ہو ابتہاج اور میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم رباب کو اپنے ساتھ لندن کیوں لے کر جانا چاہتے ہو پہلے تمہیں وہ جاہل لگ رہی تھی پھر تم نکاح کے لیے راضی بھی ہو گئے اور خوشی خوشی نکاح بھی کر لیا اور اب تم رباب کع اس لیے وہاں لے کر جا رہے کیونکہ وہاں پر تمہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے اور تم جو مرضی اُس بےچاری کے ساتھ سلوک کرو۔لیکن میری ایک بات یاد رکھنا ابتہاج اگر تم نے رباب کو زرا سی بھی تکلیف دی تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔سکینہ بیگم نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
موم آپ لوگ چاہتے تھے کہ میں اُس لڑکی سے نکاح کر لوں میں نے کر لیا اور اب وہ میری بیوی ہے میرا جو دل کرے گا میں وہ کروں گا اور آپ مجھے روک نہیں سکتی ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نوال جو ابتہاج اور سکینہ بیگم کو افطاری کے لیے بلانے آئی تھی ابتہاج کے منہ سے اپنی آپی کے لیے کیے گئے انکشاف سن کر وہی شوکڈ کھڑی تھی لیکن ابتہاج کے باہر آنے سے پہلے ہی وہاں سے چلی گئی تھی۔
سکینہ بیگم کو اب رباب کی فکر ہو رہی تھی۔لیکن وہ بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ان کو اپنے بیٹے کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
💜 💜 💜 💜
ہیزام کمرے میں داخل ہوا تو عدن میڈم نے رو رو کر اپنی حالت خراب کی ہوئی تھی۔ہیزام جلدی سے عدن کے پاس آیا۔
عدن موبائل فون ٹوٹنے پر تم اتنا رو رہی ہو؟ ہیزام نے پریشانی سے کہا اسے عدن کا رونا تکلیف دے رہا تھا وہ تو اسے ہنستی مسکراتی اچھی لگتی تھی۔
تم نے میرا موبائل توڑ دیا۔عدن نے ہچکی لیتے ہیزام کو ہی شکایت لگاتے کہا۔
جو ناچاہتے ہوئے بھی عدن کی بات پر ہنس پڑا تھا۔
میں جانتا ہوں کہ میں نے یہ موبائل توڑا ہے تم فکر مت کرو میں تمہیں یہی موبائل ٹھیک کروا کر دوں گا تم پہلے رونا بند کرو ہیزام نے ٹشو عدن کے سامنے کرتے کہا۔
کیا یہ ٹھیک ہو سکتا ہے؟ عدن نے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل ہو سکتا ہے بس تھوڑا وقت لگے گا۔اور تم اُٹھ کر منہ دھو کر آؤ افطاری کا وقت ہونے والا ہے۔ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
اوکے لیکن کیا سچ میں میرا موبائل ٹھیک ہو جائے گا؟ عدن نے وہاں سے اٹھتے ایک بار پھر ہیزام کی طرف دیکھتے کنفرم کرنا چاہا۔
میں نے کہا نا ٹھیک ہو جائے گا مجھ پر یقین رکھو ہیزام نے کہا۔
مجھے تم پر ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں ہے تمہاری وجہ سے میرے موبائل کی یہ حالت ہے اب میں اتنے دن اپنے موبائل کے بغیر کیسے گزاروں گی۔عدن اپنے موبائل کو دیکھتے کہا۔
پھر سے اس کے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے۔
اللہ کی بندی بس ایک دن انتظار کر لو ایک دن میں تمھاری کوئی بھی میٹنگز مس نہیں ہوں گی۔ہیزام نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
تم مجھے پر اب طنز کے تیر چلا رہے ہو عدن نے سو سو کرتے کہا۔
شکر ہے تم سمجھ گئی ورانہ مجھے تو لگ رہا تھا۔اسے بھی تم اپنی تعریف سمجھو گی اور جلدی سے حلیہ درست کرکے باہر آجاؤ ہیزام نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
کھڑوس انسان تمہیں تو میں دیکھ لوں گی اتنے میرے اس انسان کی وجہ سے آنسو ضائع ہو گئے ہیں۔عدن نے واشروم کی طرف جاتے خود سے کہا۔
💜 💜 💜 💜
موم ہم لاہور کس خوشی میں جا رہے ہیں؟ مجھے بلکل بھی انٹرسٹ نہیں ہے وہاں جانے میں عجیب لوگ ہوتے ہیں وہاں کے ماہا نے اپنی ماں کو دیکھتے ناک منہ مڑورتے کہا۔
اپنا منہ بند کرو اور خاموشی سے لاہور جانے کی تیاری پکڑو تمھارا باپ تو ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور جانتی بھی ہو کتنی مشکل سے میں نے تمہیں اور تمھارے بھائیوں کو پالا ہے۔اب تو تمھارے باپ کا بزنس بھی سارا ڈوب گیا ہے اس سے پہلے ہمارے پاس جو تھوڑے بہت پیسے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں ہمیں لاہور جانا چاہئیے۔
کم از کم تمھارے نانا نانی ہمیں اپنے پاس تو رکھ لیں گئے۔تمھارے بھائی کو کتنی بار کہا کہ اپنے باپ کے بزنس پر دھیان دے لیکن اُس نے جو تھوڑا بہت ٹھیک سے چل رہا تھا اُس کا بھی ستیاناس کر دیا اور اب نوبت یہ آگئی ہے کہ مجھے دوبارہ لاہور جانا پڑ رہا ہے۔غزالہ بیگم نے ماہا کو دیکھتے کہا۔
اور موم آپ کو کیا لگتا ہے آپ کے ابو جان ہاتھ میں پھول لیے آپ کے انتظار میں کھڑے ہوں گئے؟
وہ لوگ تو ہماری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتے مایا نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
میں اپنے ماں باپ کو منا لوں گی تم لوگ بس جانے کی تیاری کرو عزالہ نے کہا تو ماہا منہ بسوڑتے وہاں سے چلی گئی۔
💜💜💜💜
کہاں جانے کی تیاری چل رہی ہے؟ حاکم نے اپنی تین سال کی چھوٹی بیٹی کو گود میں اٹھائے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
بھائی موم نے آپ کو نہیں بتایا کہ ہم نانو کی طرف جا رہے ہیں ماہا نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
جس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔
میں نے منع کیا تھا نا کہ ہم وہاں نہیں جائیں گئے۔حاکم سے غصے سے کہا۔
کیوں وہاں جانے میں کیا مسئلہ ہے؟ عزالہ نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
موم مجھے نوکری مل. گئی ہے اور میری سیلری اتنی ضرور ہے کہ ہم سب کا خرچہ پورا ہو جائے تو وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ حاکم نے سرد لہجے میں پوچھا۔
تمہیں لگتا ہے کہ تمھاری تھوڑی سی سیلری میں ہم سب کا گزارا ہو سکتا ہے؟ عزالہ نے پوچھا ۔
موم اچھے سے گزارا ہو سکتا ہے اگر آپ لوگ عیاشی کی زندگی سے باہر آئے تو آپ کو پتہ چلے۔
اور میری بیٹی اور میں کہی نہیں جا رہے آپ لوگوں نے جانا ہے تو خوشی سے جائیں کیونکہ میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں اور میں کما کر کھا سکتا ہوں حاکم نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
ہم لوگ تو یہاں سے چلے جائیں گئے لیکن اپنی بیٹی کو کس کے پاس چھوڑ کر جاؤ گئے؟ تمھاری بیوی تو چلی گئی اپنے کسی عاشق کے ساتھ اور اپنی بیٹی کو ہمارے سر پر ڈال گئی
عزالہ نے نحوست سے کہا۔
موم آج کے بعد اگر آپ نے اُس لڑکی کا میرے سامنے نام لیا یا میری بیٹی کے بارے میں کچھ بھی ایسا ویسا بولا تو آپ اپنے بیٹے کو بھی کھو دیں گئے۔اور میں اپنی بیٹی کو سنبھال لوں گا۔آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حاکم کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
پتہ نہیں یہ لڑکا کس پر چلا گیا ہے۔غزالہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
حاکم اپنے کمرے میں آیا اور فون نکال کر صاقب صاحب کو کال کی۔
کیسے ہو بیٹا گھر میں سب ٹھیک ہے؟ صاقب صاحب کے پیار سے پوچھا۔
جی ماموں جان میں ٹھیک ہوں لیکن موم آپ لوگوں کی طرف آرہی ہیں حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
کچھ وقت کے لیے صاقب صاحب خاموش ہو گئے تھے۔تم نہیں آرہے؟ صاقب صاحب نے تھوڑی دیر بعد پوچھا۔
نہیں ماموں جان میں یہی رہو گا۔مجھے یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن آپ اپنی بہن کی عادت سے اچھی طرح واقف تو ہیں۔تھوڑے میں وہ گزرا نہیں کر سکتی۔اور اب جب اُ کو پیسوں کی ضرورت ہے تو باپ یاد آگیا ہے۔
حاکم نے گہرا سانس لیتے کہا۔
لیکن بیٹا تم اکیلے پیچھے کیا کرو گئے کیسے اپنی بیٹی کو سنبھالو گے تم بھی ساتھ آجاؤ صاقب صاحب نے پریشانی سے کہا۔
نہیں. ماموں جان میں یہی ٹھیک ہوں اور اس طرح وہاں جا کر رہنا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔
حاکم نے کہا۔
صاقب صاحب کو پیچھے سے اسکی بیٹی کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔
صاقب یہ گھر کسی اور کا نہیں بلکہ تمھارے نانا اور ماموں کا ہے تمہیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔اور دادا جان بھی پریشان رہے گئے تم جانتے ہو کہ ایک تم ہی تو ہو جس سے وہ مل کر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی سے مل رہے ہیں بےشک عزالہ ہم سے اتنے سال نہیں ملی لیکن تمھاری وجہ سے ہمیں اُس کی خیریت بھی معلوم ہوتی رہتی تھی۔تم ہم سب کے لیے بہت عزیز ہو اور بیٹا تم بھی ساتھ آجاؤ صاقب صاحب نے پیار سے کہا۔
ماموں جان دل نہیں مان رہا اور آپ فکر مت کریں میں کچھ نا کچھ مینج کر لو گا۔آپ نانا جان کو بتا دیں کہ موم آرہی ہیں۔اور اپنا خیال رکھیے گا میری بیٹی رو رہی ہے تو میں بعد میں بات کرتا ہوں۔حاکم نے کہتے موبائل کال کاٹ دی۔
صاقب صاحب کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی تھی وہ جانتے تھے کہ حاکم اپنی ماں سے بلکل الگ اور خوددار بھی ہے۔
💜💜💜💜
افطاری کے بعد سب لوگ نماز پڑھنے چلے گئے تھے۔اور اب سب ہال میں بیٹھے باتیں کر ہے تھے۔
ابتہاج بیٹا میں نے تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔
جہانگیر صاحب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا جسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔
جی ڈیڈ؟ ابتہاج نے سیدھے ہوتے پوچھا۔
میں نے سوچا ہے کہ میں لندن واپس چلا جاتا ہوں اور تم یہی اپنے نانا نانی کے پاس رہو اتنے سالوں بعد آئے ہو اور پھر واپس جا رہے ہو۔اور رباب بیٹی کا بھی سب کو چھوڑ کر اتنی دور جانا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔بے شک اُسے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اب ہم نے یہی رہنا ہے تو تم یہاں کے بزنس پر دھیان دو وہاں کا میں دیکھ لوں گا اور مجھے وہاں ایک دو کام بھی ہیں۔
جہانگیر صاحب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
لیکن ڈیڈ آپ کو جانے کی کیا ضرورت ہے میں جا تو رہا ہوں ابتہاج کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اچانک اس کے باپ کو ہو کیا گیا ہے۔
نہیں بیٹا تم یہی پر رہو اور ہاں ابو جان میں نے ساتھ والا گھر صاف کروا لیا ہے ہم لوگ کچھ دنوں تک وہاں شفٹ ہو جائیں گئے۔جہانگیر نے دادا جان کو دیکھتے کہا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا اور گھر بھی ساتھ ہے تو بچے آسانی سے آ جا سکتے ہیں۔دادا جان نے خوشی سے کہا کیونکہ ان کے ساتھ والا گھر جہانگیر اور سکینہ نے بہت پہلے خرید لیا تھا۔
ابتہاج کو غصہ تو بہت آرہا تھا لیکن خاموش رہا کیونکہ اس کے باپ نے فیصلہ کر لیا تھا تو اب بدلنا مشکل تھا۔
سب سے زیادہ خوشی تو نوال کو ہوئی تھی اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو مسکرا پڑے تھے۔
افطاری کے بعد نوال اپنے باپ کے پاس گئی تھی۔
میری بیٹی کیسی ہے؟ جہانگیر صاحب نے نوال کو دیکھا تو کتاب کو سائیڈ پر رکھتے مسکرا کر پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں ڈیڈ لیکن مجھے ایک بات پریشان کر رہی ہے نوال نے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
کیا بات میری بیٹی کو تنگ کر رہی ہے بتاؤ مجھے جہانگیر صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ڈیڈ آپ سب لوگ یہاں پر شفٹ ہو گئے ہو تو کیا آپی اور بھائی کا لندن جانا ضروری ہے؟ نوال نے جہانگیر صاحب کو دیکھتے پوچھا۔
بیٹا وہ کام کے سلسلے میں وہاں جا رہا ہے جلدی واپس آجائے گا۔جہانگیر صاحب نے کہا۔
ڈیڈ ہم نے عید کے بارے میں سب کزنز نے بہت کچھ سوچا تھا اور اب آپی جا رہی ہیں میرا اُن کے بغیر دل نہیں لگے گا۔آپ پلیز کچھ کریں نوال نے منہ پھلائے کہا۔
اب میری بیٹی نے اتنے پیار سے کچھ مانگا ہے تو میں منع تو نہیں کر سکتا نا تم فکر مت کرو وہ دونوں یہی رہیں گئے اور اب پریشان بھی مت ہونا جہانگیر صاحب نے مسکرا کر کہا۔
تھیک یو ڈیڈ آئی لو یو نوال نے خوشی سے جہانگیر صاحب کے سینے پر سر رکھتے کہا۔
لو یو ٹو مائی ڈول جہانگیر صاحب نے مسکراتے کہا۔
اور اب جو فیصلہ انہوں نے سب کے سامنے سنایا تھا اُسے ابتہاج تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔
ابتہاج وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ رباب بھی خوش تھی کہ اب اسے سب لوگوں کو چھوڑ کر جانا نہیں پڑے گا۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج نے دعا کو اپنے کمرے میں کافی لانے کا کہا تھا لیکن اس نے رباب کو کہہ دیا تو مجبوراً رباب کو ابتہاج کے کمرے میں کافی لانی پڑی تھی۔
رباب نے دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہوئی کمرا خالی تھا۔ابتہاج شاید ٹیرس پر تھا۔
رباب سائیڈ ٹیبل پر کافی رکھ کر جانے لگی جب ابتہاج کی آواز آئی۔
رکو ابتہاج کہتا ہوا چل کر رباب کے قریب آیا۔
رباب نے ابتہاج کی طرف دیکھا تو ایک پل کے لیے اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔
تم میں ایسا کیا ہے؟ جو مجھے تم سے دور ہونے نہیں دے رہا؟ کیوں تم میرے دماغ پر چھائی ہوئی ہو؟ کیوں بار بار میرے سامنے آتی ہو؟ میں تم سے نفرت کرنا چاہتا ہوں لیکن کر نہیں پا رہا میں ایک پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن میرے گھر والوں نے تمہیں میرے سر پر ڈال دیا۔
اور تمھاری یہ معصوم شکل ابتہاج نے رباب کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے کہا۔
مجھے کچھ بھی ایسا کرنے سے روک دیتی ہے جس سے تمہیں تکلیف پہنچے کیا ہے تم میں؟ ابتہاج نے اپنی دو انگلیوں سے رباب کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے پوچھا۔
رباب کو سامنے کھڑا ابتہاج ویسا ہی لگ رہا تھا جو اسے پہلی بار چھت پر ملا تھا۔
میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ابتہاج نے کچھ دیر رباب کی سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے کہا اور اس کا بازو چھوڑ دیا۔
رباب نے بے یقینی سے ابتہاج کو دیکھا تھا۔
تو پھر آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا؟ کیا آپ کسی اور کو پسند کرتے ہیں؟ رباب نے اپنے آنسو کو باہر نکلنے سے روکا تھا اور کپکپاتے لہجے میں پوچھا۔
میں تمہیں جواب دینے کا پابند نہیں ہوں میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں میری نظروں کے سامنے مت آنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ابتہاج نے سرد لہجے میں کہا۔
رباب کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی ابتہاج ہے جو اس سے پیار سے بات کر رہا تھا۔
اور ہاں میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں جو تم سے تو زیادہ ہی پڑھی لکھی اور خوبصورت بھی۔ابتہاج نے چہرے پر جلانے والی مسکراہٹ لاتے کہا۔
رباب کے آنسو آنکھوں سے نکل آئے تھے۔ابتہاج نے رباب کے آنسوؤں سے نظریں چرائی اور رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا اس نے رباب سے جھوٹ بولا تھا اس کی زندگی میں کوئی لڑکی نہیں تھی۔ناجانے ابتہاج کیا چاہتا تھا اور اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
رباب نے اپنے آنسو صاف کیے اور وہاں سے باہر بھاگ گئی ابتہاج نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔
پیچھے ابتہاج نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
💜 💜 💜 💜
تمہیں ہوش بھی ہے کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے مجھے مصیبت میں ڈال کر خود تم آرام سے بیٹھے پاپ کارن کھا رہے ہو ماریہ نے غصے سے ریحان کو دیکھتے کہا۔
تمہیں بھی چاہیے تع لے لو اس میں اتنا غصہ کرنے والی کون سی بات ہے ریحان نے عام سے لہجے میں کہا۔
تم میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی ماریہ نے غصے سے کہا۔
ریحان نے اچانک ماریہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے قریب بیٹھایا ماریہ ایک دم سٹپٹا سی گئی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو میرا ہاتھ ماریہ نے اپنا ہاتھ چھڑواتے کہا۔
بتاؤ کیا ہوا ہے؟ ریحان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ دادا جان میری اور ہیزام کی شادی کا سوچ رہے ہیں ماریہ نے کہا۔
اوہ تو تم یہ سن کت پریشان ہو گئی؟ ریحان نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
نکاح پر نکاح نہیں ہو سکتا مسٹر اور ہیزام تم سے تو بہتر ہی ہے۔
ماریہ نے غصے سے کہا۔لیکن وہ ریحان کے غصے کو ہوا دے گئی تھی۔
تمہیں میرے علاوہ سب مرد اچھے ہی لگتے ہیں۔آئندہ اگر میں نے تمھارے منہ سے کسی غیر مرد کا ذکر سنا تو تمھاری زبان کاٹنے میں ایک سکینڈ بھی نہیں لگاؤں گا۔ریحان نے ماریہ کے جبڑے کو چھوڑتے سرد لہجے میں کہا۔
جس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
تم بہت برے ہو ماریہ نے بے بسی سے کہا۔
تم نے بنایا ہے اور فکر مت کرو تمھارے نام کو میں نے اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا ہے ریحان نے ماریہ کے قریب ہوتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے مزید کہا۔اور میرے مرنے کے بعد ہی تم مجھ سے چھٹکارا پا سکتی ہو۔ریحان نے گہرے لہجے میں کہا اور وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
ماریہ ابھی بھی وہی بیٹھی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
نانو جان آج میں آپ کے ساتھ سو گی دعا نے پیار سے نانو کے کندھے پر سر رکھتے کہا۔
ارے بیٹا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے نانو نے پیار سے کہا۔
کیوں دادی جان اسے اپنے کمرے میں سکون نہیں ہے جو یہاں آپ کے پاس آکر سو رہی ہے عمیر نے دعا کو گھورتے ہوئے کہا۔
تجھے کیا مسئلہ ہو رہا ہے اگر میری بچی میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو؟ دادی جان نے گھورتے ہوئے کہا۔
دادی جان یہ کہہ رہا تھا کہ آپ نے اسے کبھی اتنا پیار نہیں کیا جتنا آپ دعا سے کرتی ہیں۔براق نے چائے کا سیپ لیتے مزے سے کہا وہ چائے بہت کم پیتا تھا لیکن یہ چائے زوہا نے بنائی تھی تو کیسے نا براق چائے کو پیتا۔
یہ تجھے کس نے کہہ دیا مجھے تو اپنے سارے بچے بہت عزیز ہیں تم لوگ ہی تو دادی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو دادی جان نے بانہیں پھیلاتے عمیر کو دیکھتے کہا۔
جو مسکرا کر دادی کے گلے جا لگا تھا سکینہ بیگم اور نمرہ دادی پوتے کا پیار دیکھ کر ہنس پڑی تھیں۔
یہ رونے کی آواز کہاں سے آرہی ہے؟ نوال نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
ہاں ابھی آئی ہے میرے خیال سے باہر کوئی آیا ہے اللہ خیر کرے راشدہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا۔اتنے میں ہیزام کمرے میں داخل ہوا
دادی جان عزالہ پھپھو آئی ہیں اور بہت رو رہی ہیں۔ہیزام نے سنجیدگی سے دادی جان کو دیکھتے کہا جس کے چہرے پر عزالہ کا نام سنتے ہی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔
