Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

فاز سٹڈی روم میں بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پی رہا تھا۔ اسے ناجانے مریم کی بات کیوں اتنی بری لگی تھی۔
وہ فاز کو اس طرح کا انسان سمجھتی ہے جو اُسے نیچا دکھانے کے لیے اس حد تک چلا جائے گا۔
آج تو سگریٹ بھی اسے سکون نہیں دے رہے تھے۔
اب اپنے غصے کو کسی طرح تو کم کرنا تھا اس لیے وہ تہہ خانے کی طرف گیا تھا اسلم وہاں کرسی پر بندھا ہوا بیٹھا تھا ۔
اسلم کو دیکھ کر فاز کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ
فاز اسلم کے پاس گیا جو نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا اور اس نے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا ۔
اسلم جو نیم بے ہوش تھا پوری طرح ہوش میں آگیا۔بند تہہ خانے میں فاز کے تھپڑ کی آواز گونجی تھی ۔
کون ہو تم؟ اسلم نے فاز کو دیکھتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔اسے لگ رہا تھا اس کا جبڑا ہل گیا ہے۔
تجھے ایسی کون سی سزا دی جائے جس سے مجھے بھی سکون مل جائے فاز نے اسلم کے سوال کو نظر انداز کرتے سوچنے والے انداز میں کہا ۔
ہاں تجھے میں پانچ دن تک زندہ رکھوں گا ۔
لیکن ان پانچ دن کا ایک ایک سیکنڈ تجھ جیسے کمینمے انسان پر اتنا بھاری بنا دوں گا کہ تو خود اپنے منہ سے موت مانگے گا لیکن تجھے موت نہیں دوں گا ۔
فاز نے نفرت بھرے لہجے میں کہا اور اسلم کے سامنے چھوٹا سا میز لاکر رکھا اسلم آنکھیں پھاڑے فاز کو دیکھ رہا تھا۔
فاز نے اسلم کا ایک ہاتھ کھولا اور اُسے میز پر رکھ کر تیز دھار والا چاقو پکڑا ۔
اسلم کی خوف کے مارے آنکھیں باہر آگئی تھیں۔
یہ کیا کرنے والے ہو تم؟ اسلم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
ابھی پتہ چل جائے گا اسلم میاں فاز نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اور اسلم کی ایک انگی کاٹ دی پورے تہہ خانے میں اسلم کی درد ناک چیخے گونجی تھیں ۔
فاز نے اس پر بس نہیں کیا اس کا دوسرا ہاتھ بھی میز پر رکھ کر دوسرے ہاتھ کی بھی انگلی کاٹ دی ۔
اسلم بنا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا۔خون میز سے ہوتا ہوا زمین پر گر رہا تھا۔
ویسے تو پانچ دن سے پہلے بھی مر سکتا ہے یہ تو اب تجھ پر ڈیپنڈ کرتا ہے کب تک تکلیف کو برداشت کرتا ہے۔
لیکن ابھی بھی کچھ کمی محسوس ہو رہی ہے مجھے فاز نے اسلم کی چیخوں کی پرواہ کیے بغیر خود سے کہا۔
یاد آیا کہاوت ہے نا ایک جلے پر اگر نمک چھڑکو تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے میں اگر اس پر نمک کی بجائے مرچیں چھڑک دوں
تو کیا خیال ہے تمھیں زیادہ تکلیف ہو گی ۔
فاز نے اسلم کو دیکھتے معصومیت سے پوچھا۔
جس کی چیخوں میں اب کمی آگئی تھی لیکن ابھی بھی وہ کانپ رہا تھا۔
کیا یاد کرو گئے مرچوں والے آئیڈیا کو کسی اور پر استعمال کر لوں گا ۔
تم. ابھی اندھیرے کو انجوائے کرو فاز کہتے ہی وہاں سے چلا گیا اور تہہ خانے کا دروازہ بند ہوتے ہی ہر طرف اندھیرا چھا گیا تھا۔
💞💞💞💞💞
اور اب فاز قدرِ بہتر محسوس کر رہا تھا۔لیکن مریم کی بدقسمتی جو اس کے سامنے آگئی۔
مجھے گھر جانا ہے مریم کے فاز کو دیکھتے دو ٹوک انداز میں کہا۔
تمھیں بھی تھوڑا بہت سبق سکھانا چاہیے تاکہ تھوڑی عقل تم میں بھی آجائے۔
تمھاری خالہ گاؤں گئی ہیں ضروری کام سے اور میں نے سارے ملازمین کو چھٹی دے دی ہے جو کچھ میں کہوں گا وہ تمہیں بنانا ہے۔
اور مسز ابھی تک میں نے آپ کی غلطی کو معاف نہیں کیا تو میرے سامنے اپنی زبان چلانے سے تھوڑا پرہیز کریں۔
فاز نے ماتھے پر تیوری لیے مریم کو دیکھتے کہا جو فاز کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کی بات مانو گی؟
مریم نے سنجیدگی سے فاز کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جو ہلکا سا مسکرا کر مریم کے قریب آیا۔
مسز ابھی تک میں نے آپ سے اپنا حق نہیں لیا اگر آپ نے میری بات نا مانی تو رات کو تیار رہنا اور تم مجھے روک بھی نہیں سکتی۔
فاز نے ہلکا سے مریم کے کان کو اپنے لبوں سے چھوا اور پچھے ہٹ گیا ۔
آج تم کھانا بناؤ گی کل. پورے پیلس کی اچھے سے صفائی کرو گی جب بزی رہو گی تو فضول کے خیالات تمھارے چھوٹے سے دماغ میں نہیں آئے گے۔
اور تمھارے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگ رہا ہے تم میری پہلی والی بات پر عمل کرو گی تو لگ جاؤ کام میں
فاز نے مریم کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
پیچھے مریم کا دل کیا کہ اُس کھانے میں زہر ملا دے تاکہ ساری پریشانی ختم ہو جائے
لیکن ابھی اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اس لیے خاموشی سے کچن کی طرف چلی گئی۔
💞💞💞💞💞
مصطفیٰ شاہ میر کی ریسیپشن کے فوراً بعد تم رانی کو غائب کر دو گے۔دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا ٹھیک ہے
کیا آپ جانتے ہیں پاشا بھی آرہا ہے۔مصطفیٰ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ہاں جانتا ہوں۔
لیکن میں نے سوچا ہے میں شاہ میر کو ایک موقع دوں گا۔
دبیر نے اپنی کنپٹی سہلاتے ہوئے کہا ۔
کیا؟ بھائی آپ جانتے بھی ہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ مصطفیٰ نے بے یقینی سے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اگر وہ سدھر جاتا ہے تو اچھی بات ہے دبیر نے کہا ۔
آپ کا دل سچ میں بہت بڑا ہے لیکن اس کرم نوازی کی وجہ کہی زرتشہ تو نہیں؟
مصطفیٰ نے دبیر کو دیکھتے پوچھا ۔
ایسا کچھ نہیں ہے مصطفیٰ بس میں اُسے ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔
دبیر نے کہتے ہی کھڑکی کی طرف رخ موڑ لیا تھا ویسے تو وہ اپنے تاثرات چھپانے میں ماہر تھا۔لیکن آجکل زری کے معاملے میں اس کے ساتھ عجیب ہی ہو رہا تھا۔
مصطفیٰ نے مزید کچھ نہیں پوچھا تھا اُسے شاید اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔
مصطفیٰ کے جاتے ہی دبیر نے گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
💞💞💞💞💞
عباس انسانوں سے زیادہ تو اس گھر میں کتے ہیں ہر جگہ وہی نظر آتے ہیں عمر نے جھنجھلاتے ہوئے عباس کو کہا جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا ۔
کتے کم از کم وفادار تو ہوتے ہیں نا
عباس کی بات پر عمر خاموش ہو گیا ۔
تم حویلی گے تھے جس سے ملنا چاہتے تھے کیا اُس سے مل لیا تم نے؟
عمر نے عباس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں اُسے تو نہیں مل سکا لیکن ایک حسینہ سے بات چیت ہو گئی تھی آخری بات عباس نے دل میں کہی۔
تو دوبارہ اب کب جاؤ گے؟ عمر نے پوچھا
اب روبرو ہونے کا وقت آگیا ہے عمر اب بہت جلد ایک دوسرے کے سامنے ہونگے بہت ہوا یہ چھپن چھپائی کا کھیل عباس نے سنجیدگی سے کہا۔
جیسے تمھیں بہتر لگے عمر نے کہا اور اپنے موبائل فون میں بزی ہو گیا۔
عباس کچھ سوچ کر مسکرا پڑا تھا ۔
💞💞💞💞💞
زری بوجھل دل کے ساتھ اپنے سامنے پڑے گلابی جوڑے کو دیکھ رہی تھی جو شاہ میر نے اس کے لیے خریدا تھا ۔
اس نے رخصتی کا فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن اس کا دل خوش نہیں تھا اس کی نظر اپنی کلائی کی طرف گئی جہاں شاہ میر نء بریسلٹ پہنایا تھا لیکن اب کلائی خالی تھی۔
یہ کہاں گیا؟
زری نے پریشانی سے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا لیکن بریسلٹ کہی نہیں تھا ۔
کہی گر گیا ہو گا ۔
اگر شاہ میر نے پوچھا تو اُسے میں کیا جواب دوں گی؟ زری نے پریشانی سے سوچا
چھت پر گرا ہو گا ۔زری کو یاد آیا کہ وہ زیادہ چھت پر ہی جاتی ہے تو وہی ہو گا ۔
زری چارپائی سے اٹھی اور چھت کی طرف چلی گئی۔
چھت پر جاکر اس نے ہر طرف دیکھا لیکن بریسلٹ کہی نہیں تھا۔
اسے ڈھونڈ رہی ہیں آپ پیچھے سے آتی دبیر کی آواز ناچاہتے ہوئے بھی زری کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی ۔
شاید چھت پر آکر اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی وہ ضرور آئے گا۔
زری نے دبیر کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ سنجیدہ تھا ۔
زری نے دبیر کے ہاتھ میں پکڑے بریسلٹ کو دیکھا جو سیم ویسا ہی تھا جیسا شاہ میر نے زری کو دیا تھا ۔لیکن یہ شاہ میر کا بریسلٹ نہیں تھا۔
رات جب زری سو رہی تھی تو دبیر اس کے کمرے میں گیا تھا اور اس کے ہاتھ سے بریسلٹ اتار کر جیسے آیا تھا ویسے ہی باہر چلا گیا اس نے زری کے چہرے کی طرف نظر بھر کے نہیں دیکھا تھا وہ جانتا تھا اگر وہ غور سے اسے دیکھ لیتا تو اس کا واپس جانا مشکل ہو جاتا۔
جی لیکن یہ آپ کو کہاں سے ملا زری نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی دبیر کے آگے کرتے ہوئے پوچھا یہی چھت پر گرا ہوا تھا مجھے لگا شاید آپ کا ہی ہو گا زیادہ آپ ہی چھت پر آتی ہیں۔
دبیر نے بریسلٹ کو زری کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا۔
دبیر کے ہاتھ کی انگلیاں زری کی ہتھیلی کے ساتھ ٹچ ہوئی تھی ۔دبیر کی نظریں تو زری کے چہرے کی طرف تھی جس نے گھبرا کر جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور اپنے بریسلٹ کو پہنے لگی۔
لیکن اس کا لاک اس سے بند نہیں ہو رہا تھا۔
میں کر دیتا ہوں دبیر نے شاید زری سے پوچھا نہیں تھا بلکہ اُسے بتایا تھا اور آگے آکر زری کا نرم بازو اپنی گرفت میں لیا ۔
زری کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئی تھیں ۔اگر کسی نے اسے دیکھ لیا تو اس کی خیر نہیں
دبیر نے بہت پیار سے زری کا ہاتھ پکڑا تھا ۔
میں خود کر لوں گی زری نء کہا اور اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا لیکن دبیر کی گرفت اتنی بھی نرم نہیں تھی کہ زری آسانی سے اپنا ہاتھ باہر نکال سکے۔
دبیر کی ایک گھوری سے زری سہم گئی تھی۔
دبیر نے خود زری کو اپنا لایا ہوا بریسلٹ پہنایا اور پھر پیچھے کھڑا ہو گیا ۔
زری نے شکر ادا کیا تھا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی
آپ نے رخصتی کا اچھا فیصلہ کیا ہے دبیر نے کہا ۔
زری کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آگئی تھی۔
زندگی تو میری خراب ہو چکی ہےاب چاہے رخصتی کرکے شاہ میر کے پاس جاؤ یا رخصتی کے بغیر اس سے فرق نہیں پڑتا۔
زری نے مڑ کر دبیر کو. دیکھتے کہا جو ہلکا سا ہنس پڑا تھا اور ایک پل کے لیے تو زری دبیر کو دیکھ کر مبہوت رہ گئی تھی۔
لیکن جلد ہی اس نے اپنے سر کو جھٹکا اور ہوش میں آئی ۔
دبیر زری کے پاس آیا اتنا پاس کے زری اس کے پرفیوم کی خوشبو کو اچھے سے محسوس کر سکتی تھی ۔
کہتے ہیں جو ہوتا ہے ہماری بھلائی کے لیے ہوتا ہے آگے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے کسی کو نہیں پتہ لیکن ہمیں اتنا یقین ہونا چاہیے کہ اوپر والا کبھی بھی اپنے بندوں کے ساتھ برا نہیں کرتا۔کوئی نا کوئی اس میں حکمت ہوتی ہے ۔
آپ کو بھی یہی سوچنا چاہیے دبیر نے زری کی سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
یہ کیا بول کر گیا ہے زری نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود سے کہا اور خود بھی نیچے بھاگ گئی۔
💞 💞 💞 💞
پاشا مجھے تمھاری آفر قبول ہے رانا نے اپنی غصے پر قابو پاتے کہا۔
ارے یہ تو اچھی بات ہے۔
اور تمھارا بیٹا کیسا ہے؟
پاشا نے ذیشان کے بارے میں پوچھا۔
ابھی تک بے ہوش ہے لیکن جس نے بھی اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا ہے جان سے مار دوں گا اُسے میں
رانا نے سرد لہجے میں کہا۔
ذیشان نے حسیب کو ایک ضروری کام کے لیے بلایا تھا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ذیشان کو خون میں لت پت دیکھ کر شوکڈ ہو گیا تھا اور جلدی سے اسے ہسپتال لے گیا۔
رانا کو جب پتہ چلا تو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ پاشا کی آفر کو قبول کرلے گا ۔
اور اس وقت پاشا کے سامنے بیٹھا تھا۔
تم عباس کو جان نے مروانا چاہتے ہو؟
پاشا نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے پوچھا ۔
نہیں میں اُسے بے بس کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ میری بیٹی سے شادی کر لے۔
میں اُسے مارنا نہیں چاہتا مجھے وہ زندہ چاہیے ورنہ میری بیٹی اپنی جان لے لیں گی۔
رانا نے غصے سے کہا۔
پاشا ہنس پڑا تھا رانا عباس کو بے بس کرنا چاہتا تھا جو کہ ناممکن تھا یہ بات تو پاشا کو بھی معلوم تھی لیکن کچھ نہیں بولا اسے بس اپنے لیے رانا کی ضرورت تھی ۔تو رانا کی مدد کیوں کرتا۔
💞💞💞💞💞💞
ماضی……
اقرا کی بات نے عباس کو بہت بے چین کیا ہوا تھا۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے وہ سچ ہی کہہ رہی تھی ان کام ہی ایسا تھا جس میں بے قصور لوگوں کی بھی جان چلی جاتی ہے تھی ۔
لیکن اقرا کو تو وہ بچن سے پسند کرتا تھا۔اور اس وقت بھی عباس نے اقرا کے لیے ایک فیصلہ کیا۔جو شاید اس کے بھائی کے لیے نا قابلِ قبول تھا۔
عباس اقرا کے پاس گیا۔ جو بیڈ پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔
مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے عباس نے سنجیدگی سے اقرار کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جی کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اقرا نے کتاب سائیڈ پر رکھتے عباس کی طرف دیکھا۔
میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں عباس نے سیدھا اپنا مدعا بیان کیا
جس پر اقرا ہنس پڑی تھی۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ سے نکاح کے لیے تیار ہو جاؤں گی؟
اقرا نے عباس کے سامنے آتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
مجھ میں کمی کیا ہے وہ بتا دو
عباس نے بھی سنجیدگی سے پوچھا۔
میں بتا چکی ہوں اقرا کہہ کر وہاں سے جانے کے لیے مڑنے لگی کہ عباس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر رکا اور خود کے قریب کیا۔
جو اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پائی اور عباس کے سینے سے آ لگی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے اقرا نے گھورتے ہوئے عباس کو کہا جو مسکرا پڑا تھا۔
اگر میں سب کچھ چھوڑ دوں جو تمہیں پسند نہیں ہے تو کیا پھر بھی تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی؟
عباس نے اقرا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔جو آنکھیں پھاڑے عباس کو دیکھ رہی ہو جیسے عباس کی بات پر یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
میرے لیے آپ سب کچھ کیوں چھوڑ رہے ہو؟ اقرا نے بے یقینی سے پوچھا ۔
جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا اُسی دن تم پر دل ہار بیٹھا تھا ۔اس لیے تھوڑا خودغرض ہو رہا ہوں ۔
اور تمھارے لیے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں میں وعدہ کرتا ہوں ہم دونوں یہاں سے دور چلے جائے گے اس دنیا سے بہت دور
سب کچھ چھوڑ دوں گا۔
عباس نے اقرا کے چہرے پر آتی بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے کہا۔
اور اقرا کو ابھی بھی عباس کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ۔
اس وقت اقرا کو اپنا آپ بہت اہم محسوس ہوا تھا ۔
ٹھیک ہے اگر آپ نے یہ کام چھوڑ دیا تو میں آپ سے نکاح کر لوں گی۔
لیکن آپ بھی اپنے وعدے پر قائم رہیے گا ۔
اقرا نے رضا مندی دیتے ہوئے کہا ۔
تھینک یو سو مچ اقرا عباس نے خوشی سے اقرا کو گلے لگایا اور اتنی زور سے بھنیجا
کہ اسے اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
اوو سوری اب تم سے نکاح کے بعد ملوں گا
اپنا خیال رکھنا عباس نے پیار سے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
پیچھے ابھی بھی اقرا بے یقینی سے کھڑی تھی۔