Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47


اگلے دن فاز ایما کو وہاں سے لے گیا تھا
لیکن مریم نے اسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ لیا اور بنا سوچے سمجھے اُس کے پیچھے نکل پڑی تھی۔
اس نے ڈرائیور کو فاز کی گاڑی کا پیچھا کرنے کا کہا تھا۔یہ ڈرائیور بیسٹ کا وفادار تھا۔
فاز کی گاڑی سامنے ہی تھی لیکن اچانک کہی غائب ہو گئی۔
کیا ہوا انکل؟ مریم نے ڈرائیور کو گاڑی روکتے دیکھا تو پوچھا۔
بیٹا فاز صاحب کی گاڑی تو پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے لیکن مجھے لگتا ہے آپ ہو گھر واپس جانا چاہیے
ڈرائیور نے کہا۔
جی آپ ایسا کریں گاڑی گھر کی طرف موڑ لیں
مریم نے افسردگی سے کہا۔
پوری رات وہ روتی رہی تھی۔اسے لگا فاز اپنی غلطی پر شرمندہ ہو گا لیکن وہ تو مریم کو منانے کی بجائے اُس لڑکی کو گھر سے لے گیا تھا مریم کے دل میں فاز کے لیے مزید بدگمانی پیدا ہو گئی تھی۔
مریم سیٹ سے ٹیک لگائے انہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک جھٹکے سے گاڑی روکنے پر اس نے سامنے دیکھا۔
جہاں دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔
مریم نے ارد گرد دیکھا تو آس پاس اسے کوئی گاڑی چلتی ہوئی نظر نہیں آئی تھی۔
انکل یہ کون سا راستہ ہے اور آپ نے گاڑی کیوں روک دی؟
مریم نے پریشانی سے پوچھا۔
بیٹا اس راستے سے ہم نے جلدی گھر پہنچ جانا تھا۔اس لیے میں نے گاڑی کو اس راستے پر موڑ لیا تھا۔لیکن سامنے دو گاڑیاں راستہ بند کیے کھڑی ہیں۔
ڈرائیور نے بھی پریشانی سے کہا۔
اتنے میں گاڑی سے کچھ آدمی باہر نکلے جنہوں نے کالے رنگ کے سوٹ پہنے تھے۔
اور ڈرائیور کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔
مریم آنکھوں میں خوف لیے اُن آدمیوں کو دیکھ رہی تھی۔
بیٹا آپ باہر مت آنا۔
ڈرائیور کہتے ہی گاڑی سے باہر نکلا
مریم ڈرائیور اور کالے سوٹ میں ملبوس آدمی کو بات کرتے دیکھ رہی تھی۔
اس کی چھٹی حس نے کچھ غلط ہونے کا احساس دلایا تھا اسے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔
ڈرائیور اور اُن آدمیوں میں کوئی بحث شروع ہوئی تھی۔
مریم آنکھیں پھاڑے دونوں کو بات کرتا دیکھ رہی تھی۔
ایما آفندی کو ایک ایک پل کی خبر دے رہی تھی۔
جب فاز نے اسے کہا کہ وہ اسے کسی سیف جگہ لے کر جانا چاہتا ہے تو ایما نے آفندی کو کال کرکے بتا دیا تھا۔
اور اس کے آدمی فاز کی گاڑی پر نظر رکھ رہے تھے۔ان کے ساتھ ذیشان بھی تھا لیکن جب اس نے مریم کو گھر سے نکلتے دیکھا تو آفندی کوبکال کرکے کہا۔
اگر ہم فاز کی بیوی کو پکڑ لیں گے وہ خود ہمارے پاس آئے گا۔آفندی کو بھی اس کی بات ٹھیک لگی تھی اس لیے اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ فاز کا پیچھا مت کریں اور اُس لڑکی کو میرے پاس لے کر آئیں۔
جب آدمی گاڑی سے باہر آئے تو ذیشان اندر ہی بیٹھا تھا۔
ڈرائیور نے غصے سے آدمی کو کچھ کہا جس کے جواب میں اُس آدمی نے اپنی گن نکالی اور فضا میں گولی کی آواز گونجی۔
مریم نے ڈرائیور کو زمین بوس ہوتے دیکھا تو جلدی سے گاڑی سے باہر نکل آئی۔
اس کے قدموں سے کچھ فاصلے پر ڈرائیور کی لاش پڑی تھی جس کے دل کے مقام پر گولی لگی تھی۔
مریم اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے آنکھیں پھاڑے ڈرائیور کو دیکھ رہی تھی۔
خوف سے اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
زمین کچھ پل میں خون سے رنگین ہو گئ تھی۔
کیسی ہو ڈارلنگ؟
ذیشان نے مریم کو دیکھتے کمینگی سے کہا۔
مریم نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا۔
اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہی بے ہوش ہو کر زمین پر. گر گئی۔
ذیشان نے مریم کو دیکھا اور ہنس پڑا۔
💞 💞 💞 💞 💞
فاز جب گھر آیا تو اسے گاڑی کہی نظر نہیں آئی جو پہلے کھڑی ہوئی تھی۔
دبیر تو یہاں نہیں تھا اور مصطفیٰ ہو سکتا ہے وہ کہی گیا ہو لیکن اسے منع کیا تھا کہ کہی باہر مت جائے۔
فاز یہی اب سوچتے ہوئے گھر میں داخل ہوا تو اسے سامنے رانی اور مصطفیٰ نظر آگئے تھے۔
اگر تم یہاں ہو تو گاڑی کون لے کر گیا ہے؟ فاز نے مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا جو رانی سے کچھ بات کر رہا تھا۔
میں نہیں جانتا مصطفیٰ نے لاعلمی ظاہر کرتے کہا۔
مریم کہاں ہے؟ فاز نے رانی سے پوچھا۔
پتہ نہیں مجھے صبح سے نظر نہیں آئی۔ کل سے اپنے کمرے میں بند ہے وہی ہو گی رانی نے کہا۔
فاز بھاگتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف گیا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اس کا دل جو کہہ رہا تھا اُس بات پر وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہی سچ تھا۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟ مصطفیٰ نے فاز کو دیکھتے پوچھا جو دو دو سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے نیچے آرہا تھا۔
ہاں سب ٹھیک ہے تم دونوں گھر ہی رہنا باہر مت نکلنا۔
فاز نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سب خیریت ہے؟ یہ اتنے بوکھلائے ہوئے کیوں تھے؟
رانی نے باہر کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔جہاں سے ابھی فاز گیا تھا۔
رانی جی میں بھی آپ کے ساتھ کمرے سے ہی آرہا ہوں تع مجھے کیسے معلوم ہو گا؟ مصطفیٰ نے گھورتے ہوئے کہا۔
رانی نے اسے ڈبل گھوری سے نوازہ اور کچن کی طرف چلی گئی۔ لیکن مصطفیٰ کو لگ رہا تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ ہوا ہے۔اس لیے اوپر مریم کو دیکھنے گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
مریم کو اپنے چہرے پر پانی گرتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھو لیں۔
تو سامنے کرن اور ذیشان کھڑے مسکرا رہے تھے۔
آفندی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
مریم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینی چاہی لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
مریم نے سہمی ہوئی نظروں سے سامنے دیکھا تھا۔
اس کہ تو آواز ہی کہی گم ہوگئی تھی۔
کرن کو سامنے دیکھ کر اسے حیرت ضرور ہوئی تھی۔
آفندی چلتا ہوا مریم کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا۔
جو پیچھے کو کھسک گئی اور دیوار کے ساتھ جا لگی۔
آفندی مریم کو اسے دیکھ رہا تھا جیسے سالم نگل جائے گا مریم کو آفندی کی نظریں اپنے جسم کے آر پار جاتی محسوس ہو رہی تھیں۔
تو تمھاری بہن دبیر کی بیوی ہے۔
ویسے تم بھی کسی سے کم نہیں ہو آفندی نے اپنا ہاتھ مریم کے چہرے کی طرف بڑھاتے کمینگی سے کہا۔
جس نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا تھا۔
آفندی نے مسکرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔اور کھڑا ہو گیا۔
اس کا شوہر بھی یہی آئے گا۔اپنی بیوی کو بچانے اب دیکھو وہ کب تک یہاں آتا ہے۔لیکن آئے گا ضرور
اور اگر فاز ہمارے ہاتھ لگ گیا تو دبیر کو اپنے قابو میں کرنا مشکل نہیں ہو گا۔
اور ہاں تمہیں زرتشہ پر بہت غصہ تھا نا تو یہی سمجھو کہ یہ زرتشہ ہے جس نے تمھارے بھائی کو دھوکہ دیا۔
بس یہ مرنی نہیں چاہیے باقی جو تمہیں اس کے ساتھ کرنا ہے کر سکتی ہو۔
آفندی نے کرن کو دیکھتے کہا جو آفندی کی بات سن کر مسکرا پڑی تھی۔
آفندی نے کمرے سے نکلنے سے پہلے ذیشان کو بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا جو آفندی کے پیچھے ہی باہر نکل گیا۔
تمھاری بہن کی وجہ سے میرے بھائی کی جان گئی۔
کرن چلتی ہوئی مریم کے پاس گئی اور اس نے مریم کو بالوں سے دبوچتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
مریم کے منہ سے بے ساختہ سسکی نکلی تھی۔
زری اور اُس دبیر نے مل کر میرے بھائی کو. مارا ہے۔اور اب سکون سے دونوں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
کرن نے کہتے ہی ایک زور دار طمانچہ مریم کی گال پر رسید کیا۔
جو بے بسی کا پتلا بنے کرن کا ظلم برداشت کر رہی تھی۔
کرن نے ایک تھپڑ پر ہی بس نہیں کیا تھا بلکہ اُس وقت تک مریم کو مارتی رہی تھی جب تک اسکا دل نہیں بھر گیا تھا۔
مریم کے چہرے پر کرن کی انگلیوں کے نشان صاف واضع ہع رہے تھے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
اور ہونٹ پھٹنے کی وجہ سے اس میں سے خون بھی نکل رہا تھا۔
آگے تمھارا کیا حال ہونے والا ہے میں خود بھی نہیں جانتی لیکن تمہیں ایک سچ بتانا چاہتی ہوں۔
کرن نے تمسخرانہ انداز میں کرن کے ڈھلکتے سر کو اوپر کرتے کہا۔
جس لڑکی پر تم شک کر رہی تھی وہ ذیشان کی گرل فرینڈ ہے اُسی کے کہنے پر اُس نے سب ڈرامہ کیا تھا۔
کرن کہتے ہی ہنسنے لگی تھی۔
مریم نے بےبسی سے کرن کی طرف دیکھا۔
جس نے وہاں سے جاتے ہوئے ایک حقارت بھری نظر اس پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔
پیچھے مریم کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔کتنی بیوقوف تھی وہ کہ اس نے فاز پر شک کیا اور اب اس کی وجہ سے فاز بھی مصیبت میں پھنسنے والا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
فاز نے اپنے موبائل سے مریم کی لوکیشن معلوم کی اس نے جو مریم کو. لاکٹ دیا تھا اُس میں ٹریسر موجود تھا۔
فاز نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور وہاں سے چلا گیا۔
اس سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اسے دبیر کو بتا دینا چاہیے تھا۔لیکن اس نے نہیں بتایا۔
فاز اُس جگہ پر پہنچا جہاں پر مریم کی لوکیشن شو ہو رہی تھی۔
وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا۔فاز گاڑی سے باہر نکلا اور بھاگتے ہوئے اندر گیا ۔
ابھی اس نے ایک قدم ہی گھر کے اندر رکھا تھا کہ اسے اپنی گردن پر ایک سوئی چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔
آفندی گھر کے باہر لگے کیمرے میں فاز کو آتے دیکھ چکا تھا۔
ذیشان دروازے کے پیچھے ہی کھڑا تھا اس نے فاز کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن پر انجیکشن لگا دیا تھا۔
فاز نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھا اچانک ہی اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
فاز نے لڑکھڑاتے قدموں سے مڑ کر ذیشان کی طرف دیکھا جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
فاز کو ذیشان کا چہرہ بھی دھندلا سا نظر آرہا تھا وہ سامنے کھڑے انسان کو پہچانے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ وہی زمین پر گر گیا۔
ذیشان نے آدمیوں کو اشارہ کیا کہ وہ فاز کو اٹھا کر اندر لے جائیں آج بازی ہمارے ہاتھ میں ہے ذیشان نے مسکراتے ہوئے خود سے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
فاز نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولی۔لیکن ابھی بھی اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اس کے سر میں ہتھوڑے مار رہا ہے۔
آوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی لیکن وہ اپنے جسم کو حرکت نہیں دے پا رہا تھا۔
آفندی نے فاز کو آنکھیں کھولتے دیکھا تو چلتا ہوا اس کے پاس آیا ۔
تجھے کیا لگا؟ صرف دبیر ہی عقل مند ہے؟
آفندی نے ہاتھ میں پکڑے لوہے کے راڈ کو فاز کے جبڑے پر زور سے مارتے کہا۔
جو پہلے ہی بے ہوشی کا انجیکشن لگنے کی وجہ سے بے سدھ پڑا تھا۔
آفندی نے راڈ اتنی زور سے مارا کہ فاز کے جبڑے سے گوشت باہر نکل آیا اور اُس میں سے خون رسنے لگا۔
مریم سامنے کرسی پر بندھی بیٹھی تھی منہ پر بھی ٹیپ لگی تھی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔بہت کوشش کے بعد اب بے بسی سے بیٹھی فاز کو تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھی۔اور خود کو فاز کی اس حالت کا قصوروار سمجھ رہی تھی اور یہ سچ بھی تھا۔
دبیر نے ارحم بن کر مجھے دھوکا دیا۔اُسے لگا مجھے پتہ نہیں چلے گا۔
آفندی نے زور سے فاز کے پیٹ میں ٹھوکر مارتے غصے سے کہا۔
فاز کو تو ہوش نہیں تھا وہ آفندی کی آواز تو سن سکتا تھا لیکن اپنے جسم کو حرکت نہیں دے پا رہا تھا۔
جانتا ہے تیری خوبصورت بیوی کے ساتھ میں کیا کروں گا؟
آفندی نے فاز کو. بالوں سے پکڑتے اس کا منہ اوپر کرتے آنکھوں میں کمینگی لیے کہا۔
جس کا چہرہ پورا خون سے بھر گیا تھا۔
وہ دیکھ
آفندی نے مریم کے پیچھے کھڑے کچھ آدمیوں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ سب تیری نظروں کے سامنے تیری بیوی پر ٹوٹ پڑے گے
میرے صرف ایک اشارہ کرنے کی دیر ہے۔تم لائیو شو دیکھو گے۔
لیکن پہلا حق تو ذیشان کا ہے اُس کے بعد میرے آدمیوں کا
اور دیکھو تو سب کچھ تمھاری آنکھوں کو سامنے ہو گا لیکن تم کچھ کر نہیں سکو گے
آفندی نے افسردگی سے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
پھر خود ہی اپنی بات پر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
پھر جانتا ہے میں کیا کروں گا؟ تیری بیوی کی ویڈیو بنا کر میں کمینے دبیر کو سینڈ کروں گا۔
آج اُس کا طریقہ اُسی پر آزماتے ہیں۔
بہت شوق ہے نا اُسے ویڈیو بنانے کا آج وہ بھی پورا ہو جائے گا۔
آفندی نے جھٹکے سے فاز کے بالوں کو چھوڑتے ہوئے کہا۔
جو دوبارہ زمین پر جا گرا تھا۔
فاز نے کبھی خود کو اتنا بےبس محسوس نہیں کیا تھا جتنا آج خود کو کر رہا تھا
💞 💞 💞 💞 💞
فاز کی پاکٹ سے موبائل لینے کے بعد وہاں سے اٹھ گیا تھا۔اس نے دبیر کو کال کی۔
جس نے پہلی ہی بیل پر کال اٹینڈ کر لی تھی۔
حیران ہو رہے ہو؟ ویسے ہونا بھی چاہیے ۔آفندی نے کال اٹھاتے ہی دبیر کو تیکھے لہجے میں کہا۔
دبیر سچ میں حیران ہوا تھا۔
زری نے مڑ کر دبیر کو دیکھا جو بت بنا کھڑا تھا۔
دیکھ آج تیرا دوست اور اُس کی بیوی میرے قبضے میں ہیں اور فاز کی تو میں گارنٹی دے سکتا ہوں کہ وہ زندہ ہے ابھی بھی اُس کی سانسیں چل رہی ہیں لیکن اُس کی بیوی کا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی۔
آفندی نے عام سے لہجے میں کہا۔اس نے دبیر سے جھوٹ بولا تھا مریم ابھی بھی وہی فاز کے سامنے بندھی بیٹھی ہوئی تھی۔
ایک بار تو میرے ہاتھ آجا پھر دیکھ شیرو کیا کرتا ہے تیرا اور میری ایک بات کان کھول کر سن لے۔
اگر فاز یا مریم کو کچھ بھی ہوا تو کمینے تو نہیں جانتا کہ میں پھر کیا کروں گا دبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
اور بنا آفندی کی سنے موبائل بند کر دیا۔
کیا ہوا؟ زری نے دبیر کے سامنے آتے پوچھا۔
کچھ نہیں تمہیں کبیر لینے آئے گا اُس کے ساتھ گھر چلی جانا اور گھر سے باہر مت نکلنا گھر والوں کا خیال رکھنا۔
دبیر زری کا چہرہ ہاتھ کے پیالے میں لیتی کہا۔
اور اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔
زری کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
تم کہاں جا رہے ہو؟ مجھ سے جھوٹ مت بولنا زری نے دبیر کے چہرے کی طرف دیکھتے پوچھا۔
اگر میں واپس آگیا تو خود تمہیں دوبارہ اس گھر میں چھوڑنے آؤں گا پھر جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا اگر تم مجھ سے طلاق بھی مانگو گی تو میں دے دوں گا۔
لیکن اگر واپس نا آیا تو سمجھ جانا کہ دبیر نہیں رہا۔
اداس بلکل بھی مت ہونا۔اور تھینک یو میری بات ماننے کے لیے اور مجھے اپنا وقت دینے کے لیے دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر ایک سانس میں بات مکمل کرتے کہا۔
تم کہاں جا رہے ہو؟
زری نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا۔
ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں اور یہ میں نے تمھارے لیے خریدا تھا۔
میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ خود تمہیں پہناتا۔
دبیر نے ایک لاکٹ زری کی ہتھیلی پر رکھتے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گیا۔
لیکن زری نے دبیر کا بازو پکڑ کر روک لیا تھا۔
دبیر نے مڑ کر حیرانگی سے زری کو دیکھا۔
میں چاہتی ہوں تم مجھے یہ لاکٹ پہنا دو زری نے لاکٹ کو دبیر کے سامنے کرتے کہا جو ایک چھوٹا سا ہارٹ بنا تھا۔
اسے زری نے کھول کر نہیں دیکھا تھا ۔ورنہ دیکھ لیتی کہ اس میں زری اور دبیر کی تصویر موجود ہے۔
دبیر نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے لیکن زری کی شکل دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
اور زری کے ہاتھ سے لاکٹ لے کر اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔
اس نے زری کے بال کندھے پر ڈالے اور اسے لاکٹ پہنانے لگا۔
دبیر کی انگلیوں کا لمس اسے اپنی گردن پر محسوس ہو رہا تھا۔
دبیر نے لاکٹ پہنانے کے بعد زری کا رخ خود کی طرف کیا اور جھک کر لاکٹ پر بوسہ دیا۔
زری دبیر کے قریب آنے پر ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر زری کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا اور اس کے گال کو تھپتھپا کر وہاں سے چلا گیا۔
اس نے گھر سے نکلتے ہی کبیر کو کال کی اور اسے زری کو گھر چھوڑنے کا کہا۔
لیکن وہ بھی شاید دبیر کی طرح ڈھیٹ تھا اس لیے جب تک پوری بات معلوم نہیں کر لی اسے سکون نہیں ملا۔
دبیر اس لیے بھی کبیر کو کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ اس نے بیسٹ کو بتا دینا ہے اور وہی ہوا اسے تھوڑی دیر بعد میر کی کال آگئی تھی۔
کمینے انسان تجھے میں نہیں چھوڑوں گا دبیر نے موبائل پر نمبر دیکھتے کبیر کو مخاطب کرتے کہا اور کال اٹینڈ کی۔
ابھی اور اسی وقت میرے پاس آؤ اور یہ میرا حکم ہے دبیر
میر کے سرد لہجے میں کہا۔
لیکن بڑے پاپا آفندی، مریم اور فاز کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے میں وقت ضائع نہیں کر سکتا۔
دبیر نے بےبسی سے کہا۔
دبیر اس وقت جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لینے کا وقت ہے۔آفندی یہی چاہتا تھا کہ تم. غصے میں کوئی ایسا قدم اٹھاؤ تاکہ وہ تم پر آسانی سے قابو پاسکے اس لیے میرے پاس آؤ۔
فاز اور اُس کی بیوی کو کچھ نہیں ہو گا
میر نے سنجیدگی سے کہا۔
اور بیسٹ کے لہجے کی پختگی کو دیکھتے ہوئے اس نے گاڑی میر کے فارم ہاؤس کی طرف موڑ لی تھی۔
ٹھیک ہے بڑے پاپا میں آرہا ہوں دبیر نے کہا۔
میں انتظار کر رہا ہوں میر نے کہتے فون بند کر دیا۔
💞 💞 💞 💞 💞