Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ بیسٹ زندہ ہے آفندی نے دھاڑتے ہوئے پاشا سے پوچھا۔
مجھے خود کچھ دن پہلے پتہ چلا تھا
پاشا نے سنجیدگی سے کہا۔
اگر بیسٹ زندہ ہے تو وہ کون تھا جس کے مرنے کی خبر مجھے ملی تھی۔
آفندی نے گہرا سانس لیتے پوچھا۔
بیسٹ کچھ بھی کر سکتا ہےاور میں نہیں جانتا تھا وہ کون تھا میرا یہی مشورہ ہے بیسٹ اور اُس کے کام سے دور رہو گے تو بہتر ہے ۔
پاشا نے آفندی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔
میں تمھاری طرح بزدل انسان نہیں ہوں پاشا اپنے مشورے اپنے پاس رکھو
آفندی نے انگلی اٹھا کر پاشا کو تنبیہ کرتے کہا
جس نے غصے بسے پاشا کو دیکھا تھا پاشا جانتا تھا آفندی اس سے زیادہ طاقتور ہے اس لیے خاموش رہا۔
لو بیسٹ سے پنگا کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے رہا ہے اُسے پاشا نے دل میں سوچا۔
اس کے بعد دونوں اپنے کام کے مطلق بات کرنے لگے تھے تھے۔
💞💞💞💞💞💞
کیا چاہتی ہو تم؟ مصطفیٰ نے رانی کو دیکھتے پوچھا
کچھ نہیں میرے چاہنے یا نا چاہنے سے کیا ہو گا؟ رانی نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
نکاح کر لوں مجھ سے رانی میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تو آرام سے میری بات مان لو مصطفیٰ نے رانی کا ہاتھ پکڑتے کہا۔
میں اپنا فیصلہ آپ کو سنا چکی ہو مصطفیٰ
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے رانی نے مصطفیٰ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
میں زبردستی کر سکتا ہو رانی اور اب میں زبردستی کرکے کے دکھاؤں گا۔
چلو میرے ساتھ مصطفیٰ نے غصے سے دانت پیستے کہا۔اور اسے گھسیٹتے بوئے کمرے سے باہر لے گیا۔
مصطفیٰ کہاں لے کر جا رہے ہیں چھوڑو مجھے
رانی نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا لیکن مصطفیٰ کی گرفت سخت تھی۔
مصطفیٰ بھائی زری اپنے کمرے میں نہیں ہے مریم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں مصطفیٰ اور رانی کے سامنے آتے کہا۔
دونوں نے حیرانگی سے مریم کو دیکھا ۔یہی کہی ہو گی وہ کہاں جا سکتی ہے آپ نے اچھی طرح ہر جگہ دیکھنا تھا۔
مصطفیٰ نے رانی کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا
نہیں ہے میں کب سے اُسے ڈھونڈ رہی ہوں وہ کہی نہیں ہے مریم نے پریشانی سے کہا۔
آپ فکر مت کریں میں دیکھتا ہوں مصطفیٰ نے حوصلہ دیتے کہا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
رانی نے اپنے کلائی کو دیکھا تھا جو سرخ ہو رہی تھی۔
رانی مجھے لگتا ہے زری یہاں سے چلی گئی ہے۔
مریم نے رانی کو دیکھتے کہا ۔
وہ واپس یہی آئے گی تم پریشان مت ہو
رانی نے کہا۔
مریم نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
💞💞💞💞💞
زری کو ہوش آیا تو خود کو انجان جگہ پر دیکھ کر جلدی سے اُٹھ بیٹھی تھی پاس ہی اس کے اماں بیٹھی تھیں۔
بیٹی تم ٹھیک ہو؟
اماں نے پیار سے پوچھا۔
آپ کون ہیں اور میں یہاں پر کیسے آئی؟ زری نے پریشانی سے پوچھا۔
بیٹا آپ ارحم کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی وہ آپ دونوں کو گھر لے آیا۔
اماں نے بچے کی طرف دیکھتے اشارہ کیا۔
زری نے سوئے ہوئے بچے کی طرف دیکھا ۔
ارحم کہہ رہا تھا آپ کے ہوش میں آتے ہی وہ آپ کو گھر چھوڑ آئے گا۔
اماں نے کہا۔
گھر… زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا بیٹی؟ کوئی مسئلہ ہے؟
اماں کے محبت بھرے لہجے پر زری نے اُن کی طرف دیکھا۔
میرے شوہر نے کچھ دن پہلے مجھے طلاق دے دی تھی اور اب میرا کوئی گھر نہیں ہے۔
زری نے نظریں جھکا کر کہا۔
اماں نے حیرانگی سے زری اور بچے کی طرف دیکھا تمھارا شوہر تو پھر بہت ہی ناشکرا ہے جس نے اتنی پیاری بیوی اور چاند جیسے بیٹے کو کھو دیا ۔
اماں نے دکھی لہجے میں کہا۔
تمھارا بیٹا بہت پیارا ہے کیا نام ہے اسکا؟
اماں نے بچے کو دیکھتے پوچھا۔
میرا بچہ؟ زری نے آہستگی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور بچے کی طرف دیکھا۔
ہادی میرے بیٹے کا نام ہادی ہے زری نے بچے کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
بہت پیار نام ہے بیٹی تم فکر مت کرو تمہیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
میں تمھارے لیے کھانا لاتی ہوں اماں نے اٹھتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
زری کو اب یہی فکر کھائی جا رہی تھی کہ اب وہ کہاں جائے گی اگر گاؤں واپس گئی تو شاہ میر اسے نہیں چھوڑے گا۔
اماں ارحم کے کمرے میں داخل ہوئی
بیٹا اُس لڑکی کو ہوش آگیا ہے لیکن کچھ دن پہلے اُس کے شوہر نے اُسے طلاق دے دی اور لڑکی کو گھر سے نکال دیا لڑکی عدت میں ہے تو میں سوچ رہی تھی وہ اپنی عدت یہی گزار لے اُسکے بعد جہاں بھی وہ جانا چاہتی ہے جا سکتی ہے لیکن ابھی اُسکے پاس رہنے کی کوئی جگہ بھی نہیں ہے
اماں نے سنجیدگی سے کہا۔
ارحم جو سنجیدگی سے اماں کی بات سن رہا تھا گہرا سانس لے کر اپنی بات کا آغاز کیا۔
اماں آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میں نہیں جانتا وہ لڑکی کیسی ہے کہاں سےآئی ہے اُسکے شوہر نے اُسے کیوں طلاق دی۔
اگر بعد میں کوئی مسئلہ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے ارحم نے سنجیدگی سے کہا۔
بیٹا مجھے اُس لڑکی کی آنکھوں میں سچائی نظر آئی ہے اس وقت وہ سچ میں بےبس ہے
کچھ ماہ کی بات ہے اُس کے بعد وہ یہاں سے چلی جائے گی۔
عورت ذات ہے اور وہ عدت میں بھی ہے۔
اماں نے اپنا خیال بتاتے ہوئے کہا۔
چلیں اماں جیسے آپ کو بہتر لگے
ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
خوش رہو بیٹا لیکن تم بھی اُس کے کمرے میں نہیں جاؤ گے جب تک وہ عدت میں ہے اماں نے جانے سے پہلے بتانا ضروری سمجھا
جی ارحم نے کہا۔
اماں مسکرا کر کمرے سے باہر چلی گئی تھیں۔
💞💞💞💞💞
میں ٹھیک ہوں ٹائیگر نے کہا
دبیر ٹائیگر کو فیکٹری سے باہر لایا تو اس نے کہا۔
دبیر جو پریشان سا کبیر کو گاڑی کی طرف لے کر جا رہا تھا۔اس نے حیرانگی سے کبیر کی طرف دیکھا۔
جو پورے دانت نکالے ہنس رہا تھا دبیر نے اس کا بازو جھٹکا جو اس کی گردن کے کے گرد لپٹا ہوا تھا۔
تو کیسی لگی میری ایکٹنگ شہزادے
ٹائیگر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
دبیر کا دل کیا ایک رکھ کر اسے لگائے کہ دن میں اسے تارے نظر آجائے اور آج دبیر سچ میں گھبرا گیا تھا نا جانے کیوں ٹائیگر کو تکلیف میں دیکھ کر اسے بھی تکلیف ہوئی تھی، شاید یہ ان کے ساتھ رہنے کا نتیجہ تھا۔
تیرے کو کیا لگتا ہے ٹائیگر میں کیا عقل نہیں ہے جو بنا بولٹ پروف جیکٹ کے چلا آئے گا۔ اور تیرا نشانہ تو کمال کا تھا۔
ٹائیگر نے دبیر کو دیکھتے کہا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے ڈرامے باز کی جان لے لیں۔
کیا ہوا تیرے کو میری ایکٹنگ پسند نہیں آئی ٹائیگر نے حیرانگی سے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
تم. سچ میں بہت بڑے کمینے ہو اور آج تم نے ثابت بھی کر دیا میں جا رہا ہوں پیدل گھر آنا پھر تمھاری عقل ٹھکانے آجائے گی ۔
دبیر نے کھا جانے والی نظروں سے ٹائیگر کو دیکھتے کہا۔
ہا ہا ہا میں اپنی گاڑی میں آیا تھا اُسی میں واپس جاؤں گا ٹائیگر کو تیری مدد کی ضرورت نہیں ہے
ٹائیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔
دبیر نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے ٹائیگر کو دیکھا۔
میں تمھاری گاڑی لے کر جا رہا ہوں ٹائیگر میری گاڑی تو فاز لے گیا ہے ۔
دبیر نے چابی ٹائیگر کے سامنے لہراتے ہوئے کہا اور گاڑی کی طرف چلا گیا۔
دبیر میری بات سن تو غلط کر رہا ہے ۔میں واپس کیسے جاؤں گا ٹائیگر نے دبیر کے پیچھے بھاگتے ہوئے کہا جو ٹائیگر کی بات کو اگنور کرتا گاڑی میں جا بیٹھا ۔
دبیر تھوڑی دیر گاڑی میں بیٹھا انتظار کرتا رہا ٹائیگر آکر بیٹھ گیا اور ہنسے لگا وہ جانتا تھا دبیر اسے یہاں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
اگر کوئی اور جگہ ہوتی تو ضرور اسے سبق سیکھاتا۔
💞 💞 💞 💞 💞
نغمہ بیگم واپس گھر آگئی تھی منیب کے والدین آکر بیٹھے ہوئے تھے منیب بھی ساتھ ہی تھا۔
اور وہ چاہتا تھا کرن ان کے ساتھ ہی چلے فضیل تو خاموش تھا شاہ میر بھی یہی چاہتا تھا کہ عزت کے ساتھ کرن منیب کے ساتھ رخصت ہو جائے منیب بھی اچھا لڑکا تھا۔
امی آپ کو میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟ میں کہی نہیں جاؤں گی۔
کرن نے غصے سے کہا۔
کرن ضد مت کرو اور جلدی سے تیار ہو کر باہر آؤ شاہ میر نے کمرے میں داخل ہوتے سنجیدگی سے کہا۔
کیا بھائی آپ بھی میرے ساتھ زبردستی کریں گے کرن نے بے یقینی سے شاہ میر کو دیکھتے کہا۔
شکر کرو میں نے تمہیں کوئی سزا نہیں دی شادی کے بعد لڑکی کا اصل گھر میکہ نہیں سسرال ہوتا ہے ۔جلدی باہر آجاؤ سب انتظار کر رہے ہیں۔
شامیر نے کہا اور کہتے ہی باہر نکل گیا۔
کرن نے بے بسی سے نغمہ بیگم کی طرف دیکھا
نغمہ بیگم بھی کرن کو اگنور کرکے باہر چلی گئی ۔
باہر ان کو منیب ملا
آنٹی میں کرن سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اگر آپ کو کوئی مسئلہ نا ہو تو؟ منیب نے نغمہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ارے نہیں بیٹا جاؤ تم نغمہ بیگم نے پیار سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
منیب کمرے میں داخل ہوا تو کرن بیڈ کے کونے میں بیٹھی تھی۔
کرن نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں منیب ماتھے پر تیوری چڑھائے کھڑا تھا۔
کرن نے غصے سے منیب کو دیکھا اور اس کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی۔
مجھے تم سے طلاق چاہیے اب مجھے تمھاری ساتھ نہیں رہنا اچھا ہو گا تم اپنے ماں باپ کو لے کر یہاں سے چلے جاؤ
کرن نے بدتمیزی سے منیب کو دیکھتے کہا۔
جو تحمل سے کرن کی بات سن رہا تھا۔
تم اچھے سے جانتی ہو کہ چاہے جو کچھ مرضی ہو جائے آج تمہیں میرے ساتھ جانے سے کوئی نہیں روکے گا۔ یہاں تک کے تمھارے گھر والے بھی بہت خوش ہیں۔
تو فضول کی بکواس کرکے اپنے لیے مشکل پیدا مت کرو۔
منیب نے کرن کو بازو سے دبوچتے ہوئے مزید کہا۔
اور جو ڈرامہ تم نے کیا تھا وہ میں بھولا نہیں ہوں بس ایک بار تم میرے گھر میں میرے بیڈ روم میں آجاؤ سارے حساب کتاب لوں گا تم سے
منیب نے سرد لہجے میں کرن کو دیکھتے کہا جو کچھ پل کے لیے ہی سہی لیکن سہمی ضرور تھی۔
منیب نے کرن کی آنکھوں میں خوف دیکھا تو ہنس پڑا
تم تو ابھی سے ڈر رہی ہو
منیب نے کرن کے بالوں کی لٹ کو کھنچتے ہوئے کہا۔
میں انتظار کر رہا ہوں اگر اب تم نے ڈرامہ کیا تو یاد رکھنا سب کے سامنے زبردستی تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا اور ایسا کرنے کا میں پورا پورا حق رکھتا ہوں
منیب نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے چلا گیا۔
کرن نے اس کے جاتے ہی گہرا سانس لیا تھا آج تو اسے منیب کچھ الگ قسم کا ہی لگا تھا۔
یہ وہ سویٹ انسان نہیں تھا جسے کرن جانتی تھی۔
کرن جانتی تھی اگر اس نے منیب کی بات نا. مانی تو وہ کر دکھائے گا جو وہ کہہ رہا ہے اور اس کے اپنے گھر والے بھی اسے منیب کے ساتھ بھیجنا چاہتے تھے۔
کرن کو اپنے باپ اور بھائی سے امید تھی کہ وہ اس کی بات منانے گے لیکن وہ دونوں بھی چاہتے تھے کہ کرن. منیب کے ساتھ چلی جائے
💞💞💞💞💞
دبیر ابھی گھر میں داخل ہی ہوا تھا جب اسے خبر ملی کہ زری کہی چلی گئی ہے دبیر کا ایک سیکنڈ میں دماغ گھوما تھا۔
کیا مطلب وہ چلی گئی اور باہر جو گارڈ بیٹھا تھا کیا وہ اندھا تھا اُسے نظر نہیں آئی۔
دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے غصے سے کہا
گارڈ کہہ رہا ہے کہ اُسے باہر جاتے نہیں دیکھا۔
مصطفیٰ نے سنجیدگی سے کہا۔
سب سے پہلے گارڈ کو نکالو اور کسی کام کے انسان کو رکھو دوسری بات کچھ باڈی گارڈ پیلس کے ارد گرد کھڑے کر دو
اور اگر اُسے زیادہ شوق تھا جانے کا تو میری بلا سے کہی بھی جائے
دبیر نے کوفت بھرے لہجے میں کہا۔
وہ بچے کو بھی ساتھ لے گئی ہے مصطفیٰ نے پیچھے ہانک لگتاتے کہا۔
اچھی بات ہے اُس کا دل لگا رہے گا
دبیر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
مصطفیٰ پیچھے حیران کھڑا تھا۔ اس نے ہر جگہ زری کو دیکھ لیا تھا لیکن وہ کہی نہیں تھی۔
کیا ہوا؟ فاز جو ابھی نغمہ بیگم کو چھوڑ کر آیا تھا مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا۔
زری بچے کو لے کر چلی گئی ہے لیکن بھائی صاحب کو پرواہ ہی نہیں
مصطفیٰ نے فاز کو دیکھتے کہا۔
کہاں چلی گئی؟
فاز نے حیرانگی سے پوچھا
پتہ نہیں اور بھائی نے کہا ہے کچھ گارڈ باہر کھڑے کر دو
مصطفیٰ نے کہا
ٹھیک ہے میں کرتا ہوں کچھ فاز نے کہا اور دبیر کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
اسے دبیر کی کبھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ کس وقت وہ کیا کرنا چاہتا ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔
بھائی صاحب اب آپ کیا کرنا چاہتے ہو مجھے صاف صاف بتا دو
بار بار چھوٹے موٹے جھٹکوں سے مجھے ہارٹ اٹیک آسکتا ہے
فاز نے اس قدر سنجیدگی سے کہا۔
کہ دبیر نے حیرانگی سے دیکھا۔
ابھی تو میں نے جھٹکا دینا ہے دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
زری کو تم تلاش نہیں کرو گے؟
فاز نے حیرانگی سے پوچھا
نہیں وہ اپنی مرضی سے گئی ہے اب جہاں بھی جائے اُس کی مرضی
دبیر نے عام سے لہجے میں کہا ۔
تم نغمہ آنٹی سے وعدہ کر چکے تھے کہ زری کی حفاظت کرو گے اگر اُسے کچھ ہو گیا تو کیا جواب دو گے؟
فاز نے سنجیدگی سے پوچھا۔
فاز اس بارے میں ہم بعد میں بات کرتے ہیں ابھی مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے
دبیر نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تم نے مگرمچھ کیوں منگوایا ہے کس کی شامت آنے والی ہے؟
فاز نے اپنے دماغ میں چلتے سوال کو زبان پر لاتے پوچھا۔
وہ گفٹ ہے شاہ میر کے لیے
بہت آرام کر لیا اُس نے اب اگر وہ مزید زندہ رہا تو زمین پر بوجھ ہی بنا رہے گا ۔
دبیر نے آئینے میں اپنے بال سیٹ کرتے کہا۔
شرٹ کی بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔
شاہ میر تمھارے بلانے پر آجائے گا؟
فاز نے گہرا سانس لیتے پوچھا
آجائے گا اُسے مجھ پر بہت زیادہ غصہ ہے اور وہ جانتا یے زری میرے پاس ہے تو ضرور آئے گا خود چل کر اپنی موت کے پاس آئے گا۔
اور رانا کچھ دنوں تک خاموش رہے گا ابھی وہ کچھ نہیں کرے گا لیکن تم پھر بھی اُس پر نظر رکھنا۔
دبیر کہتے ہی کمرے سے باہر چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞
تمہیں زری چاہیے تو اس ایڈریس پر آجاؤ
دبیر نے یہ میسج شاہ میر کو کیا تھا۔
شاہ میر بنا کچھ سوچے سمجھے غصے میں گاڑی کی چابی پکڑے وہاں سے چلا گیا۔
دبیر نے شاہ میر کو اپنے فارم ہاؤس پر بلایا تھا۔
شاہ میر غصے میں آگے بڑھتا جا رہا تھا کہ کسی نے دائیں جانب سے شاہ میر کے جبڑے پر ایک زور دار مکا دے مارا ۔
شاہ میر جو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا زمین پر جا گرا تھا۔اس نے سامنے دیکھا جہاں پر دبیر کھڑا تھا اس نے اپنے ہاتھ پر بیلٹ کو فولڈ کیا ہوا تھا جس پر چھوٹی چھوٹی لوہے کی سخت تاریں باہر کو ابھری ہوئی تھیں۔
شاہ میر کی گال سے سرح گوشت باہر کو آگیا تھا۔
خون اس کی گردن سے ہوتا شرٹ کو رنگین کر گیا تھا۔
تجھے نہیں لگتا تو نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے۔
دبیر نے شاہ میر کو دیکھتے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔
سالے تیری جان لے لوں گا شامیر نے کھڑے ہوتے کہا۔
اس وقت تو میرے رحم و کرم پر ہے اور آج تجھے میں اتنا تڑپا تڑپا کر ماروں گا کہ تجھے اپنے پیدا ہونے پر بھی افسوس ہو گا ۔
دبیر نے شاہ میر کے ماتھے پر مکا مارتے کہا۔
جو دوبارہ زمین جا گرا تھا۔