Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
بابا جانی کیا آپ اپنی بیٹی کو معاف نہیں کریں گے؟
کرن نے فضیل اعوان کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے پوچھا آج پورے دو دن بعد وہ کمرے سے باہر آئی تھی۔
فضیل نے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا ۔
بابا جانی پلیز مجھے معاف کر دیں ۔
کرن نے بے بسی سے کہا ۔
تجھے شہر پڑھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن تو نے کیا کیا؟ نکاح کر لیا
اگر وہ لڑکا نا آتا تو ہمیں کبھی پتہ نا چلتا اور پورے گاؤں کے سامنے کیا عزت رہ گئی ہماری تجھے زرا بھی احساس ہے ۔
کرن تو نے اچھا نہیں کیا۔
مجھے اپنی بیٹی پر بہت مان تھا تو نے اُس مان کو توڑنے سے پہلے ایک بار بھی میرے اور اپنے بھائی کی عزت کے بارے میں نہیں سوچا
فضیل اعوان نے رخ موڑے کہا ۔
بابا جانی میں جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں۔
کرن نے کہا۔
تو دبیر سے شادی کے لیے بھی مان گئی تھی کرن تو کرنا کیا چاہتی تھی؟ پہلے نکاح کیا پھر اُس لڑکے سے طلاق لینا چاہتی تھی؟ کیوں؟
فضیل نے کرن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس نے نظریں جھکا لیں تھیں ۔
جاؤ یہاں سے فضیل نے سرد لہجے میں کہا ۔
بابا
میں نے کہا جاؤ یہاں سے فضیل نے سرد لہجے میں کہا ۔
کرن نے اپنے باپ کو. دیکھا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔
نغمہ بیگم خاموشی سے بیٹھی دونوں باپ بیٹی کو دیکھ رہی تھی ۔
کرن نے اپنی ماں کی طرف بھی دیکھا تھا جس نے ایک نظر بھی اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا تھا ۔
آپ نے اپنے بچوں سے کیا امید لگا رکھی تھی کہ وہ پرہیزگار نکلے گے؟
نغمہ بیگم نے طنزیہ لہجے میں کہا اور فضیل کا جواب سننے سے پہلے ہی وہاں سے چلی گئی تھی۔
فضیل نے پریشانی سے اپنا سر پکڑ لیا۔وہ اچھے بسے جان گیا تھا نغمہ کا اشارہ کس بات کی طرف تھا ۔
💞 💞 💞 💞 💞
رانی کہاں ہے شاہ میر؟ پاشا نے غصے میں شاہ میر سے پوچھا۔
تمھارے آدمی کو میں سب کچھ بتا چکا تھا کہ وہ لوگ کہاں سے گزرے گے
اب وہ کہاں ہے مجھے نہیں معلوم
شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا ۔
میرے آدمیوں کو وہ مل گئی تھی لیکن میرے آدمی کی لاشیں مجھے ملی ہیں لیکن رانی غائب ہے کس میں اتنی ہمت ہے جو پاشا کے کام میں دخل اندازی کرے ۔
کون ہو سکتا ہے وہ؟ کہاں گئی وہ؟
پاشا نے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس زمین پر پھینکتے ہوئے کہا جو زمین پر گرتے ہی چکنا چور ہو گیا تھا ۔
اس بارے میں صرف مجھے یا تمہیں معلوم تھا پھر کون ہو سکتا ہے جو رانی کو لے گیا ۔
تمھارا بھائی؟
شاہ میر نے اچانک کہا،
پاشا نے شاہ میر کی طرف دیکھا
وہ کیوں ایسا کرے گا اور رانی سے اُس کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟
پاشا نے حیرانگی سے پوچھا۔
مجھے نہیں معلوم لیکن وہ تمھارے ہر کام میں دخل اندازی کرتا ہے۔
تمھارے اوپر اُس نے نظر رکھی ہوئی ہے جیسا کہ تم. کہتے ہو وہ بہت خطر ناک ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
ایک منٹ تمھارے دوست کا نام کیا ہے جو تمھارے گھر رکا ہوا ہے
پاشا نے بے چینی سے شاہ میر کو دیکھتے پوچھا کیونکہ اج تک شاہ میر نے اُس کا نام نہیں بتایا تھا ۔اور اچانک اسکے ذہن میں سوال آیا تھا۔
دبیر نام ہے اُس کا بہت اچھا لڑکا ہے شاہ میر نے کہا ۔
پاشا نے جلدی سے اپنا موبائل پکڑا اور دبیر کی تصویر نکال کر شاہ میر کے سامنے کی
کیا وہ یہ ہے؟ پاشا نے موبائل سکرین شاہ میر کے سامنے کرتے پوچھا دماغ تو یہی کہہ رہا تھا کہ شاہ میر کہہ دے کہ یہ وہ نہیں ہے۔
ہاں یہی تو ہے دبیر لیکن تمھارے پاس اُس کی تصویر کہاں سے آئی؟
شاہ میر نے حیرانگی سے پوچھا ۔
جانتے ہو یہ کون ہے؟
پاشا نے سرد لہجے میں شاہ میر کو دیکھتے پوچھا ۔
اس کا پورا نام دبیر عباس ہے لوگ اسے شیرو کے نام سے جانتے ہیں اقرا کا شوہر
پاشا کے انکشاف پر شاہ میر کچھ پل کے لیے تو بت بن گیا تھا ۔
اور اب مجھے سمجھ آگئی ہے۔رانی کو کون لے گیا ۔
اس کے ساتھ فاز بھی ہو گا جو اقرا کا بھائی ہے پاشا نے کہا۔اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا اس نے پہلے شاہ میر سے اُس کے دوست کا نام کیوں نہیں پوچھا ۔
اور ہاں تم نے کہا تھا دبیر نے تمھاری جان بچائی لیکن ایسا نہیں تھا دبیر نے اپنے ہی آدمیوں کو تمھاری گاڑی پر حملہ کرنے کہا ہو گا تاکہ تمھاری جان بچا کر تمھارے گھر اسکے اور تم اُسے اپنے گھر لے بھی آئے
پاشا نے طنزیہ انداز میں کہا۔
لیکن وہ میرے گھر کیوں آنا چاہتا تھا؟ اگر اُس نے مجھے مارنا ہی تھا تو مار دیتا میرے گھر کیوں آیا ۔
شاہ میر نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا ۔
اتنی آسان موت وہ تمہیں نہیں دے گا شاہ میر وہ تمہیں تھوڑا تھوڑا مارے گا وہ میرا بھائی ہے اور میں اُسے اچھے سے جانتا ہوں ۔
اور مجھے لگتا ہے وہ تمھارے گھر اس لیے رکا کہ خود تمھاری سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے تمھارے بزنس پر اور ہاں تمھاری بیوی پر جو چیز تمہیں زیادہ عزیز ہے وہ تم سے چھین لے گا ۔
شاہ میر نے بھر پور سنجیدگی سے کہا۔
شاہ میر سچ میں پریشان ہو گیا تھا۔اب مجھے کیا کرنا چاہیے
شاہ میر نے پاشا کو دیکھتے پوچھا ۔
جیسا میں کہتا ہوں ویسا کرتے جاؤ
پاشا نے سگریٹ سلگاتے کہا ۔
جس پر شاہ میر نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
کاکا جو دانیال کا پرانا ملازم تھا اس نے شاہ میر اور پاشا کی ساری گفتگو سن لی تھی ۔
اس لیے دروازے سے ہی واپس پلٹ گیا اور کچن میں جا کر دبیر کا نمبر ملایا
دبیر بیٹا تم شاہ میر کے گھر سے چلے جاؤ پاشا اور شاہ میر دونوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ تم ہی شیرو ہو
کاکا نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو پاشا کاکا کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ کاکا کو دیکھ چکا تھا۔
بتا دیا آپ نے اپنے لاڈلے کو
میرے ہی گھر میں سانپ چھپے بیٹھے ہیں اور مجھے دھوکا دے رہے ہیں۔
پاشا نے اپنی گن کو کاکا کے سامنے کرتے کہا
ویسے میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں آپ نے مجھے اور عباس کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا ہے لیکن جب میں نے دانیال کو مار دیا تو آپ میرے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہو خود ہی سوچ لو
پاشا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اور کاکا کو یہ جان کر صدمہ پہنچا تھا کہ پاشا نے ہی اپنے محسن کی جان لی تھی ۔
اپ کی بہت عمر ہو گئی ہے آج نہیں تو کل آپ نے مر ہی جانا ہے تو یہ نیک کام میں اپنے ہاتھوں سے سر انجام دے دیتا ہوں..
پاشا نے کہتے ہی گن کا ٹریگر دبایا اور پورے کچن میں گولی کی آواز گونجی تھی ۔
گولی کاکا کے ماتھے کے بیچو بیج لگی اور وہی زمین پر گر گے۔
پوری زمین خون سے سرخ ہو گئی تھی۔
پاشا نے ایک نظر کاکا پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا
💞💞💞💞💞
دبیر ابھی حویلی میں داخل ہوا تھا جب اسکا موبائل رنگ ہوا کاکا کا نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ اس نے کال اٹینڈ کی اور موبائل کان سے لگایا اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کاکا اپنی بات کہہ کر
کال کاٹ چکے تھے ۔
تو مجھے اپنے پلان کو آج ہی سر انجام دینا ہو گا۔شکریہ کاکا
آپ سے بھی بہت جلد ملتا ہوں۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
فاز تم نے پیکنگ تو کر لی تھی تو تم یہاں سے جاؤ
دبیر نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
لیکن ہم تو کچھ دنوں بعد جانے والے تھے نا؟ فاز نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں لیکن پاشا اور شاہ میر دونوں کو سچائی کا پتہ چل گیا ہے۔
دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
تم بھی جلدی آجانا فاز نے کہا دبیر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
دبیر سیدھا نغمہ بیگم کے پاس آیا تھا جو نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھیں۔
ارے دبیر بیٹا آؤ بیٹھو نغمہ بیگم نے دبیر کو دیکھتے خوشی سے کہا۔
دبیر کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی تھی دبیر ان کو کسی اپنے کی یاد دلاتا تھا۔
آنٹی میں یہاں سے جا رہا ہوں لیکن ایک بات کہنا چاہتا ہوں مجھے غلط مت سمجھیے گا اور کسی کو مت بتائیے گا کہ میں آپ کے پاس آیا تھا۔
دبیر نے نغمہ بیگم کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا۔
لیکن بیٹا تم کہاں جا رہے ہو؟
نغمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا صحیح وقت آنے پر آپ کو بتا دوں گا
بس آپ مجھے دعا دیجیے جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ کر لوں
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اللہ تمہیں کامیاب کرے میرے بچے ہمیشہ خوش رہو نغمہ بیگم نے دبیر کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا ۔
شکریہ دبیر نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
نغمہ بیگم کو دبیر کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی لیکن دبیر کے جانے سے وہ اداس ہو گئی تھیں۔
💞💞💞💞💞
آخری کام زری میڈم کو ہینڈل کرنا ہے دبیر نے خود کلامی کرتے کہا۔
زری کی آج صبح سے طبعیت بوجھل سی تھی۔اس لیے آنکھیں مندے لیٹی ہوئی تھی۔
دبیر دبے پاؤں زری کے کمرے میں داخل ہوا
اور اس کے قریب جاکر کھڑا ہو گیا۔
دبیر اپنے ہاتھ میں پکڑا رومال زری کے ناک کےپاس لے گیا زری کی آنکھ کسی خیال کے تحت کھل گئی تھی اور دبیر کو دیکھ کر وہ اٹھتی اس سے پہلے ہی وہ اس کے منہ پر رومال رکھ چکا تھا جس پر بے ہوشی کی دوا لگی تھی ۔
تھوڑی دیر ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد زری بےہوش ہو گئی۔
دبیر نے زری کو اپنے کندھے پر ڈالا اور کھڑکی کی طرف لے کر گیا۔
زری کے روم کی کھڑکی حویلی کی پیچھلی سائیڈ پر تھی۔
فاز نیچے ہی کھڑا تھا ۔
دبیر نے نیچے دیکھا زیادہ اونچائی نہیں تھی لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ زری کوئی چوٹ آئے۔
پتہ نہیں یہ لڑکا کیا کرنا چاہتا ہے
فاز نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا
فاز کو پاس ہی لکڑی کی بنی سیڑھی نظر آگئی تھی فاز نے شکر ادا کیا اور اُس سیڑھی کو کھڑکی کے پاس لے گیا۔
دبیر زری کو نیچے لے آیا تھا فاز نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور دبیر نے اُس میں زری کو آرام سے لیٹا دیا اور اس پر کالی چادر ڈال دی ۔
خیال رکھنا اپنا فاز نے دبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا ۔
دبیر زری کو اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا اب اس کے جاگنے کا انتظار تھا۔
💞💞💞💞💞
زری کی تھوڑی دیر بعد ہی آنکھ کھل گئی تھی۔
اُٹھ گئی زرتشہ میڈم ؟
دبیر جو زری کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا زری کے پاس آتے پوچھا۔
جس نے آنکھوں میں خوف لیے دبیر کو دیکھا
کیا ہوا تمھاری آنکھوں میں خوف کیسا؟
میں تو کچھ بھی نہیں کر رہا
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
مجھے یہاں سے جانا ہے زری نے خود میں حوصلہ پیدا کرتے کہا اور دروازے کی طرف جانے لگی دبیر نے اسے بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔
میں تمھارے ساتھ کچھ سیلفیز لینا چاہتا ہوں دبیر نے زری کو اپنے بے حد قریب کرتے کہا ۔زری نے دبیر کی طرف دیکھا لیکن دبیر نے اسے جب خود کے قریب کیا تو زری کے ہونٹ دبیر کے گال سے ٹچ ہو گئے تھے اور اسی وقت اُس نے سیلفی لے لی تھی ۔
زری نے گھبرا کر دبیر کو دور کرنا چاہا جس نے ایک دو مزید سیلفی لے کر زری کو چھوڑا تھا ۔
اور اپنی سیلفی کو دیکھنے لگا ۔
واہ یہ تو بہت اچھی آئی ہیں دبیر نے تعریف کرتے کہا اور موبائل اپنے جیب میں رکھ دیا ۔
کیوں کر رہے ہو تم یہ سب کیوں میری زندگی تم نے عزاب بنائی ہوئی ہے؟
زری نے چیختے ہوئے کہا ۔
اچھا سوال ہے لیکن اس کا جواب میں بعد میں دوں گا۔
دبیر نے سنجیدگی سے کہتے زری کو دیکھا۔
تمھاری حرکتیں دیکھ کر میرے دماغ میں صرف دو ہی باتیں آتی ہیں زری نے ہمت کا مظاہرہ کرتے دبیر کو دیکھتے کہا بے شک اندر سے دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا ۔
یا تو تم مجھ سے محبت کرتے ہو یا شاہ میر سے اپنا کوئی انتقام لے رہے ہو جس میں زرتشہ بھی شامل ہو گئی ہے زری نے دبیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
تم سچ میں بہت سمجھدار ہو ڈارلنگ
لیکن تمھاری پہلی بات ٹھیک نہیں ہے۔
دبیر تم سے محبت نہیں کرتا وہ کبھی تم سے محبت کر ہی نہیں سکتا بس تمھاری یہ خوبصورت آنکھیں دبیر کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں تم جادوگرنی ہو اور اچھی طرح جانتی ہو مجھے کیسے قابو کرنا ہے۔
اور دوسری والی بات تمھاری درست ہے ایسا میں کہہ سکتا ہوں۔
دبیر نے زری کے کان کے پاس جھکتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا اور بات کرتے اس کے ہونٹ زری کے کان سے ٹچ ہو رہے تھے جو زری کو کپکپانے پر مجبور کر گئے
کیوں مجھے یہاں لائے ہو؟
تمہیں شرم آنی چاہیے تم نے اپنے دوست کی بیوی پر گندی نظر رکھی ہوئی تھی ۔
زری نے دبیر کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے کہا ۔
جو اپنی جگہ سے زرا سا بھی نہیں ہلا تھا۔
کس نے کہا میں نے تم پر گندی نظر رکھی؟ اور شاہ میر جیسا گھٹیا شخص دبیر کا دوست ہو سکتا ہے یہ ناممکن سی بات ہے۔
ویسے آپس کی بات ہے تمہاری آنکھیں دیکھ کر کوئی بھی پاگل ہو سکتا ہے اور میں بھی انسان ہوں بھٹک سکتا ہوں ۔
دبیر نے زری کی پانی سے بھری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بےباکی سے کہا ۔
جسے اب دبیر سے ڈر لگنے لگا تھا۔
کیا چاہتے ہو تم مجھ سے؟ زری نے بے بسی سے پوچھا ۔
جو میں چاہتا ہوں کیا وہ تم مجھے دے دو گی؟ دبیر نے ذومعنی الفاظ میں کہتے زری کے بالوں کی لٹ کو کھینچا۔
جو آنکھیں پھاڑے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
ک کیا مطلب؟
زری نے لڑکھڑاتی زبان میں پوچھا۔
مطلب آج کی رات تم یہی میرے پاس ٹھہرو گی کل صبح تک اپنے گھر جا سکتی ہو۔
دبیر نے کچھ اس انداز میں کہا کہ زری اس کا کچھ الگ ہی مطلب سمجھی تھی۔
میں یہاں ایک پل بھی نہیں رکو گی ۔اور اگر تم نے کچھ غلط کرنے کی کوشش کی میں اپنی جان دے دوں گی زری نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
تمھارے لیے اتنا آسان ہے خود کی جان لینا اتنی ہمت ہے تم میں؟ جواب دو؟ دبیر نے زری کو بالوں سے دبوچتے غراتے ہوئے پوچھا پل بھر میں اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں ۔
زری نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اس کا چہرہ دبیر کے چہرے کے بہت قریب تھا ۔
میری بات کان کھول کر سن لو زرتشہ تم پوری رات یہی رہو گی بھاگنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ یہاں سے میری مرضی کے بنا باہر جانا ناممکن ہے ۔
میں کل واپس آؤں گا ۔
دبیر کہتے ہی زری سے پیچھے ہو گیا جس نے آنکھیں کھول کر حیرت سے دبیر کو دیکھا تھا۔
یہاں پر ہر چیز موجود ہے مگر تم نے خود کو نقصان پہچانے کی کوشش کی تو یاد رکھنا زرتشہ تمہیں بعد میں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا اتنا تو تم جان گئی ہو گی ۔اس لیے کچھ بھی کرنے سے پہلے سو بار سوچ لینا دبیر نے انگلی اٹھا کر وارن کرتے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا ۔
زری ابھی بھی حیرت سے وہاں کھڑی تھی دبیر کیا کرنا چاہتا تھا وہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی لیکن اتنا تو اسے معلوم ہو گیا تھا کہ دبیر کوئی معمولی انسان نہیں ہے۔
💞💞💞💞💞💞
فاز مجھے آپ سے علیحدگی چاہیے مریم نے فاز کو دیکھتے کہا۔
جس کا پارہ ایک پل میں ہائی ہوا تھا ۔
کیا بکواس کر رہی ہو؟ تمھاری زبان کو سکون نہیں ہے جو ہر بار فضول بولنے میرے سامنے آجاتی ہو؟
اور کیا تکلیف ہے تمہیں یہاں پر؟
فاز نے دھاڑتے ہوئے پوچھا مریم بھی فاز کو غصے میں دیکھ کر سہم گئی تھی۔
تم نے زبردستی نکاح کیا مجھ سے اور میں تمہیں پسند بھی نہیں کرتی
مریم نے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرتے کہا۔
زبردستی زبردستی تھک گیا ہوں میں یہ الفاظ سنتے سنتے
اور کس کے لیے تم یہ سب کچھ کر رہی ہو اپنے اُس کزن کے لیے جو تمہیں بیچ کر جا رہا تھا۔فاز نے غصے میں پوچھا ۔
مجھے تمھاری باتوں پر یقین نہیں ہے
مریم نے سفاکی سے کہا۔
مریم ایک سیکنڈ سے پہلے یہاں سے چلی جاؤ ورنہ جس تہہ خانے میں جانے کے لیے تم مچل رہی تھی پوری رات تمہیں اُس میں بند کر دوں گا ۔
فاز نے سپاٹ لہجے میں کہا اور مریم کے دل نے بھی یہی کہا مریم یہاں سے بھاگ جا ورنہ یہ مونسٹر آج بہت غصے میں لگ رہا ہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
مریم وہاں سے ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ
اس لڑکی کا بھی کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا فاز نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
💞💞💞💞💞
رانی پوری رات سوچتی رہی تھی شاہ میر کی عادتوں کے بارے میں سوچ کر رانی کو تھوڑا بہت یقین ہو گیا تھا کہ شاہ میر کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن ابھی بھی وہ مصطفیٰ کو معاف نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اپنی بربادی کی وجہ مصطفیٰ کو سمجھتی تھی ۔
تو اسے معاف کیسے کر کر سکتی تھی۔
جب دماغ تھوڑا پرسکون ہوا تو کمرے کا معائنہ کرنے لگی جو بہت خوبصورت تھا۔رانی کو کمرا پسند آیا تھا۔
لیکن یہ گھر کس کا تھا رانی کو معلوم نہیں تھا۔
اس نے الماری کھولی تو اس کی ضرورت کی ہر شے اُس میں موجود تھی اور یہ بات رانی کے لیے حیران کن تھی۔
رانی نے ایک سوٹ پکڑا اور فریش ہونے چلی گئی تھی مصطفیٰ سے بے شک وہ ناراض تھی لیکن اُس نے رانی کی جان کے ساتھ عزت بھی بچائی تھی اور اس نے نماز پڑھ کر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
مجھے ٹائیگر سے ملنا ہے ذیشان نے کالیا کو. دیکھتے کہا جو ذیشان کو گھور رہا تھا۔
ذیشان کو کالیا عجیب سا لگا تھا ۔کالیا نے سامنے کمرے کی طرف اشارہ کیا جہاں ٹائیگر اپنے ایلکس کے ساتھ موجود تھا۔
ذیشان کو لگا تھا کہ کالیا سے زیادہ گندہ انسان اس نے کہی نہیں دیکھا لیکن ٹائیگر کو دیکھ کر اس کا اندازہ غلط ثابت ہونے والا تھا۔
کالیا نے تو صرف بالوں پر پوری بوتل تیل کی لگائی تھی اور اس کا کالا رنگ دوسرے انسان کو خوف میں مبتلا کر دیتا تھا۔
لیکن ٹائیگر اُس نے آنکھوں میں سرما ڈالا ہوا تھا کانوں میں بالیاں پہنے تھیں ہاتھ کی ہر انگلی میں نگ والی انگوٹھی موجود تھی کندھے تک آتے گھنگھرالے بال سانولا رنگ لمبی داڑھی اور ہاتھ میں سگریٹ پکڑے وہ بیٹھا تھا ۔
ذیشان نے ٹائیگر کو دیکھا تو اس کا دل کیا کہ یہاں سے واپس چلا جائے کالیا تو پھر بھی برداشت کے قابل تھا لیکن ٹائیگر کا حلیہ عجیب ہی تھا۔
دروازے میں ہی کھڑا رہے گا یا اندر بھی آئے گا؟
ٹائیگر نے ذیشان کو گھورتے کہا ۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کہنا ذیشان نے چہرے کے عجیب سے زاویے بناتے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
کمینہ انسان ٹائیگر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا کدھر گیا وہ آدمی؟ کالیا نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
کمینمے کی گرل فرینڈ کی کال آگئی تھی چلا گیا ٹائیگر نے سگریٹ کا کش لیتے کہا۔
جس پر کالیا قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا تیری شکل دیکھ کر بھاگا ہو گا مجھے اُس کے چہرے کے تاثرات سے ہی پتہ چل گیا تھا ۔
معلوم کر وہ کون تھا ۔ٹائیگر نے کہا۔اور خود کا چہرہ آئینے میں دیکھنے لگا
خوفناک تو ہے ۔
ٹائیگر نے اپنا چہرہ دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
بس کسی بچے کے سامنے مت آئی ورنہ بےچارہ بے ہوش ہو جائے گا
کالیا نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
بچے کیا بڑے بڑے بے ہوش ہو جاتے ہیں ۔
ٹائیگر نے قہقہہ لگاتے کہا ۔
