No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
دبیر جو موبائل کان سے لگائے حویلی سے باہر جارہا تھا زری کو اندر آتے دیکھ وہی رک گیا تھا۔
وہی آنکھیں…
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور ایک سیکنڈ میں سامنے والی کو پہچان گیا تھا۔
دبیر کے ہونٹوں کو بے ساختہ مسکراہٹ نے چھوا ۔ جس سے وہ خود بھی انجان تھا ۔
لیکن جب دبیر نے زری کو لڑکھڑاتے دیکھا تو جلدی سے اُس کے پاس گیا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی اس نے زری کو اپنی بانہوں میں بڑھ لیا۔
زری وہی دبیر کی بانہوں میں بے ہوش ہو گئی تھی ۔
دبیر بہت غور سے زری کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔جو بخار کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا ۔
اس سے پہلے اس کوئی دیکھتا دبیر اسے اٹھائے اپنے کمرے میں لے آیا تھا ۔
دبیر نے زری کو بیڈ پر لیٹایا۔
یہ کون ہے؟
فاز نے حیرانگی سے پوچھا جو وہی کمرے میں موجود تھا ۔
لڑکی ہے اور مصطفیٰ کو یہاں لاؤ
دبیر نے عام سے لہجے میں کہا لیکن نظریں زری کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
اوکے فاز نے نا سمجھی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
دبیر زری کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔
تم بہت خوبصورت ہو ۔لیکن تمہیں ابھی بہت کچھ برداشت کرنا ہے۔
دبیر نے زری کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے کہا ۔
زری کی شرٹ کا گلہ تھوڑا ڈیپ تھا جہاں دبیر کی نظر بھٹک کر بار نار وہاں جابرہی تھی ۔اس نے نظریں چرائی اور زری کا ڈوپٹہ ٹھیک کیا ۔
زری کے چھوٹے سے ناک پر اب اس کی نظر پڑی تھی جس میں چھوٹی سی بالی بہت بھلی لگ رہی تھی ۔
دبیر نے ہلکا سا اُس بالی کو اپنے ہاتھ کی انگلی سے چھوا اور مسکرا پڑا ۔تھوڑی دیر بالی سے چھیڑ خانی کرنے کے بعد اس نے زری کے دونوں کانوں سے چھوٹی جھمکیاں اتار دی ۔
دبیر نے زری کے کان کی لو کو ہاتھ سے ہلکا سا مسلا جو سرخ ہو رہی تھی اور اپنی جیب سے ویسے ہی جھمکیاں نکالی جیسے زری نے پہنے تھی اور اس کے کانوں میں پہنا دی ۔
مجھے نہیں پتہ تھا ہماری اگلی ملاقات اتنی جلدی ہو جائے گی پرنسس
لیکن تمہیں شاہ میر سے نکاح نہیں کرنا چاہیے تھا تم نے نکاح کر کے بہت بڑی غلطی کی جانِ من تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔
دبیر نے تھوڑا زری کے چہرے کی طرف ترچھا ہوتے اس کے سرخ ہونٹ کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے مسکرا کر کہا۔
تمہیں تکلیف دیتے وقت مجھے دکھ تو ضرور ہو گا لیکن اتنا بھی نہیں ہو گا ۔
ہاں بس تم میرے سامنے رونا مت ورنہ میں میں خود پر کنٹرول کھو دوں گا
دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا۔
اور زری سے دور جا کھڑا ہوا۔
اتنے میں فاز مصطفیٰ کو بھی لے آیا تھا ۔
گھر والوں کو کہو یہ تمہیں باہر بےہوش ملی اور تم اسے اس کمرے میں لے آئے اور باہر کوئی ملازم بھی نہیں تھا ۔
دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن بھائی میں کیسے؟ آپ نہیں جانتے شاہ میر وہ……
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے جو بھی کرنا ہے تمہیں کرنا ہے دبیر نے مصطفیٰ کی بات کو کاٹتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
بھائی… مصطفیٰ نے فاز اور دبیر کی طرف دیکھتے ہوئے بےچارگی سے کہا فاز نے تو صاف اپنے کندھے اچکا دیے تھے ۔
اس کے بعد مجھے رانی کے بارے میں بھی بات کرنی ہے رات میرے کمرے میں آنا اور جاؤ گھر والوں کو بلا کر لاؤ اور اسے جلدی سے یہاں سے لے جاؤ دبیر نے کہا اور فاز کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔دونوں کھڑکی سے باہر نکل گئے تھے ۔
مصطفیٰ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
جب واپس آیا تو شاہ میر بھی ساتھ تھا اُس نے زری کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور کمرے سے باہر لے گیا ۔مصطفیٰ نے سکون کا سانس لیا یہ وہی جانتا تھا کس طرح اس نے شاہ میر کو مطمئن کیا تھا ۔
💞💞💞💞💞
شاہ میر اسے میرے کمرے میں لے آؤ شاہ میر زری کو اپنے کمرے میں لے کر جا رہا تھا جب نجمہ بیگم نے اسے دیکھتے کہا ۔تو وہ زری کو نجمہ بیگم کے کمرے میں لے گیا ۔
اور گاؤں کے ڈاکٹر کو فون کیا وہ تھوڑی دیر بعد ہی آگیا تھا اس نے زری کا چیک اپ کیا اور میڈیسن لکھ کر دی۔
ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے کمزوری کی وجہ سے ان کو چکر آگیا تھا۔
میں نے میڈیسن لکھ دی ہے دو تین دن تک بخار بھی اتر جائے گا۔
ڈاکٹر نے روایتی انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
شاہ میر زری مہمانوں کے کمرے میں کیا کر رہی تھی؟
نجمہ بیگم نے شاہ میر سے پوچھا مصطفیٰ نے چور نظروں سے شاہ میر کو دیکھا ۔
امی جان زری جب بےہوش ہوئی تو مصطفیٰ کو سامنے جو کمرا نظر آیا وہاں لے گیا شکر ہے دبیر کام کے سلسلے میں باہر گیا تھا اور اس نے مجھے آکر بتایا میں اسے باہر لے آیا اکثر انسان پریشانی میں بوکھلا جاتا ہے۔شاہ میر نے عام سے لہجے میں کہا ۔
ہاں یہ تو اچھی بات ہے کہ دبیر اپنے کمرے میں نہیں تھا ۔ورنہ وہ کیا سوچتا ابھی تو اسے رزی کے بارے میں بتایا بھی نہیں ہے
نجمہ بیگم نے کہا اور دونوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا ۔
مصطفیٰ اور شاہ میر کے کمرے سے نکلتے ہی رانی کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔
رانی بیٹا جب تک زری ٹھیک نہیں ہو جاتی تم اس کے پاس ہی رہو گی
نجمہ بیگم نے پیار سے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی ۔رانی زری کے پاس جا کر بیٹھ گئی تھی ۔
💞💞💞💞💞
رات کو دبیر اور فاز واپس حویلی آئے تو تقریباً سب لو جاگ رہے تھے ۔دونوں فضیل اعوان سے مل کر کمرے میں آگئے ۔
دبیر نے اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر کھی اور اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کیے ۔
فاز ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔
تمہیں کتنی بار منع کیا ہے سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا کرو ۔
دبیر نے بنا پلٹے فاز کو کہا جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا ۔
دبیر صاحب اگر انسان کو نشے کی لت پڑ جائے تو پھر اُس سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اور نشہ کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے ۔فاز نے ہنستے ہوئے کہا ۔
دبیر نے فاز کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
اتنی سموکنگ تو تم کبھی نہیں کرتے آج ایسا کیا ہوا صبح تک تو بلکل ٹھیک تھے ۔
دبیر نے ایک آبرو اچکاتے پوچھا ۔
ایک منٹ وہ لڑکی کون تھی فاز جو کسی لڑکے سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہی تھی؟
کیا تم. اُسے جانتے ہو؟ جیسے اُس نے تمہیں دیکھ کر اپنے چہرے کے تاثرات تبدیل کیے تھے مجھے تو لگتا ہے وہ تمہیں جانتی ہے؟
دبیر نے عام سے لہجے میں فاز کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس کے ماتھے کی رگیں غصے سے پھول گئی تھیں ۔
ہم اس بارے میں بات نا ہی کریں تو زیادہ اچھا ہے فاز نے دوٹوک انداز میں کہا ۔
ٹھیک ہے پھر میں نے تمھارے لیے ایک فیصلہ کیا ہے امید کرتا ہوں تمہیں پسند آئے گا۔
دبیر نے فاز کو دیکھتے ہوئے کہا جو ناسمجھی سے دبیر کو دیکھ رہا تھا اتنے میں دروازہ ناک ہوا اور مصطفیٰ اندر آیا ۔
بھائی آپ نے کیا بات کرنی تھی مصطفیٰ نے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جو چلتا ہوا مصطفیٰ سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا اور ایک زور دار تھپڑ مصطفیٰ کے چہرے پر رسید کیا جو پورا ہل گیا تھا ۔
فاز جانتا تھا دبیر یہی کرے گا اس لیے خاموشی سے وہی بیٹھا رہا۔
مصطفیٰ نے سرخ آنکھوں سے دبیر کی طرف دیکھا لیکن کچھ بھی کہنے کی ہمت اس میں نہیں تھی ۔
کیا رانی ہی وہی لڑکی ہے جس سے تم محبت کرتے تھے؟ مجھے جواب ہاں یا نا میں چاہیے ۔
دبیر نے سرد لہجے میں مصطفٰی سے سوال پوچھا ۔
جی مصطفیٰ نے نظریں جھکا کر جواب دیا ۔
کیا تم جانتے تھے کہ رانی بھی تمہیں پسند کرتی ہے؟ اور وہ تمہیں کہہ بھی چکی تھی کہ وہ شاہ میر سے نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے؟ دبیر کے آگلے سوال پر مصطفیٰ نے حیرانگی سے سامنے کھڑے انسان کو دیکھا اسے سب کچھ پہلے سے معلوم تھا ۔
اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب تم مجنون بنے فاز کے گلے لگے رو رہے تھے اور اپنے پیار کی کہانی اُس کے سنا رہے تھے اُس وقت میں بھی وہی تھا اور میرے سوال کا جواب دو ۔
دبیر نے اپنی پنٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا ۔
جی لیکن میں نے اُسے منع کر دیا تھا کہ میں اُسے پسند نہیں کرتا ۔
مصطفیٰ نے سر جھکائے جواب دیا ۔
اور میں پوچھ سکتا ہوں یہ احسان آپ نے کیوں کیا ۔
بھائی
شاہ میر اُسے پسند کرتا تھا تو میں کیسے اُس سے شادی کر سکتا تھا۔
مصطفیٰ نے بے تکی سی دلیل دیتے کہا ۔
واہ جناب کیا کہنے ہیں آپ کے ایک لڑکی خود چل کر تمھارے پاس آتی ہے تمہیں اپنے احساسات سے آگاہ کرتی ہے اور تم کیا کرتے ہو اُس کے جذبات کو اپنے پیروں تلے روند کر اُسے انکار کر دیتے ہو وہ بھی اُس بےغیرت شخص کے لیے جو عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے اب کہاں گیا اُس کا پیار؟ رانی کے ساتھ اس گھر میں نوکروں سے بھی زیادہ برا سلوک ہوتا ہے اور کیسے انسان ہو تم؟ کیسی محبت ہے تمھاری جو اُد کی آنکھوں میں تکلیف اور درد نہیں دیکھ سکتے تمھارا وہ ٹھرکی چاچا جانتے ہو وہ رانی کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
مجھے کچھ دنوں میں معلوم ہو گیا اور حیرت ہے تمہیں آج تک نظر نہیں آیا ۔
دبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا اس کا دل کر رہا تھا تھپڑوں سے مصطفیٰ کا چہرہ لال کر دے۔
بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں چچا جان وہ کیسے وہ تو رانی کو اپنی بیٹی کہتے ہیں ۔مصطفیٰ نے بے یقینی سے کہا ۔
تمھارے چچا کی صرف ایک ہی بیٹی ہے وہ کرن ہے اس کے علاوہ وہ بڈھا کسی کو اپنی بیٹی نہیں مانتا ۔اور ایک بات تم نے جو کرنا تھا کر لیا رانی تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اتنا تو مجھے معلوم ہے۔
اور میں نے تم دونوں کے لیے کچھ سوچا ہے جو بہت جلد تم دونوں کو بتا دوں گا اور تم اپنے چچا پر نظر رکھو اگر رانی کو کچھ بھی ہوا تو تمہیں نہیں چھوڑو گا اس تھپڑ کو ہمیشہ یاد رکھنا اور آگے زندگی میں فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا اگر تم نہیں بھی سوچو گے تو یہ تھپڑ تمہیں سوچنے پر مجبور کر دے گا ۔دبیر نے کرخت لہجے میں کہا اور اپنا رخ موڑ لیا۔
اس کا مطلب تھا دبیر نے جو کہنا تھا کہہ لیا اب تم دونوں جا سکتے ہو ۔فاز اور مصطفیٰ کمرے سے باہر نکل گئے۔
کتنا وزنی ہاتھ ہے بھائی کا مصطفیٰ نے کمرے سے باہر نکلتے اپنے جبڑے پر ہاتھ رکھتے کہا ۔
کوشش کرنا آئندہ کوئی ایسی حرکت نا کرو ورنہ اگلی بار دبیر نے تمھارے سارے دانت توڑ دینے ہیں اور ٹوٹے ہوئے دانتوں کے ساتھ تم بہت واہیات لگو گئے ۔
فاز نے سنجیدگی سے مصطفیٰ کے کندھے کو تھپتھپاتے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔مصطفیٰ نے جاتے ہوئے فاز کو گھورا اور خود بھی جلدی سے کمرے کی طرف چلا گیا دبیر کی باتیں ابھی بھی اس کے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔
دبیر نے الماری سے کپڑے نکالے اور واشروم کی طرف چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
اگلے دن مریم حویلی میں زری کی طبعیت کا معلوم کرنے آئی تھی ۔
وہ تو کل ہی آنا چاہتی تھی لیکن اس کی ماں نے منع کر دیا کہ بہت رات ہو چکی ہے صبح چلی جانا اور اب زری دوائی کے زیرِ اثر سو رہی ہے ۔
مریم اپنے پراندے کو کبھی دائیں کرتی تو کبھی بائیں کرتی چل رہی تھی ۔
اس کی ماں نے بتایا تھا کہ زری رانی کے کمرے میں ہے اور رانی کا کمرا اوپر تھا۔
مریم نے ابھی پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھا ہی تھا جب کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور گھسیٹے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔مریم نے اپنے ہاتھ پاؤں چلانے کی کوشش کی لیکن مقابل اسے کمرے میں لے آیا تھا ۔
کمرے میں آتے ہی فاز نے اس چھوڑا اور کمرے کو لاک کیا ۔
جب سے فاز نے مریم کو کسی لڑکے کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں کرتا دیکھا تھا اُسی وقت سے اسکی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی جیسے سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھا ۔
مریم نے فاز کو. دیکھا تو اس کی بڑی بڑی آنکھیں مزید کھل گئیں ۔
یہ کیا کر رہے ہو تم؟ مریم نے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھاتے خوف سے کہا ۔
فاز مریم کی طرف بڑھا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کی طرف کھینچا جو سیدھی فاز کے چوڑے سینے سے آلگی تھی ۔
کیا کررہے ہو؟ چھوڑو مجھے مریم نے اپنا پورا زور لگاتے خود کو فاز سے دور کرتے کہا لیکن ناکام رہی ۔
فاز مریم کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑے کھڑا تھا ۔فاز نے پیچھے دیوار کے ساتھ مریم کو لگایا اور اس کے دائیں بائیں اپنے ہاتھ رکھ کر گھیرا بنایا ۔
کل جس لڑکے سے تم. ہنس ہنس کے باتیں کر رہی تھی وہ کون ہے؟
فاز نے سیدھا مدعے کی بات پر آتے پوچھا۔
تم ہوتے کون ہو مجھ سے سوال جواب کرنے والے اور میں تمہیں کیوں بتاؤں؟
مریم نے دانت پیستے فاز کی طرف دیکھتے پوچھا ۔
فاز نے اس کو بالوں سے پکڑا اور اس کا چہرہ خود کی طرف کیا۔اس کی پکڑ اتنی سخت ضرور تھی کہ مریم کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا ۔
کون تھا وہ لڑکا؟
فاز نے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
وہ مریم نے اپنے لبوں پر زبان پھیرتے کہا فاز کی نظریں اس کے ہونٹوں پر جم گئی تھیں ۔
کیا وہ؟ فاز نے مریم کے نچلے لب کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے پوچھا۔
مریم کو لگ رہا تھا وہ گرنے والی ہے ۔
اسے اپنی ٹانگوں میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
میرا کزن ہے وہ
مریم نے جلدی سے کہا ۔
اُسے کزن کی حد تک ہی رکھنا اور وہ تمھارا بھائی ہے سمجھی
فاز نے سنجیدگی سے کہا ۔
وہ بھائی نہیں ہے میرا ہماری منگنی ہو چکی ہے اور میں اُسے پسند کرتی ہوں ۔
مریم نے خود میں ہمت پیدا کرتے کہا ۔
فاز کے چہرے کے تاثرات ایک دم. تبدیل ہوئے تھے ۔
کیا کہا تم نے؟ فاز نے سختی سے مریم کے جبڑوں کو دبوچتے ہوئے پوچھا جس کی ہمت اب جواب دے گئی تھی ۔آنکھوں سے آنسو نکل کر فاز کے ہاتھ پر گرے اپنے ہاتھ پر مریم کے آنسو دیکھ کر فاز ہوش میں آیا اور مریم کو چھوڑ کر کچھ فاصلے پر جا کھڑا ہوا ۔
مریم رونا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر بھی اس کا دل کیا یہی بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے
فاز اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے خود کو پرسکون کرنے لگا ۔
جب اس کی نظر زمین پر گرے مریم کے ڈوپٹے کی طرف پڑی تو ڈھیروں شرمندگی نے اسے آن گھیرا تھا۔
اس نے جھک کر مریم کا ڈوپٹہ اٹھایا اور بنا اس کی طرف دیکھے مریم کی طرف اچھال دیا۔
جاؤ یہاں سے اور کوشش کرنا میرے سامنے مت آؤ
فاز نے بنا رخ موڑے کرخت لہجے میں مریم سے کہا۔
لیکن اسے لگ رہا تھا اس کی ٹانگوں میں جان نہیں ہے
تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرہی جاؤ یہاں سے اس بار فاز نے دھاڑ کر کہا۔
مریم نے جھک کر اپنا ڈوپٹہ اٹھایا اور اپنے مردہ قدموں کے ساتھ بمشکل فاز کے کمرے سے نکلی۔آج وہ فاز سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھی ۔اور اس بات کا احساس فاز کو بھی ہو گیا تھا۔
آج جو کچھ مریم ساتھ ہوا وہ اس کے لیے ناقابلِ یقین تھا ۔
آج تک کسی مرد نے اسے چھوا تک نہیں تھا اس کا اپنا منگیتر بھی نظریں جھکا کر اس سے بات کرتا تھا۔چھونا تو بہت دور کی بات ہے۔
مریم پھر زری کے پاس نہیں گئی اس کی ایسی حالت نہیں تھی کہ وہ زری کے پاس جا سکتی ۔
💞💞💞💞💞
جاؤ باہر
شامیر نے رانی کے کمرے میں داخل ہوتے اسے ہی باہر جانے کا کہا جو نظریں جھکائے کمرے سے باہر چلی گئی ۔
زری بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔
شاہ میر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو کچھ ہی دنوں میں مرجھا گیا تھا ۔
شاہ میر زری کے پاس ہی بیٹھ گیا جس نے اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا تھا ۔
میری طرف دیکھو زری شاہ میر نے پیار سے زری کا چہرہ خود کی طرف کرتے کہا جس نے بری طرح شاہ میر کا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔
شاہ میر کو زری کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا اس نے زری کو بالوں سے پکڑا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کیا ۔
تکلیف کے مارے اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی اس نے شاہ میر کے ہاتھ سے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
بخار ابھی پوری طرح سے اترا نہیں تھا کمزوری کی وجہ سے اسے ابھی بھی چکر آرہے تھے ۔
میں نے کیا کہا تھا ایک بات تجھے سمجھ میں نہیں آتی؟
شوہر ہوں تمھارا تم پر پورا حق رکھتا ہوں ۔شاہ میر نے اپنا چہرہ زری کے ہونٹوں کے پاس لاتے غصے سے کہا جس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکا دیا جو زری سے دو قدم پیچھے جا کھڑا ہوا۔
شوہر….. زبردستی کے شوہر ہو تم زبردستی نکاح کیا۔
تم نے میری ماں کو اور مجھے مجبور کیا ۔
میں تم جیسے انسان سے کبھی نکاح نا کرتی جس کی نظر میں عورت کی رتی برابر بھی عزت نہیں ہے ۔
تم جانتے تھے کہ میں کبھی بھی تم سے نکاح کے لیے راضی نا ہوتی اس لیے اُس دن وہ سارا ڈرامہ کیا ۔
زری نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
جس پر شاہ میر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا ۔ واہ تم تو بہت سمجھدار ہو ۔اور ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو میں نے ہی ملازمہ کو تمھارے پاس بھیجا تھا ۔
اور مجھے حیرت بھی ہوئی تم آبھی گئی جبکہ تم بھی اچھے سے جانتی تھی تمھارے ماں کے حویلی آنے سے منع کیا تھا اور جب ملازمہ نے تمہیں کیا کہ تمہیں رضیہ بولا رہی ہے تو بنا کچھ سوچے سمجھے تم حویلی چلی آئی ۔
شکر کرو تمھاری جگہ تمھاری بہن نہیں تھی ویسے وہ بھی تم سے کم نہیں ہے لیکن یہ دل کمبخت تم پر آگیا تھا ۔
تمھاری ساتھ زبردستی بھی نکاح نہیں کر سکتا تھا لیکن گاؤں والے مجھے اپنا مسیحا سمجھتے ہیں بہت نیک اور شریف آدمی سمجھتے ہیں تو اُن کو میں غلط ثابت نہیں کر سکتا تھا اس لیے سارا ڈرامہ کیا ۔
شاہ میر نے خوشی نے اپنا کارنامہ زری کو بتایا جسے وہ دن یاد آگیا تھا ۔
شاہ میر نے زری کو رضیہ کا بول کے حویلی بلایا اور اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔
اُس دن فضیل اعوان نے گھر میں گاؤں والوں کے لیے دعوت رکھی تھی یہ دونوں باپ بیٹے کی ایک چال تھی ۔
شاہ میر نے زری کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی جب وہ چیخنے چلانے لگی تو اُسے بالوں سے پکڑ کر باہر لایا اور اور اپنے باپ کے قدموں میں زری کو پھینکا ۔
ابا جی کسی بے شرم لڑکی ہے یہ میرے کمرے میں آکر مجھ سے اپنے پیار کا اظہار کر رہی ہے۔مجھے آپ کی عزت کا خیال تھا اس لیے ایک لگا کر اسے باہر لے آیا ورنہ میں نے اسے جان سے مار دینا تھا شاہ میر نے غصے سے زمین پر گری زری کو دیکھتے ہوئے کہا جو بے یقینی سے شاہ میر کو. دیکھ رہی تھی ۔
گاؤں والے بھی حیرانگی سے زری کو دیکھ رہے تھے ۔
ایسی لڑکی کو ہم. اپنے گاؤں میں رہنے نہیں دے سکتے آج چھوٹے صاحب سے یہ حرکت کی ہے کل کسی اور سے بھی کر سکتی ہے۔
وہاں کھڑے ایک بزرگ آدمی نے کہا ۔
دیکھیے میں مانتا ہوں زرتشہ سے غلطی ہوئی ہے بچی ہے وہ ہمیں اُسے سمجھانا چاہیے اور اور اگر یہ بچی میرے بیٹے کو پسند کرتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے میرا بیٹا میری کوئی بات نہیں ٹالتا اور میں چاہتا ہوں زرتشہ کا شاہ میر سے نکاح ہو جائے ۔اب بچی نے غلطی کی ہے جو انجانے میں کی لیکن ہمیں بچی کو معاف کر کے اُسے ایک موقع دینا چاہیے اور جس کو وہ پسند کرتی اس سے نکاح کر دینا چاہیے اب آپ بتائیں کیا میں غلط کہہ رہا ہوں میرا بیٹا تو عورتوں کا بہت احترام کرتا ہے ۔فضیل اعوان نے ساری بات کرتے گاؤں والوں کی طرف دیکھا ۔
جن کے چہروں سے لگ رہا تھا ان کو فضیل اعوان کی بات پسند آئی ہے ۔
بڑے صاحب آپ کا دل بہت بڑا ہے اگر آپ چاہتے تو لڑکی کو سزا بھی دے سکتے تھے لیکن آپ اپنے بیٹے کے ساتھ اُس کا نکاح کر رہے ہیں اللہ آپ کو خوش رکھے دوسرے آدمی نے فضیل اعوان کو کہا اس سے پہلے وہ آگے سے کچھ کہتا زری ہوش میں آتے ہی بول پڑی تھی ۔
یہ سب جھوٹ ہے میں چھوٹے صاحب کے کمرے میں چائے دینے گئی تھی انہوں نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ۔یہ جھوٹ بول رہے ہیں
زری نے چلاتے ہوئے کہا۔
خاموش ہو جاؤ لڑکی چھوٹے صاحب کو ہم بہت اچھے سے جانتے ہیں وہ ایسی حرکت مر کر بھی نہیں کر سکتے ۔
ایک موٹے سے آدمی نے زری کو گھورتے ہوئے کہا ۔زری نے اپنی ماں کو دیکھا تو اس کے گلے جا لگی ۔
بیٹا میں چاہتا ہوں کل ہی تمھارا اس بچی کے ساتھ نکاح ہو جائے تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ فضیل اعوان نے شاہ میر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔جو کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا۔
ابا جی اگر آپ نے فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا ۔میں اس لڑکی کو اپنا نام دینے کے لیے تیار ہوں ۔
شاہ میر نے احسان کرنے والے انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔گاؤں والے مزید شاہ میر کی تعریف میں پل باندھنے لگے تھے ۔
زری کی اتنی غلطی تھی کہ شاہ میر کے ہاتھ پکڑنے پر اس نے اسے تھپڑ دے مارا تھا اور اُسی کا بدلہ وہ آج اس سے لے چکا تھا ۔
تم میں کچھ تو ایسا خاص ہے جانِ من شاہ میر کی آواز اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لائی تھی ۔
میری ایک بات یاد رکھنا میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔کبھی نہیں
زری نے دوٹوک انداز میں کہا
یہ تو وقت بتائے گا جانِ من شاہ میر کہتا اچانک زری کی گردن کی طرف جھکا اور اس کے کالر بون کو اپنے لبوں سے چھو کر کمرے سے نکل گیا۔یہ سب اچانک ہوا تھا۔
زری کے جسم میں ایک دم. کرنٹ سا دوڑ گیا تھا۔آنکھوں کے سامنے چھاتے اندھیرے کی وجہ سے وہی زمین پر اپنا سر پکڑے بیٹھ گئی تھی..
💞💞💞💞💞
سر آپ کو ایک خبر دینی ہے پاشا کے آدمی نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا ۔
پاشا نے نظریں اٹھا کر اُس آدمی کی طرف دیکھا۔
سر آپ کی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہیں جس میں وہ سارے ہتھیار موجود تھے جو آپ نے کل ہی بھجوانے تھے ۔
آدمی نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے کہا ۔
کیا بکواس کر رہے ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہاں مرے ہوئے تھے تم سب لوگ؟
تم لوگوں کو تو میں بعد میں دیکھتا ہوں ۔
پاشا نے غصے سے دھاڑے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
آپ کو ہی شوق تھا شیرو سے پنگا لینے کا اب بھگتو آدمی نے شکر کا سانس لیتے کہا۔
