Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ماضی……
شام میں عباس اور اقرا کا نکاح ہو گیا تھا پاشا بھی اس میں شامل ہوا تھا لیکن اس نے عباس کو دوبارہ کچھ نہیں کہا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔
اقرا عباس کے کمرے میں بیٹھی اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو مڑوڑ رہی تھی۔
نکاح بلکل سادی سے ہوا تھا عمر بھی اپنی بہن کے لیے خوش تھا اور عباس کے ساتھ جانے کے لیے بھی تیار تھا۔
عباس اپنے کمرے میں داخل ہوا اور اقرا کو دیکھ کر مسکرا پڑا۔
جو کنفیوز سی بیٹھی ہوئی تھی عباس چلتا ہوا اقرا کے پاس آیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
تم نے گھونگھٹ تو نکالا نہیں اب میں تمہیں منہ دکھائی کیسے دوں گا؟
عباس نے شرارت بھرے لہجے میں اقرا کے میک اپ سے پاک چہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
کیا گھونگٹ نکلنا ضروری تھا؟
اقرا نے پریشانی سے پوچھا۔
بلکل پھر ہی تو منہ دکھائی کا تحفہ ملتا ہے عباس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
تو میں اب گھونگٹ نکال لیتی ہوں اقرا نے کہتے ہی اپنے سرخ رنگ کے ڈوپٹہ سے لمبا سا گھونگھٹ نکال لیا۔
عباس اب کھل کر ہنس پڑا تھا اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی سرخ رنگ کی ڈبی نکالی اور اسے کھول کر اندر سے گولڈن کلر کی رنگ نکالی جس پر چھوٹے چھوٹے موتی لگے تھے۔اور پھر اقرا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اُس میں انگوٹھی پہنا دی ۔
اور پھر اقرا کا گھونگھٹ اٹھا کر مسکرا پڑا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔
کل صبح ہم لوگ یہاں سے چلے جائیں گے تم خوش تو ہو نا؟
عباس نے اقرا کی ہتھیلی پر اپنی انگلی سے گول گول دائرہ بناتے پوچھا ۔
میں بہت خوش ہوں اقرا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تمہیں رنگ پسند نہیں آئی؟ عباس نے اقرا کی توجہ رنگ کی طرف کرواتے ہوئے پوچھا۔
بہت پیاری ہے اقرا نے رنگ کو دیکھتے کہا جو سچ میں اسے بہت پسند آئی تھی۔
اقرا میں یہ نہیں کہتا کہ میں پوری زندگی تمھاری حفاظت کروں گا کیونکہ انسان کو اپنی اگلے سانس کا بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا جب تک میں زندہ ہوں تمھاری حفاظت کروں گا۔
اور تم اچھے سے جانتی ہو میں کیسا کام کرتا تھا اگر کسی نے تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پھر عباس شیرو بن جائے گا اور اس سے تم مجھے نہیں روکو گی۔
عباس نے سنجیدگی سے اقرا کو دیکھتے کہا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا ۔
گڈ گرل عباس نے کہتے ہی اقرا کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔
اقرا نے شرم اور خفت سے نظریں جھکا لیں تھیں۔
جاؤ چینج کر لو پھر پیکنگ بھی کرنی ہے عباس نے مسکراتے ہوئے کہا تو اقرا نے اثبات میں سر ہلایا اور چینج کرنے چلی گئی ۔
پیچھے عباس بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔جتنا وہ سب کچھ آسان سمجھ رہا تھا وہ آسان بلکل بھی نہیں تھا ۔؛ور یہ تو وقت بتانے والا تھا ۔
💞💞💞💞💞
اگلے دن عباس اقرا اور عمر پاشا کے گھر سے چلے گئے تھے۔عباس اور اقرا دونوں خوش تھے۔
پاشا نے کچھ ٹائم بعد اپنے ایک آدمی کو بھیجا کہ اقرا کا کام تمام کر دے لیکن عباس نے پاشا کے سامنے اُس کی وہ حالت کی کہ دوبارہ پاشا کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اپنی کسی آدمی کو بھیج سکے اُس آدمی نے اقرا کا ہاتھ پکڑا تھا۔
عمر سمجھ گیا تھا کہ یہ پاشا کا کام ہے اس نے پاشا کو وارن بھی کیا تھا کہ عباس اور اقرا کی زندگی سے دور رہے ۔
پاشا دور بھی ہو گیا تھا۔
عباس اور اقرا ابھی بھی سکون کی زندگی گزار رہے ہوتے اگر شاہ میر نے مارکیٹ میں اقرا کو نا دیکھا ہوتا تو
شاہ میر کرن کے لیے گفٹ لینے آیا تھا اور واپسی پر اس نے پاشا کی طرف جانا تھا۔
جب اس کی نظر اقرا پر پڑی۔
شاہ میر شروع سے ہی ٹھرکی تھا اس لیے اقرا ک2 دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خباثت جاگ اُٹھی اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا جو عباس کے لیے شرٹ دیکھ رہی تھی ۔ اور آج وہ ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔
شاہ میر نے اقرا کے ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو اس انداز سے پکڑا کہ اس کا ہاتھ اقرا کے ہاتھ سے ٹچ ہو گیا تھا۔
اقرا نے گھبرا کر اُس شرٹ کو چھوڑ دیا اور شاہ میر کی طرف دیکھنے لگی جو مسکراتے نظروں سے اقرا کو دیکھ کو رہا تھا اقرا کو غصہ تو بہت آیا لیکن پھر وہاں سے چلی گئی اس کے بعد اقرا جس بھی دکان پر جاتی
شامیر بھی اس کے پیچھے ہی ہوتا ۔
اب تو اقرا کو ڈر کے ساتھ غصہ بھی آنے لگا تھا لیکن مارکیٹ میں سارے تھے تو اقرا نے خود کو حوصلہ دیا۔
اس نے سوچا ابھی گھر چلی جاتی ہے یہاں رکی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ سوچتے ہی اقرا وہاں سے جانے لگی تو شاہ جو کب سے اقرا سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا اسے جاتے دیکھ بنا کچھ سوچے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
اقرا نے جب اپنا ہاتھ دیکھا تو اس کا پارا ہائی ہو گیا ۔اور بنا کچھ سوچے سمجھے اس کا ہاتھ اٹھا اور شاہ میر کے گال پر نشان چھوٹ گیا۔
لوگ رک کر دونوں کو دیکھنے لگے تھے۔شاہ میر قہر برساتی نظروں سے اقرا کو دیکھنے لگا تھا۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی
اقرا نے غصے شاہ میر کو دیکھتے کہا ۔
آئندہ کسی بھی لڑکی کا ہاتھ پکڑنے سے پہلے اس تھپڑ کو ضرو یاد کر لینا۔
اقرا نے انگلی اٹھاتے شاہ میر کو. دیکھتے کہا عباس کے ساتھ نے اس میں کافی حوصلہ اور ہمت پیدا کی تھی۔
اقرا پھر وہاں رکی نہیں تھی اور وہاں سے چلی گئی شاہ میر کو وہاں کھڑے لوگ نفرت سے دیکھ رہے تھے۔
شاہ میر غصے سے تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا پاشا کا ڈرائیور بھی اس کے ساتھ تھا پاشا نے اسے شاہ میر کے پاس بھیجا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر آئے کیونکہ شاہ میر آنے کا تو کہہ دیتا تھا لیکن آتا نہیں تھا اسے کوئی نا کوئی کام یاد آجاتا تھا۔
اور پاشا کا ڈرائیور تو اقرا کو جانتا تھا ۔
وہ سب کچھ دیکھ بھی چکا تھا لیکن خاموش رہا۔
شاہ میر پاشا کے سامنے غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔
شاہ میر اگر مارکیٹ میں تم کسی بھی لڑکی کا ہاتھ پکڑو گے تو وہ تمہیں تھپڑ ہی مارے گی
پاشا نے سنجیدگی سے کہا ۔
اُس نے مجھ پر شاہ میر پر ہاتھ اٹھایا وہاں کھڑے لوگ مجھے نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
اُس لڑکی کو میں نہیں چھوڑوں گا
شاہ میر نے غصے سے کہا ۔
تم جانتے ہو وہ لڑکی کون ہے؟ پاشا نے پوچھا
نہیں میں نہیں جانتا شاہ میر نے کہا ۔
تو پھر کیسے پتہ چلے گا؟ پاشا نے شاہ میر کی طرف جھکتے ہوئے پوچھا۔
تمھارا ڈرائیور بھی میرے ساتھ ہی تھا ہو سکتا ہے وہ جانتا ہو
شاہ میر نے کہا تو پاشا نے کچھ فاصلے پر کھڑے گارڈ کو اشارہ کیا کہ وہ ڈرائیور کو بلا کر لائے جو تھوڑی دیر بعد وہاں آگیا تھا۔
جس لڑکی نے شاہ میر کو تھپڑ مارا کیا تم اُسے جانتے ہو؟ یا کہی دیکھا ہو؟
پاشا نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔
سر وہ عباس سر کی بیوی اقرا تھیں
ڈرائیور نے نظریں جھکا کر جواب دیا اور پاشا جو آرام سے بیٹھا تھا فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔
کیا کہا تم نے؟ وہ اقرا تھی؟ پاشا نے ڈرائیور کے سامنے آتے پوچھا ۔
جی سر ڈرائیور نے کہا ۔
ٹھیک ہے جاؤ یہاں سے
پاشا نے پریشانی سے کہا اور اپنی شرٹ کا اوپری بٹن کھولا ۔
یہ تو اور بھی اچھا ہو گیا۔شاہ میر نے پاشا کو دیکھتے کہا ۔
شاہ میر تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ پاشا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
پاشا مجھے وہ لڑکی کسی بھی حال میں چاہیے اُس نے شاہ میر کو تھپڑ. مار کر بہت بڑی غلطی کی ہے سزا تو اسے ملنی چاہیے اور ایسی سزا جو وہ پوری زندگی یاد رکھے۔
تم جانتے بھی ہو وہ لڑکی کون ہے؟ پاشا نے دھاڑتے ہوئے شامیر کو کہا
وہ عباس کی بیوی ہے اگر اُسے پتہ چل کر تو بہت بری موت دے گا ۔
پاشا نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا۔
پاشا پیسوں کے لیے کام کرتا ہے نا تو جتنے پیسے تم مانگو گے میں تمہیں دوں گا لیکن وہ لڑکی کل صبح تک مجھے اپنے کمرے میں چاہیے اور تم نے ہی کہا نا کہ عباس سب کچھ چھوڑ چکا ہے۔
تو اب وہ کچھ نہیں کر سکتا اور تم نے کہا تھا میرا احسان ضرور اتارو گے تو وقت آگیا ہے
مجھے وہ لڑکی لا کر دو ۔
شاہ میر نے سرخ آنکھوں سے پاشا کو دیکھتے ہوئے کہا جو خود کسی سوچ میں غرق تھا ۔
ٹھیک ہے کل صبح وہ تمھارے کمرے میں ہو گی ۔
پاشا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
شاہ میر کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی تھی۔
💞💞💞💞💞
اقرا گھر میں داخل ہوئی تو بہت غصے میں تھی عباس تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا اور اقرا کا ہی انتظار کر رہا تھا۔
اقرا تمہیں کتنی بار کہا ہے میرے یا عمر کے ساتھ باہر جایا کرو ۔
عباس نے سخت گھوری سے اقرا کو نوازتے ہوئے کہا جو عباس کو غصے میں دیکھ کر مسکرا پڑی تھی ۔
مجھے کچھ سامان لینا تھا۔اور آپ غصے میں بہت کیوٹ لگتے ہو ۔اقرا نے عباس کے گال کو کھینچتے ہوئے کہا جس نے اقرا کو بازو سے پکڑ کر اپنی گود میں ہی بیٹھا لیا تھا ۔
میں کیوٹ ہی ہوں
اور میں سوچ رہا تھا کیوں نا عمر کو ماموں بنا دیا جائے
عباس نے اقرا کے چہرے پر آتی بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ذومعنی انداز میں کہا جس پر اقرا شرما گئی تھی ۔
کل آپ کی برتھ ڈے ہے اور میں نے آپ کے لیے ایک بہت اچھا سرپرائز سوچا ہوا ہے
اقرا نے شرماتے ہوئے کہا ۔
عباس جانتا تھا اقرا کس سرپرائز کی بات کر رہی ہے اور آج عباس بہت خوش تھا لیکن وہ چاہتا تھا اقرا خود اسے بتائے
پھر تو مجھے کل کا بے صبری سے انتظار ہے
عباس نے اقرا کی ناک کو کھینچتے ہوئے کہا۔
جس پر اقرا ہنس پڑی تھی اور اس کے کندھے پر ہی سر رکھ کر لیٹ گئی کل ہی تو اس کی رپورٹ آئی تھی۔اور وہ عباس کو اس کی برتھ ڈے پر خوشخبری دینا چاہتی تھی کہ وہ بابا بننے والا ہے لیکن عباس پہلے ہی وہ رپورٹ کو دیکھ چکا تھا ۔
💞💞💞💞💞
آگے دن اقرا کو عباس کے لیے گفٹ لینا تھا اور وہ مارکٹ آئی تھی۔گھر کے پاسے والی مارکیٹ میں ہی اس نے جانا تھا۔
ابھی اُس نے اپنی گاڑی سے نکل کر پانچ قدموں کا فاصلہ طے کیا ہو گا جب پیچھے سے کسی سے اس کے منہ پر رومال رکھا یہ اتنی جلدی ہوا کہ اقرا کچھ سمجھ نا سکی اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی رومال پر لگی بے ہوشی کی دوا کی وجہ سے ہوش سے بیگانہ ہو گئی ۔
پاشا کے آدمی نے ارد گرد دیکھا جو کافی دیر سے کھڑا اقرا کا انتظار کر رہا تھا۔
کیونکہ اقرا زیادہ اسی مارکیٹ میں آتی تھی۔
اور پاشا جانتا تھا آج ضرور اقرا گھر سے باہر نکلے گی ۔
اقرا کو ہوش آیا تو اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔اقرا نے کمرے کو غور سے دیکھا جو اس کا تو بلکل بھی نہیں تھا۔
آہستہ آہستہ اس کا دماغ بیدار ہونے لگا اور جیسے ہی اسے یاد آیا بیڈ سے کھڑی ہو کر دروازے کی طرف بھاگی۔
آج صبح ہی تو عباس نے اسے روکا تھا کہ باہر نا جائے لیکن وہ نہیں مانی تھی۔
کیا ہوا جانِ من؟ شامیر جو صوفے پر بیٹھا اس کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا ۔اسے دروازے کی طرف بھاگتے دیکھ مسکرا پڑا ۔
اقرا نے سہمی ہوئی نظروں سے صوفے کی طرف دیکھا جہاں شامیر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔
اقرا کو اپنی روح پرواز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
تمہیں کیا لگا تھا تم سے میں بدلہ نہیں لوں گا تم نے شاہ میر کو تھپڑ مار کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے
اور اب شامیر نے اقرا کے سامنے کھڑے ہوتے قہر برساتے لہجے میں کہا
تھوڑی دیر بعد تمہیں احساس ہو جائے گا کہ تم نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔
شاہ میر نے اقرا کو بالوں سے جکڑتے ہوئے کہا اور اسے گھسیٹتے ہوئے بیڈ کی کی لے جانے لگا۔
💞💞💞💞💞
حال
زری رخصت ہو کر آج شاہ میر کے کمرے میں بیٹھی تھی۔
شاہ میر کمرے میں داخل ہوا تو زری نے نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔
شاہ میر کی تو آج زری سے نظریں نہیں ہٹ رہی تھی وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی ۔
شاہ میر نے زری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
زرتشہ میں جانتا ہوں میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے اور آج میں اُن سب چیزوں کے لیے تم سے معافی مانگتا ہوں ۔
کیونکہ مجھے احساس ہے کہ میں نے جو کچھ بھی تمھارے ساتھ کیا وہ غلط تھا اور میں اگر اپنی غلطی مان رہا ہوں تو صرف تمھارے پیار ہی خاطر
شاہ میر زری کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بول رہا تھا ۔
اور زری جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا ۔
میں چاہتا ہوں ہم دونوں اپنی پیچھلی باتوں کو بھول کر اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔اور امید کرتا ہوں تم مجھے معاف کر دو گی شامیر نے زری کی کلائی میں پہنے بریسلٹ کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے کہا ۔
زری شاہ میر کی بات سن کر اندر سے خوش ہوئی تھی ۔
شاہ میر نے زری کے لیے لایا ہوا پاکٹ نکال کر اس کے گلے میں پہنا دیا ۔
زری کو اب یقین ہو گیا تھا اس کی زندگی اب اچھی گزرنے والی ہے لیکن یہ اس کی بھول تھی۔
شاہ میر بےشک زری سے محبت کرتا تھا لیکن وہ اپنی عادتیں چھوڑ دے یہ ناممکن تھا ۔
💞💞💞💞
پیو گے؟ کبیر نے سگریٹ کی ڈبی دبیر کے سامنے کرتے ہوئے پوچھا ۔اس وقت دبیر کبیر کے فلیٹ پر موجود تھا ۔
میں سگریٹ نہیں پیتا دبیر نے ایک نظر ڈبی کو دیکھتے کہا۔
تو پھر شراب پیتے ہو؟ کبیر نے دبیر کے سامنے بیٹھتے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
میں شراب بھی نہیں پیتا ۔
ضروری نہیں جیسے تم خود ہو باقی سارے بھی ویسے ہی ہوں۔
دبیر نے پیچھے کرسی سے ٹیک لگاتے عام سے لہجے میں کہا ۔
لیکن کبیر کو یہ لہجہ عام تو بلکل بھی نہیں لگا تھا ۔
جیسا بھی ہوں سب کے سامنے ہوں تمھارے جیسا نہیں ہوں منہ کچھ اور اور پیٹھ پیچھے کچھ اور کبیر نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
ویسے تم مجھ سے اتنا چڑھتے کیوں ہو کہی اس لیے تو نہیں کہ میں تم سے زیادہ ہینڈسم ہوں ۔
دبیر نے ایک آنکھ دباتے پوچھا ۔اسے کبیر کو چھڑانے میں مزا آرہا تھا ۔
میر نے کچھ ضروری بات کرنی تھی اس لیے دونوں کو بلایا تھا ۔
دبیر کی بات سن کر کبیر قہقہہ لگائے ہنس پڑا زرا آئینے میں اپنی شکل دیکھو جواب خود ہی مل جائے گا ۔
کبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
آہ روز دیکھتا ہوں اس لیے تو یقین ہے کہ میں تم سے زیادہ ہینڈسم ہوں ۔
دبیر نے کبیر کے سامنے آتے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لیتے ایک گہرا کش لے کر کہا اور پھر خود اندر چلا گیا اس وقت اسے سچ میں سگریٹ کی بہت ضرورت تھی لیکن کبیر کو. چڑھانا بھی تو تھا ۔
ایک نمبر کا چھوٹا انسان ہے آیا بڑا ہینڈسم کبیر نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا اس کا موڈ سخت خراب ہو گیا تھا ۔
اور بے شک اب غصہ نور بےچاری پر نکلنا تھا ۔نور کبیر کی بیوی کا نام ہے ۔
دبیر اندر جاکر چکر لگانے لگا تھا بے چینی نے اسے گھیرا ہوا تھا وہ جانتا تھا آج زری کی رخصتی ہے ۔
میں کیوں اُس کے بارے میں اتنا سوچ رہا ہوں دبیر نے جھنجھلا کر کہا۔
پیار جو کر بیٹھے ہو اس لیے پیچھے سے آتی کبیر کی آواز پر اس نے گھور کر دیکھا ۔
میں کسی سے پیار نہیں کرتا۔دبیر نے سرد لہجے میں کہا ۔
چلو پیار نہیں تو محبت کرتے ہو گے کبیر نے مزے سے کہا ۔ اور ٹی-وی اون کر کے بیٹھ گیا اب کبیر خوش تھا کیونکہ اس نے دبیر کو غصہ دلا دیا تھا ۔
اور دبیر سچ میں اس وقت غصے میں کھڑا کبیر کو گھور رہا تھا
اب کیا نظر لگاؤ گے جانتا ہوں تم سے زیادہ پیارا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم مجھے نظر لگا دو
کبیر نے اپنا چہرہ دبیر کی طرف مروڑتے ہوئے کہا ۔
بڑے پاپا اگر آپ نے آنے میں مزید دیر کی تو ہو سکتا ہے اس شخص کا میں منہ توڑ دو۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اس کی بڑبڑاہٹ اتنی اونچی ضرور تھی کہ کبیر نے بھی سن لی تھی ۔
بھائی صاحب میں نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی
کبیر نے ڈبل گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔
دونوں نے ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظر سے دیکھا ۔
دبیر وہاں سے باہر چلا گیا اور کبیر ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔
