Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
اشاءاللہ ہنی مائی ڈارلنگ کیوں غریب کی جان لینا چاہتی ہو؟
میر نے حیاء کو دیکھتے ٹھنڈی سانس بھرتے کہا جس نے بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی اور دوسرے کندھے پر چادر رکھی ہوئی تھی۔
ہلکے سے میک کے ساتھ حیا بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
اگر نور اور حیا کو ساتھ کھڑا کیا جاتا تو وہ اُس کہ بڑی بہن لگتی نور کی شکل بھی کافی حد تک حیا سے ملتی تھی اور کچھ لوگوں نے تو حیا کو کہا بھی تھا کہ نور ان کی بیٹی نہیں بلکہ چھوٹی بہن لگتی ہے۔
میر نہیں جانتا تھا کہ حیاء میں ایسا کیا ہے جو آج اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی میر کو حیا پہلے سے زیادہ پیاری لگتی تھی۔
خان آپ کب سے غریب ہو گئے؟
حیا نے باقی ساری بات کو نظر انداز کرتے مشکوک نظروں سے میر کو دیکھتے پوچھا
جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
تم. میری محبت بھری باتوں کو کبھی نہیں سمجھ سکتی ۔
تمہیں یاد ہے وہ دن جس دن پہلی بار میں تمہیں ملا تھا۔
میر نے حیاء کو میٹھی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
مجھے وہ دن یاد نہیں کرنا خان
حیا نے منہ بسوڑتے کہا۔
اُس دن بھی تم نے اسی طرح کا ڈریس پہنا تھا
میر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
اور حیا کی گردن کے نشان پر پر انگلی پھیرنے لگا جو کافی حد تک مدھم ہو گیا تھا۔
یہ وہی نشان تھا جو پہلی ملاقات میں میر نے حیاء کو دیا تھا۔
خان آپ نے مجھے کتنا ڈرا دیا تھا اور اُس دن کو میں کبھی نہیں بھول سکتی
حیا نے آہستگی سے کہا۔
بھولنا بھی نہیں چاہیے میر نے کہتے ہی حیا کی گردن کے نشان پر اپنے لب رکھ دیے
خان ہم لیٹ ہو رہے ہیں
حیا نے ہڑبڑا کر کہا۔
ہنی میں سوچ رہا ہوں کبیر اور نور کو بھیج دیتا ہوں ۔
کیا خیال ہے؟
میر نے آنکھوں میں چمک لیے کہا۔
خان بہت ہی فضول خیال ہے دبیر نے کتنی محبت سے بلایا ہے اگر آپ نہیں گئے تو اُسے برا لگے گا۔
حیا نے سمجھداری سے کہا۔
ہمم یہ بات تو تم نے ٹھیک کی ہے
میری چھوٹی سی جان
میر نے مسکرا کر کہتے حیا کا ناک کھنچا۔
جس پر حیا نے میر کو گھور کر دیکھا۔
آپ تیار ہو کر باہر آجائے میں نور کو دیکھتی ہوں۔
حیا نے کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
ظالم لڑکی کبھی بھی رومینٹک نہیں ہونے دیتی
میر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میر نے حیاء کو دبیر کے بارے میں کافی ٹائم پہلے ہی بتا دیا تھا۔
اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ دبیر اس کے لیے بلکل کبیر جیسا ہے۔
💞 💞 💞 💞 💞
کیسی ہیں خالہ آپ؟
دبیر نے نغمہ بیگم کو دیکھتے خوشی سے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں تم تو مجھے بھول ہی گئے تھے نغمہ بیگم نے گلہ کرتے کہا۔
وہ کافی کمزور ہو گئی تھیں بیٹے کی جدائی نے انکو بیمار کر دیا تھا۔
آپ کو میں کیسے بھول سکتا ہوں خالہ جان
دبیر نے نغمہ بیگم کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا۔
آئیے آپ دبیر نے مسکرا کر کہا۔
اور دونوں اندر چلے گئے آج دبیر خود نغمہ بیگم کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
کہاں چلی گئی تھیں آپ؟
ارحم نے چہرے پر سخت تیوری لیے زری کی طرف قدم بڑھاتے کہا۔
جو پیچھے کھسکتی جا رہی تھی۔
اسے ارحم سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
وہ میں…
زری کے ارد گرد دیکھتے کہا۔
لیکن اسے بھاگنے کا راستہ نظر نہیں آیا۔یہ جگہ بھی اسبکے لیے نئی تھی وہ تو دبیر کے گھر پر تھی پھر اچانک یہاں ارحم کے سامنے کیسے آگئی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
آپ تو مجھ سے نکاح کرنے والی تھی نا؟
پھر دبیر سے کیسے کر لیا؟ آپ مجھے دھوکا دے رہی تھیں؟
ارحم عین زری کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا تھا زری دیوار کے ساتھ چیک گئی تھی۔
اسے تو اب لگنے لگا تھا اس کی زندگی ایک فلم بن گئی ہے ۔
ایک جاتا ہے تو دوسرا اپنا حق جمانے آجاتا ہے۔ہر دوسرے دن کوئی نا کوئی پریشانی آجاتی ہے۔
کبھی کوئی اٹھا کر لے جاتا ہے کبھی کوئی
اور زری ان سب کے ہاتھ کی کٹ پتلی بنی ہوئی ہے۔
میری غلطی نہیں ہے زری نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
ماتھے پر اس کے پسینہ چمک رہا تھا۔
تم. صرف میری ہو زرتشہ اور مجھے فرق نہیں پڑتا کہ تم کس کی بیوی ہو
ارحم سیدھا آپ سے تم پر آیا تھا۔
ارحم نے زری کے کان کے پاس جھکتے ہوئے مزید کہا۔
زری نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
اور جانتی ہو اب میں تمھارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟
ارحم نے کہتے ہی زری کو کمر سے پکڑے کر اپنے قریب کیا۔
زری جو آنکھیں بند کیے کھڑی تھی سیدھی ارحم کے سینے سے آ ٹکرائی تھی۔
تمھارے ساتھ جو میں کروں گا وہ تمھارے ساتھ ساتھ دبیر بھی ہمیشہ یاد رکھے گا۔ارحم نے زری کے خوفزدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
زری کو کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہوا تھا۔
دبیر تمہیں جان سے مار دے گا
زری نے ہمت پیدا کرنے کہا۔
مارے گا تو اُس وقت نا جب وہ مجھے پکڑے گا۔اور ارحم کو وہ کبھی نہیں پکڑ سکتا چاہے کچھ بھی کر لے اور یہ بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں فٹ کر لو ۔ارحم نے زری کے چہرے پر جھولتی لٹ کو کھنچتے ہوئے کہا۔
زری زری… دبیر نے زری کو جھنجھوڑتے ہوئے آواز دیتے کہا۔
زری نے آنکھیں کھولیں تو اپنے اوپر جھکے دبیر کو کچھ پل تو ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔
زری ہادی کو سلانے کمرے میں آئی تھی ہادی کے ساتھ اس کی بھی آنکھ لگ گئی۔
لیکن اپنے خواب میں ارحم کا یہ روپ دیکھ کر زری سچ میں ڈر گئی تھی۔
دبیر کمرے میں داخل ہوا تاکہ زری کو نغمہ بیگم کے بارے میں بتا دے لیکن زری کو نیند میں منہ میں کچھ بڑبڑاتے دیکھا تو پہلے اسے آواز دی جب زری نہیں جاگی تو اسے زور سے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا۔
کیا ہوا؟ ٹھیک ہو تم؟
دبیر نے زری کو دیکھتے پوچھا جس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا۔
ہا ہاں میں ٹھیک ہوں زری کو جب یقین ہو گیا کہ یہ خواب تھا تو شکر کا سانس لیا۔
دبیر نے پانی کا گلاس زری کے سامنے کیا جس نے پہلے تو حیرانگی سے سنجیدہ کھڑے دبیر کو دیکھا پھر پانی کا گلاس پکڑ لیا۔
میری خالہ آئی ہیں اُن سے مل لو
میں باہر تمھارا انتظار کر رہا ہوں دبیر نے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
زری نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا تھا۔وہ کل سے ارحم کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی اس لگ رہا تھا کہ اس نے ارحم کے ساتھ غلط کیا ہے۔اور آج خواب میں ارحم کا بھیانک روپ دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
شکر ہے یہ خواب تھا زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑے سیٹ کرکے باہر چلی گئی.
💞 💞 💞 💞 💞 💞
فاز نے مریم کے لیے ریڈ کلر کا فراک پسند کیا تھا جو مریم کو بہت پسند آیا تھا۔
پارلر والی نے مریم کو تیار کر دیا تھا۔اب بس ڈریس چینج کرنا رہ گیا تھا۔
میڈم آپ ڈریس چینج کر لیں پارلر والی نے کہا تو مریم اثبات میں سر ہلاتے چینج کرنے چلی گئی۔
سنو یہ زیب بند کرنا مجھ سے نہیں ہو رہی مریم نے چینجنگ روم سے باہر نکلتے سامنے دیکھتے کہا۔
لیکن وہاں پر پارلر والی تو نہیں تھی اُس کی جگہ فاز کھڑا گہری نظروں سے مریم کو دیکھ رہا تھا۔
آپ؟ وہ لڑکی کہاں گئی؟
مریم نے فاز کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا
میں نے اُسے باہر بھیج دیا
اچھا نہیں لگتا کہ میاں بیوی کے رومینٹک سین کوئی تیسرا دیکھے ۔
فاز نے مریم کے پیچھے کھڑے ہوتے کہا۔
مریم بنے نفی میں سر ہلایا تھا۔
فاز نے بہت پیار سے مریم کے فراک کی زیب بند کی تھی۔
مریم فاز کی انگلیوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کر سکتی تھی۔
مائی پرنسسز
فاز نے مریم کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔
مریم کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
میرے پاس الفاظ نہیں ہے بس یہی کہوں گا مجھے لگتا ہے آج میری ہی نظر میری بیوی کو لگ جائے گی
اور نظر نا لگنے کے لیے جو وہ کالا نشان سا لگاتے ہیں وہ ضرور لگا لینا۔
فاز نے مریم کا رخ اپنی طرف کرتے اس کا ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اوپر کرتے کہا
جو ہنس پڑی تھی۔
آپ تیار نہیں ہوئے؟
مریم نے پوچھا۔
بس جا رہا تھا سوچا پہلے اپنی بیوی کو دیکھ لوں اور ہاں تمھارے لیے ایک گفٹ میں لایا تھا۔
فاز نے یاد آنے پر کہا۔
اور الماری سے ایک چھوٹا سا جیولری باکس لے کر مریم کو دیکھا۔
فاز نے اسے کھولا اور اندر سے ایک خوبصورت سا لاکٹ نکالا مریم نے آنکھیں پھاڑے فاز کو دیکھا تھا۔
وہ لاکٹ بہت مہنگا لگ رہا تھا۔
فاز یہ تو بہت مہنگا لگ رہا ہے مریم نے فاز کو دیکھتے کہا۔
ہاں مہنگا تو ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں ہے اور اسے کبھی مت اتارنا
فاز نے مریم کے گردن سے بال پیچھے کرتے اسے لاکٹ پہناتے کہا۔
مریم نے ہاتھ سے لاکٹ میں بنے چھوٹے سے ہارٹ کو چھوا تھا اس کے چہرے پر چھائی خوشی سے ہی فاز کو پتہ چل گیا تھا کہ مریم کو لاکٹ کتنا پسند آیا ہے۔
فاز نے لاکٹ پہنانے کے بعد مریم کی گردن پر اپنے لب رکھ دیے
فاز کی گرم سانسوں کی تپش سے مریم خود میں سمٹ سی گئی تھی۔
تمہیں پسند آیا؟
فاز نے مریم کے لاکٹ کو انگلی کی پور سے چھوتے ہوئے پوچھا۔
بہت زیادہ آپ کی پسند بہت اچھی ہے ۔
مریم نے مسکرا کر کہا۔
ہاں بلکل تم خود کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتی ہو۔
فاز نے گہرے لہجے میں کہا۔
پہلے تو مریم کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی لیکن بعد میں اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں تھیں۔
واللہ محبوب کا شرمانا بھی بہت خطرناک ہوتا ہے اور یہ بات آج مجھے پتہ چلی ہے فاز نے قہقہہ لگاتے کہا۔
فاز آپ نے تیار نہیں ہونا؟ مریم نے فاز کی بانہوں سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
جا رہا ہوں لیکن رات نہیں چھوڑوں گا۔
فاز نے ذومعنی الفاظ میں کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
فاز کے جانے کے بعد مریم نے خود کو آئینے میں دیکھا تھا۔اس کا شوق تھا اس طرح کا فراک پہنے کا اور آج یہ شوق بھی فاز نے پورا کر دیا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
میں نے سنا ہے آج بیسٹ اور شیرو ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہونے والے ہیں۔
آفندی نے ارحم کو دیکھتے کرخت لہجے میں کہا۔
مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے ارحم نے سنجیدگی سے کہا۔
کیسے تمہیں کچھ معلوم نہیں ہے ہر بات کا تمہیں علم ہوتا ہے تو اس بات کا کیوں نہیں ہے؟
آفندی نے سامنے ٹیبل پر پڑے کانچ کے گلاس کو زمین پر پھینکتے کہا اسکے ساتھ پڑی وائن کی بوتل بھی زمین بوس ہو گئی تھی۔
لیکن ارحم کے اطمینان میں زرا بھی فرق نہیں آیا۔
نا تو میں تمھارا نوکر ہوں اور نا ہی میں تمھارے لیے کام کرتا ہوں تو بہتر ہو گا مجھ پر حکم مت چلاؤ ارحم وہی کرتا ہے جو اُس کا دل کرتا ہے۔
ارحم نے کھڑے ہوتے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے کہا ۔
اور دوسری بات جہاں پر بیسٹ اور شیرو اکٹھے ہونگے تمہیں کیا لگتا ہے میں یا تم وہاں آسانی سے جا سکتے ہیں؟
بلکل بھی نہیں
ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں اور تم اُن دونوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔
میں تمھاری طرح جذباتی نہیں ہوں میں جو بھی کرتا ہوں ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر کرتا ہوں۔
ارحم نے سرد لہجے میں کہا۔
آفندی کھا جانے والی نظروں سے ارحم کو دیکھ رہا تھا۔
تم کچھ نہیں کر سکتے لیکن میں تو کر سکتا ہوں نا؟ آج کی پارٹی سب کے لیے یاد گا ہو گی آفندی نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لاتے کہا۔
تمھاری مرضی ہے اگر تمہیں ذلیل ہونے کا زیادہ شوق ہے تو جاؤ
ارحم نے کندھے اچکاتے کہا۔
آج تک کسی نے مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کی ارحم
آفندی نے گھورتے ہوئے کہا۔
مجھ سے بھی آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات نہیں کی آفندی
ارحم نے دبل گھوری سے آفندی کو نوازتے ہوئے کہا۔
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا تم بس انسان کو پاگل کرنا جانتے ہو آفندی نے کہا
اور اب آرام سے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔
کیونکہ اب وہ تھوڑا بہت مطمئن تھا جو اس نے سوچا تھا اُس سے ضرور دبیر کی پارٹی خراب ہونے والی تھی۔
حیرت ہے کہ تم ابھی تک ٹھیک ہو پاگل نہیں ہوئے ارحم نے طنزیہ لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
آفندی بس جاتے ہوئے ارحم کو گھور ہی سکتا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
میں سوچ رہا ہوں کیوں نا آج اپنا بھی نکاح پڑھوا لوں؟
مصطفیٰ نے رانی کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔
جو ڈر کر اچھل پڑی تھی۔
آپ ہمیشہ مجھے ڈرا کیوں دیتے ہیں؟
رانی نے دانت پیستے مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا جو آج کافی خوش لگ رہا تھا۔
اس نے وائٹ کُرتے کے ساتھ بلیک پنٹ پہنی تھی بالوں کو اچھے سے سیٹ کیا ہوا تھا۔
آج رانی کو مصطفیٰ کچھ الگ سا لگا تھا۔
پیارا لگ رہا ہوں؟
مصطفیٰ نے رانی کو خود پر نظریں جمائے دیکھا تو شرارتی لہجے میں پوچھا۔
ہاں میرا مطلب ہے نہیں
رانی نے جلدی سے اپنے الفاظ کی درستگی کرتے کہا ۔
اچانک ہی اس کی زبان سے ہاں نکلا تھا۔
جھوٹ نہیں بولنا چاہیے
رانی میڈم جو چیز اچھی لگے دل کھول کر اُس کی تعریف کرنی چاہیے
مصطفیٰ نے کہتے ہی رانی کو بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کیا جس نے لانگ وائیٹ کلر کی فراک پہنی تھی ڈوپٹے کو اچھی طرح سر پر سیٹ کیا ہوا تھا۔
اور میک کے نام پر ہلکی سی لپ سٹک لگائی تھی اسے میک اپ کرنا پسند نہیں تھا۔
مصطفیٰ نے رانی کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا ۔
سادگی میں تم زیادہ حسین لگتی ہو ۔
مصطفیٰ نے گہری نظروں سے رانی کو دیکھتے کہا جس نے گھور کر دیکھا تھا۔
تمھارے لیے آج ایک سرپرائز ہے تیار رہنا
مصطفیٰ نے آنکھیں میں چمک لیے کہا اور رانی کا گال تھپتھپاتے وہاں سے چلا گیا۔
رانی نے سر کو جھٹکا تھا اُسے لگا تھا مصطفیٰ پھر سے کچھ فضول ہی کرنے والا ہو گا اس لیے اس کی بات کو زیادہ سیریس نہیں لیا جبکہ اس بار وہ سچ میں کچھ بڑا کرنے والا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
آج تو میری چشمش قیامت لگ رہی ہے۔
کبیر نے سیٹی بجاتے لوفررانہ انداز میں نور کو دیکھتے کہا۔
حلیہ تو کبیر والا ہے لیکن آپ لگ ٹائیگر رہے ہو
نور نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے کہا۔
چھوکری دل بھی تو تیرا ٹائیگر پر ہی آیا تھا نا
کبیر نے ڈرامائی انداز میں کہا۔
ہاں کیونکہ وہ آپ سے زیادہ اچھا ہے نور نے اپنی چوڑیاں پہنتے ہوئے ہنس کر کہا۔
وہ کیوں تمہیں زیادہ اچھا لگتا ہے؟
کبیر نے کمر پر ہاتھ رکھتے نور کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے ٹائیگر زیادہ اچھا لگتا ہے۔مجھے صرف ٹائیگر اچھا لگتا ہے
نور نے گردن اترا کر کہا۔
وہ ہمیشہ اسی طرح کبیر کو تنگ کرتی تھی
اور کبیر چڑ بھی جاتا تھا جبکہ ٹائیگر اور کبیر دونوں ایک ہی تھے لیکن پھر بھی وہ نور کی باتوں سے جیلس ہو جاتا تھا۔
جانِ من تم مجھ سے پنگے نا لیا کرو تمھاری چھوٹی سی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے
کبیر نے نور کے گلاسز اتارتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
جس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
کبیر ایک بات پوچھوں
نور نے معصومیت سے پوچھا۔
اللہ تمھاری اس معصومیت پر کون صدقے واری نا جائے
کبیر نے دل پر ہاتھ رکھتے کہا۔
آپ سچ میں پاپا سے ڈرتے ہیں؟
نور نے اس قدر معصومیت سے پوچھا کہ کبیر کو سمجھ نہیں آئی کیا تاثر دے۔
تمھارے اور میرے رومانس میں تمھارا باپ کہاں سے آگیا نور؟
کبیر نے دانت پیستے پوچھا۔
جو کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
ماما آتی ہوں گی آپ بھی تیار ہو جائیں اور آپ نے میری تعریف نہیں کی نور نے چشمہ لگاتے گھور کر پوچھا۔
آہ تعریف ہی تو کرنے والا تھا کبیر نے کہتے ہی بنا نورکو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اس کی بولتی بند کر دی۔
نور نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں
تھوڑی دیر بعد کبیر پیچھے ہٹا تو نور گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔
اتنی تعریف ٹھیک ہے یا اور کروں
کبیر نے ایک آنکھ دباتے پوچھا
آپ بہت برے ہیں کبیر نور نے منہ بسوڑتے کہا
ہاں جانتا ہوں۔
کبیر نے مسکرا کر کہا اور چینج کرنے چلا گیا۔
نور اپنی لپ سٹک ٹھیک کرنے لگی تھی جو کبیر خراب کر چکا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
سر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں سلیم نے آفندی کو دیکھتے پوچھا۔
میں وہاں خود جاؤں گا
آفندی نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن سر ابھی آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے اور جہاں آپ جا رہے ہیں وہاں بہت زیادہ خطرہ ہے۔
سلیم نے پریشانی سے کہا۔
تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں
آفندی نے مسکراتے ہوئے کہا اور سلیم کو اپنے پیچھے آنے ک اشارہ کرتے وہاں سے باہر چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
