Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
ی….
دبیر نے کمرے میں داخل ہوتے زری کو آواز دی۔لیکن زری کمرے میں نہیں تھی۔
دبیر نے سب کمروں میں دیکھ لیا تھا اب سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوا جو پیچھلی سائیڈ پر تھا۔
دبیر کمرے میں دو بڑی سی کھڑکیاں تھیں جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھیں۔
زری جو ڈریسنگ روم میں تھی ہادی کے کپڑے چینج کر رہی تھی
دبیر کی آواز سنتے باہر آئی لیکن کمرے میں پھیلا دھواں اور کھڑکیوں کے پردے کو جلتے دیکھ وہی رک گئی تھی۔
زری نے گھبرا کر ہادی کو اپنے ڈوپٹے سے کور کیا۔کھڑکی سے کچھ فاصلے پر ہی ڈریسنگ روم تھا زری کے قدموں میں پردے گرے تھے جن میں آگ لگی تھی۔
زری نے اپنے پاؤں سے پردے کو پیچھے کرنا چاہا لیکن زری کر نہیں سکی۔زری ڈریسنگ روم کے اندر چلی گئی ۔
اور خود میں ہمت پیدا کرتے اس نے سوچا کہ وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگے گی۔
اس نے ایسا ہی کیااور بھاگ کر باہر آگئی لیکن اوپر سے پردے کا تھوڑا سا حصہ جلا ہوا زری کے ہاتھ پر گر گیا۔
اتنے میں دبیر بوکھلایا ہو کمرے میں داخل ہوا ہادی رونے لگا تھا۔
دبیر نے جلدی سے زری کو گلے لگایا
تم ٹھیک ہو؟
دبیر نے زری کے چہرے کو اپنے ہاتھ کے پیالے میں بھرتے ہوئے بے چینی سے پوچھا۔
زری نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اس کا ہاتھ سرخ ہو رہا تھا۔
دبیر نے ہادی کو گود میں لیا اور زری کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے گیا
دبیر نے زری کا وہی ہاتھ پکڑا تھا جو جلا ہوا تھا۔اس کے منہ سے سسکی نکلی جو دبیر کو سنائی نہیں دی وہ بس جلدی سے زری کو یہاں سے لے کر نکلنا چاہتا تھا۔
اس نے باہر آکر زری کا ہاتھ چھوڑا تھا۔
گاڑی میں بیٹھو دبیر نے اپنی گاڑی کی طرف جاتے کہا ۔
خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور ساتھ زری بیٹھ گئی۔
دبیر نے ہادی کو زری کی گود میں بیٹھا دیا تھا۔
اس وقت دبیر کا چہرہ زری کو کافی حد تک خطر ناک لگ رہا تھا۔
زری کو اپنے ہاتھ پر جلن ہو محسوس ہو رہی تھی لیکن خاموش رہی۔
ہاں مجھے اپنا گھر پہلے جیسا چاہیے جو بھی کرنا ہے کرو لیکن مجھے پیلس پہلے جیسا چاہیے۔
دبیر نے سرد لہجے میں کہتے ہی بنا اگلے کا جواب سنے کال کاٹ دی۔
دبیر نے کبیر کو کال کی جس نے کچھ سیکنڈ بعد کال اٹھا لی تھی۔
سب لوگ ٹھیک ہیں؟
دبیر نے پہلا سوال. یہی کیا تھا۔
ہاں سب ٹھیک ہیں میں سب کو بڑے پاپا کے دوسرے گھر میں لے آیا ہوں۔تم بھی یہی آجاؤ کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے مجھے ایڈریس سینڈ کر دو
میں کچھ دنوں تک وہاں آجاؤ گا۔
دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
زری خاموشی سے سامنے سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
دبیر جانتا تھا جس گھر کی کبیر بات کر رہا ہے وہ سیف جگہ پر ہے اور وہاں اس کی فیملی آرام سے رہ سکتی ہے۔لیکن جا نے اس کا سکون برباد کیا تھا اب وہ آرام سے رہنے والا نہیں تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
بابا کیا آپ جانتے ہیں بھائی کو کس نے قتل کیا؟ کرن نے فضیل اعوان سے پوچھا جو کافی کمزور ہو گیا تھا
سارا دن اکیلا کمرے میں بند رہتا تھا۔
تم. جان کر کیا کر لو گی؟
فضیل نے سنجیدگی سے پوچھا
جس نے بھی میرے بھائی کو قتل کیا ہے میں بھی اُس کی جان لے لوں گی
کرن نے سرد لہجے میں کہا۔
فضیل کا چہرہ ایک دم. کھل اٹھا تھا کیا تم سچ میں اُس انسان سے بدلہ لو گی؟
فضیل نے بے تابی سے پوچھا۔
جی بلکل آپ مجھے بس اتنا بتا دیں کیا آپ کو معلوم ہے کہ بھائی کو کس نے قتل کیا؟
کرن نے دوبارہ پوچھا۔
نہیں میں نہیں جانتا لیکن مجھے خوشی ہے کہ تم اپنے بھائی کا بدلہ لو گی فضیل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اسے اپنی بیٹی کو روکنا چاہیے تھا لیکن اُسے بدلہ لینے کا کہہ رہا تھا۔
کرن کچھ ماہ خاموش رہی تھی اور اپنے دماغ میں ایک پلان کو ترتیب دیتی رہی تھی کہ کس طرح اس نے اپنے بھائی کے قاتل تک پہنچنا ہے۔
حویلی سے سیدھا کرن اپنے گھر گئی تھی۔اسکا ارادہ شہر جانے کا تھا۔
جب وہ اپنے گھر سے نکلنے لگی تو منیب کی امی نے اسے روکا کہ آج گھر ہی رک جائے آج کچھ مہمان آرہے ہیں ۔
کرن نے کچھ پل منیب کی امی کی طرف دیکھا۔دونوں سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھی اور کرن یہ بھی چاہتی تھی کہ منیب اسے چھوڑ دے. سیڑھیوں کو دیکھتے ہی کرن کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔اچانک ہی اس نے اپنے دماغ میں پلان کو ترتیب دیا تھا۔
اس نے منیب کی امی کی طرف اپنے قدم بڑھائے اور بنا اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر پیچھے سیڑھیوں میں دھکا دے دیا۔
منیب کی امی کی چیخ پورے گھر میں گونجی تھی۔
سوری آنٹی اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔کرن نے مسکراتے ہوئے خود سے کہا۔
منیب جو گھر میں داخل ہو رہا تھا اپنی ماں کو خون میں لت پت دیکھ کر بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا۔
کرن اوپر کھڑی مسکرا رہی تھی۔
منیب نے ایک نظر اوپر کھڑی کرن کو دیکھا اسے ایک سیکنڈ لگا تھا کہ یہ کا کا کام ہے منیب نے اپنی ماں کو اٹھا کر باہر لے گیا۔
ہممم اب مجھے یہاں بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے گا کہ بڈھی مرتی ہے یا نہیں
چلو میں اپنا سامان پیک کر لیتی ہوں
اگر اب بھی منیب نے مجھے نہیں چھوڑا تو میں خود اُس سے طلاق لے لوں گی۔
کرن نے گہرا سانس لیتے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
منیب کی ماں کے سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی تھیں ۔
منیب غصے میں گھر آیا اور زور زور سے کرن کو آوازیں دینے لگا۔
کرن جو کمرے میں بیٹھی نیل پالش لگا رہی تھی منیب کی آواز سن کر مسکرا پڑی
اور نیچے آگئی
تم نے میری ماں کو دھکا دیا؟
منیب نے کرن کو بازو سے دبوچتے غصے میں پوچھا۔
کیوں کیا ہوا مر گئی؟ کرن نے حیرانگی سے پوچھا اور یہاں پر منیب کا صبر جواب دے گیا تھا۔
اس نے ایک. زور دار تھپڑ کرن کے منہ پر دے مارا جو اوندھے منہ زمین پر جا گری تھی۔
میری ہی غلطی ہے جو تم جیسی لڑکی سے محبت کی تم محبت کے قابل نہیں ہو اور جو آج تم نے حرکت کی اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
منبب نے کرن کو دیکھتے غرا کر کہا۔
مجھے تمھاری معافی کی ضرورت بھی نہیں ہے اور کیوں باندھ کر رکھا ہے تم نے مجھے اپنے نام کے ساتھ چھوڑ کیوں نہیں دیتے
کرن نے اونچی آواز میں منیب کے سامنے کھڑے ہوتے کہا۔
تمھارے جیسے عورت سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اور مجھے بھی شوق نہیں تم جیسی جاہل کو اپنے گھر میں رکھنے کا جو میری فیملی کو جان سے مارنا چاہتی ہو۔
جاؤ میں تمہیں آذاد کرتا ہوں
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں..
طلاق دیتا ہوں..
طلاق دیتا ہوں
اور ابھی کے ابھی میرے گھر سے دفع ہو جاؤ ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دبا دوں گا۔
منیب نے سرخ آنکھیں کرن کے چہرے پر گاڑھتے کہا۔
جس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
ٹھیک ہے جا رہی ہوں میں کرن نے مسکرا کر کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
منیب وہی زمین پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
یہ وہ لڑکی ہرگز نہیں ہے جس سے میں نے محبت کی تھی یہ تو کوئی اور ہی کرن ہے
منیب نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
کرن میں بہت محبت کرتا تھا تم نے کیا کر دیا؟ کیوں تم بری بن گئی ہو؟
منیب نے اپنے بالوں کو دبوچتے ہوئے کہا۔
ایک طرف ماں کے کوما میں جانے کا دکھ تھا تو دوسری طرف اپنی محبت کے دور جانے کا۔
میں اُسے زبردستی یہاں نہیں رکھ سکتا تھا وہ آذاد ہونے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔اور ایسی لڑکی کے ساتھ میں کیسے رہ سکتا ہوں جو میرے والدین کی جان کی دشمن ہو
منیب نے اپنے گال پر بہتے آنسو کو صاف کیا اور خود کو سمجھایا۔ایک نظر سیڑھیوں کی طرف دیکھنے کے بعد گھر سے باہر چلا گیا ۔
وہ. نہیں چاہتا تھا یہاں رک کر کرن کو جاتے ہوئے دیکھے۔شاید اتنا حوصلہ نہیں تھا۔غصے میں اُسے طلاق تو دے چکا تھا اب اس کا کرن پر کوئی حق بھی نہیں تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کرن نے اپنا بیگ پکڑا اور وہاں سے چلی گئی اسے فضل نے پاشا کے پاس بھیجا تھا جو اس کی مدد کر سکتا تھا شاہ میر کے مرنے کے بعد پاشا ایک بار فضیل سے ملنے آچکا تھا
اور اپنا کارڈ بھی دے کر گیا تھا وہی کارڈ فضیل نے کرن کو دیا تھا۔
کرن نے اب شہر جا کر کارڈ پر درج ایڈریس پر پہنچنا تھا۔کچھ گھنٹوں کی مسافت طے کر کے کرن شہر پہنچ گئی۔
اس نے کچھ لوگوں سے کارڈ پر درج ایڈریس کا معلوم کیا کچھ نے راستہ بھی بتایا لیکن کرن کو سمجھ نہیں آیا۔
اکسکیوز می کرن نے سامنے کھڑے آدمی کو مخاطب کرتے کہا ۔
جس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا اس نے مڑ کر کرن کہ طرف دیکھا۔
جی؟ آدمی نے پوچھا۔
کیا آپ مجھے اس ایڈریس کا بتا دیں گے؟
کرن نے کارڈ کو آدمی کے سامنے کرتے پوچھا ۔
جس نے کارڈ کو دیکھ کر دوبارہ کرن کی طرف دیکھا تھا۔
اگر آپ برا نا. منائے تو کیا میں آپ کو اس جگہ پر چھوڑ دو آدمی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
جی جی آپ کا بہت بہت شکریہ کرن نے خوشی سے کہا۔
وہ سامنے میری گاڑی کھڑی ہے آپ بیٹھیے میں آتا ہوں آدمی نے کہا کرن گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی تھی۔
یہ پاشا کے پاس کیوں جانا چاہتی ہے اور کون ہے یہ؟ اسلم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور گاڑی کی طرف چلا گیا۔
اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو ہرگز گاڑی میں نا بیٹھتی لیکن یہاں تو کرن تھی جو پہلے ہی کسی ایسے کی تلاش میں تھی جو اسے گھر تک چھوڑ دے۔
اسلم کرن کو آفندی کے پاس لے گیا تھا۔
گاڑی رکتے ہی کرن نے حیرانگی سے بڑے سے گھر کو دیکھا۔
کرن باہر نکل آئی تو اسلم نے اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا جو اسلم کے پیچھے چل پڑی تھی۔
آفندی نے دروازہ ناک کیا اور روم میں داخل ہوا کرن بھی اس کے پیچھے ہی تھی۔
آفندی سامنے بیٹھا سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔
اس نے اسلم کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھا تو غصے سے اسلم کی طرف آیا۔
کون ہے یہ؟ آفندی نے اسلم کے سامنے کھڑے ہوتے پوچھا۔
وہ پہلے ہی غصے میں بھرا بیٹھا تھا آگ اس نے ہی لگوائی تھی لیکن یہ سن کر اسے غصہ آیا تھا کہ شیرو کی فیملی محفوظ ہے اُن میں سے کسی کو کچھ نہیں ہوا کافی پاپڑ بیلنے کے بعد اسے شیرو کے وائٹ پیلس کا معلوم ہوا تھا۔لیکن ساری محبت بےکار گئی تھی۔
سر یہ لڑکی پاشا کو تلاش کر رہی تھی
مجھے لگا یہ آپ کے کام آسکتی ہے اسلم نے آہستگی سے کہا۔
اور اس کی بات سن کر آفندی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
تم. جاؤ یہاں سے آفندی نے کہا تو اسلم وہاں سے چلا گیا۔
بیٹھو آفندی نے کرن کو. دیکھتے کہا اس نے اب غور سے کرن کو. دیکھا تھا جس نے بلیو جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی شرٹ پہنی تھی اور ڈوپٹہ لینا اس نے گوارہ نہیں کیا۔
کرن صوفے پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔
تم پاشا کو کیوں تلاش کررہی ہو؟
آفندی نے کرن کے سامنے بیٹھتے پوچھا
وہ میرے بھائی کے دوست تھے اور مجھے اُن کی مدد چاہیے
کرن نے صاف گوئی سے کہا۔
کیسی مدد؟ آفندی نے دلچسپی سے پوچھا
جس نے میرے بھائی کا قتل کیا ہے میں اُسے جان سے مارنا چاہتی ہو اور اس کام میں پاشا میری مدد کر سکتا ہے
کرن نے سنجیدگی سے کہا۔
پاشا تمھاری مدد نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت وہ خود بہت کمزور ہو گیا ہے۔اور کمینہ کسی بھی وقت مر سکتا ہے
آفندی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
کیا مطلب؟ کرن نے ناسمجھی سے پوچھا
پاشا نے میری گرل فرینڈ کو مار دیا اور میں اُسے کسی بھی وقت مار دوں گا اگر میں نے نہیں مارا تو کوئی اور مار دے گا سالے کے بہت سے دشمن ہیں۔
آفندی نے ہنستے ہوئے کہا۔
تم کون ہو؟ اور پاشا کو کیا آسانی سے مار دو گے؟ تمھارے لیے آسان ہے؟
کرن نے اپنے ڈر پر قابو پاتے پوچھا کیونکہ آفندی کی باتوں نے اسے ڈرا دیا تھا۔
پاشا میرے سامنے چوہے کے برابر ہے جسے میں کسی بھی وقت اپنے پاؤں سے مسل سکتا ہوں
آفندی نے مسکرا کر کہا۔
تو کیا آپ میری مدد کریں گے؟ کرن نے آفندی کو دیکھتے پوچھا کیونکہ وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی جو پاشا کو مار سکتا ہے وہ پاشا سے زیادہ ہی طاقتور ہو گا اور اسے اپنا مطلب پورا کرنا تھا اب چاہے اس کی مدد پاشا کرے یا سامنے بیٹھا شخص اس سے کرن کو فرق نہیں پڑتا تھا۔
تم مجھ سے کیا چاہتی ہو تم؟
آفندی نے کرن کو گہری نظروں سے دیکھتے وائن کا گلاس لبو سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
اپنے بھائی کے قاتل کی جان لینا چاہتی ہوں
اور اس کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں
کرن نے سرد لہجے میں آفندی کو دیکھتے کہا۔
خوبصورت لڑکی کا بدلہ بھی خوبصورت ہی ہو گا میں تمھاری مدد کروں گا
لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟
آفندی نے کرن کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
کیا مطلب ؟کرن نے ناسمجھی سے آفندی کو. دیکھتے کہا۔
دیکھو لڑکی آجکل کے زمانے میں کوئی بھی کام مفت میں نہیں ہوتا بلکہ ایک قیمت ادا کرنے پڑتی ہے اور وہ قیمت کچھ بھی ہو سکتی ہے
آفندی نے وائن کا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے میں تمہیں کچھ بھی نہیں دے سکتی۔
کرن نے پریشانی سے کہا۔
تمھارے پاس بہت کچھ مجھے دینے کے لیے
آفندی نے چہرے پر خباثت لیے مزید کہا۔
کرن کو آفندی کی نظریں عجیب لگ رہی تھیں۔
کیا جو میں چاہتا ہوں وہ تم مجھے دو گی؟
اگر تمھارا جواب ہاں میں ہے تو میں بھی تمھاری مدد کروں گا اگر نا میں تو سوری میں بنا مطلب کے کوئی کام نہیں کرتا۔
آفندی پیچھے صوفے سے ٹیک لگاتے کہا۔
مجھے منظور ہے تم جو بھی مانگو گے میں دینے کے لیے تیار ہوں لیکن میں اُس شخص کی بھی ویسی ہی موت چاہتی ہوں جیسی اُس نے میرے بھائی کو دی تھی ۔
کرن نے سنجیدگی سے کہا۔
آفندی اپنی جگہ سے اٹھ کر کرن کے پاس آکر بیٹھ گیا۔روم میں چلے پھر آفندی نے کرن کا چہرہ خود کی طرف کرتے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
دبیر زری کو اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا جہاں پر اس نے پہلے بھی زری کو رکھا تھا۔
زری اُسی کمرے میں چلی گئی تھی جہاں پر اسے دبیر نے بند کیا تھا۔
دبیر نے فاز کو کال کی۔
جس نے تھوڑی دیر بعد فون اٹھا لیا۔
کہاں ہو تم؟ اور سب ٹھیک ہے؟ فاز نے پریشانی سے پوچھا۔
میں اپنے فلیٹ پر ہوں اور سب ٹھیک ہے تم سب کا خیال رکھنا
کچھ دنوں بعد ہم دوبارہ بلیک پیلس چلے جائیں گے کسی کے ڈر سے ہم اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتے ۔
اور دبیر تو ایسا کبھی نہیں کرے گا تم پتہ لگاؤ یہ آفندی کا کام ہے یا پاشا کا؟
جتنا جلدی ہو سکے مجھے اُس شخص کا نام بتاؤ ۔
دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔
کیا تم نہیں جانتے یہ سب کس نے کیا؟
فاز نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
جانتا ہوں بس کنفرم کرنا چاہتا ہوں دبیر نے کہا۔
ٹھیک ہے ویسے یہ کام. مجھ سے زیادہ تم. بہتر طریقے سے کر سکتے ہو
فاز نے دبے چھپے لفظوں میں کہا۔
تم بھی معلوم کرو میں بھی کوشش کرتا ہوں
دبیر نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
اس نے گہرا سانس لیتے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا۔
اور کمرے کی طرف چلا گیا۔
دبیر روم میں داخل ہوا تو زری ہادی کا کمبل ٹھیک کر رہی تھی جو ابھی سویا تھا۔
اس ک ارادہ واشروم جا کر نل کے نیچے اپنا ہاتھ رکھنے کا تھا۔
زری وہاں سے جانے لگی کہ دبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
زری کے منہ سے بے ساختہ سسکی نکلی تھی۔
کیا ہوا دبیر نے حیرانگی سے زری کے ہاتھ کی طرف دیکھتے پوچھا۔
لیکن اس کے سرخ ہوتے ہاتھ کو دیکھ کر اسے اپنا جواب مل گیا تھا۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمھارا ہاتھ جلا ہے
دبیر نے دبے دبے غصے میں زری کو دیکھتے کہا۔
میں ٹھیک ہوں میرا ہاتھ چھوڑو زری نے دھیمے لہجے میں کہا۔
دبیر نے زری کے ہاتھ پر گرفت اپنی مضبوط کی تو زری نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلہ گھونٹا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمکین پانی سے بھر گئی تھیں۔
تم نے کہا کہ تم ٹھیک ہو؟ تو اب تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔
دبیر نے کہتے ہی سائیڈ ڈرا سے کریم نکالی اور زری کے ہاتھ پر لگانے لگا۔
میں خود کر لوں گی زری نے اپنا ہاتھ دبیر کے ہاتھ سے نکالنا چاہا لیکن دبیر کی گرفت اتنی بھی نرم نہیں تھی۔
تمہیں شوق ہے نا کہ ہر کام میں تمھارے ساتھ زبردستی کروں
دبیر نے دانت پیستے کہا۔
اور زری کے ہاتھ پر. کریم لگانے لگا۔
زری کے منہ سے سسکی نکلی تھی۔دبیر نے زری کے چہرے کی طرف دیکھا۔
زیادہ جلن ہو رہی ہے؟ دبیر نے پیار سے پوچھا۔
زری نے اپنے ہاتھ کو دیکھتے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس وقت دبیر کو زری اس قدر معصوم لگی تھی کہ بے ساختہ اس کے ہونٹ مسکرا پڑے تھے۔
دبیر بہت دھیان سے زری کے ہاتھ پر. کریم لگا رہا تھا کریم لگانے کے بعد دبیر نے زری کے اُسے ہاتھ کو کھینچا زری اس جھٹکے کے لیے تیار نہیں تھی اور سیدھا دبیر کے گلے الگی۔
میں نے کتنی بار کہا ہے رویا مت کرو میں بھٹک جاتا ہوں۔
دبیر نے زری کے بالوں پر اپنے لب رکھتے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
جس کے آنسو میں روانگی آگئی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ کیوں وہ رو رہی ہے۔
ابھی تھوڑی دیر تک جلن ٹھیک ہو جائے گی دبیر نے زری کے آنسو صاف کرتے کہا اسے لگا کہ شاید زری کے ہاتھ پر زیادہ جلن ہو رہی ہے جس کی وجہ سے وہ رو رہی ہے۔
زری جب چپ نہیں کی تو دبیر کے دماغ میں ایک خیال آیا جس پر اس نے فوراً عمل کیا تھا۔
اس نے جھک کر زری کے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چننے لگا۔
اپنی آنکھوں اور گال پر دبیر کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے زری کے آنسو وہی تھم گئے تھے۔
کیا ہوا اور رونا ہے؟ دبیر نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا
زری کے گال سرخ ہو رہے تھے۔
مجھے چینج کرنا ہے زری نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
لیکن اب تو مجھے اچھا لگ رہا تھا۔دبیر نے گہرے لہجے میں کہا۔
کیا؟ زری نے حیرانگی بسے پوچھا۔
بتاتا ہوں دبیر نے کہتے ہی باری باری زری کی دونوں آنکھوں پر پیار سے بوسہ دیا
یہ مجھے اچھا لگ رہا تھا۔
دبیر نے مسکرا کر کہا۔
زری کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
دبیر زری کی حالت اچھے سے سمجھ رہا تھا
جاؤ چینج کر لو اگر یہی رہی تو کھا جاؤں گا تمہیں دبیر نے شرارتی لہجے میں کہا۔
زری ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے غائب ہوئی تھی۔
اس کے جاتے ہی دبیر مسکرا پڑا۔اسے پتہ ہی نہیں چلا زری کی وجہ سے اس کی ٹیشن کافی حد تک ختم ہوگئی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞
