Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
کون شیرو؟
زری نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا۔
عباس زری سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا۔اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔
بھاگنے کی کوشش مت کرنا
جو پوچھوں گا اُس کا سچ سچ جواب دو
عباس نے اپنے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے سرد لہجے میں کہا ۔
زری نے بھاگنے کا ارادہ ترک کرتے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔
شاہ میر کہاں ہے؟
عباس نے پوچھا نظریں زری کے زد پڑتے چہرے پر مرکوز تھیں ۔
شہر گئے ہیں ۔
زری نے جلدی سے جواب دیا ۔
تم کون ہو؟ عباس نے اگلا سوال کیا ۔
بیوی ہوں شاہ میر کی زری نے نظریں جھکا کر جواب دیا ۔
اوہ تو آپ ہیں مسز شاہ میر
عباس کا لہجہ آخری بات پر طنزیہ ہو گیا تھا ۔
آپ کون ہیں؟
زری کو جب تھوڑا حوصلہ ہوا تو ڈرتے ہوئے عباس سے پوچھا۔
بتا تو چکا ہوں میرا نام شیرو ہے میرا یہاں آنےکا مقصد کچھ اور تھا میری ایک قیمتی چیز مجھے یہاں کھینچ لائی
لیکن یہاں آکر تو مجھے ایک اور حسین دوشیزہ مل گئی اب تو یہاں آنا جانا لگا رہے گا ۔
عباس نے ایک آنکھ دباتے ہوئے زری کو دیکھتے کہا ۔
کیا مطلب؟ زری نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب تمھارے چھوٹے سے دماغ میں نہیں آئے گا۔
آیا تو میں کسی اور مقصد کے تحت تھا لیکن اب چلتا ہوں پھر کبھی آؤں گا اور اپنے گھر میں کسی کو میرے بارے میں بتانے کی کوشش نا کرنا کیونکہ کوئی بھی تمھاری بات پر یقین نہیں کرے گا
عباس نے زری کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔
نا جانے کیوں اسے اسے زری کا خوفزدہ چہرہ. اچھا لگ رہا تھا ڈری سہمی سی زری اسے اٹریکٹ کر رہی تھی ۔
وہ یہاں پر کسی اور سے ملنے آیا تھا لیکن زری کو دیکھ کر وہی رک گیا۔
اور اب اس کا ارادہ واپس جانے کا تھا ۔
زری نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اور نیچے بھاگ گئی۔
زری کے جاتے ہی عباس نے اپنے چہرے سے رومال اتارا اس کے چہرے کے تاثرات پھر سے پتھریلے ہو گئے تھے۔
اور کتنی لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلو گے شاہ میر
عباس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے واپس چلا گیا۔
💞💞💞💞💞
ماضی…..
اقرا کی دادی کی موت کے بعد وہ عمر کے پاس آگئی تھیں۔جس دن سے عباس نے اقرا کو دیکھا تھا۔اُس دن کے بعد سے عباس نے اس پر نظر رکھنی شروع کر دی تھی ۔
دانیال کی موت کے بعد عباس بھی خاموش ہو گیا تھا اسی دوران عمر نے عباس سے بات کی کہ وہ اقرار کو یہاں نہیں رکھ سکتا عباس نے کہا تھا وہ کچھ سوچے گا۔
اقرا کچن میں اپنے لیے کھانا بنا رہی تھی عباس جو اپنے لیے کافی بنانے آیا تھا اس نے اقرا کو کچن میں دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔
کیسی ہیں آپ؟ عباس نے کچن میں داخل ہوتے پوچھا ۔اقرا نے عباس کو ایک نظر دیکھا اور اور دوبارہ کھانا بنانے میں بزی ہو گئی۔
عباس نے تمام ملازمین کو کہہ دیا تھا کہ کوئی بھی میل سرونٹ اس طرف نہیں آئے گا۔
اقرا کے نظر انداز کرنے پر عباس ہنس پڑا تھا ۔
تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتی
عباس نے کیبنٹ سے کب نکالتے ہوئے پوچھا۔
کیونکہ مجھے آپ لوگ پسند نہیں ہیں اس لیے میں آپ سب کے سوالوں کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتی
اقرا نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
اور ہم لوگ تمہیں پسند کیوں نہیں ہیں؟ عباس نے حیرانگی سے پوچھا ۔
آپ لوگ خون خرابہ کرتے ہیں مظلوم لوگوں کی جان لیتے ہیں اقرا نے عام سے لہجے میں کہا ۔
وہ سب تو تمھارا بھائی بھی کرتا ہے کیا وہ بھی تمہیں پسند نہیں ہے؟ عباس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
جی بلکل جتنی نفرت مجھے آپ لوگوں سے ہے اُس سے زیادہ اپنے بھائی سے بھی ہے اقرا نے عباس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کھانے کی ٹرے اٹھا کر کچن سے باہر نکل گئی پیچھے عباس اقرا کی بات سن کت حیران ضرور ہوا تھا ۔
💞💞💞💞💞
حال…….
ڈیڈ مجھے عباس چاہیے کچھ بھی کریں آپ مجھے ہر حال میں عباس چاہیے
نیہا نے رانا کو دیکھتے کہا۔
نیہا میں عباس سے بات کر چکا ہوں وہ نہیں مان رہا اور وہ کبھی نہیں مانے گا
رانا نے بے بسی سے کہا ۔
ڈیڈ مجھے عباس چاہیے اگر مجھے عباس نا ملا تو میں اپنی جان دے دوں گی یاد رکھیے گا میری بات
نیہا نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
پیچھے رانا اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گیا تھا ۔
کیا ہوا ڈیڈ؟ حسیب نے رانا صاحب سے پوچھا
تمھاری بہن کی ضد مجھے کہی کا نہیں چھوڑے گی ۔
اسے سمجھاؤ جو وہ چاہتی ہے وہ نہیں ہو سکتا۔اور مجھے تو لگتا ہے اگر اب میں نے کچھ بھی کیا تو شیرو میری جان لینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا ۔
رانا نے غصے سے کہا ۔
ڈیڈ شیرو کی کوئی نا کوئی کمزوری ضرور ہو گی ہم اسے استعمال کرکے اپنی بات منوا سکتے ہیں ۔حسیب نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔
اُس کی سب سے بڑی کمزوری مر چکی ہے ۔
اب اُس کی کوئی کمزوری نہیں ہے رانا نے کہا ۔
ڈیڈ کوئی نا کوئی کمزوری تو اُس کی ضرور ہو گی ۔
ہاں کیا نام ہے اُس کے دوست کا عمر
عمر اُسے بہت عزیز ہے ۔
حسیب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
عمر؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ عمر کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں ہے شیرو کا دایاں بازو ہے ۔اُسے پکڑنا آسان کام نہیں ہے۔اور اگر ہم ناکام ہو گئے تو جانتے ہو وہ کمینہ ہمارے ٹکرے کر کے اپنے کتوں کے آگے ڈال دے گا۔
رانا نے سرد لہجے میں کہا ۔
تمھارا بڑا بھائی کہاں ہے؟ رانا نے حسیب کو دیکھتے ذیشان کے بارے میں پوچھا ۔ذیشان رانا کا بڑا اور حسیب چھوٹا بیٹا تھا ۔
رانا کی بیوی کا انتقام دو سال پہلے ہو چکا تھا۔
اُن کو کچھ کام تھا شہر سے باہر گئے ہیں کل تک آجائیں گئے حسیب نے سنجیدگی سے کہا ۔
ٹھیک ہے اُسے کہنا آتے ہی میری بات سننے اس شیرو کے بارے میں کچھ سوچنا پڑے گا
رانا نے آخری بات منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہی اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
حسیب بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞
رانی الماری میں گھسی کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔جب کوئی اس کے کمرے میں داخل ہوا ۔
رانی نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے فضیل اعوان چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا ۔
رانی کو اپنی روح فنا ہوتی نظر آئی۔
کیا چاہیے آپ کو رانی نے اپنے ڈر پر قابو پاتے مضبوط لہجے میں پوچھا ۔
تمہیں بتائے آیا ہوں کہ فضیل اعوان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔تم اُسے روک نہیں سکتی ۔
فضیل نے رانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔
اگر آپ نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں چیخ کر سب گھر والوں کو جمع کر لوں گی پھر آپ کی کیا عزت رہ جائے گی ۔
رانی نے فضیل کو دھمکانے والے انداز میں کہا۔
فضیل کے قدموں کو بھی بریک لگی تھی۔
غصے میں بنا کچھ سوچے سمجھے وہ یہاں تو آگیا تھا لیکن اگر گھر میں سے کسی کو بھی پتہ چل گیا تو کیا اس کی عزت تہ جائے گی ۔
رانی میری ایک بات یاد رکھنا تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔
ابھی تو جا رہا ہوں لیکن اگلی بار خالی ہاتھ بلکل بھی نہیں جاؤں گا ۔
فضیل نے رانی کو دیکھتے ہوئے غصے میں کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
رانی کو اپنی ٹانگوں میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
اور وہی زمین پر بیٹھ گئی ۔
یا اللہ میں کیا کروں؟ رانی نے بےبسی سے کہا۔اور اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
💞💞💞💞💞
رانا صاحب آج کی رات بھی یہی رک جائیں لڑکی نے ذیشان کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
جس نے مسکرا کر لڑکی کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا اس لڑکی کا نام ایما تھا جو ایک ماڈل تھی اور غیر مسلم تھی۔
ایما رانا کے بڑے بیٹے ذیشان پر فدا تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
ابھی جانا ضروری ہے ڈیڈ نے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔
ذیشان کہتے ہی ایما کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد پیچھے ہٹا اور اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا ۔ایما نے ذیشان کے ہاتھ شرٹ سے پیچھے کر کے خود بٹن بند کرنے لگی تھی۔
ذیشان نے ایما کی کمر میں ہاتھ ڈال کو خود کے قریب کیا۔
تم بہت خوبصورت ہو ایما ڈارلنگ
ذیشان نے ایما کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چومتے ہوئے کہا ۔
رانا صاحب اب آپ کو دیر نہیں ہو رہی ایما نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
جلدی واپس آؤں گا ۔ذیشان نے ایما کو گلے لگاتے کہا اور اپنا موبائل اور والٹ پکڑ کر کمرے سے نکل گیا ۔
💞💞💞💞💞
اسلم کا فون آیا تھا ۔وہ چاہتا ہے تمہیں شہر سے شاپنگ کروا دے۔لیکن اب میں تجھے شہر جانے نہیں دوں گی پتہ نہیں کیوں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔
رضیہ نے مریم کو دیکھتے کہا
ارے اماں وہ کون سا مجھے پہلی بار شاپنگ کروا رہا ہے اور خالہ بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتی ہیں تو فکر مت کر ۔
مریم نے کہا ۔
مریم تو نے ہی کہا تھا اب تو شہر نہیں جائے گی اور اب؟
اماں میں شہر شاپنگ کے لیے جاؤں گی ۔نوکری کے لیے تھوڑی جا رہی مریم نے ناک سے مکھی اُڑانے والے انداز میں کہا ۔
رضیہ اپنی نالائق بیٹی کو گھور کر خاموش ہو گئی تھی ۔کیونکہ کچھ بھی کہنا بےکار تھا ۔
فاز کو ایک ضروری کام سے شہر جانا پڑ گیا تھا وہ یہاں پر نہیں تھا اس لیے جب اسلم مریم کو لینے آیا تو وہ آرام سے اُس کے ساتھ چلی گئ ۔
اس بار اسلم مریم کو اپنے گھر نہیں بلکہ ایک فلیٹ پر لے کر آیا تھا ۔
یہ تمھارا گھر تو نہیں ہے؟ مریم نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں میرا گھر نہیں ہے مجھے اپنے دوست سے کچھ پیسے واپس لینے تھے وہی لینے آیا ہوں تم بھی میرے ساتھ آجاؤ یہاں اکیلی بیٹھی کیا کرو گی؟
اسلم نے مریم کو دیکھتے کہا۔
نہیں تم پیسے لے آؤ میں یہی پر ٹھیک ہوں
مریم نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی لیکن یہ شہر ہے یہاں پر کچھ بھی ہو سکتا ہے خیال رکھنا اپنا اسلم نے ڈرانے والے انداز میں کہا۔
مریم کو وہ رات یاد آگئی جب کچھ لڑکوں نے اسے گھیر لیا تھا ۔
اسلم میں بھی تمھارے ساتھ آتی ہوں مریم نے کہا اور اسلم کے ساتھ چلی گئی ۔
اسلم نے چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا مریم نے نوٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ارد گرد دیکھنے میں مصروف تھی ۔
چلو اسلم نے مریم کو. دیکھتے کہا جو کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی ۔
اسلم خود باہر ہی کھڑا تھا مریم کے اندر جاتے ہی اس نے فلیٹ کا دروازہ بند کرتے لوکڈ کر دیا ۔
مریم نے مڑ کر دیکھا تو دروازے بند تھا ۔
مریم نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اسلم تو وہاں سے جا چکا تھا مریم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔
اسلم دروازہ کھولو مریم نے چلاتے ہوئے کہا دل اس کا فل سپیڈ میں دھڑک رہا تھا ۔
آنکھوں سے آنسو روانگی سے بہنے لگے تھے ۔ جس طرح کے وہم اس کے دل میں ارہے تھے اُن پر شاید وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اب تو اس کا ہاتھ بھی درد کرنے لگا تھا لیکن دروازہ نہیں کھلا
کیا ہوا ہے جانِ من؟
مریم کو اپنے کان کے پاس کسی اجنبی کی آواز سنائی دی جو اس کے بے حد قریب کھڑا تھا ۔
مریم نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے ذیشان چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے مریم کو دیکھ رہا تھا۔
مریم دروازے کے ساتھ چپک گئی تھی ۔
کون ہو تم؟
مریم نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا۔
میں تمھارا خریدار ہوں آج سے تم میرے پاس ہی رہو گی ۔تمھارے کزن نے پورے دس لاکھ مجھ سے لیے ہیں ۔اور تمہیں میرے آگے بیچ دیا۔
لیکن تمہیں دیکھ کر تو لگتا ہے دس لاکھ تمھارے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔
ذیشان نے مریم کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جس نے زور سے ذیشان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
تم جھوٹ بول رہے ہو اسلم ایسا نہیں ہے مریم نے پختہ لہجے میں کہا ۔
اب تم خود یقین نہیں کر رہی تو میں کیا کر سکتا ہوں خود سوچو وہ تمہیں یہاں کیوں لایا اور خود کہاں چلا گیا؟
خیر تم جو بھی سوچو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا
ذیشان نے قہقہہ لگاتے کہا۔
مجھے جانے دو مریم کو جب بھاگنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو بے بسی بسے کہا ۔
جانے دوں؟ اب ممکن نہیں ہے تمھیں دیکھنے کے بعد تو بلکل بھی نہیں ۔
ذیشان نے کہتے ہی مریم کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا جو اس کے سینے سے آ لگی تھی۔
💞💞💞💞💞
شاہ میر واپس آگیا تھا اور آتے ہی زری سے ملا تھا ۔
وہ زری کے لیے ایک بریسلٹ لایا تھا لیکن جو خبر زری نے دی اُسے سن کر تو شاہ میر خوش ہو گیا تھا۔
زری نے اُسے کہا تھا وہ رخصتی کے لیے تیار ہے ۔
اور یہ بات شاہ میر کے لیے خوشی کا باعث تھی۔
تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے زری شاہ میر نے زری کو گلے لگاتے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔
اور ہاں تمھارے لیے ایک چیز لایا ہوں
شاہ میر کے زری سے پیچھے ہٹتے کہا اور اپنی جیب سے ایک پیارا سا بریسلٹ نکالا جو گولڈن کلر کا تھا اور اس پر چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے موتی لگے تھے ۔
شاہ میر نے اپنا ہاتھ زری کے آگے کیا زری نے ایک نظر سامنے کھڑے شاہ میر کو دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا ۔
شامیر نے زری کی کلائی میں بریسلٹ پہنایا جو کافی اچھا لگ رہا تھا اور جھک کر زری کی کلائی پر اپنے لب رکھ دیے ۔
زری نے اپنا ہاتھ کھنچنے کی کوشش کی لیکن شاہ میر کی پکڑ سخت تھی ۔
مجھے امی نے بلایا تھا زری نے شاہ میر کو دیکھتے کہا جس نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
جاؤ… شاہ میر نے مسکراتے ہوئے کہا آج وہ بہت خوش تھا ۔اس لیے زری کو بھی جانے دیا
زری ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے غائب ہوئی تھی ۔
دبیر جو شاہ میر سے ایک ضروری بات کرنے آیا تھا شاہ میر کو لان میں دیکھ کر وہی آگیا تھا۔
اسے شاہ میر کا زری کو چھونا انتہائی برا لگا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا ۔زری اُس کی بیوی بہے لیکن پھر بھی اسے اچھا نہیں لگا تھا۔
ناجانے کیوں اسے جیلسی محسوس ہوئی تھی۔
دبیر نے بریسلٹ کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ پھر دبیر وہاں رکا نہیں تھا اور اپنے کمرے میں واپس آگیا۔
جس طرح کا میں نے تمہیں بریسلٹ کہا ہے ویسا ہی مجھے ایک دن کے اندر چاہیے اگر تھوڑا سا بھی مختلف ہوا تو تمھاری خیر نہیں
دبیر نے کمرے میں آتے اپنا فون نکالا اور سیم ویسا ہی بریسلٹ بنوانے کا کہا۔
یہ کیا حرکت کی ہے میں نے دبیر نے موبائل رکھتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا ۔
جیسی بھی حرکت تھی لیکن مجھے اچھی لگی۔خود ہی اپنے سوال کا جواب دے کر دبیر ہنس پڑا تھا ۔
