Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135

Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Last updated: 4 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Faseel E Ishq

By Rimsha Hayat

اگلی صبح پاشا کے آدمی اقرا کی لاش کو عباس کے گھر چھوڑ گئے تھے ۔عمر نے جب عباس کو بتایا تو اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ چادر پیچھے کرکے اپنی بیوی کے چہرے کو. دیکھ لے۔لیکن دل میں ایک چھوٹی سی امید بھی تھی کہ ہو سکتا ہے یہ اقرا نا ہو یہی سوچتے ہوئے عباس نے اپنا ہاتھ چادر کی طرف بڑھایا اور تھوڑی سی چادر کو نیچے کیا ۔ لیکن سامنے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ عباس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا تھا ۔اس نے وہی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیا۔عباس وہی زمین پر بیٹھ گیا تھا آنسو گال سے ہوتے ہوئے سفید چادر پر گر رہے تھے۔ جس انسان نے آج تک ایک آنسو بھی نہیں بہایا تھا آج رو رہا تھا۔جس لڑکی نے اسے ہنسنا سکھایا اُس کے جانے پر آج عباس رو رہا تھا ۔ عمر وہی پیچھے کھڑا اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا کاش وہ اس کا دکھ کم کر سکتا ۔ عمر جاؤ یہاں سے میں کچھ وقت اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ۔ عباس کی وزنی آواز ہال میں گونجی عمر بنا کچھ بولے وہاں سے چلا گیا تھا ۔اس کے جاتے ہی عباس پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا اگر اسے کوئی اس حالت میں دیکھ لیتا تو کبھی یقین نا کرتا ۔ تم نے تو کہا تھا کبھی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤ گی؟ تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔پھر اپنا وعدہ تم کیسے تھوڑ سکتی ہو؟ عباس نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔ آج وہ خاموش تھی اسے نہیں یاد تھا کہ اقرا کبھی خاموش بھی ہوئی تھی ہاں ایک بار عباس لیپ ٹاپ پر ایک ضروری کام کر رہا تھا اور اقرا اپنی عادت سے مجبور سامنے صوفے پر بیٹھی بولتی جا رہی تھی اور آخر کا چڑ کر عباس نے کہا تھا کہ تم کچھ دیر کے لیے خاموش نہیں ہو سکتی ۔اقرا ایک دم خاموش ہو گئی تھی عباس کو جب احساس ہوا تو اس نے فوراً اقرا سے معافی مانگی تھی ۔ اور آج اسے اقرا کی خاموشی بہت بری لگ رہی تھی اب تو وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھی اور اپنے ساتھ عباس کا سکون لے کر بھی جا رہی تھی ۔ تم ہمیشہ میرے پاس رہو گی اقرا میرے دل میں اور میں وعدہ کرتا ہوں جس نے بھی تمہیں مجھ سے دور کیا ہے اُس کی جان میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا اور آج میں تمھاری دی ہوئی قسم بھی توڑ رہا ہوں ۔ اب میں دوسروں کے ہاتھوں کی طرف نہیں دیکھوں گا اپنا دشمن خود تلاش کروں گا میں نے تمہیں کہا تھا نا یہ دنیا بہت ظالم ہے ہمیشہ کمزور کو نشانہ بناتی ہے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اور دیکھو آج تک مجھ سے دور جا رہی ہو پھر سے مجھے اکیلا چھوڑ کر جا رہی ہو۔ لیکن میں جانتا ہوں تم میرے دل میں بستی ہو مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑو گی ۔عباس نے کہتے ہی اقرا کے ماتھے پر جھک کر بوسہ دیا ۔اس کے آنسو گر کر اقرا کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے ۔ عباس کافی وقت تک وہی بیٹھا اقرا سے باتیں کرتا رہا تھا ۔عمر نے بےبسی سے اسے دیکھا اور دوبارہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔ 💞💞💞💞 بیٹا شاہ میر کام کے سلسلے میں شہر گیا ہے اور تمہیں ایک خوشخبری بھی دینی ہے ۔فضیل اعوان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ خوشخبری کیسی خوشخبری؟ مصطفیٰ نے نوالہ اپنے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ شاہ میر نے زرتشہ سے نکاح کر لیا ہے ۔فضیل نے فخریہ انداز میں بتایا لیکن مصطفیٰ کا منہ کی طرف جاتا ہاتھ وہی رک گیا تھا ۔کرن اور نغمہ بیگم سر جھکائے کھانا کھا رہی تھیں ۔ کیا مطلب؟ رانی کا کیا ہو گا؟ مصطفیٰ کے گلے سے بمشکل آواز نکلی تھی ۔ اُس کا کیا ہونا ہے وہ بھی اسی گھر میں رہے گی اور اسلام میں مرد کو تو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔شاہ میر نے تو صرف دوسری شادی کی ہے ۔فضیل اعوان نے کہا اور اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اسلام نے تو عورت پر ظلم کرنے سے بھی منع کیا یے لیکن یہ ان کو نظر نہیں آتا ۔دوسری شادی یعنی دوسری لڑکی کی بھی زندگی خراب مصطفیٰ نے دل میں سوچا بھوک تو اب اس کی کہی غائب ہو گئی تھی اور بھلا ہو اس کے موبائل کا جو اسی وقت رنگ ہوا تھا ۔مصطفیٰ نے شکر ادا کیا اور کال اٹینڈ کرتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔ کال سنتے ہی اس کی نظر دائیں جانب باغ کی طرف گئی جہاں رانی گھاس پر بیٹھی اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔ مصطفیٰ نے اپنا موبائل پینٹ کی پاکٹ میں رکھا اور باغ کی طرف بڑھ گیا ۔ایک بار پھر اس کے کانوں میں مدہم سی آواز گونجی تھی ” لیکن پسند تو میں آپ کو کرتی ہوں تو کیسے شاہ میر سے شادی کر سکتی ہوں۔“ مصطفیٰ نے وہی اپنے قدموں کو روکا تھا آگے جانے کی ہمت اب اس میں نہیں تھی ۔ الٹے قدم لیتا وہی سے مڑ گیا ۔رانی نے آہٹ پر اپنی نظریں ارد گرد گھمائی جب کوئی نظر نہیں آیا تو گہرا سانس لیتے دوبارہ دور پودوں کو دیکھنے لگی ۔جن کو مالی پانی دے رہا تھا ۔ مصطفیٰ فضیل اعوان کے چھوٹے بھائی کا بیٹا تھا مصطفیٰ جب چھوٹا تھا تو اس کے ماں باپ کو کسی نے قتل کر دیا اُس کے بعد فضیل اعوان نے اسے بھی اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا ۔فضیل نے کبھی شاہ میر اور مصطفیٰ میں فرق نہیں کیا اسے دونوں بہت عزیز تھے ۔ 💞💞💞💞💞