Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

💞💞💞💞💞
پاشا تم کیا کرنے کا سوچ رہے ہو؟
رانا تو تمھارا بہت بڑا دشمن ہے اور اب تم اُس کی مدد کرنا چاہتے ہو؟ کیوں؟
شاہ میر نے حیرانگی سے پوچھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ پاشا رانا کی مدد کرنا چاہتا ہے جو اس کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔
شاہ میر تم نے سنا ہو گا دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اور رانا جتنا بھی کمینہ ہو لیکن وہ مجھ سے زیادہ شیرو سے نفرت کرتا ہے اُس کی سب سے بڑی وجہ جانتے ہو کیا ہے؟
پاشا نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولتے اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے شاہ میر کی طرف دیکھا۔
جو ناسمجھی سے پاشا کو دیکھ رہا تھا ۔
رانا کی بیٹی جو عباس پر دل و جاں سے فدا ہے ۔اور جب عباس نے منع کر دیا تو اُس کی بیٹی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی رانا اور اُس کے دونوں بیٹے اُس دن کے بعد سے عباس سے نفرت کرنے لگے اور کافی بار تو اُس سالے نے عباس کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی تھی ۔
اور اب مجھے رانا اور اُس کے بیٹوں کی ضرورت ہے ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں اور عباس اس وقت میرے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جسے نا میں نگل سکتا ہوں نا اُگل سکتا ہوں
اور میں اچھے سے جانتا ہوں جب تک عباس مجھے سڑک پر نہیں لے آئے گا اُسے سکون نہیں ملے گا
پاشا نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
بھائی سے زیادہ اسے پیسہ عزیز تھا ۔
ایک اکیلا عباس تم پر بھاری پڑ رہا ہے؟
شاہ میر نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
شاہ میر میرے دوست میں اس کھیل کا بہت پرانا کھلاڑی ہوں تم ابھی نئے ہو اس لیے نہیں جانتے کون سی چال کہاں اور کیسے چلنی ہیں رانا سے میں اپنا کام نکلواؤں گا۔
عباس رانا کے ساتھ الجھ جائے گا اور پھر جو میں کرنا چاہتا ہوں آرام سے کر سکتا ہوں
پاشا نے اپنا منصوبہ شاہ میر کو بتاتے ہوئے کہا۔
ویسے تم کرنا کیا چاہتے ہو؟ شاہ میر نے مسکراتے ہوئے پوچھا
وقت آنے پر پتہ چل جائے گا ۔
پاشا نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا جس پر شاہ میر قہقہہ لگائے ہنسنے لگا ۔
💞💞💞💞💞
یہ کیا ہے؟ رانا نے کرخت لہجے میں اپنے آدمی سے پوچھا جو نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔
سر شیرو نے آپ کے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے آدمی نے جلدی سے کہا۔رانا نے باکس کی طرف دیکھا جو کافی بڑا تھا ۔
کھولو اسے رانا نے کہا۔
آدمی نے باکس کھولا تو اندار کا منظر دیکھ کر اس کی اپنی روح فنا ہو گئی تھی۔
اندر اُسی آدمی کے جسم کے ٹکرے موجود تھے جیسے رانا نے شیرو کے ٹھکانے کا معلوم کرنے کا کہا تھا اور وہ آدمی شیرو کے ٹھکانے تک پہنچ بھی گیا تھا لیکن اس کی قسمت خراب تھی جو شیرو کے ہاتھ لگ گیا ۔
کچھ منٹ کے لیے تو رانا بھی گھبرا گیا تھا ۔
لے جاؤ اسے یہاں سے رانا نے غراتے ہوئے کہا ۔
تین چار آدمی جلدی سے اُس آدمی کی لاش کو وہاں سے لے گئے تھے ۔
رانا نے اپنے خاص آدمی کو شیرو کا ایڈریس معلوم کرنے کا کہا تھا ۔
رانا چاہتا تھا کہ شیرو اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لے لیکن اُس نے منع کر دیا ۔
اور اب رانا شیرو کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا اُسے جان سے مارنا چاہتا تھا جو آسان بلکل بھی نہیں تھا ۔
تقریباً پانچ مہینے شیرو اپنے شادی کے بعد غائب رہا تھا وہ اس دنیا سے بہت دور چلا گیا تھا ۔
لیکن اقرا کی موت اسے واپس اسی دنیا میں لے آئی تھی اور اس بار شیرو زیادہ خطرناک بن کر لوٹا تھا۔
رانا صاحب کی عمر تقریباً پچاس کے قریب تھی ۔
رانا دانیال کا بہت اچھا دوست تھا دونوں ایک ساتھ ہی کام کرتے تھے لیکن دانیال کی موت کی خبر رانا کے لیے بہت بڑا دھچکا تھی وہ دانیال کی موت کا ذمہ دار پاشا کو سمجھتا تھا ۔
اور اسی بات کو لے کر ان دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو گئی اور جب شیرو نے رانا کی بیٹی سے شادی کرنے سے انکار کیا تو رانا دونوں بھائیوں کی جان کا دشمن بن گیا تھا ۔
💞💞💞💞
زری نے مڑ کے پیچھے دیکھا تو دبیر پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا تھا ۔
اس کی گرے آنکھوں میں عجیب سا قرب تھا جیسے دبیر نے چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
زری تو پہلے ہی دبیر کی شخصیت سے متاثر ہو چکی تھی۔
اس وقت دبیر نے بلیک پینٹ اور اُس پر ڈھلی سی ہُڈی پہنی تھی دبیر زیادہ ڈارک کلر پہنتا تھا جو اس پر جچتے بھی بہت زیادہ تھے ۔
وعلیکم السلام زری نے سلام کا جواب دیا اور اپنے چہرے پر آتے بالوں کی لٹ کو کان کے پچھے کیا ۔
دبیر کو زری کچھ ٹھیک نہیں لگی تھی ۔آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی جو دبیر کی نظروں کو بھٹکنے پر مجبور کر رہی تھیں ۔
پتہ نہیں اس لڑکی کی آنکھوں میں ایسا کیا ہے جو مجھے بھی ان کے جادو میں قید کرنے کا ہنر رکھتی ہیں
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔اور اپنی نظروں کا زاویہ تبدل کیا۔
کچھ کہا آپ نے؟ زری نے دبیر سے پوچھا ۔
نہیں آپ کی طبعیت ٹھیک ہے؟
دبیر نے گہرا سانس لیتے الٹا زری سے سوال کیا۔
جی بلکل زری نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔اس کی مسکراہٹ میں بھی درد شامل تھا ۔
دبیر کی گہری نظریں زری کو خوف میں مبتلا کر رہی تھیں ۔
مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔دبیر نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے زری کو کہا ۔
جی؟
زری نے ناسمجھی سے دبیر کو دیکھتے پوچھا ۔مجھے شاہ میر کے بارے میں آپ سے بات کرنی تھی ۔
کیا آپ جانتی ہیں آپ کا شوہر شہر جا کر کیا کرتا ہے؟
دبیر نے زری کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا جو پتھریلے ہو گئے تھے ۔
اگر آپ کا اشارہ اُن لڑکیوں کی طرف ہے جن کے ساتھ وہ رات گزارتے ہیں تو یہ بات مجھے پہلے سے معلوم ہے ۔
زری نے سرد لہجے میں کہا۔
ویسے حیرت ہے اتنا سب جانتے ہوئے بھی آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا
دبیر نے سامنے دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا ۔
مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی زری نے کہا اور وہاں سے جانے لگی ۔
زری دبیر نے بنا مڑے زری کو آواز دی
ایک مشورہ دوں گا اگر آپ کو مناسب لگے تو اس پر غور ضرور کیجیے گا ۔
دبیر نے کہا ۔
زری وہی رک گئی تھی۔
دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ
شاہ میر کو سدھارنے کی کوشش کریں ہو سکتا ہے اُسے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہو جو اُسے بری چیزوں سے دور لے جائے دیکھیے شاہ میر میرا دوست ہے اس لیے مجھے عزیز بھی ہے۔اگر وہ سارے برے کام چھوڑ دیتا ہے تو اس میں اُسی کی بھلائی ہے آخری بات کہتے دبیر کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آگئی تھی ۔
آپ مجھے کہہ رہے ہے کہ میں شاہ میر کو برے کاموں سے دور کر دوں لیکن یہ کام تو آپ بھی کر سکتے ہیں وہ تو آپ کے دوست ہیں
زری نے دبیر کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
دبیر نے مڑ کر زری کو دیکھا ۔
دراصل میرے سمجھانے کا طریقہ تھوڑا مختلف ہے جو شاہ میر کو سمجھ نہیں آئے گا دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
زری کو ابھی بھی بات کی سمجھ نہیں آئی تھی پھر بھی اس نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔
آہ شاہ میر زری کی خاطر تمہیں ایک موقع دے رہا ہوں سدھر جاؤ ورنہ…..
دبیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنی بات کو ادھورا چھوڑتے کہا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ بارش ہونے والی ہے ۔
تھوڑی دیر وہی کھڑے رہنے کے بعد دبیر بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
عباس اب کیا کرنا ہے؟ عمر نے عباس سے پوچھا جو بولٹ کے سر پر پیار کر رہا تھا۔
پاشا سے پہلے مجھے رانا کی عقل ٹھکانے لگانی ہے۔
جو ہر بار اپنے کتوں کو میرے پیچھے بھیج دیتا ہے ۔
شیروں نے سرد لہجے میں کہا۔
رانا تم سے ملنا چاہتا ہے شیرو
عمر نے شیرو کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے اسے کہو آج رات اُسی کے گھر ملتے ہیں شیرو نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہا ۔
رانا کے گھر تمھارا اکیلے جانا کیا ٹھیک ہو گا؟
عمر نے پوچھا
رانا کے گھر شیرو جا رہا ہے عمر عباس نہیں
شیرو نے عمر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا ۔
عمر نے رانا کو کال کرکے شیرو کے آنے کی اطلاع دے دی تھی جو کافی حیران بھی ہوا تھا۔
شیرو اکیلا رانا کے گھر گیا تھا۔رانا کے دونوں بیٹے گھر نہیں تھے۔
کیا کام ہے؟ شیرو نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
دیکھو شیرو مجھے خبر مل چکی ہے کہ تمھاری بیوی کو کسی نے مار دیا مجھے اس بات کا دکھ ہے
اس سے پہلے رانا مزید کچھ کہتا شیرو درمیان میں بول پڑا تھا ۔
تمہیں کس بات کا دکھ ہے؟ بیوی تو وہ میری تھی مجھے دکھ ہونا چاہیے تم کون ہوتے ہو دکھ منانے والے؟
سدھی کام کی بات پر آ شیرو نے سرد لہجے میں رانا سے کہا جو کچھ پل کے لیے بوکھلا گیا تھا ۔
میں چاہتا ہوں تم میری بیٹی سے شادی کر لو میری تمھاری ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے
رانا نے جلدی سے کہا۔
تمھاری میری ساتھ اگر کوئی دشمنی نہیں ہے تو اپنے کتوں کو میرے پیچھے کیوں لگایا ہوا ہے رانا صاحب؟
اور دوسری بات تمھاری میرے ساتھ دشمنی ہو یا نا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا۔یہاں پر میں تمھاری بات سننے نہیں آیا بلکہ اپنی بات کہنے آیا ہوں اگر دوبارہ تم نے یا تمھارے بیٹوں نے میرے کام میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تو جس طرح تمھارے پالتو کے ٹکرے کیے ہیں ویسے ہی ٹکرے تیرے بیٹوں کی بھی تجھے گفٹ کروں گا ۔
تو زرا سنبھل کے رہنا اس بار شیرو کو کمزور سمجھنے کی کوشش مت کرنا کمزور تو وہ کبھی بھی نہیں تھا لیکن اس بار شیرو جانور بن کر لوٹا ہے۔
شیرو نے رانا کو تنبیہ کرتے ہیں اور وہاں سے اٹھ گیا ۔
آخر تمہیں مسئلہ کیا ہے؟ پہلے تو تم اپنی بیوی کی وجہ سے میری بیٹی سے شادی نہیں کر رہے تھے لیکن اب کیا مسئلہ ہے؟ میری بیٹی تمھارے پیچھے پاگل ہو چکی ہے
رانا نے بھی اس بار چیختے ہوئے کہا ۔
تو اپنی بیٹی کا علاج کروا پاگلوں کا علاج کرواتے ہیں شادی نہیں
شیرو نے غصے سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔
پیچھے رانا نے غصے سے اپنے کنپٹی کو دبانے لگا تھا۔
💞💞💞💞💞
کہاں جا رہی ہو؟ فضیل نے رانی کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو شاید اپنے کمرے میں جا رہی تھی ۔
آپ کو کوئی کام تھا؟ رانی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بلکل چلو میرے ساتھ کمرے میں پھر بتاتا ہوں فضیل نے رانی کو سر سے پاؤں تک. دیکھتے ہوئے کہا۔
ویسے شرم نام کی کوئی چیز آپ دونوں باپ بیٹے میں نہیں ہے اتنا تو مجھے بھی پتہ چل گیا ہے بیٹا باہر منہ مارتا ہے اور باپ اپنے ہی بیٹے کی بیوی ہر گندی نظر رکھتا ہے۔
آپ کو کبھی خوف نہیں آیا کہ رات کو آپ سوتے ہو صبح اگر آنکھ نہیں کھلتی تو کیا کرو گئے ۔کم از کم بڑھاپے میں ہی کچھ اچھے کام کر لو رانی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
۔نجانے کیوں اب اسے فضیل سے ڈر محسوس نہیں ہوتا تھا ۔
تمھاری کھنچی کی طرح چلتی زبان کو تو میں شاہ میر کو کہہ کر کٹواتا ہوں فضیل اعوان نے غصے سے کہا ۔
زیادہ سے زیادہ مجھ پر ہاتھ ہی اٹھا سکتا یے آپ کا بیٹا اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے ابا جی
رانی نے ابا جی پر زور دیتے کہا اور پھر فضیل کو نظرانداز کرتی وہاں بسے چلی گئ ۔
تیرا تو کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا ۔فضیل نے غصے سے کھولتے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
💞💞💞💞💞
کہاں تھے تم؟ دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے پوچھا جو کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا ۔
آپ کو نہیں پتہ کیا؟
مصطفیٰ نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا جس پر دبیر ہنس پڑا تھا۔
کام ہو گیا ہے؟
دبیر نے کافی کا کب لبوں دے لگاتے ہوئے پوچھا۔دونوں اس وقت مصطفیٰ کے کمرے میں موجود تھے ۔
جی ہو گیا ہے
مصطفیٰ نے کہا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔
رانی سے بات کرو کہ وہ شاہ میر سے طلاق لے لیں ۔دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے کہا ۔
وہ کبھی نہیں مانے گی اچھے سے جانتا ہوں اُسے میں مصطفیٰ نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ہاں تم تو رانی کی رگ رگ سے واقف ہو دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
بھائی یار غلطی ہو گئی اب آپ مجھ پر طنز کے تیر تو مت چلائے
مصطفیٰ نے بے بسی سے کہا۔
بیٹا جی میرا کیا دل کرتا ہے ابھی آپ اُن خیالات سے واقف نہیں ہوئے اگر وہ سن لو تو خود کہو گے طنز کے تیر زیادہ بہتر تھے
دبیر نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
سوری بھائی مصطفیٰ نے نظریں جھکا کر کہا۔
جاؤ فرش ہو جاؤ میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں فاز بھی یہاں نہیں ہے خیال رکھنا دبیر نے مصطفیٰ کو دیکھتے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
مصطفیٰ بھی فرش ہونے چلا گیا تھا ۔