Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

آج تجھے میں تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں تجھے کیا لگا شیرو کی بیوی کو مارنے کے بعد وہ تجھے زندہ چھوڑ دے گا؟
دبیر نے خون میں لت پت پڑے شاہ میر جو بالوں سے جھگڑتے دھاڑ کر کہا۔
جس کا پورا چہرا خون سے بھر چکا تھا۔
شاہ میر نے دبیر کو دھکا دینا چاہا لیکن دبیر نے شاہ میر کے اُسی ہاتھ کر پکڑا اور اتنی زور سے مڑوڑا کہ شاہ میر کو لگا اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
شاہ میر کو اب احساس ہوا تھا کہ اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔
دبیر کا یہ روپ وہ آج دیکھ رہا تھا ۔پاشا ٹھیک ہی کہتا تھا کہ شیرو بہت خطرناک ہے
سامنے موت کو دیکھ کر شاہ میر بھی ڈر گیا تھا۔
مجھے معاف کر دو مجھ سے غلطی ہو گئی شاہ میر نے دبیر کو دیکھتے کہا جو ماتھے پر سخت تیور لیے شاہ میر کی طرف بڑھ رہا تھا۔
معافی؟ وہ بھی تیرے جیسے انسان کو تو کبھی نہیں
تیرے لیے خاص میں نے ایک گفٹ منگوایا ہے
لیکن اُس سے پہلے میں تجھے کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
تیری امی میری خالہ ہیں اور اُس حساب سے ہم دونوں کزن ہوئے۔مرنے سے پہلے یہ جاننا تو ضروری تھا کہ میں کون ہوں ۔
اور میری خالہ تمھارے باپ سے شادی کبھی نا کرتی لیکن اُس نے بھی میری خالہ کے ساتھ زبردستی شادی کی جیسا باپ ویسا بیٹا
دبیر نے نفرت سے شاہ میر کو دیکھتے کہا۔
شاہ میر حیران تھا اس لیے کہ دبیر اس کا کزن ہے لیکن اسے اپنی ماں کی پرواہ نہیں تھی کہ اس کے باپ نے زبردستی اس سے شادی کی
چلو بہت باتیں ہو گئی میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے۔دبیر نے کہتے ہی شاہ میر کو گردن سے پکڑ کر کھڑا کیا اور سوئمنگ پول کی طرف لے آیا۔
شاہ میر کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔
صاف پانی میں ایک بڑا سا مگرمچھ تیر رہا تھا۔
یہ مگرمچھ ایک دن سے بھوکا ہے۔اور اپنی بھوک تمھارے لذیذ گوشت سے ختم کرے گا دبیر نے کہتے ہی شاہ میر کو پانی میں دھکا دے دیا۔
شاہ میر جو آنکھیں پھاڑے خونخوار مگرمچھ کو دیکھ رہا تھا دبیر نے اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر دھکا دے دیا۔
نہیں دبیر پلیز ایسا مت کرو میں تم سے معافی مانگتا ہوں مجھے معاف کر دو شاہ میر نے پیچھے کو جاتے کہا مگرمچھ اس کی طرف ہی آرہا تھا ۔
آج موت کو اتنی قریب سے دیکھ کر بھی شاہ میر کو اپنے کیے گئے گناہ پر پچھتاوا نہیں ہوا تھا۔
تم فکر مت کرو میں پوری ویڈیو بناؤں گا اور تمھارے کمینمے دوست کو بھیجوں گا دبیر نے اپنا موبائل نکالتے کہا۔
مگرمچھ نے شاہ میر کی ٹانگ پر اپنے دانت گاڑھ دیے پورے فارم ہاؤس میں شاہ میر کی چیخے گونجی تھیں۔ شاید وہ ساتھ شاہ میر کی ٹانگ کا گوشت بھی گیا تھا ۔
پانی اک پل میں سرخ ہوا تھا۔
دوسرا وار مگرمچھ نے شاہ میر کی گردن پر کیا۔
شاہ میر وہی تڑپنے لگا تھا مگرمچھ شاہ میر کی گردن سے کافی گوشت اتار چکا تھا پورا پول خون سے سرخ ہو گیا ۔
ویڈیو بنانے کے بعد دبیر کے اشارے پر اس کے آدمی اندر آئے۔
شاہ میر مر چکا تھا۔
اسے باہر نکالو اور گاؤں کے باہر پھینک آنا
دبیر نے آدمیوں کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔اس نے ایک بار بھی مڑ کر دوبارہ شاہ میر کو نہیں دیکھا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
کرن منیب کے ساتھ گھر آگئی تھی منیب کی ماں نے کرن کا اچھی طرح استقبال کیا تھا۔
منیب نے اپنے ماں باپ کو راضی کر لیا تھا اور منیب ان کا اکلوتا بیٹا تھا اس لیے انہوں نے اسے معاف کر دیا تھا۔
کرن اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور منیب کو دیکھتے کہا۔
اگر میں تمھارے ساتھ آگئی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں تم سے ڈر گئی ۔
کرن نے سرد لہجے میں کہا۔
تم میں بلکل بھی دماغ نہیں ہے کرن
تمہیں معلوم ہے نا میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں منیب نے کرن کے نرم و ملائم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے کہا۔
اگر میں یونی کے آوارہ لڑکوں کی طرح ہوتا تو کبھی بھی تم سے نکاح نا کرتا بلکل استعمال کرنے کے بعد پھینک دیتا
لیکن میں تم سے محبت کرتا تھا لیکن جو حرکت تم نے کی اُس کے بعد تم میری نظروں سے گر گئی ہو۔
اور اب مجھے اپنی محبت پر افسوس ہوتا ہے، کاش میں نے تمہیں کبھی نا دیکھا ہوتا
تم جیسی لڑکی سے کبھی محبت ناکی ہوتی
لیکن یہ دل منیب نے کھوکھلا ہنستے ہوئے اپنے دل پر انگلی رکھتے کہا۔
یہ دل بھی عجیب ہے اپنی مرضی کرتا ہے میں بھی اس کے سامنے بےبس تھا۔
لیکن اب میں بے بس نہیں ہوں اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ کیسے اپنے دل کو قابو کرنا ہے۔منیب کرن کا چہرہ تھوڑی سے پکڑتے اوپر کرتے کہا۔
جو سانس روکے منیب کی بات سن رہی تھی۔
ایک بات تو بتاؤ مجھ میں کیا کمی ہے؟
ہینڈسم ہوں امیر ہوں اور سب سے بڑی بات کسی زمانے میں تم مجھ سے محبت بھی کرتی تھی.
پھر ایسا کیا دیکھا تم نے دبیر میں جو مجھ سے طلاق لینے کی ضرورت محسوس ہوئی؟
منیب کی پکڑ کرن کی ٹھوڑی پر سخت ہو گئی تھی۔
منیب کے تاثرات دیکھ کر کرن کو یہی لگا تھا وہ بہت زیادہ ہرٹ ہوا ہے۔
منیب اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے کرن نے نظریں چراتے کہا۔
کیوں نہیں ہے فائدہ تمھارے لیے میرے جزبات کیا کھلونا ہیں؟ اور اب نظریں کیوں چرا رہی ہو میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو اگر تم سچی ہو تو میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو ۔
منیب نے چلاتے ہوئے کرن کا چہرہ اپنی طرف کرتے کہا۔
جو خاموش نظروں سے منیب کو دیکھ رہی تھی۔
میری ایک بات یاد رکھنا کرن اگر میرے گھر میں تم نے کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کرنے کی کوشش کی تو بہت برا پیش آؤں گا۔
اور تمہیں اب میں اپنے طریقے سے سیدھا کروں گا۔
منیب نے سرد لہجے میں کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
کرن ابھی بھی وہی بت بنی کھڑی تھی۔ہوش میں اسے موبائل کی آواز لائی تھی۔
💞💞💞💞💞
شاہ میر کی لاش دیکھتے فضیل وہی زمین پر ڈھہ گیا تھا۔اور لاش کی حالت ایسی تھی کہ دیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
گاؤں والے حویلی میں جمع تھے۔ہر کوئی اپنے مطابق باتیں کر رہا تھا۔
زری کی غیر موجودگی بھی گاؤں والوں کی نظر میں اعوان فیملی کو مشکوک بنا رہی تھی۔
نغمہ بیگم تو بے ہوش ہو گئی تھیں گاؤں کے عورتوں نے ان کو سنبھالا ہوا تھا۔
مصطفیٰ بنا کسی تاثر کے کھڑا تھا۔
لاش کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے زیادہ دیر رکھا جا سکتے اس لیے جلدی دفنا دیا گیا تھا۔
فضیل اعوان خاموش ہو گیا تھا کرن بھی آگئی تھی جس کا رو رو کر برا حال تھا۔
شاہ میر کی لاش گاؤں سے باہر کچھ فاصلے پر ملی تھی ۔
آس پاس کے لوگ شاہ میر کو جانتے تھے اس لیے اُسے حویلی لے آئے پولیس بھی آئی تھی ۔اور پتہ لگوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
رات فضیل اعوان اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا
آنکھوں سے آنسو جاری تھے شاہ میر ان کے دل کا ٹکرا تھا اور جوان بیٹے کی موت تو باپ کو مزید بڑھا کر دیتی ہے ۔
مصطفیٰ دروازہ ناک کرتے روم میں داخل ہوا فضیل نے اپنے آنسو صاف کیے اور مڑ کر مصطفیٰ کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے فضیل کو دیکھ رہا تھا۔
چچا جان میں آج آپ سے کچھ سچ جاننا چاہتا ہوں بلکہ میں بتانا چاہتا ہوں آپ کو
مصطفیٰ نے گہرا سانس لیتے بات کا آغاز کرتے کہا۔
یہ حویلی میرے ڈیڈ کے نام تھی دوسری حویلی آپ کے نام تھی۔
آپ نے لالچ میں آکر میرے ماں باپ کو مروا دیا اور اس حویلی پر آپ نے قبضہ کر لیا۔
کیا یہ سچ ہے؟ مصطفیٰ نے سرخ آنکھوں سے فضیل کو دیکھتے پوچھا جس کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا تھا۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟ میں اپنے ہی بھائی کی جان کیوں لوں گا؟
فضیل نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا۔
اونچا بولنے سے سچ نہیں بدل جائے گا چچا جی جب تین دن پہلے آپ اپنے چہتے بیٹے کو اپنا کارنامہ بتا رہے تھے تو میں سن چکا تھا اور میرے موبائل میں آپ دونوں باپ بیٹے کی ویڈیو بھی ہے۔
تو آواز اپنی نیچی رکھے
مصطفیٰ نے تنبیہ کرتے کہا۔
فضیل کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا تھا جسے اس نے صاف کیا۔
اور ہاں شاہ میر کے مرنے کا مجھے زرہ سا بھی دکھ نہیں ہوا بلکہ جو بھی اُس کے ساتھ ہوا بہت اچھا ہوا
اُسے ہمیشہ میں نے اپنے بڑے بھائی کی طرح مانا اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے پیار کو اُس کے حوالے کیا صرف اس لیے کیونکہ آپ کے بیٹے نے مجھے کہا تھا کہ وہ رانی کو پسند کرتا ہے لیکن اُس نے رانی کو طلاق دے دی۔اُسے تکلیف دیتا رہا۔
میں شاہ میر کے بارے میں کچھ برا نہیں کہوں گا کیونکہ جو مر جائے چاہے وہ کتنا ہی برا کیوں نا ہو اُسے اچھے الفاظ میں یاد کرنا چاہیے لیکن آپ کے بیٹے نے تو کوئی اچھا کام ہی نہیں کیا۔
مصطفیٰ نے نفرت بھرے لہجے میں فضیل کو دیکھتے کہا جس کی زبان تالوں سے بند چکی تھی۔
آپ نے اس حویلی کے لیے میرے ماں باپ کی جان لی تھی اب آپ اکیلے اس حویلی میں رہ جائیں گے اور سنبھال کر رکھیے گا اپنی اس حویلی کو میں یہاں سے جا رہا ہوں
مصطفیٰ نے سنجیدگی سے کہا ۔
اور کمرے سے باہر چلا گیا،
فضیل اعوان وہی زمین پر بے بسی سے بیٹھ گیا تھا۔ ایک بیٹا تو ان کو چھوڑ کر چلا گیا تھا دوسرا بھی جا رہا تھا ۔